یہود کی خصلتیں، تکبر، اور حسد کے نقصانات

درس نمبر 186، سورۃ النساء: آیت: 49 تا 54- اشاعتِ اول: یکم جون، 2022، بمطابق یکم ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* تزکیہ نفس بالباطل (اپنے آپ کو خود پاکیزہ سمجھنے) کی مذمت۔

* مدینہ کے یہودیوں (کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب) کا مشرکینِ مکہ سے گٹھ جوڑ۔

* بغض اور حسد میں بت پرستی کی حمایت اور حق کی مخالفت۔

* نبوت اور خلافت اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔

* بنی اسرائیل کا بنی اسماعیل (نبی کریم ﷺ) سے نبوت کے انتخاب پر حسد۔

* حسب نسب پر تکبر کرنے کی ممانعت اور تقویٰ و فضلِ الٰہی کی اہمیت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(49) اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ (50)اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا(51) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ؕوَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًا(52) اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًا ۙ (53) اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(54)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ بتاتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (اس عطا میں) ان پر ایک تاگے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوتا ﴿49﴾


یعنی پاکیزگی اور تقدس اللہ تعالیٰ انہی کو عطا فرماتا ہے جو اپنے اختیاری اعمال سے ایسا چاہتے ہیں، جن کو پاکیزگی اور تقدس نہیں ملتا، وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اختیاری اعمال کے ذریعے خود نااہل بن جاتے ہیں، لہذا اگر اللہ انہیں تقدس عطا نہیں فرماتا تو اس میں ان پر کوئی ظلم نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو نااہل بنا دیا ہے۔

اب دیکھیں یہاں پر اگر اس کا براہ راست کوئی ترجمہ یعنی سیاق و سباق سے ہٹ کے کوئی کر لے تو نتیجہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ اور اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھے تو پھر بہت واضح طور پر بات سامنے آجاتی ہے۔ آخری لفظ ہے نا کہ :

"اللہ پاک ان کے اوپر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔"

تو "ظلم نہیں کرتے" اس سے مراد یہ ہوا کہ انہوں نے خود کچھ کیا ہوتا ہے۔ تبھی تو ان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ اگر کسی کو پاکیزہ اور مقدس نہیں بناتے، تو مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ جب خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اس کا مطلب ہے وہ، وہ کام نہیں کرتے جو کرنا چاہیے، تو وہ کام کون سا ہے؟ وہ اختیاری اعمال ہیں۔ تو اختیاری اعمال کے نہ کرنے کی وجہ سے اگر ان کو پاک نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم نہیں، بلکہ خود انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔

یہ مطلب ہے یہاں پر بات ۔ اللہ اکبر!


دیکھو یہ لوگ اللہ پر کیسے کیسے جھوٹے بہتان باندھتے ہیں، اور کھلا گناہ ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے۔ ﴿50﴾

جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) بتوں اور شیطان کی تصدیق کر رہے ہیں اور کافروں (یعنی بت پرستوں) کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مومنوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔ ﴿51﴾


اصل میں مدینہ منورہ میں آباد کچھ یہودی تھے۔

یہ مدینہ منورہ میں آباد بعض یہودیوں کا تذکرہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے، اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بیرونی دشمن کی مدد بھی نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے اس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کی، اور مسلمانوں کے دشمن کفار مکہ کی حمایت اور درپردہ مدد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا ایک بڑا سردار کعب بن اشرف تھا۔ جنگِ اُحد کے بعد وہ اور ایک یہودی سردار حیی بن اخطب مکہ مکرمہ کے کافروں کے پاس گیا، اور انہیں مسلمانوں کے خلاف تعاون کی پیشکش کی۔ کفار مکہ کے سردار ابوسفیان نے کہا کہ اگر تم واقعی اپنی پیشکش میں سچے ہو تو ہمارے دو بتوں کے سامنے سجدہ کرو، چنانچہ کعب بن اشرف نے ابوسفیان کا یہ مطالبہ بھی مان لیا، پھر ابوسفیان نے کعب سے پوچھا کہ ہمارا مذہب اچھا ہے یا مسلمانوں کا؟ تو اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ تمہارا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے زیادہ بہتر ہے، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مکہ کے یہ لوگ بت پرست ہیں اور کسی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔ لہذا ان کے مذہب کو بہتر قرار دینے کا مطلب بت پرستی کی تصدیق کرنا تھا۔ اس آیت میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔


یعنی بغض اور حسد جو ہے وہ اس حد تک ان پر چھا گیا ہے کہ مسلمانوں کی دشمنی میں اتنے آگے نکلے کہ جو ان کے مذہب کے بھی خلاف تھے، یعنی ظاہر ہے مطلب جو اہل کتاب کا مذہب تھا وہ کم از کم خدا کو مانتے تھے بت پرستی کا انکار کرتے تھے۔

آخر موسیٰ علیہ السلام نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا وہ جو سامری کا واقعہ تھا؟ وہ بھی مطلب ظاہر ہے شرک تھا۔ تو شرک کے خلاف پھر موسیٰ علیہ السلام نے کیا کیا تھا؟ ان کو اپنی کتابوں میں یہ معلوم نہیں تھا؟ ان کو معلوم تھا، لیکن بغض اور حسد کی وجہ سے انہوں نے ایسی حرکت کی۔ ایسی حرکت کی۔ اللہ جل شانہٗ ہم لوگوں کو ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے۔


یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے پھٹکار ڈال رکھی ہے، اور جس پر اللہ پھٹکار ڈال دے، اس کے لئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔ ﴿52﴾ تو کیا ان کو (کائنات کی) بادشاہی کا کچھ حصہ ملا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو گھٹلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیتے۔ ﴿53﴾


یہودیوں کی مسلمانوں سے دشمنی اور عناد کا سبب قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ انہیں یہ توقع تھی کہ جس طرح پچھلے بہت سے انبیائے کرام بنی اسرائیل میں سے آئے ہیں، نبی آخر الزماں بھی انہی کے خاندان سے ہوں گے، لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں مبعوث فرمائے گئے تو یہ لوگ حسد میں مبتلا ہو گئے، حالانکہ نبوت اور خلافت و حکومت تو اللہ تعالیٰ کا ایک فضل ہے، وہ جب جس کو مناسب سمجھتا ہے اپنے اس فضل سے سرفراز فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر اعتراض کرے تو گویا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کائنات کی بادشاہی اس کے پاس ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند سے انبیاء کو منتخب کرے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اگر کہیں بادشاہی واقعی ان کو مل گئی ہوتی تو یہ اتنے بخیل ہیں کہ کسی کو ذرہ برابر بھی کچھ نہ دیتے۔

اگر دیکھا جائے تو واقعی ہمارے ہاں بھی یہ چیز ہے کہ مثال کے طور پر کسی کو اللہ پاک نے شریف النسب بنایا ہے، تو اس کے ذہن میں یہ بات آ جاتی ہے کہ بس سب چیزیں تو میرے لیے ہیں۔ اور باقی لوگوں کے لیے وہ کچھ نہیں سمجھتے، ان کو کمتر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فضل تو اللہ کے پاس ہے جس کو بھی فضل دینا چاہے، عطا فرمانا چاہے۔ مثلاً دیکھیں یہ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ یہ غلام تھے، اور کتنے بڑے امام بن گئے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ عجمی تھےلیکن ظاہر ہے اللہ پاک نے ان کو کونسا مقام عطا فرمایا۔


اس طرح مطلب ہے کہ یعنی اللہ جل شانہٗ جن پر فضل فرمانا چاہے تو ان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔ تو یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ کسی کو کچھ دے دیں، بلکہ اللہ پاک کا کام ہے۔ اللہ جل شانہٗ اپنے کاموں میں مختارِ کُل ہے، اور اگر کسی کو اچھے نسب میں پیدا فرما سکتے ہیں تو دوسروں کو بغیر کسی اچھے نسب میں ہو کر اس کو اپنی طرف سے بعد میں نواز سکتے ہیں۔ جیسے کسی کو پہلے دیا تو بعد میں بھی کسی کو دیا جا سکتا ہے ۔


تو اب یہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو اونچے لوگ کہتے اور باقی لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھتے۔ تو ان میں پھر وہ نہیں سمجھتے کہ ان میں کوئی آئے گا۔ مطلب یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تو اللہ پاک نے دے دیا، بنی اسماعیل کو دے دیا۔ حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ اگر نسبی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اسماعیل علیہ السلام بھی ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے اور پیغمبر تھے۔ تو اگر ان کی اولاد میں لے آئے تو اس میں کیا مسئلہ تھا؟ لیکن وہ صرف حسد اور کینہ، اس کی وجہ سے یہ وہ۔۔۔


تو یہ فرمایا کہ:

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(54)

یا یہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنا فضل (کیوں) عطا فرمایا ہے؟ سو ہم نے تو ابراہیم کے خاندان کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور انہیں بڑی سلطنت دی تھی۔﴿54﴾


یعنی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت جس کو مناسب سمجھتا ہے نبوت اور خلافت و حکومت کے اعزاز سے سرفراز فرماتا ہے، چنانچہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت و حکمت عطا فرمائی اور ان کی اولاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا۔ چنانچہ ان میں سے بعض (مثلاً حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام) نبی ہونے کے ساتھ حکمران بھی بنے۔ اب تک ان کے ایک صاحبزادے (حضرت یعقوب علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت و حکومت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اب اگر ان کے دوسرے صاحبزادے (حضرت اسماعیل علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اعزاز بخش دیا گیا ہے تو اس میں اعتراض یا حسد کی کیا بات ہے؟

اللہ پاک ہمیں حسد کی آگ سے بچائے، بہت خطرناک آگ ہے، سب کچھ کو جلا دیتی ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے،


وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ






حصہ دوم: تفصیلی تشریح اور فکری نکات (مضمون)

اختیاری اور غیر اختیاری امور: فخر کے بجائے شکر کا مقام انسان کی زندگی دو طرح کے اعمال پر مشتمل ہے: اختیاری اور غیر اختیاری۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر نیک اعمال وہ اختیاری امور ہیں جن کی توفیق پر انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ دوسری جانب، کسی اعلیٰ یا شریف نسب میں پیدا ہونا، مثلاً سید خاندان میں یا بنی اسرائیل میں آنکھ کھولنا، خالصتاً غیر اختیاری امر ہے۔ انسان کا اس میں کوئی کمال نہیں، بلکہ یہ محض خالقِ کائنات کا فیصلہ ہے۔ اسی طرح غیر معمولی ذہانت و قابلیت بھی ربِ ذوالجلال کی عطا ہے۔ جب انسان کا اپنا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تو پھر اس پر فخر و تکبر کیسا؟ درحقیقت یہ فخر کا نہیں، بلکہ توبہ و استغفار اور شکر گزاری کا مقام ہے کہ ہم اس عظیم فضل کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہودیوں کی سب سے بڑی گمراہی یہی تھی کہ انہوں نے غیر اختیاری امور (نسل اور خاندان) کو اپنی بڑائی کی بنیاد بنا لیا تھا۔

اکابرینِ امت کی بے مثال عاجزی اور انکساری تاریخِ اسلام کے عظیم الشان علماء اور اولیاء اللہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ علم و فضل کے آسمان پر چمکنے کے باوجود خود کو مٹی کا ذرہ سمجھتے تھے۔ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام علمی، روحانی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی بلند تھا۔ آپ نے مسجدِ نبوی میں 18 سال تک حدیث کا درس دیا اور عرب و عجم کے جلیل القدر علماء آپ کے شاگرد بنے۔ اسی بنا پر امت نے آپ کو "شیخ الاسلام" اور "شیخ العرب والعجم" کے القابات سے نوازا۔ مگر اس بے پناہ عظمت کے باوجود، آپ اپنے خطوط اور تقاریر میں خود کو "خاکسار"، "سیاہ کار"، "ادنیٰ خادم" اور "گنہگار" جیسے الفاظ سے یاد فرماتے تھے۔

اسی طرح حضرت مولانا عزیر گل رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے بزرگ تھے، مگر ان کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ کسانوں میں بیٹھے ہوتے تو کوئی پہچان نہ پاتا کہ یہ وقت کے اتنے بڑے ولی ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت مولانا فضل محمد صاحبؒ (سوات) نے عقیدت میں ان کا ہاتھ چومنا چاہا، تو مولانا عزیر گلؒ نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور پشتو میں فرمایا "خش د گم" (یعنی تم نے مجھے تکلیف پہنچائی)۔ جب مولانا فضل محمدؒ نے اصرار کیا تو آپ نے عاجزی سے فرمایا کہ آئندہ میرے پاس نہ آنا، اب ہماری ملاقات برزخ میں ہوگی، کیونکہ میں اس قابل نہیں کہ میرے پاس آیا جائے۔ انہوں نے اپنے آپ کو بالکل مٹا کر رکھا ہوا تھا۔

دارالعلوم دیوبند کے بانی اور عظیم مفکر حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی عاجزی کا یہ عالم تھا کہ جب ایک طالب علم نے ان سے پوچھا کہ آپ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی طرح نفیس اور صاف ستھرے کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟ تو آپ نے نہایت انکساری سے جواب دیا: "ان کا نفس قابو میں آچکا ہے، جبکہ میرا نفسِ امارہ ابھی میرے قابو میں نہیں ہے۔" یہ وہ لوگ تھے جن پر اللہ کا خاص فضل تھا، مگر ان کے دل خشیتِ الٰہی سے لبریز تھے۔

جسمانی خامیوں پر طنز اور تکبر کی ممانعت کسی انسان کو اس کی ظاہری ساخت یا قد و قامت کی بنا پر کمتر سمجھنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے قد کی کوتاہی کا اشارتاً ذکر کیا اور کہا کہ "صفیہ کے بارے میں آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں۔" یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "عائشہ! تم نے اپنی زبان سے ایسی (سنگین) بات نکالی ہے کہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو وہ پورے سمندر کا ذائقہ کڑوا کر دے۔" (مسند احمد، ترمذی، ابوداؤد)۔

نسب کے بجائے تقویٰ کی اہمیت اسلام نے تکبرِ نسب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اسلام لانے سے قبل حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک حبشی غلام تھے، لیکن ان کے اختیاری اعمال (ایمان اور تقویٰ) کی بدولت صحابہ کرام انہیں "سیدنا" (ہمارے سردار) کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فخر سے فرماتے: "ابوبکر ہمارے سردار ہیں، اور انہوں نے ہمارے سردار (بلالؓ) کو آزاد کیا ہے۔" (صحیح بخاری)۔

اس کے برعکس، ابو لہب مکہ کے معزز ترین خاندان "بنو ہاشم" سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کا سگا چچا اور انتہائی سرخ و سفید، خوبصورت اور وجیہہ انسان تھا (اسی لیے اسے ابولہب کہا جاتا تھا)۔ مگر اس کا نسب اسے کوئی فائدہ نہ دے سکا، کیونکہ اس نے تکبر، حسد اور اسلام دشمنی کی راہ اپنائی اور خود کو دنیا و آخرت میں ہمیشہ کے لیے ذلیل و خوار کر لیا۔

یہود کا بغض و عناد، اور نجاشی کی حق پسندی یہودیوں کے بغض کا عالم یہ تھا کہ ان کے سردار کعب بن اشرف نے مدینہ سے مکہ جا کر کفار کے بتوں کو سجدہ کیا اور شرک کو توحید (اسلام) پر ترجیح دی، محض اس لیے کہ وہ مسلمانوں کو نیچا دکھا سکے۔ دوسری طرف، جب مسلمان ہجرت کر کے حبشہ پہنچے اور نجاشی (جو کہ ایک عیسائی بادشاہ تھا) کے دربار میں پیش ہوئے، تو نجاشی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا۔ مسلمانوں نے بے باکی سے وہی عقیدہ پیش کیا جو قرآن نے سکھایا تھا کہ: "وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں، جو بغیر باپ کے حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔" یہ حق بات سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: "خدا کی قسم! عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں جو تم نے کہا۔" پس سچائی کو قبول کرنے والا اللہ کی رحمت کا مستحق ٹھہرا، اور حسد کرنے والے یہود اللہ کی لعنت کا شکار ہوئے۔

آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی پیش گوئیاں اور یہود کے حسد کا المناک انجام یہود کے علماء اپنی آسمانی کتابوں کی روشنی میں نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد اور آپ کی نشانیوں سے بخوبی واقف تھے۔ جس رات آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی، مکہ میں مقیم ایک یہودی عالم نے قریش سے پوچھا کہ کیا آج رات کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ سرداروں کے لاعلمی ظاہر کرنے پر اس نے بتایا کہ آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہو چکا ہے، جس کے کاندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہے اور وہ یتیم ہے۔ جب اسے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے جایا گیا اور اس نے آپ ﷺ کی پشت مبارک پر مہرِ نبوت دیکھی تو مارے صدمے اور خوف کے بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ ہوش آنے پر اس نے انتہائی حسرت اور رنج کے ساتھ کہا: "بنی اسرائیل ہلاک ہو گئے! خدا کی قسم، آج نبوت بنی اسرائیل سے ہمیشہ کے لیے چھن گئی۔"

اسی طرح حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں ایک یہودی کو قلعے کی دیوار پر کھڑے ہو کر چیختے سنا۔ جب سارے یہودی جمع ہو گئے تو اس نے کہا: "آج رات احمد (ﷺ) کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے، وہ نبی پیدا ہو گیا ہے۔"

جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے آپ ﷺ کو بالکل اسی طرح پہچان لیا جس طرح کوئی اپنے سگے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔ لیکن ان کے علماء اور سرداروں نے اپنی قوم سے کہا: "اگر یہ نبی یہاں ٹھہر گئے تو تمہارا غلبہ ختم ہو جائے گا اور یہ تمہیں تمہاری زمینوں سے نکال دیں گے۔" اسی نسلی تکبر اور حسد کی آگ نے انہیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ وہ غداریوں اور سازشوں کے مرتکب ہوئے، جس کا انجام وہی ہوا جس کا انہیں ڈر تھا؛ انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ مدینہ سے بے دخل کر دیا گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا ایک عبرت ناک باب بن گئے۔

یہود کی خصلتیں، تکبر، اور حسد کے نقصانات - درسِ قرآن - دوسرا دور