اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ (الزلزال: 7-8) وَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ:”صُوْمُوْا يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ وَخَالِفُوْا فِيْهِ الْيَهُوْدَ صُوْمُوْا قَبْلَهٗ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهٗ يَوْمًا“۔ (مسند أحمد، 2047) وَمِنَ الْأَوَّلِ: إِبَاحَۃٌ وَّبَرَکَۃٌ لِّتَوْسِعَۃِِ فِیْہِ عَلٰی عِیَالِہٖ فَقَدْ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ: ”مَنْ وَّسَّعَ عَلٰى عِيَالِهٖ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهٖ“۔ )مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر: 1926(
وَمِنَ الثَّانِيْ: اِتِّخَاذُہٗ عِیْدًا وَّمَوْسِمًا أَوِ اتِّخَاذُہٗ مَأْتِمًا مِّنَ الْمَرَاثِيْ وَالنِّیَاحَۃِ وَالْحُزْنِ بِذِکْرِ مَصَائِبِ أَھْلِ الْبَیْتِ وِاتِّخَاذُ الضَّرَائِحِ وَ الْأَعْلَامِ وَمَا یُقَارِنُہٗ مِنَ الْمَلَاھِيْ وَالشِّرْکِ وَالْآثَامِ۔
صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِيُّ الْکَرِیْمُ
معزز خواتین و حضرات! محرم الحرام کا مہینہ ہے اور اس مہینے کے کچھ فضائل ہیں۔ اور فضائل کا ذکر کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وقت پر اگر کسی کو پتا چل جائے کسی چیز کی فضیلت کا، تو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہوتا ہے، فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اور اگر بعد میں پتا چلے، سوائے حسرت کے کچھ نہیں ہوسکتا اور اگر بالکل پتا نہ چلے تو حسرت نہیں ہوگی لیکن وہ فضیلت بھی حاصل نہیں ہوگی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وقت پہ پتا چلنا یہ بہت ضروری ہے۔
دیکھیں، اللہ جل شانہ نے ہمارے فائدے کے لئے کتنی باتیں رکھی ہیں۔ ہم سے بہت سارے گناہ ہوتے ہیں، جن میں سے بعض کو ہم جانتے بھی نہیں ہیں علم نہ ہونے کی وجہ سے۔ تو اللہ پاک نے اس کی معافی کے بہت سارے اسباب بنائے ہیں۔ کبیرہ گناہوں کی بات تو اور ہے، اس کا علاج تو صرف توبہ اور توبہ کون سا مشکل ہے؟ اللہ جل شانہ ہم سب کو جلد سے جلد توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تمام گناہوں سے۔
ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ:" روزہ رکھو تم عاشورہ کا اور مخالفت کرو اس میں یہود کی"، اس طرح کہ روزہ اس سے ایک دن پہلے یا بعد میں بھی رکھ لینا چاہئے۔ چونکہ یہود دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے، تو یہ اگر ہم دس محرم کو رکھتے ہیں تو مشابہت کا امکان ہے کہ ہم یہود کی طرح عمل کررہے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج یہ بتا دیا کہ اصل عمل کو نہیں چھوڑنا چاہئے، کیونکہ بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں کہ اوہ جی، یہ تو فلاں کررہے ہیں تو میں کیوں کروں؟ نہیں۔ اس کو دیکھو ہمارے اوپر اگر لازم ہے تو میں اس کے لئے چھوڑوں گا؟ مثال کے طور پر داڑھی رکھنا، اب اگر سارے یہود و نصاریٰ داڑھی رکھنا شروع کرلیں تو کیا ہم کٹا دیں گے کہ بھئی یہود کے ساتھ مشابہت ہے، نہیں، ہمارا اپنا طریقہ ہوگا، ان کا اپنا طریقہ ہوگا، لیکن داڑھی تو ہم نے رکھنی ہے۔ اب بھی یہود کے جو علماء ہیں اور جو رابی ہیں وہ داڑھی رکھتے ہیں۔ البتہ یہ بات ہے کہ وہ جو خط وغیرہ بنانا ہوتا ہے وہ ان کا نہیں ہوتا، بس ان کی داڑھی جھاڑی کی طرح ہوتی ہے، بالکل نظر آتا ہے۔ تو وہ فرق تو ہے ہی۔ بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہود کی مشابہت بھی نہیں کرنی چاہئے اور روزہ بھی رکھنا چاہئے، روزہ بھی نہیں چھوڑنا چاہئے۔ تو ایک روزہ پہلے یا ایک روزہ بعد میں رکھ لیں۔
اس کے علاوہ جو باقی باتیں اس دن کی جاتی ہیں وہ خرافات ہیں۔ شیطان بہت ظالم ہے، یہ کسی کو بھی فائدہ نہیں اٹھانے دیتا، کوئی نہ کوئی چکر ایسا چلا دیتا ہے کہ وہ صحیح چیز کو غلط بنا دیتا ہے۔ شہد ہے ناشہد، اس کے اندر سرکہ ڈالو ناں تھوڑا سا، تو کچھ ہی دنوں میں سارا شہد سرکہ بن جائے گا۔ تو اسی طریقے سے جو نیک کام ہیں، اس کے اندر کوئی بری نیت ڈال دو، کوئی بری چیز ڈال دو، تو بس اس کے بعد وہ سارے کا سارا وہی بن جائے گا۔
تو یہاں پر فرماتے ہیں کہ اس میں بہت ساری باتیں خرافات کی ہیں جو بعد میں لوگوں نے شامل کی ہیں۔ وہ کیسے؟
لوگ اس دن میلہ لگاتے ہیں اور حضراتِ اہلِ بیت کے مصائب کا ذکر کرتے ہیں۔
بھئی! ان کی اولو العزمی کا ذکر کرلو کہ اللہ پاک نے ان کو کتنا اولو العزم بنایا ہوا تھا اور کیسے انہوں نے دین کے لئے قربانی کی، اور کیسے اللہ پاک کے ہاں ان کی قبولیت ہے۔ ان چیزوں کا اگر آپ ذکر لازمی نہ سمجھیں اور کرلیں، کوئی حرج نہیں ہے۔ لازمی پھر بھی نہ سمجھیں کیونکہ خود ان کی اولاد نے بھی ایسا نہیں کیا۔ اگر وہ لازمی ہوتا تو پھر تو ظاہر ہے ان کی اولاد کو کرنا چاہئے تھا، ان کی اولاد نے بھی نہیں کیا، بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کیا ہے کہ وہ تین دن کے بعد وہ کنگی اور وہ سارا کچھ کرلیا تاکہ وہ سوگ والی فضا ختم ہوجائے، انہوں نے تو یہاں تک کیا۔ تو جس طرح انہوں نے کیا اس طرح ہمیں بھی کرنا چاہئے۔ لیکن لیکن بس وہی شیطان درمیان میں آجاتا ہے اور پتا نہیں کیا کیا چیزیں سکھا کے اور لوگوں سے کیا کیا باتیں وہ کرواتے ہیں۔ تو یہاں پر اہلِ بیت کے مصائب کا ذکر کرتے ہیں، پھر روتے ہیں، مصنوعی رونا، مصنوعی رونا روتے ہیں اور اس کو لازم سمجھتے ہیں۔ اور یہ چیز واقعتاً اتنی ضروری سمجھی جاتی تھی کہ ہمارے خاندان کی بعض عورتوں میں یہ مشہور تھا کہ ان دنوں میں رونا ضرور چاہئے۔ اگر کسی کو رونا نہ آتا ہو تو تھوک لگا کر اپنی آنکھوں میں لگا دے تاکہ تھوڑا سا ان کے ساتھ مشابہت ہوجائے۔ (اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ) (البقرۃ: 156) اب ٹھیک ہے، الحمد للہ، یہ جہالت ختم ہوگئی ہے، اب تو نہیں ہے، لیکن یہ ہے کہ یہ چیزیں عورتوں میں بالخصوص آتی ہیں، مردوں میں جو عورتوں کے پیچھے چلتے ہیں ان میں بھی یہ چیز آجاتی ہے اور اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ تو یہ سب خرافات ہیں۔
اہلِ بیت کے ساتھ محبت، یہ تو ہے، یہ تو لازم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے فرمایا ہے۔ لہٰذا اہلِ بیت کے ساتھ محبت تو کرنی چاہئے لیکن ان کی محبت کے طریقے وہ ہونے چاہئیں جو شریعت کے مطابق ہوں، ورنہ پھر وہ کیسی محبت ہے؟
اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ان کا ماتم کرتے ہیں۔ اسلام میں ماتم نہیں ہے۔ اسلام میں ماتم نہیں ہے۔ اس میں تو ما شاء اللہ شہادت ایک اعلیٰ مرتبہ ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے کیونکہ اپنی مرضی سے تو نہیں ملتا، اس کے لئے آدمی کوشش تو نہیں کرسکتا البتہ یہ ہے کہ اللہ پاک سے مانگ سکتا ہے۔ جیسے عمر رضی اللہ عنہ مانگ رہے تھے: (اللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ) تو علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت سے عرض کیا، یا امیر المؤمنین! آپ کیا فرما رہے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ مدینہ منورہ پہ فوج چڑھائی کردے اور آپ اس میں شہید ہوجائیں؟ تو یہ تو ٹھیک نہیں ہے دعا۔ فرمایا: نہیں، میں تو اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے دعا کرتا ہوں، جیسے بھی اللہ چاہے گا وہ تو کرلے گا، اس کے لئے کیا مشکل ہے؟ تو ہوا وہی۔ اور پھر کیسے ہوا؟ عین مصلائے رسولﷺ پر نماز پڑھاتے ہوئے ان پہ حملہ ہوا اور اسی سے شہید ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہوئے۔ ایسے اللہ پاک نے دعا قبول فرمائی۔ تو دعا کی جاسکتی ہے شہادت کی، لیکن آدمی اپنے آپ کو مار نہیں سکتا، یہ خودکشی ہوگی۔ تو اب کوئی اور مارے گا تو اس کے لئے بھی اپنے آپ کو ایسے حوالے نہیں کرنا کہ مجھے مارو، نہیں، مقابلہ کرے گا اور اس کو، اگر دشمن ہے تو اس کو مارنے کی کوشش کرے گا ۔ اگر درمیان میں وہ اللہ پاک نے برابر کیا، تو ظاہر ہے۔ ایک دو صحابہ تھے نا، وہ آپس میں بیٹھے ہوئے تھے اور یار تھے آپس میں، تو دعائیں کررہے تھے، تو ایک دعا کرتا تھا دوسرا آمین کہتا تھا۔ تو ایک نے دعا کی کہ اے اللہ! میرا ایک بہادر کافر کے ساتھ مقابلہ ہوجائے، پھر میں اس کو ماروں، اس کا مالِ غنیمت لے لوں اور پھر یہ کروں، یہ کروں۔ تو دوسرا ساتھی آمین آمین کہہ رہا تھا۔ تو جو دوسرا تھا وہ دعا کرنے لگا، تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ! میرا ایک بہادر کافر کے ساتھ مقابلہ ہو، میں اس پہ حملہ کروں، وہ مجھ پہ حملہ کرے، پھر اخیر میں، میں شہید ہوجاؤں، وہ میرےناک کان کاٹے اور یا اللہ قیامت کے دن تو مجھ سے کہے کہ یہ تیرے ناک کان کس لئے کاٹے گئے؟ تو میں کہوں کہ یا اللہ! میں تیری محبت میں یہ کاٹے گئے۔ ان دونوں نے دعائیں کیں اور دونوں نے آمین کہا۔ ایسا ہی ہوا۔ جنہوں نے جو دعا کی تھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ تو بعد میں جو زندہ رہے اور جنہوں نے یہ دعا کی تھی کہ میں غازی ہوں، تو وہ افسوس کرتے تھے عمر بھر کہ اس کی دعا میری دعا سے اچھی تھی۔ اس کی دعا میری دعا سے اچھی تھی۔
تو مطلب میرا یہ ہے کہ شہادت کے لئے دعا کی جاسکتی ہے اور میدانِ جنگ سے بھاگنا نہیں چاہئے، یہ کیا جاسکتا ہے۔ جنگ میں پیش پیش ہونا چاہئے۔ یہ ساری باتیں، لیکن اپنی مرضی نہیں ہوتی۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جس وقت فوت ہورہے تھے تو فرمایا کہ :کیا بزدلوں کو اب بھی میری موت سے عبرت نہیں ہوگی کہ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں نیزے کا نشان نہ ہو، جہاں تلوار کا نشان نہ ہو، لیکن آج میں بوڑھیوں کی طرح چارپائی پہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کے مر رہا ہوں، تو کیا ان کو ابھی بھی عبرت نہیں ہوگی؟ اب دیکھیں، اچھا روتے تھے کہ مجھے شہادت کیوں نہیں ملی۔ تو ساتھیوں نے ان کو تسلی دی کہ آپ کا نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "سیف اللہ" رکھا ہوا تھا، اللہ کی تلوار، تو اللہ کی تلوار ٹوٹ سکتی ہے؟ یہ تسلی ان کو دیتے تھے۔ تو اب یہ بات ہے کہ شہادت کا شوق تو تھا لیکن قسمت میں ہونا نہ ہونا، یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ تو جن کو شہادت مل جاتی ہے وہ تو بہت بڑے لوگ ہیں، تیسرا نمبر ہے ان کا، تیسرا نمبر ہے۔ پہلا نمبر انبیاء کا ہے، دوسرا نمبر صدیقین کا ہے، تیسرا نمبر شہداء کا ہے، صالحین ان کے بعد میں آتے ہیں۔ تو یہ چیز، الحمد للہ، جن کو بھی اللہ پاک نصیب فرما دیں، تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اور ان کی اولادوں کو جو اللہ پاک نے شہادتوں کی شہادتیں نصیب فرمائیں، اس پر تو وہ حضرات تو ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے تھے۔ تو شہادتیں نصیب ہوگئی، تو یہ تو ان کے لئے بڑی عظمت کی باتیں ہیں، یہ کوئی ایسی بات تھوڑی ہے کہ اس پر غم کیا جائے۔ ہاں! غم کس چیز پر کیا جائے؟ ان مسلمانوں پر کیا جائے جنہوں نے نواسۂ رسول کی حرمت کو زائل کیا۔ ان بدبختوں نے ایسا اپنا نقصان کرلیا، ان پہ انسان افسوس کرے، وہ افسوس کی چیز ہے۔ باقی جو شہادت ہے وہ تو بڑی بات ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ نے جن کو بھی نصیب فرمائی ہے تو وہ بہت بڑی بات ہے۔
میرے خیال میں ایک کلام میرا ہے، میں اس کو سنا دیتا ہوں۔ مجھے ویسے ہی دل میں آگیا ورنہ صحیح بات ہے کہ پہلے تو ارادہ بھی نہیں تھا لیکن یہ ہے کہ شاید اس موقع کے مطابق ہے۔
ہوشِ دیوانگی سے حضرت والا کا کلام، حضرت والا فرماتے ہیں:
کاسۂ دل
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
ہوگیا تیار مومن جب سے مرنے کے لئے
تو خدا نے اس کا پھر جینے کا ساماں کردیا
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
اس کو تاجِ زیست پہنایا ہمیشہ کے لئے
جس نے اپنے سر کو اس کی راہ میں قرباں کردیا
یہ قرآن پاک میں ہے: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰـكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (البقرۃ: 154)
"اور نہ کہو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں شہید کیے جائیں مردے، بے شک وہ زندہ ہیں، تم لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہے"۔
تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کے نزدیک تو یہ زندہ ہیں۔
دوسری بات ؛ان کے بارے میں گمان بھی نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مردہ ہیں، یہ بھی فرمایا گیا۔ تو اتنی بڑی سعادت اگر اللہ تعالیٰ کسی کو پہنچاتے ہیں تو یہ تو ان کے لئے تو بہت بڑی بات ہے۔ ان کے لئے تو بہت بڑی بات ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ ہم نے دیکھا ہے بلکہ کہا بھی گیا ہے، کسی نے کہا:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ابھی دیکھیں نا، غزہ کے مسلمانوں نے قربانیاں دیں، تو پوری دنیا میں جو کبھی بھی ان کا نام نہیں لیتے تھے، وہ بھی ان کے نام لینے پہ مجبور ہوگئے اور انہوں نے ان کے حق میں ریلی نکالی، حتی کہ امریکہ میں یہودیوں نے بھی ریلیاں نکالیں، یہ ظلم ہورہا ہے۔ تو ظاہر ہے ان لوگوں نے قربانیاں کیں تو ان قربانیوں کا اللہ تعالیٰ نے فوری طور پر یہ اثر دکھا دیا۔ تو اس پر ہم لوگوں کو ماتم نہیں کرنا چاہئے۔ ماتم کام ہمارا نہیں ہے۔ ہمارا کام تو کیا ہے؟ بیعتِ رضوان جیسے ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پتا چلا کہ شہید ہوگئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جمع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ہم بدلہ لیں گے عثمان رضی اللہ عنہ کا، اور اس کے لئے بیعت کروائی۔ تو جو بیعت کروائی درخت کے نیچے، تو عثمان رضی اللہ عنہ، خود ان کی طرف سے اپنا ہاتھ شامل کرلیا کہ یہ ان کا ہاتھ ہے۔ تو یہ مسلمان کا کام ہے وہ کہے کہ ہم اس کا بدلہ لیں گے ہم لوگ۔ یہ نہیں کہ ان کا ماتم کریں، ماتم کا مطلب کیا ہے؟ وہ مسلمانوں کا کام نہیں ہے۔ یہ رونا دھونا عورتوں کا کام ہوتا ہے، ان کو بھی منع کرنا چاہئے۔ ویسے ذرا تھوڑا سا معافی چاہتا ہوں، ہمارے ہاں تو KPK میں مرد نہیں روتے ہیں، ایک رسم سمجھیں یا جو بھی ہے، لیکن یہاں میں نے مردوں کو بھی موت پر روتے دیکھا ہے۔ تو مردوں کو تو چاہیے کہ عورتوں کو تسلی دیں اور ان کو رونے سے باز رکھیں، بین کرنے سے باز رکھیں۔ تو خود رونا یہ تو بڑی عجیب بات ہے، بلکہ ایک نمائشی رونا بھی ہم نے دیکھا ہے۔ وہ میرے ایک ساتھی تھے دفتر کے، تو ان کے گھر سے لینے کے لئے ہماری ان کے پاس گاڑی چلی گئی تو دیکھا کہ ان کے گھر، ان کے والد صاحب فوت ہوچکے تھے، تو خیر وہ ہمارے بتانے کے لئے باہر آگئے۔ تو وہاں محلے کا کوئی آدمی تھا، وہ بالکل ہم دیکھ رہے تھے کیونکہ ہم گاڑی میں بیٹھے تھے وہ تو ہمیں نہیں دیکھ رہا تھا، تو ہم ان کو دیکھ رہے تھے کہ وہ باقاعدہ pose بنانے کی پوری کوشش کررہا تھا، جیسے وہ ہوتا ہے نا rehearsal کررہا تھا، کیا بات تھی۔ بہرحال جیسے وہ position میں آگیا تو پھر ان کے ساتھ جپھی لگائی اور رونا شروع کرلیا۔ میں نے کہا یار یہ کیا عجیب بات ہے؟ ایک انسان کو ویسے رونا آئے تو علیحدہ بات ہے، خود بخود اگر غیر اختیاری رونا آئے اس کو بھی control کرنا پڑتا ہے لیکن یہ فرمائشی رونا اور یہ نمائشی رونا یہ تو بہت عجیب کام ہے۔ اور یہ اللہ معاف فرمائے، ہماری چچی تھیں وہ ایک دفعہ کہنے لگیں، بھئی شیر گڑھ جو ہزارہ کا شیر گڑھ ہے، وہ وہاں کی تھیں، تو کہتے ہیں کہ وہاں کسی کی فوتگی ہوچکی تھی تو ایک عورت تھی وہ آئی تھی، ظاہر ہے وہ زار و قطار رو رہی تھی، اپنیے چہرے پہ دوپٹہ ڈالا ہوا تھا اور بہت زار و قطار... لوگ کہتے بھئی یہ تو بہت زیادہ رو رہی ہے۔ تو تھوڑی دیر میں کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس نے چپکے سے اپنا چہرہ نکال کے اپنی ایک جو ان کی سہیلی تھی، کہا کہ میں صحیح رو رہی ہوں نا؟ میں صحیح رو رہی ہوں نا؟ تو وہ، ظاہر ہے شاید ان کو بلایا گیا ہو کہ رونا ہے، تو اس قسم کی باتیں یہ کیا ہیں؟ یہ بہت عجیب باتیں ہیں۔ تو جن میں اس قسم کی باتیں ہوں تو وہ کیا اسلام کا کام کریں گے؟ وہ تو ظاہر ہے اسلام کو بدنام کررہے ہیں، اس وجہ سے کبھی بھی اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
ہے حجاب تردامنی کا خیال تو توبہ کریں
عفو کو تو اس لیے حق نے نمایاں کردیا
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
غیر پھر کیا چیز ہے اس کے لیے کچھ نہیں
جس نے اپنے دل میں ذاتِ حق کو مہماں کردیا
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
جس قدر اعراض ان کی یاد سے جس نے بھی کیا
اس قدر دل اپنا جانو اس نے ویراں کردیا
یہ بہت ہی اہم مفہوم ہے اس کا، یعنی اللہ تعالیٰ کی یاد، یہ دل کی آبادی ہے، اللہ تعالیٰ کی یاد سے غفلت یہ دل کی ویرانی ہے۔ تو جس نے جتنا بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے اعراض کیا تو اس کا دل ویران ہے۔ یقین جانو، میں جب کبھی راستے پہ جاتا ہوں، یہ پاس ہی کوئی گاڑی گزرتی ہے، کوئی drum music بج رہا ہوتا ہے نا بہت heavy قسم کا جو ہوتا ہے، تو میں اپنے ساتھ جو جارہے ہوتے ہیں ان کو بتاتا ہوں کہ اس آدمی کا دل بالکل ویران ہے، یعنی اس کے اندر اطمینان بالکل نہیں ہے، یہ مصنوعی طور پر اطمینان حاصل کرنے کے لئے ان چیزوں میں مشغول ہے۔ حالانکہ اس سے مزید خراب ہوتا ہے۔ تو جس کو اللہ پاک کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے ان کو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ وہ ظاہر ہے ان کا دل اپنے طور پہ مطمئن ہوتا ہے، لہٰذا ان کو ان چیزوں کی ضرورت۔۔۔ ان چیزوں کی ضرورت ان کو ہوتی ہے، آپ یقین کیجئے، اس وقت یورپ میں اور امریکہ میں طوفان ہے میوزک کا۔ وہ جو لوگوں نے اپنے کانوں میں وہ لگائے ہوتے ہیں، جارہے ہوتے ہیں، walk بھی کررہے ہوتے ہیں تو انہوں نے وہ لگائے ہوتے ہیں۔ وہ ان کو اطمینان ہے ہے نہیں، وہ بالکل میوزک سنتے سنتے سوتے ہیں۔ یعنی اس حالت ان کی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس سے ہمیں۔۔۔ حالانکہ یہ چیز ان کی بربادی کے لئے ہے۔ ان کا جو میوزک ہے، یقین جانیے وہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اس کا جو response ہے وہ یہ ہے کہ میں ٹکڑے ٹکڑے ہوجاؤں، ریزہ ریزہ ہوجاؤں، زمین پھٹ جائے اس میں گھس جاؤں۔ کیا عجیب، ایسے یعنی thrilling قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ نہیں ہوتے pop music یا اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں، وہ یہ سب بے اطمینانی کی علامتیں ہیں۔
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں:
ہوگا وہ اس کا جو خود بن گیا اس کا شبیرؔ
کیا ہے نسبت ان سے اپنی اس نے حیراں کردیا
جس نے اپنا کاسۂ دل پیشِ جاناں کردیا
جینا اس نے اپنے واسطے اس سے آساں کردیا
ابھی ایک اہم بات میں کرنا چاہتا ہوں۔ ایک دفعہ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ درس دے رہے تھے حدیث شریف کا۔ یہ محرم کا مہینہ چل رہا تھا تو اچانک اپنے شاگردوں سے پوچھا، تم میں سے کون ہے جس نے محرم میں جو اہلِ بیت ہیں، ان کے لئے ایصالِ ثواب کیا ہو؟ لوگ چپ ! ظاہر ہے، عادت ہی نہیں ہے۔ کیا، تو اس پر حضرت نے فرمایا، الحمد للہ، جب سے محرم شروع ہوا ہے روزانہ میں ایک قرآن ان کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں، روزانہ ایک قرآن میں ان کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں۔ اب یہ ذرا غور سے سن لیں، یہ ہے چیز اصل میں communication کی۔ اب دیکھیں جب آپ ایصالِ ثواب کرتے ہیں ان کے لئے تو ان کو بھی فائدہ ہوتا ہے، اللہ پاک ان کو اس کا ثواب پہنچا دیتے ہیں اور جواب میں ان کے فیوض و برکات آپ کو ملتے ہیں، ان کی دعائیں ملتی ہیں۔ کیوں جی، وہاں پر دعائیں نہیں ہوسکتیں؟ نہیں کرتا کوئی۔ ان کی دعائیں ملتی ہیں۔ تو یہ میں اس لئے عرض کرتا ہوں کہ یہی کام ہے جو ہم کرسکتے ہیں۔ تو میرا تو خیال ہے کہ جو خواتین و حضرات اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں یا چاہتے ہیں وہ ایصالِ ثواب کا ایک نظام، مثال کے طور پر ایک پارہ پڑھ کر قرآن کا، اس کا ثواب اہلِ بیت کو کرلیں، امام حسین رضی اللہ عنہ، جو جو اس میں شہید ہوئے ہیں ان سب کے لئے ایصالِ ثواب کرلیں، اس کو ایک معمول بنا دیں۔ آج کل کے دنوں میں۔ تو ما شاء اللہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا، نہ تو آپ کو ان کے مصائب کا ذکر کرنے سے آپ کو کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ ماتم کرنے سے آپ کو ان کا فائدہ ہوتا ہے یا آپ کا فائدہ ہوتا ہے، یہ بلکہ گناہ ہوتے ہیں۔ تو اگر کچھ کرنا ہے تو یہ کرو۔ بلکہ ابھی بھی کچھ کریں نا تاکہ نقد والا معاملہ ہوجائے، ایک دفعہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورۃ اخلاص:
(سورۃ فاتحہ اور سورہ اخلاص پڑھی گئی)
اے اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہماری اس تلاوت کو قبول فرما اور اس کا ثواب امام حسین رضی اللہ عنہ کو، تمام شہداء کو پہنچا دے اور یا الٰہ العالمین! ان کے فیوض و برکات ہم سب کو نصیب فرما دے۔
یہ ہمارے اوپر ان کا حق ہے، ظاہر ہے، ہمارے بڑے ہیں اور ہمارے اوپر ان کا احسان ہے کہ انہوں نے ایسے مشکل وقت میں اتنے مشکل فریضے کو ادا کیا کہ جو ظلم اور جبر والی حکومت تھی ان کے خلاف انہوں نے نسل بھی قربان کی اور ایک ریت قائم کردی کہ ایسی چیزوں کو ماننا نہیں چاہئے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ان کے ساتھ یہی بات ہے۔ باقی میں آپ کو بات بتا دوں کہ کوئی اور غیر شرعی طریقے سے ہم لوگ نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، نہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچے گا۔ یہ ماتمی چیزیں جو ہیں نا، یہ ہمارے کام نہیں آئیں گی، اس کو تو روکنا چاہئے۔
لیکن خواہ مخواہ قصداً رونا دھونا، ان کے مصائب سنا سنا کر رونا، نہیں نہیں، یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ہمارے بڑے ہیں، ان لوگوں نے جو کام کیا وہ تو ہمارے لئے معیار ہیں حق کا، لہٰذا ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے۔ باقی یہ ہے کہ جو مقام اللہ نے ان کو دینا تھا وہ دے دیا۔ دیکھو نا، ان کو پہلے سے بشارت ہوئی تھی، "سیدا شباب اہلِ جنۃ"، اور پہلے سے ان کو ہوا تھا اور یہ باقاعدہ خواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا کہ ان کا محل جو ہے وہ سرخ ہے امام حسین رضی اللہ عنہ کا، اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا جو ہے وہ سبز ہے۔ تو پہلے سے بات ہوئی کہ ان کی شہادت زہر سے ہوگی جو سبز، اور ان کی شہادت خون ریزی سے ہوگی امام حسین رضی اللہ عنہ کی، تو پھر اس سے بات تھی کہ ایسا ہوگا۔ لہذا ان کے لئے ایک تو اعزاز ہے، اور ان کے لئے مصیبت ہے جو ان کے لئے استعمال ہوئے ہیں، یعنی جنہوں نے ان کی مخالفت کی ہو، جو لڑائی میں ان کے خلاف کھڑے ہوگئے یا ان کے ساتھ بدعہدی کی، وہ تباہ و برباد ہوگئے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
یہ خولی تھے میرے خیال میں، جس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سرمبارک دھڑ سے علیحدہ کیا تھا، تو وہ سر کو لے کے گیا عمر بن سعد کے خیمے میں جو اس وقت سپہ سالار تھا، تو ان سے کہا کہ: میری جھولی سونے چاندی سے بھر دو، میں نے دونوں جہاں کے سردار کے نواسے کا سر اتارا ہے"۔ یعنی ان الفاظ میں وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ" میں نے اپنی آخرت کو تو تباہ کردیا، اب دنیا تو دے دو نا، اب دنیا تو دے دو، آخرت تو تباہ کردی، دنیا تو دے دو"۔ یہ آخری معاملہ، جس وقت انسان گناہوں کی آخری limit کو پہنچ جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ کہتا ہے کہ جس کے لئے میں گناہ کیے ہیں، تو کم از کم اس کا صلہ دنیا میں تو ملنا چاہئے۔ بالکل وہ جانتا ہے کہ کام میں نے غلط کیا ہے، تو وہ تو اس کے ساتھ بالکل ایسے ہوا۔
تو عمر وبن سعد نے دھکے دے کر اس کو خیمے سے نکالا کہ تو نے کون سا اچھا کام کیا ہے کہ اس پر انعام چاہتے ہو؟ اس کو کہتے ہیں خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ ؕ - (الحج: 11) دنیا اور آخرت میں خسارے میں چلے گئے۔ نہ ادھر کچھ ملا نہ ادھر کچھ ملا، ٹھیک ہے نا؟ اور خواہ مخواہ خراب ہوگئے۔ تو شیطان یہی کرتا ہے۔ شیطان یہی کرتا ہے کہ انسان کو نہ دنیا میں کچھ دلوانا چاہتا ہے نہ آخرت میں کچھ دلوانا چاہتا ہے، تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ تو ہم لوگوں کو ایسے لوگوں کے راستے پہ نہیں چلنا چاہئے اور ہمیں اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچانا چاہئے۔
یہ ہمارے لئے عبرت کے واقعات ہیں، اس سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ یعنی میں جس وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ پڑھتا ہوں تو مجھے بعد کے جتنے ظلم ہوئے ہیں، جتنے واقعات ہوئے ہیں وہ بہت ہلکے نظر آنے لگتے ہیں۔ اتنا بڑا واقعہ ہوا ہے، تو اس کےسامنے ان واقعات کی کیا حیثیت ہے؟
لاہور میں جس وقت میرے خیال میں جو حملہ ہوا تھا طالبان کے اوپر امریکہ کا، تو وہ صاحب بہت ما شاء اللہ دیندار آدمی تھے، تو بہت پریشان تھے، تو مجھے کہتے ہیں کہ :طالبان سے اچھے لوگ کوئی اور ہوں گے؟ میں نے کہا کہ کیوں؟ کہتے ہیں، ان کی بھی اگر مدد نہیں کی گئی تو ظاہر ہے پھر کس کی مدد کی جائے؟ یعنی وہ اپنے خیال میں ایک قسم کا شکوہ وہ کرنا چاہتا تھا نا۔ اگرچہ اس کی وجہ صحیح تھی لیکن طریقہ غلط تھا، طریقہ غلط تھا۔ کیونکہ شکوہ تو نہیں کیا جاسکتا اللہ تعالیٰ سے، اللہ تعالیٰ تو اپنی حکمتوں کو خوب جانتا ہے۔ تو میں نے اس سے کہا کہ اچھا مجھے بتاؤ کہ طالبان بہت زیادہ اللہ کے قریب ہیں یا امام حسین رضی اللہ عنہ زیادہ قریب تھے؟ کہتے ہیں، امام حسین رضی اللہ عنہ۔ تو میں نے کہا پھر اس وقت جو ہوا تو آپ نے دیکھ لیا نا۔ تو ظاہر ہے وہ شہید ہوگئے۔ اگرچہ اللہ پاک نے اس کا بدلہ لے لیا، بعد میں کوئی بھی آدمی جو directly یا indirectly involve تھا ان کی شہادت میں، وہ طبعی موت نہیں مرا، طبعی موت نہیں مرا بلکہ غیر طبعی موت ان کو مارا گیا یا اس قسم کی چیزوں سے مر گیا۔ بلکہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک وعظ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک بوڑھا تھا، اس کے سامنے بتایا گیا کہ جو ان کی شہادت میں شریک تھا کسی نہ کسی طریقے سے، تو وہ طبعی موت نہیں مرا، تو اس نے کہا کہ نہیں، میں تو اس میں تھا، مجھے تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ گویا کہ وہ challenge والی بات ہوگئی۔ تو فرمایا کہ: وہ گھر گئے، گھر میں ان کا دیا ٹمٹما رہا تھا، تو اس نے دیا کو ٹھیک کرنے کے لیے پھونک ماری، اس سے اس کی چنگاریاں اس کی داڑھی میں پڑ گئیں اور اس کی داڑھی نے آگ پکڑ لی اور داڑھی سے کپڑوں نے آگ پکڑ لی اور تھوڑی دیر کے اندر جل کر کوئلہ ہوگیا۔ غیر طبعی موت وہ بھی چلا گیا، تو اللہ پاک نے اس کا خوب بدلہ لیا ہے، خوب بدلہ لیا ہے۔ ان کو چھوڑا نہیں ہے۔ لیکن بہرحال یہ واقعہ جو ہوا ہے، اس پہ انسان حیرت زدہ ہے کہ کیسے ہوسکتا ہے اتنا بڑا شخص اور اتنا بڑا مقام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ direct رشتہ داری۔ تو بات بھی ان کی غلط نہیں، خود ہی بلایا۔ اب پھرکیسے یہ بات ہوسکتی ہے، لیکن ہوا ہے، ہوا ہے۔ ایسے سخت دل لوگ موجود تھے تو پھر ان کے ساتھ جو ہوا وہ بھی اللہ پاک نے دکھا دیا۔ تو ہم لوگوں کو یہ بات دیکھنی چاہئے کہ ہمیں کن کے طریقے پہ جانا چاہئے، ان لوگوں کے جنہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی یا ان لوگوں کے جو امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ یہ ظاہر ہے کہ ہمیں تو ان کے ساتھ ہونا چاہئے، بس یہی بات ہے۔
تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت میں ایک غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ صحابہ کرام کے خلاف جو لوگ بولتے ہیں بدبخت، تو ان کی مخالفت میں -نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذٰلِکَ -وہ اہلِ بیت کی مخالفت میں بولنے لگتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کے ساتھ بہت دشمنی ہے، اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں کہ بھئی ظاہر ہے صحابہ نے تو ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی تھی، جنہوں نے کی ان کے مخالف ہوجاؤ۔ تو اہلِ بیت کی مخالفت بھی اس طرح جائز نہیں ہے۔ تو جس طرح یہ ہے کہ صحابہ کی مخالفت جائز نہیں ہے اس طرح کیونکہ اہلِ بیت بھی تو صحابہ ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی صحابیہ ہیں، امام حسین رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں۔ اور بعض لوگ تو ایسے ظالم یعنی ناسمجھ ہوجاتے ہیں کہ وہ -نَعُوْذُ بِاللہ مِنْ ذٰلِکَ- یزید رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگتے ہیں، حالانکہ یزید جو ہے یہ بالاتفاق فاسق ہے، فاسق فاجر ہے، فاسق فاجر ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ اس نے تین کام ایسے کیے جو اس کے فسق کے اعلان کے لئے کافی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور سارے مسلمانوں کی لعنت کے مستحق ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ کہ اس نے خانہ کعبہ کی حرمت کو زائل کیا، سنگ باری کرائی، مدینہ منورہ کو تین دن تک کے لئے مباح کروا دیا۔ اور اہلِ بیت کی حرمت کو زائل کیا۔ یہ تین کام ان کے ایسے تھے۔۔۔ اور اس سے توبہ اس کی ثابت نہیں ہے کیونکہ یہ خانہ کعبہ پہ سنگ باری کے دوران ہی مر گیا ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کشف ہوگیا یا جو بھی ہوگیا واللہ اعلم، انہوں نے- وہ تو اندر سے محصور تھے ان کی فوج سے- تو انہوں نے ان تک پیغام پہنچایا کہ جاؤ تحقیق کرلو تمہارا فاسق امیر مر گیا۔ تو پیچھے جب دیکھا تو وہ واقعی یزید مر گیا تھا۔
اچھا کمال کی بات ہے کہ یزید کے بیٹے نے یزید کی حمایت نہیں کی، معاویہ بن یزید، وہ ان کے بعد امیر المؤمنین نہیں بنے۔ وہ کہتے تھے: میں ایسے ظلم کی حکمرانی نہیں چاہتا، انہوں نے بھی نہیں مانا۔ تو یہ بات ہے کہ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ (الحج: 11) والی بات ہوگئی۔ ہاں! البتہ کافر ہم ان کو نہیں کہتے۔ ہم کہتے ہیں، کفر اور اسلام یہ معاملہ ذرا سخت بات ہے، وہ اگر کوئی کافر نہ ہو کسی کو کافر کہا جائے تو انسان کے اوپر واپس لوٹ آتا ہے۔ تو لہٰذا کافر تو ہم ان کو نہیں کہہ سکتے، ہاں البتہ فاسق اور فاجر ضرور ہے۔ اور اگر اللہ پاک اس کو معاف کرنا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ ظاہر ہے اس میں بھی ہم درمیان میں نہیں آتے۔ "اللّٰہم اغفر للمؤمنین" میں وہ بھی شامل ہے، جس وقت ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ! مومنوں کی مغفرت فرما دے، تو اس میں وہ بھی شامل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کی دعا قبول فرما کر اس کو بھی معاف کردے تو کرسکتا ہے، اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن بہرحال حق کو حق کہنا پڑے گا، جو حق ہے اس کو بتانا پڑے گا کہ یہ صحیح اور یہ غلط ہے، یہ کام ضرور ہے۔
وَ مَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ