الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(49) اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ (50)اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا(51) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ؕوَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًا(52) اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًا ۙ (53) اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(54)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ بتاتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (اس عطا میں) ان پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوتا ﴿49﴾
یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری اعمال سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا، وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنا دیا ہے۔
اب دیکھیں یہاں پر اگر اس کا براہ راست کوئی ترجمہ یعنی سیاق و سباق سے ہٹ کے کوئی کر لے تو نتیجہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ اور اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھے تو پھر بہت واضح طور پر بات سامنے آجاتی ہے۔ آخری لفظ ہے نا کہ :
"اللہ پاک ان کے اوپر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔"
تو "ظلم نہیں کرتے" اس سے مراد یہ ہوا کہ انہوں نے خود کچھ کیا ہوتا ہے۔ تبھی تو ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ اگر کسی کو پاکیزہ اور مقدس نہیں بناتے، تو مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ جب خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اس کا مطلب ہے وہ، وہ کام نہیں کرتے جو کرنا چاہیے، تو وہ کام کون سا ہے؟ وہ اختیاری اعمال ہیں۔ تو اختیاری اعمال کے نہ کرنے کی وجہ سے اگر ان کو پاک نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں، بلکہ خود انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
یہ مطلب ہے یہاں پر بات ۔ اللہ اکبر!
دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے کیسے جھوٹے بہتان باندھتے ہیں، اور کھلا گناہ ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے۔ ﴿50﴾
جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں اور کافروں (یعنی بت پرستوں) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔ ﴿51﴾
اصل میں مدینہ منورہ میں آباد کچھ یہودی تھے۔
یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے، اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے اس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کی، اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا۔ جنگِ اُحد کے بعد وہ اور ایک یہودی سردار حیی بن اخطب مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا، اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی۔ کفار مکہ کے سردار ابوسفیان نے کہا کہ اگر تم واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے سجدہ کرو، چنانچہ کعب بن اشرف نے ابوسفیان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا، پھر ابوسفیان نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا مذہب اچھا ہے یا مسلمانوں کا؟ تو اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہارا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے زیادہ بہتر ہے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مکہ کے یہ لوگ بت پرست ہیں اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ لہذا ان کے مذہب کو بہتر قرار دینے کا مطلب بت پرستی کی تصدیق کرنا تھا۔ اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔
یعنی بغض اور حسد جو ہے وہ اس حد تک ان پر چھا گیا ہے کہ مسلمانوں کی دشمنی میں اتنے آگے نکلے کہ جو ان کے مذہب کے بھی خلاف تھے، یعنی ظاہر ہے مطلب جو اہل کتاب کا مذہب تھا وہ کم از کم خدا کو مانتے تھے بت پرستی کا انکار کرتے تھے۔
آخر موسیٰ علیہ السلام نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا وہ جو سامری کا واقعہ تھا؟ وہ بھی مطلب ظاہر ہے شرک تھا۔ تو شرک کے خلاف پھر موسیٰ علیہ السلام نے کیا کیا تھا؟ ان کو اپنی کتابوں میں یہ معلوم نہیں تھا؟ ان کو معلوم تھا، لیکن بغض اور حسد کی وجہ سے انہوں نے ایسی حرکت کی۔ ایسی حرکت کی۔ اللہ جل شانہٗ ہم لوگوں کو ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے، اس کے لئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔ ﴿52﴾ تو کیا ان کو (کائنات کی) بادشاہی کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو گھٹلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیتے۔ ﴿53﴾
یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی اور عناد کا سبب قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انہیں یہ توقع تھی کہ جس طرح پچھلے بہت سے انبیائے کرام بنی اسرائیل میں سے آئے ہیں، نبی آخر الزماں بھی انہی کے خاندان سے ہوں گے، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں مبعوث فرمائے گئے تو یہ لوگ حسد میں مبتلا ہو گئے، حالانکہ نبوت اور خلافت و حکومت تو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے، وہ جب جس کو مناسب سمجھتا ہے اپنے اس فضل سے سرفراز فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر اعتراض کرے تو گویا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کائنات کی بادشاہی اس کے پاس ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے انبیاء کو منتخب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اگر کہیں بادشاہی واقعی ان کو مل گئی ہوتی تو یہ اتنے بخیل ہیں کہ کسی کو ذرہ برابر بھی کچھ نہ دیتے۔
اگر دیکھا جائے تو واقعی ہمارے ہاں بھی یہ چیز ہے کہ مثال کے طور پر کسی کو اللہ پاک نے شریف النسب بنایا ہے، تو اس کے ذہن میں یہ بات آ جاتی ہے کہ بس سب چیزیں تو میرے لیے ہیں۔ اور باقی لوگوں کے لیے وہ کچھ نہیں سمجھتے، ان کو کمتر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فضل تو اللہ کے پاس ہے جس کو بھی فضل دینا چاہے، عطا فرمانا چاہے۔ مثلاً دیکھیں یہ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ یہ غلام تھے، اور کتنے بڑے امام بن گئے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ عجمی تھےلیکن ظاہر ہے اللہ پاک نے ان کو کونسا مقام عطا فرمایا۔
اس طرح مطلب ہے کہ یعنی اللہ جل شانہٗ جن پر فضل فرمانا چاہے تو ان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔ تو یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ کسی کو کچھ دے دیں، بلکہ اللہ پاک کا کام ہے۔ اللہ جل شانہٗ اپنے کاموں میں مختارِ کُل ہے، اور اگر کسی کو اچھے نسب میں پیدا فرما سکتے ہیں تو دوسروں کو بغیر کسی اچھے نسب میں ہو کر اس کو اپنی طرف سے بعد میں نواز سکتے ہیں۔ جیسے کسی کو پہلے دیا تو بعد میں بھی کسی کو دیا جا سکتا ہے ۔
تو اب یہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو اونچے لوگ کہتے اور باقی لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے۔ تو ان میں پھر وہ نہیں سمجھتے کہ ان میں کوئی آئے گا۔ مطلب یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تو اللہ پاک نے دے دیا، بنی اسماعیل کو دے دیا۔ حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ اگر نسبی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اسماعیل علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے اور پیغمبر تھے۔ تو اگر ان کی اولاد میں لے آئے تو اس میں کیا مسئلہ تھا؟ لیکن وہ صرف حسد اور کینہ، اس کی وجہ سے یہ وہ۔۔۔
تو یہ فرمایا کہ:
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(54)
یا یہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا فضل (کیوں) عطا فرمایا ہے؟ سو ہم نے تو ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور انہیں بڑی سلطنت دی تھی۔﴿54﴾
یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے، چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا۔ چنانچہ ان میں سے بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے۔ اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت و حکومت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اب اگر ان کے دوسرے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے؟
اللہ پاک ہمیں حسد کی آگ سے بچائے، بہت خطرناک آگ ہے، سب کچھ کو جلا دیتی ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے،
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ