واقعہ کربلا، یزید کی حقیقت اور اہلِ سنت والجماعت کا معتدل موقف

اشاعت اول: اتوار، 30 جولائی، 2023 بمطابق 11 محرم الحرام 1444

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·    محرم الحرام کے فضائل اور عاشورہ کے روزے کی اہمیت

·    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کا شاندار دورِ خلافت

·    دین کی ترویج میں مقدس طبقات کا کردار، منظوم کلام اور ایصالِ ثواب

·    سانحہ کربلا، یزید کے جرائم اور افراط و تفریط سے پاک اہلِ سنت کا موقف

·    "صحابہ" کی جامع تعریف (جس میں اہلِ بیت اور امہات المؤمنین بھی شامل ہیں) اور ان کے فضائل

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات! محرم کا مہینہ ہے، لہٰذا محرم کے مہینے میں کچھ واقعات بھی ہوئے ہیں، اس کا تذکرہ بھی مفید ہوتا ہے اور کچھ اس کے فضائل ہیں، تو وہ بھی مطلب ظاہر ہے بتانے چاہئیں۔ جہاں تک فضائل کا تعلق ہے، تو اس میں محرم کے مہینے میں روزے رکھنا، یہ بڑا ثواب کا کام ہے، یعنی رمضان کے بعد ان کے روزوں کی بڑی اہمیت ہے، بالخصوص عاشورہ کے روزے کی، جس میں دو روزے لوگ رکھتے ہیں ثواب کی نیت سے۔ ایک تو عاشورہ کا اور ایک مشابہت سے نکلنے کے لئے، یہود کی مشابہت سے نکلنے کے لئے، کیونکہ عاشورہ کی جوفضیلت ہے، مختلف حالات سےہے، بہت سارے واقعات ہیں جو کہ اس میں ہوئے ہیں۔ فرعون سے نجات جو ہوئی موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی، یہ بھی عاشورہ کے دن ہوا تھا۔ لہٰذا یہود بھی یہ روزہ رکھتے تھے اور ہمارے ہاں مسلمانوں کے ہاں بھی تھا۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آپ لوگ کس لئے روزے رکھتے ہیں؟ تو انہوں نے یہی کہا کہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو نجات ملی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر تو ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں، تو ہم بھی یہ روزہ رکھیں گے۔ تو صحابہ کرام کو یہ اشکال ذہن میں تھا کہ چونکہ یہود رکھتے ہیں، تو کہیں مشابہت والی بات نہ ہو جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا اگلے سال، تو ہم دو رکھیں گے، یا تو نو اور دس کا یا دس اور گیارہ کا، تاکہ مشابہت سے نکل جائیں اور عاشورہ کا روزہ بھی، اس سے بھی محروم نہ ہوں۔ تو اس سے پتا چلا کہ عاشورہ کا روزہ کتنا محترم ہے۔ ایک بات۔

اور دوسرا یہ کہ مشابہت سے بچنا کتنا ضروری ہے، یعنی یہ چیز ہمیں عملاً گویا کہ سامنے ملتی ہے اس میں۔ تو مشابہت سے بچنے کے لئے دو روزے، چاہے نو دس یا دس گیارہ، چونکہ دن گزر گئے ہیں، تو اس کے بارے میں تو بات صرف حسرت ہی بڑھانا ہو گا۔ ہاں! البتہ اگلے سال اس کے بارے میں لوگ سن لیں اور سمجھ لیں۔ تو ایک تو اس میں عاشورہ کے روزے کا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یومِ وفات بھی اسی میں ہے، یکم محرم کو، تو اس کے بارے میں بھی جاننا چاہیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور کتنا اہم دور تھا مسلمانوں پر، یہاں تک کہ جو غیر مسلم ہیں، ان میں سے بعض نے کہا اگر عمر (رضی اللہ عنہ )کچھ سال اور جیتے، تو کفار میں کوئی نہ رہتا۔ یعنی اتنا انصاف اور اتنی ما شاء اللہ، دور اندیشی، اور ایسا وہ عقل کا صحیح استعمال کہ انسان عش عش کر اٹھے، یہ عمر رضی اللہ عنہ کا دور تھا۔ یعنی اس واقعے سے اندازہ لگا لیں کہ کھانا کھلا رہے ہیں صحابہ کرام کو، تو ایک صحابی بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، تو ان سے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ پھر کچھ دیر بعد نظر آئے کہ پھر بائیں ہاتھ سے کھا رہے ہیں، تو انہوں نے کہا، میں نے کہا نہیں تھا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ؟ اس طرح جب دو تین دفعہ ہو گیا، تو انہوں نے کہا کہ حضرت میرا ہاتھ نہیں ہے، شہید ہو گیا ہے دایاں ہاتھ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے کہ میں نے آپ کو تکلیف دی اور آپ کا ناڑا کون باندھے گا، آپ کایہ کام کون کرے گا، آپ کا یہ کام کون کرے گا! یعنی گویا کہ رقیق القلب اتنے تھے، لیکن administratively اتنے strong تھے کہ سب لوگ ان سے ڈرتے۔ تو یہ بات ہے کہ ان کے بارے میں مختصر تعارف جو ایک صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کے دربار میں کیا تھا، پوچھا گیا کہ عمر کیسے ہیں؟ فرمایا "لَا یَخْدَعُ وَلَا یُخْدَعُ" نہ دھوکہ دیتا ہے نہ دھوکہ کھاتا ہے۔ تو قیصر نے کہا کہ " لَا یَخْدَعُ " تو اس کے دیانتدار ہونے کی، ایماندار ہونے کی علامت ہے اور " وَلَا یُخْدَعُ " اس کے عقلمند ہونے کی علامت ہے کہ اس کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ تو بات تو بالکل ایسی ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ، یہ ہمارے مسلمانوں کے بہت بڑےوہ ہیں، اللہ جل شانہ، ان کی اتباع نصیب فرمائے۔

دوسری بات جو اس میں تلخ واقعہ ہوا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے واقعات سے بچائے، وہ واقعہِ کربلا ہے۔ تاریخ میں اس کو مختلف رنگ سے پیش کیا گیا ہے، لیکن ہمیں تاریخی نقطۂ نظر سے اس کو نہیں دیکھنا ہے، بلکہ آثارِ صحابہ کے اسماء الرجال کی چھلنی سے گزارا جاتا ہے، پھر پتا چلتا ہے کہ اصل واقعہ کیا ہے۔ "البدایہ والنہایہ" میں اور دوسری کتابیں جو سند کے ساتھ ہیں، ان میں جو واقعات ہیں، تو ان میں ایک تو ایسا بھی نہیں ہے کہ جیسے بعض لوگوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں، یہ تو ویسے لوگوں نے گھڑ لیا ہے۔ یہ واقعہ ہوا ہے! اور دوسرا یہ ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ -نعوذ باللہ من ذلک- صحابہ نے اہل بیت پہ ظلم کیا ہو یا کسی اور نے، ایسی بھی بات نہیں ہے۔ صحابہ تو اہل بیت کے عاشق تھے، تو ایسی بھی بات نہیں ہے۔ تو اس میں افراط تفریط بہت پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس افراط تفریط کی وجہ سے دو بڑے گروہ پیدا ہو گئے۔ ایک ناصبی، جو علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے مخالف تھے اور ایک اہل تشیع، جو عام صحابہ کے خلاف ہیں۔ یہ دونوں حق سے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ حق جو ہے، وہ یہ ہے کہ عام صحابہ سارے، اور اہل بیت اور امہات المؤمنین، یہ سب ہمارے لئے ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے جو فضائل ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اطہر سے، ما شاء اللہ، ہم تک پہنچے ہیں۔ تو اس وجہ سے اہل بیت کے بارے میں جاننا ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث شریفہ پڑھیں جو اہل بیت کے بارے میں ہیں۔ اگر عام صحابہ کے بارے میں جاننا ہو، تو ان کے بارے میں وہ احادیث شریفہ سنیں جو ان کے بارے میں ہیں۔ اور اگر امہات المؤمنین کے بارے میں جاننا ہو، تو پھر ان کے بارے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ان کو سننا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم کوئی جذباتی طور پر ایک غلط فیصلے کا شکار ہو جائیں۔ مثلاً: مجھے اہل بیت کے ساتھ محبت ہے، تو اس کی وجہ سے صحابہ سے بد گمان نہ ہو جاؤں اور صحابہ سے محبت ہے، تو اہل بیت سے بد گمان نہ ہو جاؤں۔ تو بات یہ ہے کہ ہمیں حق ڈھونڈنا پڑے گا، حق کو لینا پڑے گا۔ تو اس کے بارے میں لوگ مختلف آراء پیش کرتے ہیں، تو جو آراء نواصب کی ہیں یا اہل تشیع کی، وہ تو biased ہیں، مطلب وہ تو حق پر مبنی نہیں ہیں۔ لیکن جو آراء اہلِ سنت و الجماعت کے اکابرین کی ہیں، آج کل کے دور کی بات میں نہیں کر رہا ہوں، اہل سنت و الجماعت کے اسلاف اور اکابرین، انہوں نے جو باتیں اس کے بارے میں فرمائی ہیں، وہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ تو ہمیں ان سے چیزوں کو جاننا پڑے گا۔ ان میں جو قریب ترین ہیں، وہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، مکتوبات شریف میں انہوں نے اہلِ بیت، صحابہ کا جیسے ذکر کرتے ہیں، خلفاء راشدین کا جیسے ذکر کرتے ہیں، تو اس سے ما شاء اللہ، اہل سنت کا موقف بالکل واضح ہو جاتا ہے۔

اس وجہ سے مجبوراً مجھے یہ کتاب لکھنی پڑی، چھوٹی سی کتاب ہے ۔لکھنے کی بڑی عجیب وجہ ہے، سبحان اللہ! میری بیٹی ایک وہ مدرسہ میں پڑھ رہی تھی، تو ان کے جو قاری صاحب تھے، وہ شاید ناصبی حضرات سے متاثر ہو گئے تھے۔ تو عاشورا کے دنوں کے آس پاس، کسی وقت اس نے بیان کیا اپنی طالبات میں اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو باغی اور یزید کو حق پر قرار دیا۔ یہ ان کی استانیوں کے لئے بھی ایک عجیب بات تھی اور طالبات کے لئےتو تھی ہی۔ میری بیٹی بڑی حیرت سے آئی اور مجھے کہا کہ ابو! کیا، یہ ٹھیک ہے؟ کیونکہ عام طور پہ تو یہ باتیں سنی نہیں جاتیں، سنائی بھی نہیں جاتیں۔ تو میں نے کہا، بیٹی!یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ خوش قسمتی سے اسی وقت میرے پاس ایک رسالہ موجود تھا، بنوری ٹاؤن کے مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو شیخ الحدیث تھے، "شہیدِ کربلا پر تبرا"۔ یہ رسالہ میرے پاس تھا،انتہائی مستند شیخ الحدیث تھے وہ، تو انہوں نے انتہائی مستند انداز میں یہ چیزیں بیان کیں۔ اس میں references تھے، وہ reference میرے کام کے ہو گئے، کیونکہ لکھ تو کوئی بھی سکتا ہے۔ تو ان دنوں میرے پاس وہ سی ڈی آئی تھی ہزار کتابوں کی، الفیہ۔ تو میں نے وہ سی ڈی کمپیوٹر پہ لگائی اور میں نے کہا بیٹی! رسالے کا فلاں متن پڑھو، مطلب جو حوالے دیئے ہوں گے، تو وہ جو پڑھتی تھی تو میں اس پہ لکھ لیتا اور وہ ما شاء اللہ، پوری کتاب فلاں کتاب میں ہے، فلاں کتاب میں اور فلاں کتاب میں، اکابرین کی کتابیں، لسٹ آ گئی۔ اس میں متن آ گئے اورساری تفصیلات۔ میں نے کہا، بیٹی! یہ میں اس لئے کر رہا ہوں کہ تجھے پتا چل جائے کہ میں اپنے آپ سے نہیں کہہ رہا اور یہ کتاب بھی صحیح کہہ رہی ہے۔ تو کئی جگہ سے میں نے۔۔۔ تو وہ نوٹس لیتی رہی۔ اگلے دن وہ گئی ہے تو انہوں نے کہا -اچھا! قاری صاحب نے بڑھک ماری تھی کہ یہ لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ تو انہوں نے کہا آپ خود تحقیق کریں، یہ تو کتابیں ہیں میرے پاس آپ خود تحقیق کریں- تو بیٹی نے کہا کہ قاری صاحب! میں نے اس پر تحقیق کی ہے، تو میں کچھ سناؤں؟ تو اس نے کہا کہ بھئی بچی نے کیا تحقیق کی ہو گی! تو اس نے کہا کہ سناؤ۔ تو references دینے لگی یہ اور یہ، بس چند ہی شاید reference دیئے تھے کہ اس نے کہا یزید کون سا ہمارا ماما چاچا ہے، چھوڑو! یہ ہوتا ہے، سارے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں، حق جب آ جاتا ہے: "جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا"۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ صرف جاہلیت سے اس قسم کے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جہالت سے، جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تو حق جو ہے وہ اور ہے۔ تو اہلِ سنت و الجماعت کے جو نظریات ہیں، اس کے بارے میں کیا ہیں؟ اس پر میں نے مختصر ایک چھوٹی سی کتاب لکھی ہے، جس کا نام ہے "اہل سنت کی نظر میں اہل بیت کا مقام" ہے۔ اور الحمد للہ، اس کا بڑا فائدہ ہوا۔ یہ کتاب چونکہ شاید ہماری ویب سائٹ پر ہے، تو کسی نے اس کا اقتباس کچھ conclude، جس کو کہتے ہیں تلخیص وہ کیا ہے، تو وہ میں یہاں سنا دیتا ہوں، کیونکہ کتاب تو پہلے سے موجود ہے، اس پر تلخیص بھی آ گئی ہے، تو اس وجہ سے میرے خیال میں اس کے بارے میں ایک اچھی بات ہو گی کہ لوگ سن لیں۔

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ (النسا:80)

یعنی جس نے نبی کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، لہٰذا اب اس کو ماننا لازم ہے۔ اب کوئی نماز پڑھے گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں، وہ نماز رد ہے، وہ نماز ہوگی ہی نہیں! تو اس کے لئے ہمیں حدیث شریف کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ حدیث شریف کے بغیر قرآن سمجھا نہیں جا سکتا، تو یہ بھی سمجھ میں آنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے بغیر سنت کی تشریح نہیں ہو سکتی۔

کیونکہ صحابہ ہی مخاطب تھے اور صحابہ ہی دیکھ رہے تھے۔ تو سنت کا کیسے پتا چلے گا، کیسے؟

جیسے کچھ چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سے زیادہ شادیاں کی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نیند میں وضو نہیں ٹوٹتا تھا، اس طرح اور بہت ساری باتیں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھیں۔ اب ہم دیکھیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی کون سی سنت کو اپنے اوپر لازم کر لیا اور کون سی نہیں کیا؟ یہ ہمارے لئے رہنمائی ہے، اس کو بھی ہم لے سکتے ہیں۔ اور چونکہ صحابہ کرام کی حیثیت یہ تھی کہ وہ معیارِ حق تھے اور آپ کو پتا ہے کہ جب بھی کوئی کام ہوتا ہے، تو اس میں بنیاد کی حفاظت کی جاتی ہے کہیں بنیاد متزلزل نہ ہو جائے۔ بنیاد متزلزل ہو جائے گی تو سارا کام متزلزل ہو جائے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے صحابہ کے بارے میں فرمایا: " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ " "یعنی اے میرے امتیو! تمہیں میرے صحابہ کے بارے میں خدا کا واسطہ!"

تو اس انداز سے کہنا کوئی معمولی بات ہے؟ ان کو میرے بعد ملامت کا نشانہ نہ بنانا۔ جو ان کے ساتھ محبت کرتا ہے، تو اس لئے کرتا ہے کہ وہ میرے ساتھ محبت کرتا ہے، جو ان کے ساتھ دشمنی کرتا ہے وہ اس لئے دشمنی کرتا ہے کہ وہ میرے ساتھ دشمنی رکھتا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کا سب کچھ اپنے اوپر لے لیا۔ تو جو صحابہ کرام سے محبت رکھتا ہے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے، وہ اللہ کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ جو صحابہ کا منکر ہے، جو صحابہ کے ساتھ بغض رکھتا ہے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتا ہے، اور جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغض رکھتا ہے۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی تو اب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ہمارے لئے معیارِ حق ہیں۔ اب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اتباع ہم پر لازم ہو گئی۔ اب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بارے میں اچھی بات کرنا لازم ہو گیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر جو نکیر ہے، وہ موقوف ہو گئی۔ صحابی، صحابی پر تنقید کر سکتے تھے، لیکن ہم صحابہ پر تنقید نہیں کر سکتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جو اختلاف تھا، وہ اصولی اختلاف تھا۔ جب حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے شاگرد تھے، ان سے پوچھا کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا الحمد للہ، اللہ پاک نے ہماری تلواروں کو اس مقدس خون سے بچایا ہوا ہے، ہم اپنی زبان کو کیوں آلودہ کریں؟ ہم زبانی بات کر کے اپنے آپ کو کیوں پھنسائیں؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لاَ تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي "۔

اب ایک بات سمجھ میں آنی چاہیے کہ جس وقت صحابہ اجمعین کی بات آئے، تو اس سے مراد کیا ہے؟

یہ بات بہت اہم ہے، اس کو نوٹ کرنا چاہیے۔

کیا اس سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، باقی صحابی ہیں کیا اس سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نہیں ہیں؟ کیا ایسی کوئی بات ہے؟ کیا ان کو ہم صحابیت سے نکال دیں گے؟ کیا ہماری اتنی جرات ہے ہم صحابیت سے نکال دیں؟ نہیں۔ جب عام طور پر صحابہ اجمعین کی بات آ جائے، تو ان میں کون کون شامل ہو گئے؟ جواب ملتا ہے ان میں تمام صحابیات بھی شامل ہوں گی، ازواج مطہرات بھی شامل ہوں گی، اہل بیت؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، یہ سارے کے سارے اس میں شامل ہوں گے اور ساتھ باقی سارے کے سارے صحابہ بھی شامل ہوں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، طلحہ رضی اللہ عنہ، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، اس طرح جتنے بھی صحابہ کرام گزرے ہیں، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ بھی! جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمتاً ارشاد فرمایا تھا کہ میرے سامنے نہ بیٹھو، کیونکہ مجھے اپنا چچا یاد آ جاتے ہیں۔ اس کی تشریح حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں کی کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ -نعوذ باللہ- وحشی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفرت تھی، نہیں! یہ بات نہیں تھی، نفرت ہوتی تو دعوت کیوں دیتے؟ آپ کو پتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کو دعوت دی تھی ایمان لانے کی۔ وحشی رضی اللہ عنہ نے عذر کیا، یا رسول اللہ! میں کیسے مسلمان ہو سکتا ہوں؟ میں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے، میں نے آپ کے پیارے چچا کو شہید کیا ہے، میں کیسے مسلمان ہو سکتا ہوں؟ تو ان کے لئے قرآن پاک میں یہ پیاری آیت اتری: "قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيْعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ"۔ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے، میری رحمت سے مایوس نہ ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، بے شک وہ غفور الرحیم ہے۔ یعنی اسلام لانے سے سارے کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ تو حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغض نہیں تھا، پھر وجہ کیا تھی کہ ان کو سامنے آنے سے روک دیا تھا؟ وجہ یہ تھی کہ ان کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے چچا یاد آ جاتے تھے، نتیجتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تکلیف ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے نبی کو تکلیف ہو جائے، اس کو طبعاً نقصان ہوتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نقصان سے بچانا چاہتے تھے کہ جب مجھے اپنے چچا یاد آئیں گے، تو ان کو نقصان ہو گا۔ اب چونکہ مسلمان ہے، اس کو نقصان نہیں ہونا چاہیے، لہٰذا ان کو سامنے آنے سے روک دیا، تو یہ شفقت فرمائی۔ تو جس شخص نے اپنی آنکھوں سے اس نورانی چہرے کی زیارت کی ہے یا اپنے کانوں سے محبوب آواز سنی ہے، تو اب وہ صحابی ہے، اس سے صحابیت کوئی چھین نہیں سکتا، جب وہ -نعوذ باللہ من ذلک- جب تک مرتد نہ ہو جائے۔ اگر مرتد ہونے سے بچے ہوئے ہیں، تو ان سے صحابیت کوئی نہیں چھین سکتا، چاہے وہ ازواج مطہرات ہیں، چاہے وہ عام صحابی ہیں، صحابیات ہیں، چاہے وہ اہل بیت ہیں، چاہے وہ عام صحابہ کرام ہیں، سب کے سب ما شاء اللہ، محفوظ اور مامون ہیں۔ ان کے لئے "ا" کی سند موجود ہے۔ لہٰذا جب اللہ پاک نے ان کو معاف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کر دیا، تو اس کے بعد اور کون ہے جو ان کے ساتھ حساب کرے؟ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں، مثلاً میرے کسی کے ذمے دو کروڑ روپے ہیں اور کسی دن موڈ میں آ کر اس کو کہتا ہوں، چلو جی میں نے وہ دو کروڑ روپے تمہیں معاف کر دیئے اور ساتھ میں اس کو دو لاکھ روپے اور بھی دے دوں۔ اب اس کا کوئی دشمن میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ نے اس کو دو کروڑ روپے کیوں معاف کر دیئے اور آپ نے مزید بھی دے دیئے، کیوں؟ تو کیا وہ مجھ سے ایسی بات کر سکتا ہے؟ میں اسے کہوں گا تمہیں کیا؟ بھئی پیسے میرے ہیں، درد تمہارے پیٹ میں ہے؟ تم کہاں سے آ گئے ہو؟ کسی نے کہا ہے نا کہ "میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی"! جب اللہ جل شانہ، راضی ہیں، جب اللہ جل شانہ معاف کرنے والے ہیں، جب اللہ جل شانہ دینے والے ہیں، تو پھر کیسے ہو سکتے ہیں؟

تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ سارے صحابی ہیں، ان کی محبت دل میں ہونی چاہیے، اور ان میں عام صحابہ بھی ہیں، اہل بیت بھی ہیں، اور امہات المؤمنین بھی ہیں۔

اب دیکھیں درجے کے لحاظ سے، درجے کے لحاظ سے، درجے کے لحاظ سے سب سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر علی کرم اللہ وجہہ ہیں، پھر باقی صحابہ حسبِ درجہ۔ اب اگر ہم کہیں علی رضی اللہ عنہ سے تو صرف یہ تین زیادہ افضل ہیں، باقی تو سب سے وہ افضل ہیں، باقی سب سے تو افضل ہیں، یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ ایک میری سوچ ہے افضلیت اور غیر افضلیت کی، اور ایک صحابہ کرام کی۔ تو صحابہ کرام کا جس پر اجماع ہو چکا ہے، یعنی ان چاروں پر، تو اس کے بعد پھر کیا بات ہے؟ اور اگر اختلاف ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ کے لئے تو دونوں طرف سے اس کے لئے بھی ما شاء اللہ، موجود ہیں نظیریں۔ تو بہرحال میں عرض کروں گا کہ ہمارے اہل سنت و الجماعت کے مطابق یہ چار اسی ترتیب سے ان کی فضیلت ہے۔ پھر فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی بات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کون سا مقام دیا تھا! جب تشریف لے جاتے، سب سے اخیر میں ان سے ملتے، جب واپس آتے، سب سے پہلے ان سے ملتے۔ جب وہ تشریف لاتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور ان کے لئے چادر بچھاتے، ان کو اس پر بٹھاتے، اور اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جاتے، تو وہ اٹھتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ تو یہ سلسلہ تھا ان کی محبت کا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو ہماری ماں ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ: علی رضی اللہ عنہ کا جو مقام فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے وقت میں تھا، وہ جس وقت فوت ہو گئیں، پھر وہ مقام نہیں رہا۔ تو اس سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کا مقام نہیں گرتا ہے، علی رضی اللہ عنہ کا مقام اس لئے نہیں گرتا ہے، وہ تو چوتھے نمبر پر تو ہیں ہی، وہ تو اس سے نہیں کوئی چھین سکتا۔ ہاں! البتہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے مقام کا پتا لگتا ہے کہ صحابہ کرام کو ان سے بڑا تعلق تھا۔ لوگوں نے خواہ مخواہ کی باتیں بنائی ہیں، وہ مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں فدک کا واقعہ، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے چھین لیا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ظلم کیا تھا۔ ایسے عجیب بیوقوف لوگ ہیں کہ بھئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی امہات المؤمنین میں سے نہیں تھیں؟ تو کیا ان کا میراث میں حق نہیں تھا؟ تو انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی نہیں دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی بیٹی کو نہیں دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا دور جب آیا تو انہوں نے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا! مطلب یہ ہے کہ ان کے ورثا اور ان کے تما م ان کو نہیں دیا۔ تو بات کیا ہے؟ اصل بات کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ خواہ مخواہ کی ایک بات بنائی ہے لوگوں نے، ایسی کوئی سند نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزمان تھے اور تمام انبیاء کی یہ بات ہے کہ انبیاء کی میراث مال و دولت نہیں ہوتی، وہ امت پہ صدقہ ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اس وجہ سے اس قسم کی باتیں نہیں، تو خیر میں اس لئے عرض کروں گا کہ ایک تو لوگوں نے خواہ مخواہ کی باتیں بنائی ہیں صحابہ کرام کی مخالفت میں، دوسری طرف اہل بیت کی محبت میں لوگوں نے جھوٹی باتیں بنائی ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں، اور کچھ لوگوں نے صحابہ کی محبت میں اہل بیت کی مخالفت میں باتیں بنائی ہیں۔ یہ سب غلط بات ہے، ہم ان کو جمع کرتے ہیں، وہ ان میں تفرقہ ڈالتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم جیسے ہیں اس طرح صحابہ بھی آپس میں اس وجہ سے اختلاف کرتے تھے، ان کو کچھ پیسوں سے مال و دولت سے غرض تھی! ایسی کون سی بات تھی؟ تو بہرحال یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ افراط تفریط کی باتیں ہیں۔

تو اہل سنت و الجماعت کی تحقیق کے مطابق کربلا کا واقعہ ہوا ہے اور یہ انتہائی عبرت ناک، حسرت ناک اور ظالمانہ واقعہ ہے۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ یزید جو ہے، اس کو فاسق اس وجہ سے صرف نہیں کہا گیا کہ یہ کام ان سے ہوا ہے، کربلا کا واقعہ، بلکہ دو اور بڑے واقعات ہوئے ہیں۔ مدینہ منورہ کو مباح کر دیا تھا فوج کے لئے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بچائے نام زبان پر بھی نہیں آتا کہ کئی صحابہ کی بیٹیوں کی عصمت دری ہوئی اور مسجد میں گھوڑے باندھے گئے۔ اس طرح اور بہت سارے واقعات ہوئے ہیں، واقعہ حرہ جو ہوا تھا وہ کیا ہے؟ یہ اس کے شہداء تھے، کئی لوگ شہید ہوئے تھے، یہ یزید کی وجہ سے۔ اور خانہ کعبہ پہ سنگ باری کی، یہ بھی یزید کی وجہ سے۔ یہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پہ سنگ باری کر رہے تھے، تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ فلاں لشکر کے لوگو! جاؤ تمہارا امیر مر گیا۔ اسی وقت وہ یزید مر گیا تھا، ڈھائی سال کی حکومت کر کے۔ ڈھائی سال میں کیا کمایا؟ لیکن اپنے لئے اتنی مصیبت! لیکن یزید کی حرکات کی وجہ سے، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ہم تنقید نہیں کر سکتے، کیونکہ صحابی ہیں۔ تو یہی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اس میں درمیان میں اعتدال والا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ کربلا کا جو واقعہ ہوا ہے، اس میں ایک مقدر تھا، امت کا امتحان تھا، کیونکہ اس میں صحابہ کرام نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو روکا تھا کہ آپ نہ جائیں اور اگر جاتے بھی ہیں، تو اپنی عورتوں کو ساتھ نہ لے جائیں، لیکن انہوں نے فرمایا میں نے خواب دیکھا ہے، نہ میں نے کسی کو بتایا ہے نہ کسی کو بتاؤں گا، تو بس ایک مقدر ہوتا ہے، ایک چیز کو ہونا ہوتا ہے، لوگوں کے سامنے ایک مثال لانی ہوتی ہے، تو اس طریقے سے مثال آ گئی۔ تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، یہ دونوں ما شاء اللہ وہ حضرات ہیں، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی بڑی باتیں فرمائی ہیں، "میں حسین سے ہوں حسین مجھ سے ہیں"۔ یہ کوئی معمولی بات ہے؟ تو امام حسین رضی اللہ عنہ بہت ما شاء اللہ۔۔۔

اس پر میں نے کچھ کلام بھی کہا ہے، میرے خیال میں وہ کلام میں سنا دیتا ہوں، کیونکہ اس کے ذریعے سے ما شاء اللہ، کچھ چیزیں، کچھ حقائق آپ کے سامنے آئیں گے۔




کلا م: حضرت سید شبیر احمد کاکا خیل دامت برکاتہم

صحابہ کی شان کے حوالے سے

اہلِ بیت کا مقام


مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ



جو سمجھے کوئی دل میں شانِ رسول

ہو محبوب انہیں خاندانِ رسول

ذرا پڑھ تو لینا فرمانِ رسول



ہے قرآن کے ساتھ عترتی اس میں جب لائق اتباع کے پھر سارے ہیں یہ



مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ




خواتینِ جنت کی ہے سیدہ

جگر گوشہ آقا کی ہے فاطمہؓ

مثالی رہی ہے یوں ان کی حیا



مثالی رہے ہیں یہ سب اہل بیت، نہیں غیر کے ہیں ہمارے ہیں یہ



مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں، محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ



شجاعت علیؓ کی رہی ہے مثالی

جو ہیں بابِ علم مقام ان کا عالی

سلاسل کے باغِ مقدس کے مالی




یہ گلشن نبی کے ہیں پھول ایسے، کہ جو حق پہ ہیں سب ان کے پیارے ہیں یہ



مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ



وہ سردارِ امت اور نام کا حسنؓ

فہیم اُمت تھے بچایا چمن

تھے اُمت کے جوڑ کی امید کی کرن



یہ آقا کی گود میں پلے اور بڑھے ہیں اور آقا کے سچ مچ دلارے ہیں یہ



مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ




وہ شیر متقی، وہ حسین ؓ، وہ نڈر

کہ حق کے لئے پیش کیا جس نے سر

جب آوازِ حق اس پہ تھی منحصر



رقم اپنے خون سے کی داستانِ حق،عجب فکرِ حق کے نظارے ہیں یہ



مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ



نبوت، ولایت یہاں دیکھ لو

یہ دل کا کچھ اور ہی جہاں دیکھ لو

شبیرؔ ان کی قربانیاں دیکھ لو



تبھی ساتھ ہونے کا فرمایا ہےکہ دیں پر عمل کے سہارے ہیں یہ




مقام اہل بیت کا بیاں کیا کروں محبت کے آسمان کے تارے ہیں یہ



آگے حضرت فرماتے ہیں: صحابہ کا لفظ اگر اکیلا آئے، تو اس میں امہات المؤمنین، اہل بیت اور باقی سارے صحابہ شامل ہوتے ہیں۔ اب اہلِ سنت والجماعت صحابہ کس کو کہتے ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں:


ابو بکر صحابی ہے، تو علی بھی صحابی

اور عائشہ صحابیہ تو فاطمہ ہے بھی

اور مائیں بھی اپنی صحابیات ہی تو ہیں

حسنین صحابہ ہیں، یہ ان سے جدا نہیں

رضوان اللہ علیھم اجمعین، سلام اللہ علیہم


یہ تو ما شاء اللہ اہل بیت کے بارے میں ہے۔ جیسے میں نے عرض کیا کہ اگریہ اکیلے بولا جائے (صحابہ) ، تو اس میں عام صحابہ بھی شامل ہیں، اہلِ بیت بھی شامل ہیں اور امہات المؤمنین بھی شامل ہیں۔ اس وجہ سے اس چیز کو cover کرنے کے لیے عام صحابہ کی بھی بات ہو چکی ہے یعنی عام صحابہ کے بارے میں کیا ہمارا نظریہ ہونا چاہئے۔

صحابہ کی شان کے بارے میں ہے:


کلام فکر آگہی از: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب دامت برکاتہم

صحابہ کی شان



صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار

طریقِ نبی ﷺ یعنی سنت کا معیار

حب ان کا نبی ﷺ کی محبت کا معیار



ستارے ہدایت کے ہیں یہ صحابہؓ، مقام ان کا سب پر عیاں ہو چکا ہے



صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


یہ حبِ صحابہؓ نہ ہو جن کو حاصل

نہ ہو سکتا ہے وہ کبھی حق کا واصل

یہ حق اور باطل کا ہے ایک فاصل



جو بغضِ صحابہؓ کا داعی بنے تو، جو شر ہے وہ اس میں جواں ہو چکا ہے



صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


عقیدہ صحابہؓ کا اصلی عقیدہ

جو ہے مختلف اس سے، ہے سر بریدہ

کہ باقی شنیدہ ہیں اور وہ ہیں دیدہ



جو غیر انبیاء سے ہیں افضل یہ سارے،کہ رب ان پہ یوں مہرباں ہو چکاہے




صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


کبھی بھی صحابہؓ پہ تنقید نہ کرنا

کہ بارے میں ان کے خدا سے ہے ڈرنا

جو ان سے کٹے، ان کا کیسے سنورنا



تباہی کے رستے کھلے وہاں پہ شبیرؔ، ظلم خود پہ ایسا جہاں ہو چکا ہے


صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار

طریقِ نبی ﷺ یعنی سنت کا معیار

حب ان کا نبی ﷺ کی محبت کا معیار



صحابہؓ کی شان میں بیان کیا کروں کہ قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


رضی اللہ عنہ ورضوا عنہ


جیسے میں نے عرض کیا ہے کہ صحابہ کرام کے لفظ میں تینوں گروہ شامل ہیں: عام صحابہ، اہلِ بیت اور امہات المؤمنین۔ امہات المؤمنین کے بارے میں کیا جذبات ہونے چاہئیں۔ ان کے بغیر ہمارا دین نامکمل ہے۔

حضرت والا کا کلام ہے


امہات المؤمنین کا مقام



میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے


خدیجہؓ کا جب لب پہ آتا ہے نام

تصور میں میں پیش کردوں سلام

وہ ایثار و قربانی و احترام




نبی کے لئے جو ہمیش کرتی تھیں، ذرا سوچے کوئی کہ وہ کس قدر ہے





میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے



حمیرا لقب عائشہؓ ماں ہماری

اشاعت میں دیں کا حصّہ ان کا بھاری

اٹھائی ہے کس شان سے ذمّہ داری



ہے قرآن میں ان کی براءت کا اعلان جو ظاہر کہ سب پر" کالشمس و القمر "ہے





میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے



ہمیں ماؤں سے دین کا حصّہ ملا وہ

ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ

جو دیں کے لئے تھا ضروری کیا وہ



بغیر اس کے تکمیل دین کیا تھا ممکن، یوں احسان ان کا بہت امت پر ہے




میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے



تو بھیجیں ہم ان پہ شبیرؔ اب سلام

رہے دل میں ان کے لئے احترام

ایصالِ ثواب کا بھی ہو اہتمام



کہ ماؤں کا حق ہے مسلم وہ سمجھے، شرافت کی جس کی کوئی کچھ نظر ہے



میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے

جیسا کہ آپ نے یہ سنا تینوں کا عام صحابہ کرام کا، اہلِ بیت کا اور امہات المؤمنین کا، ان کو آپس میں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ اصل میں آپ ﷺ اللہ پاک کی صفتِ ہادی کے مظہر تھے اور آپ ﷺ کے ذریعے سے امت تک ہدایت پہنچی ہے اور یہ پہنچنے کے یہ تین ذرائع تھے۔ عام صحابہ کرام، جیسے غار ثور میں آپ ﷺ کے پاس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، ان کا حال صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی بیان کر سکتے تھے۔ اسی طرح مختلف مواقع پہ جو عام صحابہ کرام ساتھ تھے، انہوں نے آپ ﷺ کے طریقے کو بیان فرمایا۔ اور اہلِ بیت حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا؛ انہوں نے جو آپ ﷺ کو کرتے دیکھا، وہ آگے بیان فرمایا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو ہماری ماں تھیں، اور جو ہماری مائیں تھیں، انہوں نے جو دیکھا، وہ انہوں نے بیان کیا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا حصہ اس میں ادا کیا۔ پس جنہوں نے تینوں سے لیا، انہوں نے پورا دین لیا۔ جنہوں نے ان میں سے کسی سے لیا اور کسی سے نہیں لیا، تو انہوں نے ناقص دین لیا۔ اور جنہوں نے ان میں سے کسی کی مخالفت کی، تو انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا، انہوں نے آپ ﷺ کی نافرمانی کی۔ اس وجہ سے ہمارے اہلِ سنت والجماعت اس سے بہت زیادہ بچتے ہیں ۔

ان میں سے کسی بھی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہم نہ کریں کیونکہ یہ اپنی آخرت کو خراب کرنے والی بات ہے۔

تو ابھی جیسے بات ہوئی ہے کہ ایصالِ ثواب کرنا چاہئے، اس لئے ہم ان تینوں کے لئے ایصالِ ثواب کر لیتے ہیں۔ ایک دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیں اور تین دفعہ سورۃ اخلاص، اور پھر اس کے لئے ایصالِ ثواب کر لیتے ہیں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو دینِ متین کو سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ