اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا.
إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ.
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.
بزرگو اور دوستو! یہ مبارک مہینہ ہے۔ اس میں عاشورہ بھی ہے۔ عاشورہ کا روزہ یہ جب رمضان شریف کے روزے فرض نہیں تھے تو یہ روزہ فرض تھا۔ پھر اس کے بعد جب رمضان شریف کے روزے آگئے تو اس کے بعد پھر یہ نفلی ہو گیا۔
اصل میں کچھ غلط فہمیاں ایسی پائی جاتی ہیں جو بڑی واضح ہوتی ہیں، جواب بڑا آسان ہوتا ہے لیکن جھوٹ اتنا پھیل چکا ہوتا ہے، اس کی طرف دھیان نہیں جاتا۔ شور شرابہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ شور شرابے کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک تو یہ ہوتا ہے نا مجلس میں شور شرابہ، سب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، ہر ایک شور کر رہا ہے، کوئی کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، یہ بھی ایک شور ہے۔ ایک یہ ہوتا ہے کہ electronic noise اب یہ میری آواز ہے، یہ آواز آپ تک پہنچ رہی ہے، اس کے ساتھ اگر electronics noise شامل ہو جائے تو میری آواز آپ تک نہیں پہنچے گی کیونکہ اس میں گم ہو جائے گی۔ وہ شوں شوں شوں، جو ہو رہی ہوگی، تو اس میں آواز گم ہو جائے گی۔ یہ بھی ایک شور شرابہ ہے۔
ایک media کا شور شرابہ ہے۔ اتنی بات جھوٹ پھیلاؤ media کے اوپر کہ سچ نظر ہی نہ آئے۔ سچ نظر ہی نہ آئے۔ پرانی ایک کہاوت ہے، "جھوٹ اتنا بولو اتنا بولو کہ سچ نظر آئے"۔ یہ آج کل کے دور کا۔۔ اس کو post-truth کہتے ہیں آج کل۔ post-truth۔ یہ مثال کے طور پر میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں، اخبار میں ایک چیز سرخی کے ساتھ آ جائے کہ فلاں فلاں لوگ یہ دہشت گرد ہیں، یہ سرخی کے ساتھ آ جائے۔ اور پھر دو تین دن کے بعد ایک ہلکی سی خبر آ جائے، نہیں، یہ خبر غلط تھی۔ اب وہ ہلکی سی خبر کتنے پڑھیں گے لوگ؟ وہ تو بہت تھوڑے لوگ پڑھیں گے، پڑھیں گے بھی نہیں پڑھیں گے کیا پتا۔ اب سو فیصد لوگوں نے سنا اور دس فیصد لوگوں نے تردید پڑھی تو نوے فیصد تو confuse ہو گئے نا۔ وہ تو گئے۔ یہ post-truth ہے۔ آج کل کا دور اس چیز کا ہے۔
اب میں چند موٹی موٹی باتیں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں تاکہ باریکات میں ہم نہ جائیں، باریکات میں لوگ الجھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے حق نظر نہیں آتا۔
پہلی بات: قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی دوسری بات ہو سکتی ہے؟ قرآن ہدایت کی کتاب ہے۔ سبحان اللہ! بالکل ٹھیک۔ (بے شک)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت اللہ پاک سے لے کے آئے ہیں اور تقسیم کر رہے ہیں۔ ٹھیک ہے؟ اس میں بھی کوئی دوسری بات نہیں ہو سکتی۔ اب قرآن کی جو ہدایت ہے، وہ ہم تک کیسے پہنچی؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہدایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو ہدایت آئی ہے، وہ ہم تک کیسے پہنچی؟ کوئی ذریعہ تو ہوگا نا۔ تو قرآن کی طرف سے جو ہدایت آئی ہے، اس کے پہنچنے کا جو ذریعہ ہے، وہ ما شاء اللہ مفسرین کرام ہیں جس کے ذریعے سے ہم تک پہنچتی ہے۔ اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت لے کے آئے ہیں، اس کے پہنچنے کا جو نظام ہے وہ کیا ہے؟ وہ تین راستے ہیں۔ اگر میں کہیں غلطی کروں تو مجھے آپ درمیان میں ٹوک سکتے ہیں۔
ایک ہیں عام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ عام صحابہ سفر وحضر میں جو شامل تھے۔ ایک وہ جو گھر کے لوگ تھے جن کو اہل بیت کہتے ہیں۔ کیونکہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو گھر میں کی جاتی ہیں باہر نہیں آتیں، تو کن کو پتا ہوگا؟ ظاہر ہے گھر والوں کو پتا ہوگا۔ اور امہات المومنین رضی اللہ عنہن، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف رفیقۂ حیات کو معلوم ہوتی ہیں، کسی اور کو معلوم ہو ہی نہیں سکتیں۔ اس وجہ سے دین کا بہت بڑا حصہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ جس پر سب علما متفق ہیں۔
اب تین راستوں سے ہدایت آئی ہے؛ الحمد للہ ہم تک پہنچی ہے۔ ان تینوں راستوں میں سے جو جس راستے کو نہیں مانے گا مثلاً کوئی صحابہ کا نہیں مانتا کہ نہیں ان کے ذریعے سے ہم نہیں لیتے، صرف اہل بیت سے لیں گے۔ کیا ان تک حق پورا پہنچ سکتا ہے؟ اور جو کہیں گے نہیں ہم صرف صحابہ سے سنیں گے، اہل بیت کی نہیں مانیں گے۔ کیا وہ پورا حق ان تک پہنچ سکتا ہے؟ اور کوئی ان دوکی مانے لیکن کہے کہ امہات المومنین والی باتیں ہمیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ نہیں۔ تو کیا ان تک پورا حق پہنچ سکتا ہے؟ تو عقلی بات ہے کہ جنہوں نے ان تینوں سے سنا اور مانا، "سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا،سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا" وہ پورا دین لے گئے۔ اور جنہوں نے ان میں سے کسی ایک سے لیا اور باقی سے نہیں لیا، وہ ناقص دین لے گئے۔ کچھ حصہ ان کو معلوم ہے، کچھ حصہ معلوم نہیں ہے۔
اور جو ان میں سے کسی ایک کا مخالف ہو گیا، اس نے کچھ بھی نہیں لیا۔ (بے شک)۔ چاہے اہل بیت کا مخالف ہوا، چاہے صحابہ کا مخالف ہوا، چاہے امہات المومنین کا مخالف ہوا۔ انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا۔ کیوں؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ جھوٹ باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کافر بھی صادق و امین کہتے تھے۔ تو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ جھوٹ باندھے گا تو بچ سکتا ہے؟ نہیں بچ سکتا۔ کیسے جھوٹ باندھا بتاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ کہا ہے نا؟ عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ حسن، حسین کے بارے میں کچھ کہا ہے۔
اب اگر کوئی اس کو نہ مانے، نہ سنے، تو کیا خیال ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہے یا نہیں ہے؟ (بے شک)۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والا بچ نہیں سکتا۔ بچ نہیں سکتا۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اس وجہ سے کسی ایسے کیمپ میں نہیں ہونا چاہیے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والا ہو۔ کسی ایسے کیمپ میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بات پکی ہو گئی نا۔ اس میں تو کوئی اختلاف اب نہیں رہا نا۔ یہ بات اب پکی ہو گئی، الحمد للہ۔
اب ذرا میں آپ کو ایک بات بتاؤں، تھوڑا سا نیچے آتے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا، کیا خیال ہے میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ؟تو اس کا مطلب کیا ہے یہ کون تھے؟ صحابہ تھے۔ رضی اللہ عنہ کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ کے بارے میں۔ سب صحابہ تھے نا۔ سب صحابہ تھے۔
اب میں کہتا ہوں یزید رضی اللہ عنہ کہہ سکتا ہوں؟ کہہ سکتا ہوں؟ کیوں نہیں کہہ سکتا؟ کیونکہ وہ صحابی نہیں ہے۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ تابعی ہے۔ صحابی نہیں ہے۔ اب جب وہ صحابی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین کے بارے میں بہت باتیں فرمائی ہیں۔ حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا، حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا۔ دونوں کے بارے میں فرمایا: میرے بیٹے ہیں۔ اب یہ ساری باتیں ایک طرف رکھتے ہیں۔ اور دوسری طرف یزید کی بات، اب ہم کہتے ہیں یزید حق پر ہے اور حسن حسین غلطی پر ہیں۔ تو آپ کے سامنے جو فیصلہ آ گیا کس چیز کا آ گیا؟ ایک طرف صحابی ہے، دوسری طرف تابعی ہے۔ آپ کس کی بات سنیں گے؟ صحابی کی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اب تو میرے خیال میں کوئی confusion نہیں رہا نا؟ بس یہی موٹی سی بات ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، "كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ" آپ احادیث شریف کی کتابیں پڑھیں۔ فلانے فلاں سے سنا، فلانے فلاں سے سنا، فلانے فلاں سے سنا، اور اخیر میں فرماتے ہیں اور وہ صحابی، اور صحابہ "كُلُّهُمْ عُدُوْلٌ"۔ سارے صحابہ سچ پر ہیں، سارے صحابہ حق پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
"أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ، بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ"۔
میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، جس کے پیچھے جاؤ گے تو ہدایت پا لو گے۔ کوئی عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل پڑا، ہدایت پا گیا۔ کوئی عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا، وہ ہدایت پا گیا۔ علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا، وہ ہدایت پا گیا۔ حسن رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا، وہ ہدایت پا گیا۔ حسین رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا، ہدایت پا گیا۔ وحشی رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا، ہدایت پا گیا۔ سمجھ میں آگئی نا بات؟ یزید کے پیچھے چلا !کہہ سکتے ہو؟ بس یہی بات ہے۔ یہی بات ہے۔
تھوڑا سا ایک اور تاریخ کی بات بتاؤں۔ واقعہ کربلا ہوا ہے۔ بعض لوگ تو انکار کرتے ہیں نا کہ ہوا ہی نہیں ہے۔ کمال کی بات، اس کو کہتے ہیں آنکھوں میں دھول جھونکنا۔ کیسے کمال کرتے ہو یار تم! سورج چڑھا ہے اور کہتے ہیں: نہیں، سورج نہیں ہے۔ کیا بات کرتے ہو؟ واقعہ کربلا ہوا ہے۔ یہ اس وقت امت کا بہت بڑا ابتلا تھا۔ میں جب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو ہل جاتا ہوں۔ یا اللہ !یہ کیسی بات ہے! کیسے سخت دل تھے؟ نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اتنا direct رشتہ! اور پھر ایسے حالات تو یہ ساری باتیں بڑی خطرناک۔
آخرت کے انجام کے لحاظ سے تو خطرناک تھی ہی، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی دکھایا۔ دنیا میں بھی دکھایا۔ کیسے دکھایا؟ واقعہ ہو گیا۔ حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی پوری ہوئی۔ لیکن اس کے بعد پھر کیا ہوا؟ اف! جن لوگوں نے directly، indirectly حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت میں حصہ لیا، وہ طبعی موت نہیں مرے۔ وہ طبعی موت نہیں مرے۔ ان کو یا ذبح کیا گیا، یا ان تک کتے چھوڑے گئے، یا ان کو کاٹ دیا گیا۔ شمر تھا، عمر وبن سعد تھا، پتا نہیں کتنے سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب ان کے اوپر آیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو خود مارا۔ وہ تائبین کہلاتے تھے۔
ایک عجیب کہرام مچ گیا تھا۔ خود یزید کا جو بیٹا ہے معاویہ رحمۃ اللہ علیہ میں اس کو رحمۃ اللہ علیہ کہتا ہوں کیونکہ وہ بھی ولی تھا، سمجھ رہا تھا۔ اس نے خلافت قبول نہیں کی۔ کہتا ہے: میں ایسے ظلم کی خلافت قبول نہیں کر سکتا۔ فوت ہو گیا اس غم سے۔ تو یہ میں آپ سے بات عرض کر دوں کہ ایسا ان کے اوپر ایسی لعنت پڑی کہ کوئی بچا نہیں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں، حالانکہ وہ اصحابِ سکوت میں سے ہیں، اصحابِ سکوت ان کو کہتے ہیں جو اس پر بات نہیں کرتے۔ فرمایا کہ: کسی نے ایک مجلس میں کہا کہ جو بھی اس واقعے میں شامل تھا directly indirectly وہ طبعی موت نہیں مرا۔ اس کے اوپر عذاب آ گیا۔ ایک بوڑھا کھڑا ہو گیا، کہتا ہے میں اس میں تھا، مجھے کچھ نہیں ہوا۔ میں اس میں تھا، مجھے کچھ نہیں ہوا۔ دعویٰ کر لیا۔ اللہ کو دعویٰ پسند نہیں ہے۔ اللہ پاک نے کسی وجہ سے اس کی پردہ پوشی کی تھی۔ اب اس نے جب خود دعویٰ کر لیا تو challenge ہو گیا۔ حضرت فرماتے ہیں: گھر چلا گیا۔ دیا پڑا ہوا تھا، وہ ٹمٹما رہا تھا، اس کو درست کرنے کے لیے پھونک ماری۔ پھونک ماری تو اس کے کچھ ذرات جل رہے تھے وہ اس کی داڑھی میں پڑ گئے۔ اس کی داڑھی نے آگ پکڑ لی۔ داڑھی سے کپڑوں نے آگ پکڑ لی۔ اور تھوڑی دیر میں جل کر بھسم ہو کر کوئلہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں۔ تو اللہ پاک نے یہ بھی دکھایا ہے۔
میری بیٹی ایک دن آئی (جو کسی جامعہ میں پڑھ رہی تھی) ۔ مجھے کہتی ہے ابوہمارے قاری صاحب نے آج ایک تقریر کی۔ اس نے کہا کہ یزید حق پر تھا اور حسین رضی اللہ عنہ باغی تھا ۔ تو انہوں نے دلائل دیے۔ ہم حیران ہو گئے، استانیاں بھی، قاری صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ تو ہم نے نہیں سنا۔ تو اس نے کہا آپ تحقیق کر لیں، خود کر لیں۔ یہ تو دیکھو، یہ کتابیں موجود ہیں، میرے پاس بھی ہیں، آپ بھی لے لیں۔ آپ تحقیق کر لیں، خود کر لیں، میری بات نہ مانیں، آپ خود تحقیق کر لیں۔ خدا کی شان، اس وقت میری میز پر مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ "شہید کربلا پر تبرّا" پڑا ہوا تھا۔ جو حضرت نے- ما شاء اللہ- دفاع میں لکھا تھا امام حسین رضی اللہ عنہ کے۔ وہ میرے پاس پڑا ہوا تھا۔ میں نے کہا بیٹی آ جاؤ۔ وہ میں نے کھولا، ایک ایک حوالہ لیتا رہا، اور میں نے الفیہ سی ڈی میں نے اس پہ ڈال لی computer پہ، اور اس سے پوری تفصیل میں نے اس کو بتا دی، میں نے کہا دیکھو یہاں پر یہ لکھا ہے، البدایہ والنہایہ میں یہ لکھا ہے، فلاں نے یہ لکھا ہے، فلاں نے یہ لکھا ہے، تفصیل میں اس کو بتاتا رہا، وہ نوٹس لیتی رہی۔ وہ نوٹس لیتی رہی۔ صبح چلی گئی۔ مجھے نہیں بتایا تھا۔ صبح چلی گئی اور قاری صاحب سے کہا، قاری صاحب! میں نے کچھ تحقیق کی ہے، میں سناؤں؟ قاری صاحب نے سوچا کہ یہ بچی کیا تحقیق کرے گی؟ تو اس نے کہا سناؤ۔ اب اس نے جو اپنے نوٹس بیان کرنے شروع کر لیے، قاری صاحب کو بھاگتے بنی۔ کہتا ہے : یزید کون سا ہمارا ماما چاچا ہے؟ چھوڑو۔ ختم کرو۔ بات ختم ہو گئی۔
بھئی سچ کو آنچ نہیں۔حق حق ہوتا ہے۔ وَجَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔ بھئی سورج کو انگلیوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔
میں آپ کو ایک بہت اہم بات عرض کرنا چاہتا ہوں، اس کے بعد میں ختم کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :گزشتہ امتوں میں یہود میں 71 فرقے تھے، نصاریٰ میں 72 ہو گئے تھے، میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے، میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے، صرف ایک بچے گا، ایک حق پر ہو گا، باقی حق پر نہیں ہوں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون سا ہو گا؟ فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چل رہا ہوں، جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ ان پر جو چلے گا، وہ حق پر ہو گا۔ میں چلا ہوں، اس سے سنت کی پیروی آگئی۔ صحابہ چلے ہیں، اس سے جماعتِ صحابہ کی پیروی آگئی۔ تو جماعتِ صحابہ کو سنت کے ساتھ جمع کر لو تو اس کو کہتے ہیں اہلِ سنت والجماعت۔ تو ہم اہل سنت والجماعت ہیں۔ نمبر ایک، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ بھئی میرے ساتھ کہو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اور جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ جھوٹا ہے۔ ہاں! جس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ جھوٹا ہے۔ (وہ جھوٹا ہے)۔ اچھا، پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے صحابہ سچے ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے صحابہ سچے ہیں)۔ ان میں سے جس کے پیچھے بھی کوئی جائے گا تو کامیاب ہو گا۔ (جس کے پیچھے جائے گا تو کامیاب ہو گا) کامیاب ہو گا۔ ٹھیک ہے نا؟ اب عام صحابہ بھی حق پر تھے، اہل بیت بھی حق پر تھے، اور امہات المومنین بھی حق پر تھیں۔ ان کے درمیان جو اختلاف ہوا، وہ ایسا ہے جیسے کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے، پوری بات کھلتی نہیں ہے۔ اس وقت ہر ایک اپنے اندازے سے فیصلہ کرتا ہے۔ میں آپ کو اس کی مثال دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز عصر کی بنو قریظہ جا کے پڑھنی ہے۔ اب روانہ ہو گئے۔ درمیان میں وقت عصر کا جانے لگا۔ تو ایک گروہ نے کہا: چونکہ قرآن میں ہے، إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا۔ بے شک نماز جو ہے یہ مقررہ وقت کے اوپر ہے۔ تو اب یہ وقت جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے فرما رہے تھے کہ ہم جلدی پہنچیں، جلدی نہیں پہنچ سکے تو نماز تو نہیں جانی چاہیے، لہٰذا نماز پڑھنی چاہیے۔ کچھ حضرات نے کہا:ہمیں دین تو پہنچا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ منع فرمایا، لہٰذا ہم تو نہیں پڑھیں گے۔ ہم تو وہاں پڑھیں گے۔ جیسے حاجی عرفات میں نماز نہیں پڑھتے نا، راستے میں پڑھتے ہیں، کہاں پڑھتے ہیں؟ مزدلفہ میں پڑھتے ہیں۔ مزدلفہ میں پڑھتے ہیں۔ تو اسی طرح انہوں نے لے لیا کہ یہ تو ہمیں تو یہ کرنا ہے۔
دونوں بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی بات کو رد نہیں کیا۔ دونوں کو اپنی جگہ پہ برقرار رکھا۔ اب بتاؤ، اس کو کہتے ہیں اختلاف۔ یہ اختلاف ہوتا ہے۔ جاندار لوگوں میں اختلاف ہوتا ہے۔ اور صحابہ کرام بہت جاندار تھے۔ تو اختلاف تو ہو گا۔ اب اگر اختلاف ہوا ہے، اختلاف اگر ہوا ہے،اس کی وجہ سے اگر مشاجرات ہوئے، ہم اس میں فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم اس میں فیصلے۔۔۔ ان کا فیصلہ ہم اللہ پہ چھوڑتے ہیں۔ بڑے بڑے بزرگوں نے، عمر بن عبدالعزیز ان حضرات نے فرمایا: اللہ نے ہماری تلواروں کو ان بزرگوں کے خون سے بچایا ہے، اب ہم اپنی زبانوں کو اس سے آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے بارے میں ہم کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ لہٰذا ہم سارے صحابہ کو حق پر مانتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے آپس میں اختلاف کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔ ہاں، جو جس صحابی کے پیچھے چل پڑا، وہ ٹھیک ہے۔ جیسے دو گروہ تھے، ان میں سے جو بھی تھا وہ ٹھیک تھے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو جو جس گروہ کے پیچھے بھی چلا گیا وہ ٹھیک ہے، صحابہ کے گروہ کے۔ ٹھیک ہے؟ لہٰذا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ بس ہم لوگ یہی کرتے ہیں، اگر اس قسم کا اختلاف ہو تو ہم ایسا ہی کریں گے۔
باقی جن مسئلوں پہ اتفاق تھا صحابہ میں، وہ امت میں بھی نیچے اترے اس میں بھی اتفاق ہے۔ بھئی ایک رکعت میں کتنے سجدے ہوتے ہیں؟ (دو)۔ دنیا میں کوئی ایسا مسلمان ہے جو تین سجدے مانتا ہو؟ یا ایک مانتا ہو؟ اس پہ اختلاف نہیں ہے، کیونکہ صحابہ میں اختلاف نہیں تھا۔ رکوع کی تعداد کتنی ہوتی ہے ہر رکعت میں؟ (ایک) کوئی اختلاف نہیں۔ تکبیر تحریمہ میں کوئی اختلاف نہیں؟ درمیان میں رفع یدین میں اختلاف ہے۔ کوئی کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔ اس میں ہم صرف اپنے امام کے پیچھے چلتے ہیں، دوسروں کو غلط نہیں کہتے، کیونکہ وہ بھی کسی صحابی کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ہم باقی کو غلط نہیں کہتے، لیکن خود ہم رفع یدین نہیں کرتے، کیونکہ ہم امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق پر عمل کرتے ہیں۔ تو انہوں نے بھی کسی صحابی سے لیا، انہوں نے بھی کسی صحابی سے لیا۔ لہٰذا ہم کسی کو غلط تو نہیں کہتے، لیکن ہم صرف ایک امام کے پیچھے اس لیے جا رہے ہیں تاکہ کہیں نفس کے پیچھے ہم نہ چلنے لگیں۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے جب انسان آزاد ہوتا ہے تو پھر انسان اپنے نفس کی بات مانتا ہے۔ اپنے نفس کی بات مانتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے ہم یہ کرتے ہیں۔
اس وجہ سے ہمیں الحمد للہ، الحمد للہ اطمینان ہے۔ دین پورا کا پورا موجود ہے۔ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عمل کے اندر اگر کچھ موانع ہیں، رکاوٹیں ہیں ان کو دور کرنا چاہیے۔ اور وہ کیا ہے؟ دل کے اندر گڑبڑ ہو، دنیا کی محبت ہو، اس کو دور کرنا پڑے گا۔ نفس کے اندر گڑبڑ ہو، نفس باغی ہو، اس کو رام کرنا پڑے گا۔ اس کو مطیع کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے محنت ہے۔ اور اگر عقل میں کوئی فتور ہے، اس کو بھی ٹھیک کرنا پڑے گا۔ ان تینوں کو ٹھیک کرنے کا نام "تصوف" ہے۔ ان تینوں کو ٹھیک کرنے کا نام کیا ہے؟ تصوف ہے۔ جب انسان اس تصوف پہ چلتا ہے اس کو کہتے ہیں "سیر الی اللہ"۔ یعنی اللہ کی بات تک جانے کے لیے ، سیر الی اللہ۔ اب سیر الی اللہ مکمل ہو جائے، اس کے بعد پھر کیا ہے؟ "سیر فی اللہ" ہے۔ سیر فی اللہ سے مراد یہ ہے کہ اب جو اللہ کہے گا میں اس پر عمل کروں گا۔ بات صاف ہو گئی ہے۔ وہ صحابہ کرام کا طریقہ تھا، تو اس کو ہم "طریقِ صحابہ" کہتے ہیں۔ یعنی صحابہ کے طریقے پہ پھر چلنا۔ رکاوٹ دور ہو گئی، راستہ تو وہی ہے۔ راستہ تو وہی ہے۔ بس رکاوٹیں دور کرنے کی بات۔ تو رکاوٹیں دور کرنے کا نام کیا ہے؟ تصوف ہے، طریقت ہے، سیر الی اللہ ہے۔ اور جب یہ پورا ہو جائے پھر سیر فی اللہ ہے، طریقِ صحابہ ہے۔ پھر دین پر آرام کے ساتھ، اطمینان کے ساتھ چلنا ہے۔ ایسے اطمینان والوں کو اللہ پاک نے ایک بشارت دی ہے۔ فرمایا:
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُارْجِعِي إِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًفَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي
اے مطمئن نفس! اے میری شریعت پر، میری بھیجی ہوئی شریعت پر مطمئن نفس! لوٹ جا اپنے رب کی طرف، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔ یہ بشارت ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس اس بشارت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں بھی محنت کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس محنت میں کامیاب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ