امانت، انصاف اور اطاعتِ الٰہی: قرآنی احکامات اور پاکیزہ زندگی کا تصور

درس نمبر 187، سورۃ النساء: آیت: 56 تا 59- اشاعتِ اول: 2 جون، 2022، بمطابق 2 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·  سورۃ النساء کی آیات کی روشنی میں جنت کے انعامات

اور دوزخ کے عذاب کا تذکرہ

  قرآنِ مجید کے اعتدال پسندانہ اندازِ بیان کی حکمت۔

  معاشرے کی بقاء کے لیے امانت داری اور دیانت داری کی اہمیت۔

 قیامِ عدل کی ضرورت اور برطانوی ہند کے دور کے ایک مسلمان

کی سچی گواہی کا واقعہ۔

اللہ، رسولِ خدا ﷺ اور اولی الامر (حکمرانوں)

کی اطاعت کا شرعی دائرہ اور شرائط۔

شیطان کے پیروکاروں کی گندگی اور غلاظت پسند فطرت

بمقابلہ اللہ کے پاکیزہ احکامات۔

ماحول اور صحبت کا دل پر اثر (عطر سے بےہوش

ہونے والے Sweeper کی تمثیل)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا(56)وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا(57) اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا (58) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا (59)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا ہے ہم انہیں آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں جل جل کر پک جائیں گی، تو ہم انہیں ان کے بدلے دوسری کھالیں دے دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں۔ بیشک اللہ صاحب اقتدار بھی ہے، صاحب حکمت بھی ﴿56﴾ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی، اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں داخل کریں گے۔﴿57﴾

یہ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں بار بار کہ قرآن پاک کا جو اندازِ بیان ہے وہ یہ ہے کہ اعتدال۔ یعنی اگر دوزخ کی بات ہو رہی ہے تو ساتھ ہی جنت کی بات ہوتی ہے، اور جنت کی بات ہو رہی ہے تو ساتھ ہی دوزخ کی بات۔ اچھے لوگوں کی بات ہو رہی ہے تو برے لوگوں کے ساتھ بات ہے، برے لوگوں کی بات ہے تو ساتھ اچھے لوگوں کی۔ اور جس چیز کی جتنی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس کا اتنا حصہ تذکرہ ہوتا ہے۔ تو یہ ساری باتیں صرف قرآن میں ہی جو اللہ پاک کی کتاب ہے ہو سکتی ہیں۔ انسان اپنے جذبات پہ قابو نہیں رکھتا۔ اگر غصے میں آ جاتا ہے تو غصے میں لکھتا جاتا ہے، پھر وہ جو دوسرا رخ ہے اس کو نظر نہیں آتا۔ اور اگر پیار و محبت میں لکھتا ہے تو پھر اسی میں لکھتا جاتا ہے، پھر اس کو دوسرا رخ نظر نہیں آتا۔ تو ایک تو یہاں پر یہ بات مطلب زیرِ نظر تھی۔

دوسرا یہ ہے کہ گھنی چھاؤں میں ،اس سے مراد یہ ہے کہ۔۔

اشارہ اس طرف ہے کہ جنت میں روشنی ہوگی مگر دھوپ کی تپش نہیں ہوگی۔

یعنی وہ جیسے کہتے ہیں کہ مغرب کے بعد کا جو وقت ہوتا ہے نا ابتدا میں تو اس میں دھوپ تو نہیں ہوتی لیکن یہ ہے کہ روشنی ہوتی ہے۔ تو اسی طریقے سے روشنی تو ہوگی اور پاکیزہ، ایسی عمدہ روشنی ہوگی جو آنکھوں کو بھلی لگے گی۔ اور یہ موسم بھی بالکل بہترین موسم ہوگا۔

یہ بات ہے اور پھر یہ ہے کہ ما شاء اللہ، جن چیزوں کو ہم یہاں مزیدار کہتے ہیں ان کا اصلی مزہ جنت میں ہوگا۔ یہاں تو اس کی نقل ہے، یعنی گویا کہ اس چیز کی نقل اس لیے بھیجی گئی ہے تاکہ ہم اس سے ادراک حاصل کر سکیں۔ مثال کے طور پر اگر پانی یہاں نہ ہوتا، تو پانی اگر جنت کا بتا دیا جاتا تو ہمیں کیا پتہ چلتا، پتہ نہیں کیا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس sample نہیں ہوتا۔ اسی طریقے سے اگر باغات یہاں نہ ہوتے، تو باغات کا کیسے ہم اندازہ لگاتے؟ اس طرح پھل، اس طرح شہد، اس طرح، تو یہاں پر نقل موجود ہے۔ اور اس کے بعد اصل وہاں پر ملے گا۔

جیسے کوئی آپ کو کسی خاص ملک جو بڑا خوبصورت ہو، اس کی videos بھیج دے۔ اور آپ اس کی videos دیکھ لیں، اور آپ کو پتہ چل جائے کہ یہ چیز ہے، یہ چیز ہے، فلاں ہے، یہ فلاں ہے، یہ فلاں ہے۔ تو پھر وہاں جا کر آپ اصلی حالت میں دیکھیں گے۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہاں پر یہ نمونے موجود ہیں، نقل موجود ہے، لیکن اصل موجود نہیں ہے۔ تو وہ اصل وہاں پر ملے گا۔ بہترین صورت میں، ما شاء اللہ۔

تو یہاں پر یہ فرمایا گیا:

(مسلمانو!) یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ ﴿58﴾

یہ امانت داری، امانت، دیانت۔ تو دیانت داری اور امانت داری، یہ دو صفات ہیں جو کہ معاشرے کی بہتری کو maintain رکھنے والی ہیں۔ تو یہاں پر یہ فرمایا کہ جو امانت تمہارے پاس کسی کی رکھی گئی ہے تو اس کو اس تک پہنچانا۔ یا تمہیں کسی کے لیے کوئی چیز حوالے کی گئی ہے تو ان کو صحیح طریقے تک پہنچانا۔ یعنی اس میں اپنی طرف سے کوئی خیانت نہ کرنا۔

اور دوسری بات ہے کہ انصاف۔ یعنی یہ نہ ہو کہ اپنے نفس کی وجہ سے کوئی ایک چیز سے ہٹ جاؤ۔ دوسری طرف چلے جاؤ، نہیں۔ اس میں انصاف ہوگا۔ میں اب آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔

متحدہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی، انگریز ججز تھے زیادہ تر۔ تو مسلمان اور ہندو کے درمیان ایک زمین پر تنازعہ ہوا۔ مسلمان کہتا ہے یہ ہماری ہے، ہندو کہتا ہے ہماری ہے۔ بہت زیادہ riftبڑھ گیا تو بات عدالت تک پہنچ گئی۔ تو ہندوؤں نے اپنی طرف سے اس میں یہ add کر لیا کہ فلاں مسلمانوں کا جو بڑا ہے، اگر وہ کہہ دے کہ یہ زمین مسلمانوں کی ہے تو ہم مان لیں گے۔ پھر ہم وہ نہیں کریں گے، یعنی مطلب جو ہے نا۔ تو انگریز نے کہا یہ تو بات بالکل صحیح ہے، مسلمانوں (سے کہا ان کو بلا لائیں)۔ ظاہر ہے وہ انکار تو نہیں کر سکتے تھے، تو انگریز نے سمن بھیج دیا اس بزرگ کے پاس کہ آ جائیں۔ اس نے کہا: میں انگریز کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا۔

تو انگریز جج بجائے اس کے کہ غصہ ہو جائے، اس نے کہا کہ آپ کے اور ہمارے درمیان ایک پردہ ہوگا۔ تو آپ ہمارا چہرہ نہیں دیکھیں گے، صرف میں آپ سے بات کروں گا۔ تو اس پر وہ تیار ہو گیا۔ تو آ گیا، ان کے درمیان پردہ لٹکایا گیا۔ تو انگریز جج نے کہا کہ فلاں زمین ہے، فلاں جگہ کے پاس، کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کس کی ہے؟ تو اس نے کہا، مجھے معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا، یہ مسلمانوں کی ہے یا ہندوؤں کی ہے؟ انہوں نے کہا، انگریز کے بچے، ہندوؤں کی ہے۔ تو ظاہر ہے پھر جج نے اس کو ہندوؤں کو دے دیا۔

لیکن کئی ہندو وہاں کھڑے کھڑے مسلمان ہو گئے۔ تو تاریخ میں وہ بات لکھی ہے کہ "مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا"۔ مسلمان ہار گیا، اسلام جیت گیا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اسلامی دیانت داری جو ہے وہ ظاہر ہوئی تو ہندوؤں پر بھی اثر ہوا۔ اور انہوں نے ایمان قبول کر لیا۔ لیکن بہرحال زمین مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی جو ان کی تھی ہی نہیں۔ تو یہ بات ہے کہ اب دیکھیں مسلمان کے ساتھ محبت بھی ہونی چاہیے اور تعلق بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اس تعلق اور محبت کی وجہ سے کوئی ناجائز امر وجود میں نہیں آنا چاہیے۔

تو یہاں پر فرمایا کہ جس وقت تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم کو جس بات کی نصیحت کرتا ہے وہ بہت اچھی ہوتی ہے۔ بیشک اللہ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ ﴿57﴾اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو صاحب اختیار ہوں، ان کی بھی۔

"صاحب اختیار" سے مراد اکثر مفسرین کے مطابق مسلمان حکمران ہیں۔ جائز امور میں ان کے احکام کی اطاعت بھی مسلمانوں کا فرض ہے۔ البتہ یہ اطاعت اس شرط کے ساتھ ہے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم نہ دیں جو شرعاً ناجائز ہو۔ اس بات کو قرآن کریم نے دو طرح واضح فرمایا ہے۔ ایک تو اس طرح کہ اصحاب اختیار کی اطاعت کا ذکر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد فرمایا ہے جس میں یہ اشارہ ہو گیا کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تابع ہے۔ دوسرے اگلے جملے میں مزید صراحت کے ساتھ بتا دیا گیا کہ اگر کسی معاملے میں یہ اختلاف پیدا ہو جائے کہ آیا حکمرانوں کا دیا ہوا حکم صحیح اور قابلِ اطاعت ہے یا نہیں تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کر دو جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم کو قرآن اور سنت کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھو، اگر وہ قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ ایسا حکم واپس لے لیں، اور اگر وہ حکم قرآن وسنت کے کسی صریح یا اجماعی طور پر مسلم حکم کے خلاف نہیں ہے تو عام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں۔

دیکھیں انتظام بغیر امیر کے نہیں چلتے۔ تو جو اولی الامر ہے۔ یہ بھی تو امیر ہے، اس میں امیر المومنین جیسے نہیں کہتے اس طرح تو، تو اس وجہ سے امیر کی اطاعت واجب ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی تو فرض ہے اور رسول کی اطاعت، تو اب اگر کوئی شخص ایسا حکم دے جو کہ اللہ کے حکم کے خلاف ہو، تو اس کا ماننا لازم نہیں ہے۔ مثلاً کوئی مسلمان حاکم حکم دے کہ سور کا گوشت کھاؤ، نہیں! شراب پیو، نہیں! یا زنا کرو، نہیں! دھوکہ کرو، نہیں! مطلب یہ ہے کہ وہ حکم ماننا لازم نہیں ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم کے خلاف ہو۔

اور جو عام general ہو، مباحات میں ہو، تو پھر وہ اس میں ظاہر ہے امیر کی اطاعت واجب ہے۔ اس پرعمل کرنا چاہیے ورنہ پھر کیا ہے کہ مسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔ تو یہاں پر فرمایا کہ:

حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کا کھل کر انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بھٹکا کر پرلے درجے کی گمراہی میں مبتلا کردے ﴿60﴾

اب دیکھیں، شیطان کی جتنی باتیں ہوتی ہیں وہ گندی ہوتی ہیں۔ کمال کی بات ہے کہ شیطان کو جو ماننے والے ہیں نا، یعنی اپنا بڑا اور اپنے آپ کو شیطان کے بندے کہتے ہیں، وہ بھی جو شیطان کی تصویر بناتے ہیں، انتہائی گندی بناتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کے خیالات بھی گندے ہوتے ہیں۔ ان کے معاملات، تمام چیزیں گندی ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ گندی چیزوں کو پسند کرتے ہیں۔ جیسے کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں۔ کیڑے مکوڑے کو آپ اچھی جگہ پر رکھ لیں تو کیا ہوگا، مر جائیں گے۔ تو ایسی گندگی میں، کیونکہ وہی ان کی خوراک ہے۔ تو اسی میں زندہ رہتے ہیں۔

تو اسی طریقے سے یہ لوگ جو ہیں یہ اپنی گندگی میں خوش ہوتے ہیں۔ بلکہ یہاں تک کہ وہ باقاعدہ اپنے آپ کو dirty کہتے ہیں۔ اپنے آپ کو dirty کہتے ہیں۔ میرے ساتھ تو یہ باتیں ہوئی ہیں نا کہ کیونکہ کچھ لوگ ایسے تھے جو میرے پاس آئے تھے اور وہ اپنے آپ کو dirty کہتے تھے۔ انہوں نے جو اپنے واقعات بتائے ہیں satanic لوگ یہاں پر پاکستان میں۔ تو وہ اپنے آپ کو باقاعدہ dirty کہتے ہیں۔ ان کے جو jokes ہوتے ہیں وہ dirty jokes۔ ان کے جو quotes ہوتے ہیں، dirty quotes۔

لیکن جب اللہ کی باتیں ہوتی ہیں، وہ ہمیشہ انصاف کی بات، اچھی بات، اور پاک چیزوں کا حکم، یہ ہوتا ہے۔ اب شراب جو ہے ایک گندی چیز ہے، اس کا حکم ہے کہ نہ پیو۔ یعنی جو لوگ پیتے ہیں، ان کا تو ہم ذکر نہیں کرتے۔ لیکن جو لوگ نہیں پیتے نا، اس کی بو بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم ہوتے تھے جرمنی میں، pubs ہوتے تھے یا bar ہوتے تھے۔ اس کے سامنے گزرنا ہمارے لیے بڑا مشکل ہوتا تھا۔ بہت تیزی کے ساتھ گزرتے تھے کہ اس کی بو برداشت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن جو لوگ پیتے ہیں ان کو اس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اسی میں خوش ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح وہ sweeper type تھا وہ یہی کام کرتا تھا۔ تو بےہوش ہو گیا۔ تو لوگ اس کو پانی اس پر ڈال رہے تھے، تو وہ نہیں ہو رہا تھا۔ تو اس کا بھائی گزر رہا تھا، اس کو پتہ چل گیا۔ تو فوراً اس نے وہ گندگی کے ساتھ اپنا جوتا ملا اور وہ سنگھایا تو اٹھ گیا۔

تو مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے یہی چیزیں ہوتی ہیں ساری۔ تو مقصد یہ ہے کہ اللہ پاک کی بات پیاری بات ہوتی ہے۔ اور شیطان کی بات گندی ہوتی ہے۔ شیطان تو گندگی کی طرف لے جاتا ہے، گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اس سے۔


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ



امانت، انصاف اور اطاعتِ الٰہی: قرآنی احکامات اور پاکیزہ زندگی کا تصور - درسِ قرآن - دوسرا دور