اطاعتِ رسول ﷺ کے تقاضے اور صحبتِ صالحین کی اہمیت

درس نمبر 189، سورۃ النساء: آیت: 65 تا 70- اشاعتِ اول: 4 جون، 2022، بمطابق 4 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* اطاعتِ رسول ﷺ کی فرضیت اور کامل فرمانبرداری کی شرائط۔

* بنی اسرائیل کی سرکشی، ان پر نازل ہونے والے سخت احکامات اور شریعتِ محمدی ﷺ کی آسانی۔

* منافقین اور یہودیوں کی حیلہ سازیاں (الفاظ کے ہیر پھیر سے گستاخی کرنا)۔

* انعام یافتہ طبقات (انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین) کا قرآنی تعارف۔

* دورِ حاضر میں دین پر ثابت قدمی کے لیے صحبتِ صالحین کی ضرورت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(65) وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ (66) وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًا ۙ (67) وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا(68) وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا (69) ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰه ِؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا (70)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


نہیں، (اے پیغمبر!) تمہارے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں فیصل نہ بنا لیں، پھر تم جو کچھ فیصلہ کرو اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں، اور اس کے آگے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردیں ﴿65﴾ اور اگر ہم ان کے لئے یہ فرض قرار دے دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا کوئی اس پر عمل نہ کرتا۔ اور جس بات کی انہیں نصیحت کی جارہی ہے اگر یہ لوگ اس پر عمل کر لیتے تو ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، اور ان میں خوب ثابت قدمی پیدا کردیتا ﴿66﴾


مطلب یہ ہے کہ:

بنی اسرائیل کو تو بڑے سخت قسم کے احکام دیئے گئے تھے جن میں توبہ کے طور پر ایک دوسرے کو قتل کرنا بھی شامل تھا جس کا ذکر سورۂ بقرہ (آیت 54) میں آیا ہے۔ اب اگر کوئی ایسا سخت حکم دیا جاتا تو ان میں سے کوئی بھی عمل نہ کرتا۔ اب تو اس سے بہت آسان حکم یہ دیا جارہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو دل و جان سے تسلیم کرلو، لہذا عافیت کا راستہ یہی ہے کہ وہ آپ کے صحیح معنی میں فرماں بردار بن جائیں۔ بعض روایات میں ہے کہ کچھ یہودیوں نے یہ شیخی بھی بگھاری تھی کہ ہم تو ایسی فرماں بردار قوم ہیں کہ جب ہمارے آباء واجداد کو یہ حکم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں تو انہوں نے اس جیسے سخت حکم پر عمل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہ آیت ان کی اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔


یہ واقعی ایسی بات ہے کہ بنی اسرائیل کو جو احکامات دیے گئے تھے، وہ کافی سخت ہوتے تھے۔ ان کی سرکشی کی وجہ سے کہ وہ سرکشی ان میں ایسی تھی کہ وہ اپنے لیے کوئی بس راستہ نکال لیتے تھے۔ تو اس صورت میں ان کو بڑے سخت قسم کے احکامات دیے جاتے۔ اب وقت آ گیا، اس وقت ان میں یہ تھی کہ چلو سرکشی کرتے ہیں، لیکن پھر بعد میں وہ یعنی جب حکم آ جاتا، تو وہ مان بھی لیتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان میں یہ خصلت بھی آ گئی کہ پھر ماننا بھی گویا کہ چھوڑ دیا اور اس میں بھی ادھر ادھر کی باتیں نکالنے لگے۔چونکہ منافق تھے۔ تو منافق وہ اس قسم کی باتیں وہ کرتے تھے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ان کے جو عام یہودی ہوتے تھے، یہ بھی باتوں باتوں میں کوئی نہ کوئی اس طرح کر کے، جیسے "رَاعِنَا" کو "رَاعِينَا" کہہ دیتے تھے۔ تو اس طرح اور بھی اپنے لیے کچھ اس قسم کی چیزیں نکال لیتے تھے کہ جس میں ان کا شر چھپا ہوا ہوتا تھا۔ تو یہ چیز ان میں ابھی بھی موجود ہے، یہ چیز آ رہی ہے ان میں۔ تو ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ جو ان کے منافق ہیں، وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے، بلکہ اس میں بھی ادھر ادھر کی باتیں نکالتے ہیں۔


اور اس صورت میں ہم انہیں خود اپنے پاس سے یقیناً اجر عظیم عطا کرتے ﴿67﴾ اور انہیں ضرور بالضرور سیدھے راستے تک پہنچا دیتے ﴿68﴾ اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ اُن کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں! ﴿69﴾ یہ فضیلت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اور (لوگوں کے حالات سے) پوری طرح باخبر ہونے کے لئے اللہ کافی ہے۔ ﴿70﴾


یہ وہ آیتِ کریمہ ہے جو "صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" کی تشریح بھی کرتی ہے۔ کیونکہ وہاں تو یہ ہم مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے کہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ ہدایت فرما۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا ہے۔ تو انعام کن پر فرمایا ہے؟ وہ یہاں پر ہے۔ یہاں پر ہے

جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔

ان چار طبقوں پر اللہ پاک نے انعام فرمایا ہے۔

تو اب چونکہ انبیاء کرام تو یہاں سے تشریف لے گئے، اور صدیقین بہت تھوڑے ہیں۔ اور شہداء جو ہیں، وہ تو اسی وقت پتا چلتا ہے ان کا کہ شہید ہو جائیں۔ تو ایسی صورت میں یعنی گویا کہ صحبت کے لیے صالحین ہی رہتے ہیں کہ صالحین کی صحبت جو ہے انسان اختیار کر لے۔ صحبتِ صالحین۔ یہ بات اور یہ فرمایا:

اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔

تو مطلب یہ ہے کہ ان کی صحبت میں رہ کر انسان اپنے لیے خیر کے راستے ڈھونڈ سکتا ہے۔


فرماتے ہیں:

یہ فضیلت اللہ کی طرف سے ملتی ہے، اور (لوگوں کے حالات سے) پوری طرح باخبر ہونے کے لئے اللہ کافی ہے۔ ﴿70﴾

یعنی وہ کسی کو یہ فضیلت معاذ اللہ بے خبری کے ساتھ نہیں دیتا بلکہ ہر شخص کے عملی حالات سے باخبر ہو کر دیتا ہے۔


اللہ جل شانہٗ ہمیں بھی صالحین میں سے کر دے، اور صدیقین میں سے کر دے۔ اللہ پاک ہمیں اپنا پسندیدہ راستہ ہدایت فرما دے۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ ہمیں چلا دے۔ اور اس کے سامنے جو مشکلات ہیں، ان مشکلات کو دور فرما دے۔




وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ


اطاعتِ رسول ﷺ کے تقاضے اور صحبتِ صالحین کی اہمیت - درسِ قرآن - دوسرا دور