موت کا حسیں تصور اور یادِ الٰہی سے دل کی آبادی

کتاب: پیغام محبت، درس 2، حصہ سوم ، اشاعت اول: 25 اور 27 اگست 2013 بمطابق 17 اور 19 شوال 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·    موت: محبوبِ حقیقی (اللہ) سے ملاقات کا خوبصورت ذریعہ۔

·    امانتِ زندگی: زندگی کا درست استعمال اور دل و اعضاء کی پاکیزگی۔

·    دل کی ویرانی: مادی چیزوں کی فراوانی اور دنیاوی قید سے بے سکونی۔

·    خطرناک گٹھ جوڑ: شیطان اور نفس کا مل کر انسان کو غافل کرنا۔

·    توبہ کا ہتھیار: لمحہ بھر کی غفلت سے بچنا اور شیطان کو توبہ سے شکست دینا۔

·    روحانی حالت: طاعتِ الٰہی کے لیے نفس کی بیداری

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

آج منگل کا دن ہے، اور منگل کے دن ہمارے ہاں اب "پیغامِ محبت" کی کتاب کی تشریح بتائی جاتی ہے۔ آج جو غزل اس سے شروع ہو رہی ہے:


موت بھی اک حسیں تصور ہے

ممکن ہے لوگوں کے لیے موت بڑی وحشت ناک چیز ہو۔ لیکن عاشق کے لیے موت حسین تصور ہوتا ہے۔ کیا کہتے ہیں؟



موت بھی اک حسیں تصور ہے دوست کو دوست سے ملائے گا

یہ عربی کا ایک مقولہ ہے۔ اَلْمَوْتُ جَسَرٌ يُوصِلُ الْحَبِيبَ إِلَى حَبِيبِهِ۔ موت تو ایک پل ہے جو ایک حبیب کو دوسرے حبیب کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ تو یہ ہے:


موت بھی اک حسیں تصور ہے دوست کو دوست سے ملائے گا

دل جب اس کا ہے کتنا خوش ہوگاجس وقت اس کے پاس جائے گا

بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت فوت ہو رہے تھے بڑے خوش۔ کہتے: ان شاء اللہ، اب آپ ﷺ سے ملاقات ہوگی، صحابہ سے ملاقات ہوگی۔ بڑے خوش۔




موت بھی اک حسیں تصور ہےدوست کو دوست سے ملائے گا

دل جب اس کا ہے کتنا خوش ہوگاجس وقت اس کے پاس جائے گا



زندگی اک حسیں امانت ہے اپنے محبوب کی محبت کی

کتنا وہ خوش نصیب ہوگا پھر اس سے جو فائدہ اٹھائے گا

ٹھیک ہے موت عزیز ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ -نعوذباللہ من ذالک- خودکشی کوئی کر لے۔ وہ تو جب لائے گا تو لائے گا نا؟ اپنی مرضی سے تو نہیں۔ تو یہ جو زندگی ہے یہ بھی ہمارے پاس امانت ہے۔ اس امانت کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے۔ جس مقصد کے لیے اللہ نے زندگی دی ہے اس مقصد کے لیے اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ ہاں! اس کو استعمال کرتے کرتے جان چلی جائے، تو یہ بڑی بات ہے۔ پھر بات ہے۔ مقصد گاڑی چلانا نہ ہو، مقصد گاڑی اس کے لیے چلانا ہو۔ جب تک وہ چلوائے رکھیں بس چلواتے رہو۔ پھر جب کہتے ہیں: اب آ جاؤ، بس، پھر ٹھیک، پھر ہاتھ کھڑے کر دو، پھر درمیان میں ایک لفظ بھی نہ کہو۔


بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ ہے کہ جب ان کا آخری وقت آ گیا، تو پتہ نہیں اندر اندر کیا بات ہو گئی تھی، لیکن لوگوں نے جو ان کی بات سنی، زبانی وہ یہ تھی: "چل کر آتا ہوں سر کے بل چل کر آتا ہوں"۔ اور فوت ہو گئے۔ چل کے آتا ہوں، سر کے بل چل کے آتا ہوں۔ اور فوت ہو گئے۔ ۔ اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا وہ کفن پڑا ہوا تھا، ساتھ ہی منگوایا تھا۔ جب آخری وقت آ گیا تو کفن کو چوما اور کہا :"حبیب کا حکم سر آنکھوں پر"۔ اور بس فوت ہو گئے۔ مطلب ان کا اس طرح کا stage۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جب بھی وقت آجائے تو پھر تو حبیب کا حکم سر آنکھوں پر۔ یہ ہوتا ہے۔


زندگی اک حسیں امانت ہے اپنے محبوب کی محبت کی

کتنا وہ خوش نصیب ہوگا پھر اس سے جو فائدہ اٹھائے گا



اپنا دل خوب سجا لینا اب، تجھ کو دن جتنے ملے ہیں یہاں پر

ذکر سے اس کو خوب روشن کر، مالکِ دل یہاں پر آئے گا

تجھے جتنی مہلت ملی ہے اس میں کیا کرنا ہے؟ اپنا دل خوب سجا لینا۔ ذکر سے اس کو منور کر لینا۔ کیونکہ جو دل کا مالک ہے، جب ادھر آئے گا تو ان چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوگا۔ تو اس کے لیے کام کرو۔



اپنا دل خوب سجا لینا اب، تجھ کو دن جتنے ملے ہیں یہاں پر

ذکر سے اس کو خوب روشن کر، مالکِ دل یہاں پہ آئے گا





اپنی آنکھوں کو گند سے موڑو اس طرف جس طرف ہے یار موجود

کچھ تو دیکھو بھی دل کی آنکھوں سے اس کے جلوے جو وہ دکھائے گا

یہ جو نفس کی گندی چیزیں ہیں اس سے اپنی آنکھیں موڑو۔ یہ تمہاری چیزیں نہیں ہیں۔ اس سے اپنی آنکھیں موڑو۔ اس طرف جس طرف اللہ ہے۔ اس طرف موڑو، یعنی اس کی مرضی ہے۔ اور پھر اس کے بعد وہ جو دل کے اندر جو جلوے دکھائے گا نا اس کو دیکھو، پھر تجھے پتہ چلے گا کہ دنیا کیا چیز ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ جو غیر محرم سے اپنی نظریں اللہ پاک کے ڈر سے موڑے، تو اللہ جل شانہٗ اس کو ایک ایسی عبادت نصیب فرمائیں گے جس سے وہ اپنے دل میں ایمان کی حلاوت کو خود پا لیں گے۔ تو پھر اللہ پاک دیں گے۔

اس کے دشمن کی جو آوازیں ہیں اپنے کانوں کو روک لے ان سے

دل کے کانوں کو اس طرف کر دے جہاں سے وہ بھی کچھ سنائے گا

مطلب یہ ہے کہ دیکھو، کان اللہ کی نعمت ہیں۔ یہ تو آپ کو گانے سننے کے لیے نہیں دیے گئے ہیں۔ فحش باتیں سننے کے لیے نہیں دیے گئے ہیں۔ ان چیزوں سے اپنے کانوں کو اس طرف کر دو۔ پھر کیا کرو؟ پھر ان کی بات سنو جس نے تمہیں یہ کان دیے ہیں۔ پھر وہ تمہیں کچھ سنائے گا۔




وہ تمہیں دیکھ جو رہے ہیں شبیر تم بھی سمجھو کہ اس کو دیکھتے ہو

دل کو دنیا سے خالی کر دے جو، اپنے دل میں پھر اس کو پائے گا

مطلب یہ ہے کہ وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے، یہ تو certain ہے ، اس میں تو دوسری بات نہیں ہے۔ تو تم بھی یہ سمجھو کہ میں بھی اس کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس کے بعد دل کو دنیا سے خالی کر دو، تو پھر اپنے دل میں اس کو پا لو گے۔ جب تک دل میں دنیا ہے، وہ دل میں نہیں آئے گا۔


اس کے لیے کیا کرنا ہے؟ اس کے لیے:

اس کا پاک نام دل پہ نقش کر



جاتی نہیں ہے میری جو دل کی ہے تشنگی

اس بے قرار دل کو ملے کیسے تسلی



بس ہم کو چاہیے ہے کہ ہم وہ کریں فقط

جو چاہے وہ اور اس میں ہی گزرے یہ زندگی



دنیائے دل آباد کریں ذکر سے اس کے

کر لے ہمارے نام سے وہ یاد ہم کو بھی

یہ بھی قرآن پاک کی ایت ہے، فَاذْكُرُوْنِي أَذْكُرْكُمْ۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ بس جو بھی اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ بھی اس کو یاد رکھتے ہیں۔


اب یہ مشہور فقرہ ہے، فقراء کا فقرہ ہے۔




وہ دل میں تو آتے ہیں سمجھ میں نہیں آتے

سمجھا کہ ذاتِ بخت کی پہچان ہے یہی

مطلب یہ کہ اس کی پہچان یہی ہے کہ وہ دل میں تو آ جاتے ہیں، لیکن سمجھ میں نہیں آتے۔ ہماری سوچ اس تک پہنچ نہیں سکتی۔ ہاں! یہ بات ہے دل اس کو recognize کر لیتا ہے، دل اس کو پا لیتا ہے۔


شبیر اس کا پاک نام دل پہ نقش کر

دنیا کی محبت تو ہے بس دل کی گندگی



اب دل پہ نقش کرنے کا procedure ہے۔



پھر دل کو اس کے ذکر سے آباد کریں ہم


پھر دل کو اس کے ذکر سے آباد کریں ہم

ہر بار اس سے ملنے کی فریاد کریں ہم



یہ جتنا بھی ہم ذکر کرتے ہیں اس سے ملنے کی فریاد ہے اس کو پانے کی آرزو ہے۔


جو اس سے ہو منسوب وہ غم، غم کہاں رہے

اس غم سے اپنے دل کو بھی اب شاد کریں ہم

پھر دل کو اس کے ذکر سے آباد کریں ہم




اس کا جو غم ہے وہ بھی غم نہیں رہتا۔ اس میں بھی ایک اطمینان ہے۔ غالباً علامہ اقبال نے بھی کہا ہے:


دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں


اب درد کو چاہ رہا ہے۔ وہ درد کیا چیز ہے؟ اور وہ بھی دل کا درد۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس کا جو غم ہے وہ غم نہیں ہے۔


جو قید میں اس کی ہو تو آزاد وہی ہے

کروا کے قید خود کو اب آزاد کریں ہم

دیکھو یہ نہیں ہو سکتا، یہ گلاس، جو آپ سمجھتے ہیں خالی ہے، یہ خالی نہیں ہے۔ اس میں کیا ہے؟ اس میں ہوا ہے۔ آپ بھرے ہوئے گلاس کو خالی کر دیں تو خالی نہیں ہوگا اس میں ہوا آ جائے گی۔ یہ آپ نہیں کر سکتے۔ تو اسی طریقے سے اگر آپ اس سے اپنے آپ کو آزاد کرتے ہیں نا، تو آزاد نہیں ہو سکتے، پھر اور چیزوں میں پھنس جائیں گے۔ رسومات میں پھنس جائیں گے، خواہشات میں پھنس جائیں گے، اور چیزوں میں پھنس جائیں گے، ان میں گرفتار ہو جاؤ گے۔ تو اب بتاؤ اُن چیزوں میں گرفتار ہونا اچھا یا اِن کے گرفتار ہونا اچھا؟ بھئی یہ تو گرفتار تو کر لیتا ہے لیکن ساتھ ساتھ سکھ بھی دیتا ہے، دل میں اطمینان بھی دیتا ہے۔ جب کہ وہاں خواہشات اس میں تو آگ ہی آگ ہے۔ تو مطلب یہ ہے جو اس کی قید میں قید ہے وہ قید نہیں ہے وہ ویسے قید کی صورت ہے۔ جیسے دجال کے بارے میں ہے، کہ اس کے ساتھ جنت بھی ہوگی اور اس کے ساتھ دوزخ بھی ہوگا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اس کی جنت اصل میں دوزخ ہوگی اور اس کی دوزخ اصل میں جنت۔ کیوں؟ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو نظر تو جنت آ رہی ہوگی، لیکن وہ اصل میں دوزخ ہوگی۔ تو یہ بات ہے کہ دنیا کی چیزوں کی جو قید ہے، یہ اصل قید ہے۔ یہ رسومات میں جو لوگ پھنسے ہوتے ہیں بیچارے، فریاد بھی کر رہے ہوتے ہیں پھر بھی وہی کر رہے ہوتے ہیں۔ بس ناک اونچی رہے جی بس، یہ ہے وہ ہے۔ اس پہ مر رہے ہوتے ہیں۔ اور چیخ بھی رہے ہوتے ہیں، پریشان بھی ہو رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بس وہ اس سے چھٹکارا نہیں ملتا، پریشان ہوتے ہیں۔ تو یہ بات ہے:

جو قید میں اس کی ہو تو آزاد وہی ہے

کروا کے قید خود کو اب آزاد کریں ہم

چیزوں کی فراوانی نے دل کر دیا ویراں

مانوس اس سے اب دلِ برباد کریں ہم

چیزوں کی فراوانی نے، چیزیں جتنی زیادہ ہو رہی ہیں، بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ موبائل کسی وقت میں نہیں تھا۔ اس وقت لوگ سکون میں تھے یا موبائل کے ساتھ ہیں، بتائیں؟ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں وہ موبائل کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ ان سے کہتے ہیں جی وہ۔۔ کہتے ہیں: میرے پاس موبائل نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے بھئی یہ تو، اب تو میں اس بس بیڈ پر بھی وہ نہیں ہوں۔ ہر وقت انسان engage رہتا ہے۔ تو اس طرح چیزوں کی جو فراوانی ہے، گاڑیاں ہیں، اور مطلب یہ ہےکہ جہاز ہیں، اور موبائل ہے، اور انٹرنیٹ ہے، اور کمپیوٹر ہے، اور یہ ساری چیزیں انہوں نے دلوں کو ویران کر دیا۔ غالباً علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

تو یہ جو چیزیں ہیں جو انسان کے جو ہے، فراوانی ہے، تو خود ہی جمع کرتے رہتے ہیں، اپنے لیے مصیبتیں۔ اپنے لیے خود مصیبتیں جمع کرتے رہتے ہیں۔


آپ ﷺ نے ایک دفعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گوشت دے دیا کہ تقسیم کریں۔ کچھ دیر کے بعد پوچھا کہ تقسیم ہو گیا؟ انہوں نے کہا اتنا تقسیم ہو گیا اتنا باقی ہے۔ فرمایا: "جو تقسیم ہو گیا وہ باقی ہے"۔ جو تقسیم ہو گیا وہ باقی ہے۔ وہ اللہ کے پاس پہنچ گیا۔ اب ہمارے اکاونٹ میں ہے۔ کیا خیال ہے؟ پیسے آپ کے بینک میں جمع ہو جائیں تو وہ آپ کے محفوظ ہو گئے یا آپ کی جیب میں محفوظ ہیں؟ آج کل کے دور میں۔ آج کل کے حالات کے لحاظ سے بات کر رہا ہوں، ورنہ بینک میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لیکن بہرحال آج کل کے حالات سے بات کر رہا ہوں۔ ، جو لوگ تو اس کو یہی سمجھتے ہیں نا کہ بینک میں، بس وہ جلدی جلدی پہنچاتے ہیں جی، کہ بینک میں داخل کر لو تاکہ ورنہ پھر کوئی ڈاکو میرا مہمان ہو سکتا ہے۔ تو یہ چیز ہے۔ تو اس طریقے سے جو اللہ کے پاس پہنچ گیا تو وہ تو بے انتہا محفوظ لائن ہے۔ اب اسے تو کوئی نہیں لے سکتا، تو محفوظ ہو گیا۔ اس طرح ہے۔



چیزوں کی فراوانی نے دل کر دیا ویراں

مانوس اس سے اب دلِ برباد کریں ہم



جو میرا دل برباد ہو گیا اب اللہ سے اس کو مانوس کر رہا ہوں


جو بھول گیا خود کو اس کی یاد میں شبیر

اپنے کو بھول جانے کا استاد کریں ہم


مطلب میں بھی اگر یہ چاہوں کہ میں بھی خود کو بھول جاؤں، اللہ کی یاد میں، تو میں کس کے پاس جاؤں گا؟ جس کو یہ کیفیت حاصل ہوگی نا، اس کے پاس جاؤں گا۔

جو بھول گیا خود کو اس کی یاد میں شبیر

اپنے کو بھول جانے کا استاد کریں ہم



اب ہم نے تو بہت کچھ کہا لیکن اب actually کیا ہوا؟

actually کیا ہوا؟


کس لیے آیا تھا اور کیا کر لیا

کس لیے آیا تھا اور کیا کر لیا

دامن اپنا کس سے میں نے بھر لیا


میں کیا کرنا چاہتا تھا اور ہوا کیا؟



پیٹھ اپنے بوجھ سے تو تھی جھکی

دوسروں کا بوجھ اپنے سر لیا

یہ جو دوسرے لوگوں کو برائی کی دعوت دیتے ہیں، یا برائی میں involve کرتے ہیں، یہ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی کو فلم کا ٹکٹ خرید کے دے دیا۔ چلو، فلم اس نے دیکھی مصیبت میں تم بھی پھنس گئے ہو۔ آپ نے کسی کو ٹی وی لا کے دے دیا، چلو جی، اب جتنا وہ دیکھے گا تو بھی اس کے ساتھ۔ اگر آپ نے کسی کو غلط راستہ دکھا دیا، تو جتنا بھی غلطی کے راستے پہ چلے گا پریشان،آپ اس میں شامل۔ تو یہ بات اپنے بوجھ کے ساتھ دوسروں کا بوجھ اپنے سر لینا کتنی بڑی حماقت کی بات ہے۔



پیٹھ اپنے بوجھ سے تو تھی جھکی

دوسروں کا بوجھ اپنے سر لیا



قول تو اپنے بہت اچھے رہے

پر عمل میں اس کا کیا اثر لیا



صرف قول تو اچھا نہیں ہے نا، عمل بھی اچھا ہونا چاہیے۔ قول و فعل دونوں کی بات ہے۔


جو پڑے تھے در پہ جھک کر بچ گئے

سمجھے خود کو کچھ تو اس کو دھر لیا



مطلب جو اس کے سامنے جھک گئے وہ تو بچ گئے، جس نے عاجزی کی، وہ بچ گئے۔ اور جس نے اپنے آپ کو کچھ سمجھا کہ میں بھی کچھ ہوں، بس وہ پھنس گیا۔ اب وہ کیسے اپنے آپ کو چھڑائے؟




تاک میں دشمن ہے بیٹھا مستعد

ساتھ میرا ساتھی بھی اندر لیا

کس لیے آیا تھا اور کیا کر لیا

مطلب یہ ہے کہ دشمن میرا، یعنی شیطان، وہ میری تاک میں بیٹھا ہے، مستعد ہے۔ کہ مجھے خراب کر دے، میرے دل میں کچھ وسوسے ڈالے۔ لیکن بڑی گڑبڑ یہ ہوئی کہ اس نے میرے ساتھی جو اندر تھا، یعنی نفس، اس کو بھی ساتھ کر لیا۔ اب وہ نفس کی خواہش کے مطابق وسوسے ڈیزائن کرتا ہے۔ اور میرا نفس چونکہ وہ چیز چاہتا ہے، لہٰذا اس پر عمل کر لیتا ہے، اور بس مصیبت میرے لیے بن جاتی ہے۔ تو نفس اور شیطان کا جو گٹھ جوڑ ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔ انسانیت کے خلاف۔


 تیر کھینچے ہیں کمان میں ہر وقت

دل دماغ میرا نشانہ پر لیا



یعنی ہر وقت وساوس کا ایک یلغار ہے جو اس کی طرف سے آ رہا ہے، میرے دل و دماغ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔



ایک دم غفلت کی گنجائش نہیں

کیا نہ ہووے اس کو ہلکا گر لیا

کچھ بھی ہو سکتا ہے، اگر میں نے ہلکا لیا۔ دیکھو میں آپ کو بات بتاؤں، حدیث شریف میں آتا ہے سنت دعا ہے ماثور۔ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَىٰ نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ۔ یا حی یا قیوم تو آپ جانتے ہیں، "تیری رحمت کے واسطے سے تجھ سے مدد مانگتا ہوں۔ میری ہر حالت کو درست کر دے، اور مجھے میرے نفس کے ایک لمحے کے لیے بھی حوالے نہ فرما۔" ایک لمحے کے لیے، کیونکہ ایک لمحے کے لیے بھی اگر کوئی نفس کے حوالے ہو گیا، پتہ نہیں کیا کر دے؟ کسی کو shoot کر دے، اپنے آپ کو مار دے، یا کسی کی عزت لوٹ لے، کوئی اور مسئلہ کر دے، پتہ نہیں میرے لیے کیا مصیبت بنا لے؟ بعد میں بیشک پشیمان ہو جاؤں گا لیکن وہ جو ہو چکا ہوگا، وہ تو ہو چکا ہوگا نا۔ وہ تو مصیبت بن جائے گی۔ دیکھو یہ جو driving جو انسان کر رہا ہوتا ہے، تو بیشک وہ بات چیت بھی کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے دماغ کا ایک کونہ مسلسل سڑک پر مصروف ہوتا ہے کہ کوئی ایکسیڈنٹ نہ ہو۔ اگر وہ کونہ بھی کسی وقت ہٹ جائے، تو پھر کیا ہوگا؟ چاہے وہ ایک سیکنڈ کے لیے ہو۔ تو گیا؟ ہم آ رہے تھے کراچی سے حیدرآباد، میرے ساتھی تھے، 100 کلومیٹر کی رفتار سے آ رہے تھے۔ تو وہ جو بیلٹ ہے نا بیلٹ، وہ باندھ رہا تھا۔ میں نے کہا یار میں باندھ کے دیتا ہوں، میں فرنٹ سیٹ پہ ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اب وہ کیسے کہے شیخ میرا بیلٹ باندھے، بہت ذہن پر یہ چیزیں سوار، کہتا ہے نہیں میں باندھتا ہوں۔ اور جیسے اس نے بیلٹ کی طرف ایسے کیا گاڑی turn 180 degree۔ اور ساتھ نالا ، اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ 100 کلومیٹر کی رفتار پہ جا رہا ہواور گاڑی 180 پہ ٹرن کر لے تو اس کا کیا حال ہوگا؟ میں نے کہا: خدا کے بندے کیا کر رہے ہو؟ یا بیلٹ نہ باندھتے، یا مجھے باندھنے دیتے، یا گاڑی کو کھڑی کر دیتے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ایسے ہی انسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ انسان کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ کچھ بھی لمحے، کسی بھی وقت، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تھوڑا سا غافل بس کام خراب۔ تو ہمارے بزرگوں نے یہ جو statements دیے ہوئے ہیں نا اس میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں لیکن ہم سمجھتے نہیں۔ وہ جنہوں نے فرمایا:

جس دم غافل اس دم کافر

یہ نہیں، مطلب کہ شرعی کافر نہیں، مطلب انکار کرے گا۔ کوئی اپنے لیے مصیبت بنا لے گا۔ "جس دم غافل اس دم کافر"۔ تو یہ چیز ہے کہ انسان کو غافل نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ سے، کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ ہے:





ایک دم غفلت کی گنجائش نہیں

کیا نہ ہووے اس کو ہلکا گر لیا




ہم نے بھی شبیر توبہ کر لی ہے

اس سے بدلہ اس طرح بہتر لیا

مطلب یہ ٹھیک ہے، اللہ پاک نے ہمارے ہاتھ میں توبہ کا ہتھیار دیا ہوا ہے۔ تو اس نے مجھ سے جتنا بھی گڑبڑ کرایا ہے، میں ابھی توبہ کر لیتا ہوں، سب کچھ ختم۔ سب کچھ ختم۔ تو شیطان سے بدلہ لینے کا آسان ترین طریقہ کیا ہے؟ توبہ کر لو۔ اور ہر وقت توبہ کر لیا کرو۔ مثال کے طور پر گھنٹے بعد توبہ کر لیا تو گھنٹے کے جو گناہ ہو چکے ہیں، وہ معاف ہو گئے۔ اس کے بعد دو گھنٹے کے بعد پھر توبہ کر لیا تو دو گھنٹے کے گناہ معاف ہوگے اس طرح اگر آپ آخری وقت میں توبہ کر لیں گے، اور جان چلی جائے تو کوئی بھی گناہ نہیں ہوگا آپ کے ساتھ۔ کتنی مزیدار بات ہے۔ ٹھیک ہے، وہ ہمارے خلاف منصوبے بناتا ہے لیکن اللہ پاک نے اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں ایسا کلاشنکوف دیا ہوا ہے کہ وہ اس کے سامنے ٹک نہیں سکتا۔ اگر یہ چیزیں ہمیں معلوم ہوں۔ لیکن اس کو پتہ ہے، وہ کہتا ہے تمہارے ہاتھ میں جو کلاشنکوف ہے نا، یہ کلاشنکوف نہیں ہے، یہ تو کوئی اور چیز بتاتا ہے، یہ تو یہ ہے۔ اس کو ادھر کھڑی کر دو۔ یہ بہت خوبصورت لگتی ہے۔ چلو، آپ نے بھی اس کو پھول بنا لیا جی، decoration piece بنا لیا۔ یہ ہوتا ہے دیواروں پہ لگے ہوتے ہیں" إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ "اور یہ اور یہ، پھول سارے کے سارے بھر دیے، عمل کسی چیز پر نہیں۔ ہے نا یہ بات؟ تو ہمارے ساتھ اس طرح کر لیتے ہیں کہ جو ہمارے ہاتھ میں ہتھیار ہے، اس کو بنا لیا decoration piece۔ چلو اب مزے ہو گئے۔ پھر کیا کریں گے اس کے ساتھ؟ تو بس اس کا طریقہ یہی ہے کہ وہ ہمیں اس طریقے سے خراب کرتا ہے۔


اچھا مطلوبہ حال کیا ہونا چاہیے؟ کیسا ہمیں ہونا چاہیے؟

مطلوبہ حال


نفس طاعت کے لیے تیار ہو

دل بھی تیرا ذکر سے بیدار ہو




روح خوش، نفس مطمئن اور دل سلیم

کیسے پھر نیک کام سے انکار ہو

مطلب یہ کہ یہ چیز اگر ہمیں حاصل ہو جائے، کہ نفس طاعت کے لیے تیار ہو اور دل میرا ذکر سے ماشاءاللہ بیدار ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ میری روح بھی خوش ہوگا، نفس بھی مطمئن ہوگا، دل بھی سلیم بن جائے گا، پھر کوئی نیک کام سے مجھے انکار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تو یہ دو کام ہونے چاہیے، نفس کو طاعت کے لیے تیار کرنا چاہیے اور دل کو اس کے لیے بیدار کرنا چاہیے ذکر سے۔ اور غیر مناسب حالت کیا ہے؟

غیر مناسب حالت


خواہشِ نفس اگر کم ہی نہ ہو

دیکھ کر سب یہ دل کو غم ہی نہ ہو


ایک طرف تو نفس کی خواہش کم نہیں ہو رہی، دوسرے سے کوئی غم بھی نہیں ہے۔


خود پہ ماتم تمہیں کرنا پڑے گا

زندگی ختم، یہ ختم ہی نہ ہو


پھر تو مصیبت ہی مصیبت ہے۔ زندگی ختم ہو جائے گی لیکن یہ ختم نہیں ہوگا۔ اس وجہ سے اس کے لیے کچھ نہ کچھ کام کرنا پڑے گا، اپنے آپ کو بچانے کے لیے۔


جو کاغذ پہ تصویر اپنی تھی دل میں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں



جو کاغذ پہ تصویر تھی پہلے دل میں

اسے پھاڑ کر اب تو تجھ سے کہوں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں




پسند جو بھی تصویر میری ہو تجھ کو

بنا لے میری، کورا کاغذ میں ہوں





جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

یہ اصل میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ جو بھی میں نے اپنے بارے میں سوچا تھا، وہ میں نے چھوڑ دیا۔ اب مجھے اپنی نظروں میں کیسے رہنا چاہیے؟ اس کے بارے میں فیصلہ اب تُو کرے گا۔ جو بھی تصویر میرے دل میں کاغذ پر اپنی تھی، اس کو تو میں نے پھاڑ دیا۔ اب میں تجھ سے یہ کہتا ہوں کہ جو تصویر بھی میری تجھے پسند ہو، وہ اس پر بنا لے، میں تو ایک کورا کاغذ ہوں۔ یعنی اس پر کوئی بھی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ اس میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے، اپنے بارے میں کہ مجھے کیسے ہونا چاہیے، میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے اور میں نے سب کچھ کو اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میرے بارے میں اللہ جو فیصلہ کرے گا، وہ ٹھیک ہے۔


اس کو کہتے ہیں "تفویضِ محض"۔ اور یہ اللہ جل شانہ کا حق ہے۔ اور اس حق کو سمجھنے کے لیے ظاہراً کچھ کرنا پڑتا ہے، ورنہ یہ حق سمجھ میں نہیں آتا۔ تو یہ اب شاعر کہہ رہا ہے کہ میں نے اپنی رائے کو فنا کر دیا ہے، اب اس کے بعد میں اپنے بارے میں اپنی رائے پہ نہیں چلوں گا۔




میں ویسے رہوں جو ہو تجھ کو پسند

جو تجھ کو ہو مطلوب میں وہ کروں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں




مجھے اپنا اب کہلوا دیجیے

یہی اپنے بارے میں اب میں سنوں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں


یعنی اب شاعر یہ کہتا ہے کہ میں ویسے رہنا چاہتا ہوں جیسا تجھے میرا رہنا پسند ہے۔ اور تو جو چاہے، میں بالکل وہی کرنا چاہتا ہوں۔ بس میری ایک خواہش ہے کہ مجھے اب اپنا کہلوا دے کہ یہ میرا ہے۔ تو بس میرا مقصد پورا ہو جائے گا، میں تجھ سے یہی سننا چاہتا ہوں۔ اور یہ ایسا ہو جاتا ہے کیونکہ "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ" "جو اللہ کا بن جاتا ہے، اللہ اس کا بن جاتا ہے"۔ لہٰذا یہ تو ہوتا ہے، لیکن بہرحال خواہش شاعر کی یہی ہے۔




میرا نقص ثابت ہے ہر چیز میں

ہے غائب میری جو کہ تھی اکڑ فوں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا بنوں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں

انسان جتنا جتنا روحانی ترقی کرتا جاتا ہے، اس پہ اپنے نقائص کھلتے جاتے ہیں۔ اس پر وہ بڑی سے بڑی قسم کھا سکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے کبھی بھی پھر وہ دعویٰ نہیں کر سکتا اپنے بارے میں کہ میں ایسا ہوں۔ جو ایک انسان کو اکڑ فوں ہوتا ہے کہ میں ایسا ہوں، میں ایسا ہوں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے کہا کہ تجھے پتا ہے میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا بالکل پتا ہے۔ پہلے گندا قطرہ تھے، اب گندگی کے ڈھول ہو، پھر گندگی کی ڈھیر ہو گے۔ انسان کی یہی حالت ہے۔ لیکن یہ چیز ظاہراً اس وقت انسان کو پتا چلتی ہے جب انسان کے دل سے وہ پردے ہٹ جائیں جو دنیا کی محبت کے ہوتے ہیں۔ جب وہ ہٹ جاتے ہیں، پھر انسان کو اپنا آپ بھی نظر آتا ہے اور اللہ بھی نظر آ جاتا ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں:

"مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"

"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو بھی پہچان لیا"۔





کرم کی نگاہ کا میں طالب شبیرؔ

کرم کی نگاہ لے کے آگے چلوں




جو سوچا تھا چھوڑا ہے اب کیا کروں

میں نظروں میں خود اپنی کیسے رہوں

یعنی شاعر کہتا ہے کہ میں اب تیرے کرم کی نگاہ کا طالب ہوں۔ اگر مجھے کرم کی نگاہ مل جائے تو بس میں پھر آگے بڑھ جاؤں گا۔ تو یہی مطلب مجھے چاہیے۔ تو اصل میں بات یہی ہے کہ انسان کو اپنے اللہ پاک کا کرم طلب کرنا چاہیے کیونکہ اللہ جل شانہ کے کرم سے ہی سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔





یہ میرا خدا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے




وہ نہ ہو اِس کو چین آئے نہیں

میرا دل اُس کا آشنا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے




سب سے کٹ کر میں اس کے ساتھ ہوں خوش

میرا دل اُس میں مبتلا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے




دلِ بیمار کا دارو ہے وہ

کہ تعلق اس سے رہا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے

اللہ جل شانہ کے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ گو وہ میری آنکھوں سے چھپے ہوئے ہیں، میری آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ لیکن وہ میرے دل میں ہیں۔ لہٰذا میرے دل کی آنکھوں سے چھپتے نہیں ہیں۔ اور میرا دل تو چونکہ اس کا آشنا ہے، لہٰذا اگر میرے دل میں وہ نہ ہو تو پھر میرا دل پریشان ہو جاتا ہے۔ یہ جو بے اطمینانی کی کیفیت ہے وہ یہی تو ہوتی ہے۔ "قَالُوْا بَلٰى"، وہ میثاقِ اول میں سب نے جو کہا تھا، تو دل آشنا تو ہے۔ لہٰذا اگر دل میں آج کل ہمارے نہ آئے تو پھر وہ دل بے چین ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے دل میں اس کو لانے کی پوری کوشش کرنا ضروری ہے۔

بہرحال، یہ آگے فرماتے ہیں شاعر کہ میں سب سے کٹ کر اس کے ساتھ خوش ہوں۔ سب سے کٹ کر، مطلب یہ ہے کہ دنیا کے جو تقاضے ہیں، دنیا کی جو خواہشات ہیں، میں اس سے اپنے آپ کو کاٹ چکا ہوں، چونکہ میرا دل اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب مجھے یہ جو تعلقات ہیں، اس سے دور نہیں رکھ سکتے۔ چونکہ میرا دل اس میں مبتلا ہے، لہٰذا میرے دل کی دوا وہی ہے۔ اگر اس کا تعلق مجھے حاصل ہو گا تو میرا دل ٹھیک ہو گا، اگر اس کا تعلق مجھے حاصل نہیں ہو گا تو پھر میرا دل پریشان ہو گا۔





وہ مجھے یاد رکھ رہا ہو گا

ذکر میں نے بھی کچھ کیا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے

یہ "فَاذْكُرُوْنِيْ أَذْكُرْكُمْ" کی آیت کے مطابق، جو بھی اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ بھی اس کو یاد رکھتے ہیں۔ اور شاعر اپنے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میں چونکہ اللہ کو یاد کرتا ہوں، تو اللہ پاک نے خود ہی قانون بنایا ہے تو مجھے بھی اللہ پاک یاد رکھ رہے ہوں گے۔ حضرت شیخ سید سیلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی مزید تشریح فرمائی بالکل ایسے ہی جیسے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی فرشتوں کی مجلس میں پھر ہمیں یاد کرتے ہیں اگر مجلس میں ہم نے یاد کیا ہو، اور اگر اپنے آپ کے ساتھ یاد رکھیں تو پھر اللہ پاک بھی اپنے آپ کے ساتھ یاد رکھتا ہے۔




دور سے ہم کو کرے کتنا قریب

سن شبیرؔ یہ میرا خدا تو ہے




وہ میری آنکھ سے چھپا تو ہے

پر میرے دل میں وہ بسا تو ہے

یعنی اب ساری دوریاں ختم ہو جاتی ہیں اگر ہم اس کو یاد کرتے ہیں، اور یہ جو، جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، یہ اللہ جل شانہ کی ذات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔





جاری ہے ان شاء اللہ


موت کا حسیں تصور اور یادِ الٰہی سے دل کی آبادی - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم