فیصلوں میں شریعت کی پابندی اور طاغوت کا انکار

درس نمبر 188، سورۃ النساء: آیت: 60 تا 64- اشاعتِ اول: 3 جون، 2022، بمطابق 3 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• سورۃ النساء کی آیات کی روشنی میں تحاکم الی الطاغوت (غیر اللہ کے قانون سے فیصلہ کروانے) کی ممانعت۔

• منافقین اور یہودیوں کا مفاد پرستانہ طرزِ عمل کہ جہاں فائدہ ہو وہاں رسول ﷺ کی طرف آنا اور جہاں نقصان ہو وہاں طاغوت کے پاس جانا۔

• طاغوت کی تعریف: ہر وہ قانون یا فیصلہ کرنے والا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے خلاف ہو۔

• سود اور میراث جیسے دنیاوی معاملات میں شریعت پر عمل کرنے کی اہمیت اور گناہ پر تاویلیں گھڑنے کی مذمت۔

• نبی کریم ﷺ کا فیصلہ ماننے سے انکار کرنے والے منافق کے خلاف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ کن اقدام۔

• غلطی ہو جانے پر اپنی خامی کا اعتراف کرنا، توبہ کرنا اور اللہ کی رحمت سے امید وابستہ رکھنا۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(60) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ (61) فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا(62) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(63) وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(64)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔


(اے پیغمبر!) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ اُس کلام پر بھی ایمان لے آئے ہیں جو تم پر نازل کیا گیا ہے اور اُس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا، (لیکن) ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنا مقدمہ فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں؟

اصل میں ابھی تک تو یہود کی بات چل رہی تھی، اب منافقین کی بات شروع ہو گئی ہے۔ اور یہ اصل میں دل سے تو یہودی تھے، مگر مسلمانوں کو دکھانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔

سارے منافقین تو نہیں لیکن کہ ان میں سے بعض کی بات۔


ان کا حال یہ تھا کہ جس معاملے میں ان کو توقع ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے فائدے کا فیصلہ کریں گے، ان کا مقدمہ تو آپ کے پاس لے جاتے، لیکن جس مسئلے میں ان کو خیال ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا، وہ مقدمہ آپ کے بجائے کسی یہودی سردار کے پاس لے جاتے جسے اس آیت میں ”طاغوت“ کہا گیا ہے۔ منافقین کی طرف سے ایسے کئی واقعات پیش آئے تھے جو متعدد روایات میں منقول ہیں۔ ”طاغوت“ کے لفظی معنی ہیں ”نہایت سرکش“، لیکن یہ لفظ شیطان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، اور ہر باطل کے لئے بھی۔ یہاں اس سے مراد وہ حاکم ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے بے نیاز ہوکر یا ان کے خلاف فیصلہ کرے۔ آیت نے واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر کسی اور قانون کو ترجیح دے تو وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔

خطرناک بات ہے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔


یہ بات، مثلاً یہ سود والی باتیں ہیں یا جو اس قسم کی باتیں ہیں، تو یہ بعض دفعہ میراث کے بعض واقعات ہوتے ہیں۔ تو یہ سب چیزیں ہم لوگوں کو کم از کم جو قانونی بات ہے وہ یہاں تک رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک کے قانون پر ہی عمل کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ غلطی ہو تو گناہ گار اپنے آپ کو سمجھے، اس پر اپنے آپ کو یہ نہ کہے کہ مطلب یہ ہے میں بالکل صحیح کر رہا ہوں۔ یہ بات بہت خطرناک ہے۔ تو یہ مطلب منافق لوگ جو تھے، ان میں سے بعض جو یہودی تھے دل سے، وہ اس طرح کیا کرتے تھے۔


وہ ایک واقعہ ہے کہ جس میں ایک صاحب جو آپ ﷺ کے پاس فیصلہ لے آئے تھے، تو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فیصلہ کر لیا، تو ایک منافق تھا اور غالباً ایک یہودی تھا۔ تو یہودی کے حق میں فیصلہ ہوگیا۔ تو وہ منافق جو تھا، وہ چلا گیا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس۔ کہ یہ ذرا فیصلہ کر لیں۔ کیونکہ ان کو علم تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ سخت ہیں مطلب اس میں یعنی اسلام کے بارے میں۔ تو انہوں نے کہا میرے حق میں فیصلہ کریں گے۔


تو پورا قصہ اس نے سمجھا دیا، عمر رضی اللہ عنہ کو، تو یہودی سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ بس میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ میرے حق میں فیصلہ آپ ﷺ کر چکے ہیں۔ یعنی میں حق پر تھا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اچھا میں آتا ہوں فیصلہ کرتا ہوں۔ تو اندر گئے اور تلوار لے آئے اور اس کا سر اڑا دیا کہ جو آپ ﷺ کا فیصلہ نہیں مانتے، عمر اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہے۔


پھر اس کے بارے میں کچھ اور تفصیلات بھی ہیں، کچھ اس کا قبیلہ مخالف ہو گیا تھا، لیکن یہ بہرحال اتنی بات۔


اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ رسول کی طرف، تو تم ان منافقوں کو دیکھو گے کہ وہ تم سے پوری طرح منہ موڑ بیٹھتے ہیں ﴿61﴾ پھر اُس وقت ان کا کیا حال بنتا ہے جب خود اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے؟ اُس وقت یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد بھلائی کرنے اور ملاپ کرادینے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ﴿62﴾


یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنارہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے، بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔

پھر یہ اس طرح کرتے ہیں، یہ لوگ واقعتاً جب سامنے کھل کے بات آ جاتی ہے تو پھر ادھر ادھر کی بہانہ سازی کے ذریعے سے، یہ اپنے آپ کو بچانا چاہتے ہیں اور یہ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔


یہ وہ ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کی ساری باتیں خوب جانتا ہے۔ لہٰذا تم انہیں نظر انداز کر بدو، انہیں نصیحت کرو، اور ان سے خود ان کے بارے میں ایسی بات کہتے رہو جو دل میں اتر جانے والی ہو۔ ﴿63﴾

اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور جب ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، اگر یہ اُس وقت تمہارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان پاتے۔ ﴿64﴾

یہ بات تو ہے، کیونکہ آپ ﷺ سے زیادہ تو ظاہر ہے مخلوقات میں رحیم کوئی نہیں ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ جو لوگ ہوتے ہیں، وہ اپنی طرف سے کچھ فوری جو باتیں ہوتی ہیں نا، عاجلہ جس کو کہتے ہیں، اس کے لیے دوسری رائے بنا لیتے ہیں۔ لیکن اصل بات تو یہی ہے کہ جو صحیح بات ہے وہ اللہ کی ہے، اور جو اللہ کے رسول لائے ہیں اللہ کی طرف سے، وہی بات ہے۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


فیصلوں میں شریعت کی پابندی اور طاغوت کا انکار - درسِ قرآن - دوسرا دور