اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ (181) ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (182) الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰی یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَبِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (183)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْكَرِیْمُ
اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ "اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں"
یہ اپنے اوپر ظلم کی انتہا ہے جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ بعض لوگ اس وقت بھی اس قسم کی لغو باتیں کرتے ہیں، اور اپنے ایمان کو ضائع کرتے ہیں۔ اور یہود چونکہ یہ گستاخ لوگ تھے، یعنی یہ ادب آداب سے ناآشنا ہوتے ہیں زیادہ تر۔ تو اس قسم کی باتیں ان کی قرآن پاک میں آتی ہیں۔
تو اب دیکھیں۔۔۔
زکوٰۃ کے احکام آ گئے، تو بعض یہودیوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اس قسم کے گستاخانہ جملے کہے تھے۔ ظاہر ہے عقیدہ تو ان کا بھی یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ فقیر ہے، لیکن انہوں نے زکوٰۃ کے حکم کا مذاق اس طرح اڑایا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ جملے کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اس پر عذاب کی وعید سنائی۔
کیونکہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جو بیہودہ بات کرتا ہے تو بیہودہ بات کی کوئی دلیل تو نہیں ہوتی کہ اس کو دلیل سے جواب دیا جائے۔ بیہودہ بات کی تو یہی ہوتی ہے کہ جو اس کی سزا ہوتی ہے وہ سزا دی جاتی ہے۔
تو اس طرح ان لوگوں نے گستاخانہ فقرہ کہا تھا۔ پیغمبروں کے ساتھ تو یہ کرتے تھے، پیغمبروں کو تو قتل بھی کر لیتے تھے، اللہ تعالیٰ بس ہمیں اس قسم کی چیزوں سے بچائے۔ تو اللہ جل شانہ کے بارے میں جو اللہ کو ماننے والا ہے وہ تو یہ بات نہیں سمجھ سکتا کہ ایسا ہوگا۔ لیکن زکوٰۃ کے بارے میں چونکہ زکوٰۃ کے احکام آئے تو انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔
اور ہم ان کی یہ بات بھی (ان کے اعمال نامے میں) لکھ لیتے ہیں، اور انہوں نے انبیاء کو جو ناحق قتل کیا ہے اس کو بھی، اور پھر کہیں گے کہ :"دہکتی آگ کا مزہ چکھو"۔
یعنی چونکہ پہلے والی بات گستاخانہ تھی، اور انبیاء کا جو قتل کرنا ہے وہ تو بہت بڑی جرات تھی، تو اللہ پاک نے اس کا عذاب ان کو سنا دیا۔
یہ سب تمہارے ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ ہے جو تم نے آگے بھیج رکھا ہے، ورنہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے وعدہ لیا ہے کہ کسی پیغمبر پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھا جائے۔
پچھلے انبیاء کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کوئی جانور قربان کرتا، تو اس کا کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیتا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے، تو آسمان سے ایک آگ آ کر اس قربانی کو کھا لیتی تھی۔ اس کو سوختنی قربانی کہا جاتا تھا۔ آپﷺ کی شریعت میں یہ طریقہ ختم کر دیا گیا، اور قربانی کا گوشت انسانوں کے لیے حلال کر دیا گیا۔ یہودیوں نے یہ کہا تھا کہ چونکہ آپ ﷺ ایسی قربانی لے کر نہیں آئے، اس لیے ہم ان پر ایمان نہیں لاتے۔ چونکہ یہ محض وقت گزاری کا ایک بہانہ تھا اور حقیقت میں ایمان لانا پیش نظر نہیں تھا، اس لیے انہیں یاد دلایا کہ ماضی میں ایسی نشانیاں تمہارے سامنے آئیں، تب بھی تم ایمان لانے کی بجائے انبیاء کرام کو قتل کرتے رہے۔
تم کہو کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے پیغمبر کھلی نشانیاں بھی لے کر آئے، اور وہ چیز بھی جس کے بارے میں تم نے مجھ سے کہا ہے، پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم واقعی سچے ہو؟
یعنی جن یہودیوں نے پیغمبروں کو قتل کیا تھا تو ان کے پاس تو ایسی چیزیں تھیں، پھر ان کو کیوں قتل کیا گیا؟ تو یہ صرف بہانہ سازی تھی اور بہانے کا جواب اللہ پاک نے یہ دیا کہ تم بہانے کرتے ہو ورنہ اصل میں تو تمہارے ساتھ یعنی اس قسم کی باتیں ہوئی ہیں۔
تو اللہ جل شانہ ہمیں ایسی گستاخیوں سے بچائے۔ اصل میں واقعی جب شامت آ جاتی ہے نا تو پھر آدمی کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ کیا کرتے ہیں۔ اب دیکھیں مسجدِ نبوی میں جو ظلم ہوا ہے ، تو اب اس کے جو ماننے والے ہیں وہ اس کے لیے طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں، اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ ایسا ہے، یہ وجہ تھی، فلانا، یہ وہ؟ تو یہ اپنے اوپر ظلم کی بات ہے۔ اب چونکہ قرآن تو ابھی نہیں اتر رہا، وحی تو نہیں آ رہی، لہٰذا اس کے بارے میں تو اس قسم کی باتیں تو نہیں آئیں گی۔ لیکن جو جرم ہے وہ جرم ہے۔
اب اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا قرآن پاک میں: "لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ"۔ نبی کی آواز پر بلند آواز نہ کرو۔ تمہارے اعمال ختم کیے جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ یہ ہے قرآن پاک میں۔ اور پھر یہ صحابہ کرام کی بات تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے تھے، اور دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے، ذرا تیز آواز سے، مسجدِ نبوی میں۔ اس وقت مسجدِ نبوی بھی چھوٹی سی تھی۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بات نہیں کی لیکن ایک کنکر ان کو مارا، اس طرح کہ وہ رخ کر لیں ان کی طرف۔ تو رخ کیا، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا، قریب جب آ گئے، کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ تو انہوں نے کہا ہم طائف سے ہیں۔ تو انہوں نے کہا اگر تم اجنبی نہ ہوتے تو میں تمہیں پھر دیکھ لیتا۔ تمہیں پتہ نہیں کہ تم کدھر بیٹھے ہو؟ یعنی تم عام جگہ پہ نہیں بیٹھے ہو جو اس طرح زور سے باتیں کرتے ہو۔
ہمیں یاد ہے ما شاء اللہ، ہماری اتنی زیادہ عمر تو نہیں ہے، کہ ہم جب جاتے تھے مسجدِ نبوی میں تو لوگ زور سے آواز سے باتیں نہیں کرتے تھے۔ بلکہ پست پست باتیں کرتے تھے جیسے مطلب کوئی سرگوشی میں بات کرتا ہے۔ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔ اور حتیٰ کہ وہاں کے جو پولیس والے تھے وہ بھی ہارن نہیں مارتے تھے۔ وہ گاڑیوں کے جو ہوتے تھے، بلکہ چس چس اس طرح، اس طرح کرتے تھے۔ یعنی مسجدِ نبوی کا احترام اور مدینہ منورہ کا احترام، مطلب یہاں تک، ابھی بھی یہ واقعہ جب ہوا ہے تو اس کے فوراً بعد جو امام صاحب ہیں، انہوں نے جو تلاوت کی وہ یہی تلاوت کی قرآن پاک میں اور ساتھ رو رہے تھے۔ ابھی میں نے آیت کریمہ تلاوت کی ہے۔ کہ مطلب زور سے بات نہ کرو۔ آپ ﷺ کے سامنے تمہارے اعمال حبط کیے جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔
تو یہ بہت بڑی گستاخی تھی۔ لیکن گستاخی کی سپورٹ کرنا بھی گستاخی ہے۔ مطلب جو گستاخی کو سپورٹ کرے گا تو وہ بھی گستاخی ہے، مطلب اس چیز کو مانتا ہے کہ اگر وہ بھی ادھر ہوتا تو یہی کام کرتا۔ تو خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب کر رہے ہیں۔ یہی بات میں عرض کرتا ہوں کہ پارٹی بازی اور اس قسم کی جتھہ بندی، جس میں انسان اپنی عقل کو بالکل ختم کر لے اور جو وہ کریں ان کے ساتھ وہ بالکل وہی اس چیز میں سپورٹ کر لے، تو بس پھر کیا ہے؟ پھر تباہی کی باتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاۤ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ، وَتُبْ عَلَیْنَاۤ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔