اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ کا درس ہوتا ہے۔ اور آج کل عقائد کی بات چل رہی ہے اس میں۔ مکتوب شریف جو ہے اس میں عقائد ماشاءاللہ بیان کیے جا رہے ہیں۔
عقیدہ نمبر 19
گزشتہ سے پیوستہ
اور عام مومنوں کا ایمان تمام وجوہ میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ایمان کے مثل نہیں ہوا۔ کیونکہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ایمان تمام تر جِلا یافتہ اور نورانی ہے جو ثمرات اور نتائج کئی گنا زیادہ رکھتا ہے۔ ان عام مومنوں کے ایمان کے مقابلے میں، جو اپنے اپنے درجات کے فرق کے لحاظ سے بہت ساری ظلمتیں اور کدورتیں رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان، کہ جو وزن میں تمام امت کے ایمان سے زیادہ ہے، اس کو بھی جِلا اور نورانیت کے اعتبار سے سمجھنا چاہیے اور زیادتی کو صفاتِ کاملہ کی طرف راجع کرنا چاہیے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات نفس انسانیت میں عام لوگوں کے ساتھ برابر ہیں اور حقیقت و ذات میں سب باہم متحد ہیں لیکن صفاتِ کاملہ کے اعتبار سے ان (انبیاء علیہم السلام) کو دوسرے (انسانوں) پر فضیلت حاصل ہے۔ جس میں صفات کاملہ نہیں ہیں گویا وہ اس نوع سے خارج اور اس کے فضائل و خصائص سے محروم ہے لیکن اس تفاوت کے با وجود نفسِ انسانیت میں زیادتی و کمی واقع نہیں،
بلکہ زندہ، ایک شخص بالکل بر لبِ موت ہے، بس مرنے والا ہے۔ جب آپ کسی سے پوچھیں یہ زندہ ہے یا مردہ؟ تو کیا کہیں گے؟ زندہ ہے، کہیں گے زندہ ہے۔ ایک آدمی بالکل پورا Full active ہے۔ کیا اس کا وہ جو زندہ ہے اور یہ زندہ برابر ہے؟ برابر نہیں ہے! لیکن زندگی کے اعتبار سے دونوں برابر! دونوں، دونوں، دونوں برابر! زندگی کے اعتبار سے دونوں برابر، لیکن حقیقتِ زندگی کے اعتبار سے فرق! یہ مکمل زندگی سے لطف اٹھا رہا ہے اور یہ بالکل برلبِ موت ہے، یہ تو مرنے والا ہے۔حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا جو واقعہ ہے کہ حضرت کے آخری وقت میں غشی طاری ہوگئی، تو ان کی اولاد سمجھی کہ شاید نزع کا عالم طاری ہو گیا ہے۔ تو انہوں نے کلمے کی تلقین شروع کی، جیسے مسلمانوں کو کی جاتی ہے۔ تو امام صاحب بار بار فرماتے تھے: "ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں۔" اب بچے ڈر گئے، یا اللہ! کیا بات ہے؟ حضرت تو عمر بھر ذاکر شاغل رہے ہیں، آخری وقت میں یہ کہتے ہیں کہ "ابھی نہیں، ابھی نہیں"، کیا مسئلہ ہے؟ اتنے میں حضرت کو افاقہ ہو گیا، غشی ختم ہو گئی۔ تو بچوں نے پوچھا کہ حضرت! ہم تو کلمہ کی تلقین کر رہے تھے، آپ فرماتے تھے "ابھی نہیں، ابھی نہیں"، کیا وجہ تھی؟
فرمایا: "اچھا میں نے یہ کہا ہے؟"
انہوں نے کہا: "جی آپ نے تو یہی کہا ہے۔"
انہوں نے کہا: "یہ تو مجھے پتہ نہیں ہے کہ میں نے آپ کو یہ کہا ہو۔ ہاں شیطان میرے سامنے آیا تھا۔ اور وہ سر پہ خاک ڈال رہا تھا۔ اور مجھے کہہ رہا تھا کہ اے احمد! تو مجھ سے بچ کے چلا گیا۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ نہیں، ابھی میں زندہ ہوں۔ میں ابھی بچ کے نہیں... ابھی نہیں، ابھی نہیں۔ ابھی تو میں زندہ ہوں۔"
تو اس حالت میں بھی کیا فرما رہے تھے؟ میں زندہ ہوں۔ تو زندگی کے اعتبار سے تو ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن زندگی سے لطف اٹھانے میں بہت فرق۔
اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ انسانیت زیادتی و نقصان کے قابل ہے۔ وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ المُلْھِمُ لِلصَّوَابِ
سبحان اللہ۔
اور اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ "تصدیقِ ایمانی" سے مراد ان کے نزدیک تصدیق منطقی ہے جو ظن اور یقین دونوں کو شامل ہے، اس صورت میں "نفسِ ایمان" میں کمی و زیادتی کی گنجائش ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ اس جگہ تصدیق سے مراد یقین و اذعانِ قلبی (دل سے قبول کر لینا ہے) نہ کہ عام معنیٰ میں جس میں ظن بھی شامل ہے۔
یہ بھی ہمارا مسلک ہے۔ اس میں بھی امام صاحب کا اپنا ایک مسلک ہے، آگے آ رہا ہے ماشاءاللہ۔
امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "أَنَا مُؤْمِنٌ حَقًّا" (میں یقینًا مومن ہوں) اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "أَنَا مُؤْمِنٌ إِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی"
سبحان اللہ! کیا بات ہے جی سبحان اللہ! امام صاحب کی... اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے۔ بہت عظیم شخصیت ہیں۔
حقیقت میں ان کا یہ اختلاف "نزاعِ لفظی" ہے۔ مذہبِ اول (پہلے قول) کا تعلق ایمانِ حال سے ہے، اور مذہب ثانی (دوسرے قول) کا تعلق مآل و عاقبت کار سے ہے
یعنی مآل میں دیکھو نا، میں اس وقت اپنے اس وقت کا مکلف ہوں۔ میں اس وقت اگر سب کچھ مانتا ہوں، تو مومن ہوں نا یا نہیں ہوں؟ یقینی مومن ہوں، الحمدللہ۔ یقینی مومن ہوں، الحمدللہ! ہاں، دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کو آخرت تک لے جائے۔ آخرت تک مجھے نصیب ہو۔ حُسنِ خاتمہ نصیب ہو، یہ دعا میں کہنا ہے۔ لیکن جو حضرات کہتے ہیں "ان شاء الله"، "ان شاء الله" سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی وقت سلب ہو سکتا ہے۔ تو وہ خاتمے کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں کہ پتہ نہیں میری موت کس حالت میں ہوگی۔ جیسے ایک بزرگ سے پوچھا گیا تھا، میری خیال میں تاتاریوں کا دور تھا، تو تیمور جو شہزادہ تھا تو اس نے ایک بزرگ تھےان کو اذان دیتے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہم عبادت کے لیے لوگوں کو بلاتے ہیں تو اس کے لیے طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا چھوڑو ساری باتیں، یہ بتاؤ، تیری داڑھی اچھی ہے یا میرے کتے کی دم؟ اس نے کہا: مجھے نہیں پتہ، اگر میں ایمان کے ساتھ دنیا سے چلا گیا تو پھر تو میری داڑھی اچھی ہے۔ اور اگر میں ایمان کے ساتھ دنیا سے نہیں گیا، تو پھر تیرے کتے کی دم اچھی ہے، جلے گی تو نہیں۔
اب یہ جو تھا یہ والی بات، یعنی انسان کو اپنی عاقبت کا خوف ہو۔ تو یہ بات تھی۔ تو اس پہ بڑا اثر ہوا اور اس نے کہا "ایمان کیا چیز ہے؟" تو انہوں نے بتا دیا سارا ایمان۔ تو انہوں نے کہا "اچھا ٹھیک ہے، میں اس کو مانتا ہوں لیکن ابھی میں اعلان نہیں کر سکتا۔ جس وقت میں بادشاہ بن جاؤں نا، تو اس وقت میرے پاس آجانا۔ تو مجھے یاد دلا دینا، تو میں قبول کر لوں گا اسلام۔" تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے، وہ اس انتظار میں تھے کہ پھر اس کا آخری وقت آگیا۔ تو اس نے بیٹے کو وصیت کی کہ جس وقت بادشاہ بن جائے تیمور، تو جا کے ان کے محل کے قریب اذان دے دینا۔ تو وہ تجھے بلا لے گا۔ تو پھر اس کو یہ وعدہ یاد دلانا۔ تو اس نے ایسے ہی کیا، اس محل کے قریب اذان دی۔ لوگوں نے پکڑ لیا اور بادشاہ کے پاس لے گئے، انہوں نے کہا "یہ کیا کر رہے تھے؟" کہتے ہیں، "میرے والد نے مجھے وصیت کی اس طرح کیا تھا اور آپ نے ان کے ساتھ کچھ باتیں کی تھیں۔" کہا، "اچھا، اچھا ٹھیک ہے، بیٹھو بیٹھو۔" ان کا جو بڑا تھا مصاحب، اس کو لے گئے اندر۔ بادشاہوں کو طریقے تو آتے ہیں نا ظاہری بات ہے سیاسی لوگ ہوتے ہیں، سیاست کرتے ہیں۔ تو اس کو اندر لے گئے، اور ان کو سمجھایا کہ اس طرح میرے ساتھ ہوا تھا اور میں نے وعدہ کیا تھا تو کیا خیال ہے آپ کا اس کا؟" تو اس کے ساتھ اٹھ کے گلے ملے، کہتے ہیں "میں تو پہلے سے مسلمان ہوں!" وہ بھی مسلمان ہو گیا تھا کسی طریقے سے، واللہ اعلم۔ تو بس اس کے بعد پھر دونوں نے مل کے باقیوں کو Convince کر دیا اور پورا، ظاہر ہے، بادشاہت مسلمان ہو گئی۔ اور پھر الحمدللہ اللہ پاک نے ان سے کام لے لیا۔
کیا کہا تھا اقبال نے؟
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
تو یہ ہے کہ یہ "ان شاء الله" اس معنی میں بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن نفسِ ایمان، موجودہ ایمان، ایمانِ حال، اس پہ تو انسان کو کہنا چاہیے کہ میں یقیناً مومن ہوں۔ کیوں؟ یقیناً نہیں کہے گا تو شک ہے۔ اور ایمان میں شک کفر ہے۔ تو پھر تو کہنا پڑے گا میں مومن ہوں! یہ مطلب جو میں مانتا ہوں تو میں مومن ہوں! ٹھیک ہے نا! تو یہ اصل میں یہ والی بات ہے۔
یا کریم!
لیکن صورتِ استثناء سے پرہیز کرنا اولی و احوط ہے۔ کَمَا لَا یَخْفٰی عَلَی الْمُنْصِفِ (جیسا کہ منصف لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہے)
مطلب دیکھیں نا یہ استثنیٰ والی بات، یہ احتیاطاً ہے۔ احتیاطاً بہتر ہے۔
عقیدہ نمبر 20:
اور اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں، اور ان سے بکثرت خوارقِ عادات واقع ہونے کی وجہ سے ان کی یہ بات عادت مستمرہ (دائمی) بن گئی ہے۔ کرامات کا انکار کرنے والا علم عادی اور ضروری کا انکار کرنے والا ہے۔ نبی کا معجزہ نبوت کے دعوے سے مقرون (ملا ہوا) ہوتا ہے، اور ولی کی کرامت اس معنی میں خالی ہے بلکہ اس نبی کی پیروی کے اعتراف کے ساتھ مقرون (ملی ہوئی) ہوتی ہے۔
فَلَا اشْتِبَاہَ بَیْنَ الْمُعْجَزَۃِ وَ الْکَرَامَۃِ کَمَا زَعَمَ المُنْکِرُوْنَ۔
جیسے منکرین جو ہیں نا وہ اس کا زعم رکھتے ہیں کہ دونوں میں وہ کیا ہو جائے گی نبوت اور اس میں فرق نہیں رہے گا۔ نہیں! یہ اتباعِ نبوت کے وسیلے میں ہے۔ اتباعِ نبوت کے وسیلے میں ہے، کہ جو مومن حق، وہ نبی کا کامل متبع ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ ان کے، جو نبوت کی برکت سے، جو اس نبی کی نبوت کو مان رہا ہے، ان کو بھی اللہ پاک کچھ چیزیں عطا فرما دیتے ہیں۔ تو البتہ فرق یہ ہے کہ وہ دلیل ہے نبوت کی معجزہ، اور کرامت جو ہے نا کیا ہے، یہ ظن ہے اولیاء اللہ کے ساتھ، کہ حسنِ ظن کا موقع دیتا ہے کہ ان کے بارے میں انسان نیک گمان کرتا ہے اور ان کے معتقد ہو جاتے ہیں۔
عقیدہ نمبر 21:
اور خلفائے راشدین کے درمیان افضلیت کی ترتیب خلافت کی ترتیب کے مطابق ہے لیکن شیخین کی افضلیت صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ اکابرین آئمہ کی ایک جماعت نے جن میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں جنہوں نے اس بات کو نقل کیا ہے کہ "شیخ الامام ابو الحسن اشعری ر حمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بقیہ تمام امت پر قطعی ہے" اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت علی کا یہ قول ان کی خلافت و مملکت کے زمانے میں آپ کے متبعین میں سے ایک جمِ غفیر کے سامنے تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ "انَّ أَبَا بَکْرٍ و عُمَرَ أَفْضَلُ الْأُمَّۃِ" ترجمہ: ”ابو بکر اور عمر تمام امت میں افضل ہیں“ـ پھر فرماتے ہیں کہ اس روایت کو اسی (80) سے زیادہ راویوں نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کیا ہے اور ان میں سے ایک جماعت کا نام بھی لیا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رافضیوں کا برا کرے یہ کیسے جاہل ہیں۔ بخاری نے ان (حضرت علی) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"خَیْرُ النَّاسِ بَعْدَ النَّبِی عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ أَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ابْنُہٗ مُحَمَّدُ بْنُ الحَنَفِیَّۃُ ثُمَّ أَنْتَ؟ فَقَالَ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِّنَ المُسْلِمیْنَ"
"نبی ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر ایک اور شخص۔ اس پر آپ کے صاحبزادے محمد ابن حنفیہ نے کہا پھر آپ؟ اس پر آپ نے فرمایا کہ میں تو تمام مسلمانوں میں سے ایک فرد ہوں"۔
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ: "مجھے اطلاع ملی ہے کہ لوگ مجھے ان دونوں (شیخین) پر فضیلت دیتے ہیں، لہذا جو بھی مجھ کو ان پر فضیلت دیتا ہے وہ مفتری (جھوٹا) ہے اور اس کے لئے وہ سزا ہے جو ایک مفتری کی ہوتی ہے" اور دار قطنی نے آپ (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ہے کہ: "میں جس کو پاؤں گا کہ وہ حضرت ابو بکر و عمر پر مجھے فضیلت دیتا ہے تو میں اس کو اتنے کوڑے لگاؤں گا جتنے ایک مفتری کو لگنے چاہئیں"۔ اس قسم کی اور بہت سی روایتیں خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور آپ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے اس کثرت اور تواتر سے آئی ہیں جس میں کسی کو انکار کی مجال نہیں۔ حتی کہ عبد الرزاق جو اکابر شیعہ میں سے ہے کہتا ہے کہ: (میں شیخین کو اس لئے فضیلت دیتا ہوں کہ خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اوپر ان کو فضیلت دی ہے ورنہ میں ان (شیخین) کو کبھی فضیلت نہ دیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ گناہ ہے کہ میں ان (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے محبت کا دعویٰ کروں اور پھر ان (کے اقوال) کی مخالفت کروں)۔ یہ سب کچھ صواعق سے لیا گیا ہے۔
لیکن اب رہی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت علی اللہ تعالیٰ عنہ پر فضیلت، سو اکثر علمائے اہلِ سنت اس مسلک پر ہیں کہ شیخین کے بعد حضرت عثمان افضل ہیں، پھر اس کے بعد حضرت علی۔ آئمہ اربعہ مجتہدین کا مذہب بھی یہی ہے۔ اور بعض لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کے بارے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے جو توقف نقل کیا ہے، اس کے متعلق قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس توقف سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کی طرف رجوع کر لیا ہے اور قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ یہی اصح ہے۔ اسی طرح وہ توقف جو بعض نے امام اعظم رحمہ اللہ کی اس عبارت سے سمجھا ہے کہ "مِنْ عَلَامَاتِ السُّنَّۃِ وَ الْجَمَاعَۃِ تَفْضِیلُ الشَیْخَینِ وَ مَحبَۃُّ الخَتَنَیْنِ" (اہل سنت و جماعت کی علامت میں سے یہ بھی ہے کہ شیخین کو فضیلت دی جائے اور ختنین (دونوں داماد) (حضرت عثمان و حضرت علی سے محبت کی جائے)۔
اس فقیر کے نزدیک اس عبارت کے اختیار کرنے میں ایک دوسرا محل ہے کہ حضرات ختنین کی خلافت کے زمانے میں بہت زیادہ فتنے و فساد پیدا ہو گئے تھے جس کہ وجہ سے لوگوں کے دلوں میں بہت کدورت پیدا ہو گئی تھی۔ اس لئے امام (ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ) نے اس بات کو مدِ نظر رکھ کر ان کے حق میں محبت کا لفظ اختیار کر لیا ہے اور ان کی دوستی کو علاماتِ اہل سنت سے قرار دیا ہے، بغیر اس امر کے کہ کسی قسم کا توقف ملحوظ ہو، اور کیسے توقف ہو سکتا ہے کیونکہ حنفیوں کی کتابیں ایسے مضامین سے بھری پڑی ہیں کہ ان (خلفائے راشدین) کی فضیلت ان کی ترتیب، ترتیبِ خلافت کے مطابق ہے۔
مختصر یہ کہ شیخین کی افضلیت یقینی ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت ان سے کم درجے کی ہے۔ لیکن زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ حضرت عثمان کی افضلیت کے منکر کو بلکہ شیخین کی افضلیت کے منکر کے لئے بھی ہم کفر کا حکم نہ لگائیں البتہ ان کو بدعتی و گمراہ جانیں، کیونکہ ان کی تکفیر میں علماء کا اختلاف ہے اور اس اجماع کے قطعی ہونے میں بہت قیل و قال ہے۔ اس کا منکر بد نصیب یزید کا ساتھی ہے، اسی احتیاط کی بنا پر اس (یزید) کے لعن طعن کرنے میں توقف کیا ہے۔ وہ ایذا جو حضرت پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کو خلفائے راشدین کو ایذا رسانی کی جہت سے پہنچی ہے وہ ایسی ہے کہ جیسی کہ حضرات امامین (حضرت امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما) کو ایذا رسانی کی جہت سے پہنچی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ خلفائے راشدین کی مخالفت بھی ایسے ہی تکلیف دیتی ہے آپ ﷺ کو، جیسے کہ امام حسن رضی الله عنہ اور حسین رضی الله عنہ کی مخالفت آپ ﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے۔
ویسے یہ بات میں صاف عرض کر لوں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے، انہوں نے اتنا زیادہ Balance یعنی معتدل وہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ساری عمر یہ شیعوں سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ اہلِ بیت کے بارے میں بہت اونچے الفاظ ہیں ان کے۔ اس پر فرق کوئی نہیں پڑتا، یہی تو بات ہے نا! آج کل کیا حالت ہے؟ تھوڑے سے صحابہ کے بارے میں انسان محبت کی باتیں کرے، اہلِ بیت چھپ جائیں۔ اہلِ بیت کی طرف نگاہ نہیں جاتی۔ بلکہ بعض لوگ تو بے احتیاط ہو جاتے ہیں، اور اس قسم کی باتیں کر لیتے ہیں جن سے انسان حیران ہو جاتا ہے۔
بھئی صحابہ کی حمایت، اہلِ بیت کی مخالفت، یہ دونوں آپس میں لازم ملزوم تو نہیں ہیں؟ جیسے صحابہ کی حمایت لازم ہے، اس طرح اہلِ بیت کی محبت لازم ہے۔ دونوں، دونوں، دونوں! چونکہ روایات ساری کی ساری موجود ہیں۔ یعنی یہ روایت بھی موجود ہے: ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ جن کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پاؤ گے۔ تو اس کے مطابق تو صحابہ کی بات آجاتی ہے۔ لیکن ذرا غور فرمائیں کیا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی نہیں ہیں؟ کیا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صحابیہ نہیں ہیں؟ کیا حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما صحابی نہیں ہیں؟ تو پھر اس میں کیا اختلاف ہو گیا؟ یہ تو ختم ہو گئی بات، کہ دونوں طرف صحابہ ہیں۔ لہٰذا اس مسئلے میں تو ہم فرق نہیں کر سکتے۔
اب بات رہ گئی اہلِ بیت کے علاوہ، تو یہ بات بھی ہے کہ آپ ﷺ نے اہلِ بیت کے بارے میں بھی روایت بیان کی ہے۔ "عترتی" کا لفظ آیا ہے احادیث شریف میں۔ قرآن اور میری عترت! قرآن اور سنت بھی ہے، قرآن اور میری عترت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سارے امام اپنے دور کے اہلِ بیت کے ساتھ رہے ہیں۔ دیکھ لو تاریخ پڑھ لو۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک، یہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ رہے ہیں۔ ان کے خلفاء ہیں۔ ان کی روایت اس کے بارے میں بڑی عجیب ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی: ﴿لَوْلَا السَّنَتَانِ لَهَلَكَ النُّعْمَانُ﴾، اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔
وہ دو سال کون سے؟ جو حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزارے۔ تو یہ ان کے بارے میں فرمایا۔
تو ایک تو یہ بات ہے پھر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے بیٹے امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، ان کے خلیفہ ہیں۔ یعنی ہمارے جتنے بھی بڑے آئے ہیں، سارے کے سارے حتیٰ کہ امام زید رحمۃ اللہ علیہ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بالکل ساتھ ساتھ تھے۔ ان کے ساتھ باقاعدہ وہ خروج میں مدد بھی کی تھی۔ امام زید رحمۃ اللہ علیہ۔ اور یہی وجہ ہے کہ زیدی فقہ اور حنفی فقہ بہت قریب قریب ہیں۔
تو اب یہ جو بات ہے کہ یہ تو ظاہر ہے اہلِ بیت والی بات آگئی۔ پھر ان کو" سفینہ "بھی کہا گیا، کہ نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح جو اس میں بیٹھ گیا وہ محفوظ ہو گیا اہلِ بیت کے ساتھ۔ تو اب یہ وہ بھی آپ ﷺ کے اقوال ہیں۔ جو اقوال ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ہیں وہ بھی نبوت کی طرف سے آئے ہیں اور جو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہیں وہ بھی نبوت کی طرف سے آئے ہیں۔ اب ان کا تو مان لیا جائے اور یہ مانا نہ جائے، تو یہ کہاں کی بات ہے؟ یہ تو اپنے نفس کا ماننا ہوا! کچھ کو مانتا ہوں، کچھ کو نہیں مانتا۔
ایک صاحب تھے عالم ہیں، عاشورہ کے دن -میرے ساتھ کچھ محبت ہو گئی تھی ان کو- عاشورہ کے دن مجھے ٹیلیفون کیا۔ "میں آج کیا کروں؟ کچھ نصیحت کریں، آج کے دن کیا کروں؟" میں نے کہا درود شریف پڑھیں، جتنا ہو سکتا ہے زیادہ سے زیادہ۔ اور اس کا ایصالِ ثواب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کریں۔ شکر ہے کہ مان گئے۔ اگلے دن کہتے ہیں: "کمال ہے! سارا کچھ واش ہو گیا دل سے۔" کہتے ہیں: "ہم تو یزید زندہ باد کے نعرے لگانے والے تھے۔ یزید زندہ باد کے نعرے لگانے والے تھے۔" خود کہتا ہے۔ "ہم نے نعرے لگائے ہیں یزید زندہ باد کے!" کہتا ہے: "ذہن سے بالکل دل سے وہ ساری چیزیں اتر گئی۔" یہ ایسا دور بھی آ گیا ہے۔ اللہ پاک معاف فرمائے۔
پھر یہ تو ان کی تو الحمدللہ کیفیت کے ذریعے سے اصلاح ہو گئی۔ میں نے کہا اب ذرا تھوڑی سی علمی اصلاح بھی ہونی چاہیے نا! بغیر علمی اصلاح کے تو وہ کیفیت والی تو واپس بھی ہو سکتی ہے کسی وقت دوبارہ ! میں نے کہا یہ بتاؤ کہ کسی صحابی میں اور کسی تابعی میں اختلاف آ جائے تو آپ کس کی بات مانیں گے؟
کہتے ہیں: "صحابی کی۔"
میں نے کہا پکی بات ہے؟
کہتے ہیں: "ہاں بالکل اس پہ کیا شک ہے؟ ﴿الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ﴾۔"
ظاہر ہے ہمارے احادیث کی کتابیں آپ دیکھیں تو اس میں یہ سند آتی ہیں نا کہ ﴿فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ عَنْ فُلَانٍ﴾، اور من صحابی، وھو عن فلان وکان صحابی والصحابۃ کلہم عدول، باقاعدہ یہ آتا ہے نا احادیث شریفہ کے اس میں۔ تو میں نے کہا: "اچھی بات ہے، تو پھر بتاؤ کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی تھے یا تابعی تھے؟"
کہتے ہیں: "صحابی تھے۔"
میں نے کہا: "یزید تابعی تھے یا صحابی تھے؟"
کہتے ہیں: "ہائیں! یہ کیا ہوا؟"
یہ تو یہ کیا ہوا، یہ تو بالکل صاف بات ہے۔
اب بس یہی بات ہوتی ہے۔ کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔
تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں آج کل بہت ہیں اور یہ سب غلط لوگوں کی کتابیں پڑھنے کی وجہ سے۔ اس میں بہت خیال رکھنا چاہیے۔ جو غلط کتابیں ہیں، ان کو نہیں پڑھنا چاہیے۔ وہ مجھے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا، مجھے کوئی دوائی تھی اس کے بارے میں بڑا discuss کر رہا تھا اس کے ساتھ۔ اس نے کہا، "یا صحیح علاج کرو، یا نہ کرو۔ غلط علاج سے علاج نہ کرنا بہتر ہے۔" تو بات صحیح ہے، بھئی یا صحیح کتاب پڑھو یا نہ پڑھو۔ بس پھر وہ نہ پڑھنا آپ کے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ غلط پڑھو گے تو خوامخواہ غلط راستے پہ پڑ جاؤ گے نا، مسئلہ بن جائے گا۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
جاری ہے، ان شاء اللہ