نمازِ باجماعت: اسلامی مساوات، اطاعت اور اجتماعیت کی بہترین درسگاہ

2020 کتابی حوالہ: سیرت النبی ﷺ، جلد 5، نماز، اشاعت، اول :جمعرات، 24 ستمبر

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. صف بندی کا مسنون طریقہ اور اس کی اہمیت
    1. نماز میں انسانی اور برادرانہ مساوات
      1. نظم و ضبط اور اطاعتِ امام کی تربیت
        1. امامت کے لیے معیارِ فضیلت (علم و تقویٰ)
          1. نماز میں خضوع و خشوع کی اہمیت
            1. نماز بطور روزانہ کی مجلسِ عمومی (اسلامی اجتماعیت کا مرکز)

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

              أَمَّا بَعْدُ!

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

              آج جمعرات ہے تو سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ہوتی ہے۔ اور اس میں نماز کے بارے میں الحمدلله تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔



              گزشتہ سے پیوستہ

              آج کل تو ایک بات اور بھی ،بہت افسوس ہے، لیکن بہرحال کیا کریں، کہنا پڑتا ہے۔ اس وقت ہر چیز کو ہم لوگوں نے اتنا سطحی لیا ہوا ہے کہ مثلاً الفاظ امام کہہ دیتے ہیں "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ"، "اللہ اکبر"۔ کیا صفوں کو سیدھا کرنے کا Time دے دیا گیا؟ کیا اسی فقرے کے ساتھ سارے صف سیدھے ہو گئے؟ سنت طریقہ کیا تھا؟ (مولانا صاحب سنت طریقہ کیا تھا؟) پہلے صفیں درست ہوتیں، پھر "اللہ اکبر" کہہ دیتے نا۔ بلکہ اس کے لیے لوگ بھی مقرر تھے۔ ان کے لیے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اپنے مونڈھوں کو Relax رکھو، تاکہ وہ جس طریقے سے آگے پیچھے کرے تو آپ اس کے ساتھ آگے پیچھے ہو جائیں، مزاحمت نہ کرو۔ یہاں تک فرماتے تھے۔ اب وہ صرف بس جس کو کہتے ہیں نا وہ، صرف الفاظ تک آ گئے نا سارے ہم۔ تو اب اس میں کہتے ہیں، "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، اللہ اکبر"۔ چلو جی، صفیں درست ہو گئیں۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ باقاعدہ صفوں کو درست کرنے کا اہتمام، پہلے امام کرے گا نا، پھر دوسرے کریں گے۔ جب امام کو ہی اس کا اہتمام نہیں ہے، کہ وہ Time ہی نہیں دے رہا، تو پھر کیسے باقی لوگ اس کو کریں گے؟ تو اس کا باقاعدہ یعنی طریقہ کار ہے، اور اس کو سیکھنا چاہیے۔ سنت میں ساری چیزیں موجود ہیں الحمدللہ۔

              مساوات

              یہی جماعت کی نماز مسلمانوں میں برادرانہ مساوات اور انسانی برابری کی درسگاہ ہے، یہاں امیر و غریب، کالے گورے، رومی حبشی، عرب و عجم کی کوئی تمیز نہیں ہے، سب ایک ساتھ ایک درجہ اور ایک صف میں کھڑے ہو کر خدا کے آگے سرنگوں ہوتے ہیں، جماعت کی امامت کے لئے حسب و نسب و خاندان، رنگ روپ، قومیت اور جنسیت، عہدہ اور منصب کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ علم و دانش، فضل و کمال، تقویٰ و طہارت کی ضرورت ہوتی ہے، یہاں شاہ و گدا اور شریف و رذیل کی تفریق نہیں، سب ہی ایک زمین پر ایک امام کے پیچھے ایک صف میں دوش بدوش کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی کسی کو اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا، اور اس برادرانہ مساوات اور انسانی برادری کی مشق دن میں پانچ دفعہ ہوتی ہے، کیا مسلمانوں کی معاشرتی جمہوریت کی یہ درسگاہ کہیں اور بھی قائم ہے؟

              یعنی ہر جگہ تفریق، تفریق، تفریق، تفریق۔ میں نے بھی ایک آرمی Organization میں کام کیا ہے۔ تو ہم دیکھتے تھے کہ کرنل کے Level کے لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے تھے۔ اور میجر اور کیپٹن کے لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور باقی لوگ علیحدہ کھڑے ہوتے تھے۔ یہ آپس میں Mix نہیں ہوتے تھے۔ اب ظاہر ہے جب یہ تفریق کا یہ عالم ہو گا، تو کیسے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کے جذبات پیدا ہوں گے؟ وہ تو ظاہر ہے نہیں پیدا ہو سکتے۔ ہم نے تو تفریق کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ تو یہ نماز ہمیں سکھاتی ہے۔

              ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

              نہ کوئی بندہ رہا، نہ کوئی بندہ نواز

              سب ایک صف میں کھڑے ہیں۔ چاہے شاہ ہے، چاہے گدا ہے۔ یہ والی بات۔ تو نماز ہمیں مساوات سکھاتی ہے۔ مساوات صحیح معنوں میں نماز سکھاتی ہے۔


              اطاعت

              جماعت کی سلامتی بغیر ایک مفترض الطاعہ امام کے ناممکن ہے، جس کے اشارہ پر تمام قوم حرکت کرے، نماز باجماعت مسلمانوں کی اس زندگی کا رمز ہے کہ جس طرح ان کی اس عبادت کا ایک امام ہے، جس کے اشارہ پر وہ حرکت کرتے ہیں، اسی طرح قوم کی پوری زندگی کا بھی ایک امام ہونا چاہئے، جس کی "اللہ اکبر" کی آواز قوم کے کاروان کے لئے بانگِ درا اور صدائے جرس ثابت ہو۔

              اطاعتِ امام کے لئے ایک طرف تو قوم میں فرمانبرداری کی قابلیت موجود ہونی چاہئے، جس کی تعلیم مقتدیوں کو نماز میں ہوتی ہے، دوسری طرف امام کو اخلاقِ صالحہ کی ایک ایسی مثال پیش کرنی چاہئے جو ہمیشہ لوگوں کے پیشِ نظر رہے، نماز ان دونوں چیزوں کا مجموعہ ہے، وہ ایک دائمی حرکت ہے، جو قوم کے اعضاء و جوارح کو ہر وقت اطاعت گزاری کے لئے تیار رکھتی ہے، اس کے ساتھ نمازِ پنج گانہ اور جمعہ وعیدین کی امامت خاص امام کا حق ہے، اس لئے ہر وقت قوم کو اس کے اعمال کے احتساب، اس پر نکتہ چینی، اس سے اثر پذیری کا موقع ملتا ہے، نماز کے اوقات خاص طور پر ایسے موزوں ہیں جو ایک عیاش اور راحت طلب شخص کا پردہ فاش کر دیتے ہیں، ایک ایسا شخص جو شب بھر عیش و عشرت میں مصروف ہو نمازِ صبح میں شریک نہیں ہو سکتا، ایک راحت طلب آدمی ظہر کے وقت دھوپ کی شدت برداشت کر کے شریکِ جماعت ہونا پسند نہیں کر سکتا، چنانچہ خلافتِ راشدہ کے بعد جب بنو امیہ کا زمانہ آیا تو صحابہ کو خاص طور پر اس کا احساس ہوا اور بے خوف نگاہوں نے ان پر نکتہ چینیاں کیں، احادیث میں بھی خاص طور پر اس زمانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس میں آئمہ وقت پر نماز ادا کرنے میں غفلت کریں گے۔

              معیارِ فضیلت

              نماز کی امامت کے لئے چونکہ سوائے علم و فضل اور تقویٰ کے کوئی اور قید نہیں ہے، اس لئے امامت کے رتبہ اور درجہ کو حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ہر وقت ممکن ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جماعت میں جو سب سے زیادہ صاحبِ علم (اقرأ) ہے وہ امام بننے کا سب سے زیادہ مستحق ہے، ایک دفعہ ایک مقام سے کچھ لوگ مسلمان ہونے کے لئے آئے، دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے جو صاحب سب سے زیادہ کمسن ہیں انہیں قرآن زیادہ یاد ہے، چنانچہ آپ نے اسی کم سن صحابی کو ان کا امام مقرر فرمایا، اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں میں اس کے ذریعہ سے علمی و عملی فضائل کے حاصل کرنے کی تشویق و ترغیب بھی پیدا ہوتی ہے۔

              روزانہ کی مجلسِ عمومی

              آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانہ میں یہ قاعدہ تھا کہ جب کوئی اہم واقعہ پیش آتا، یا کوئی سیاسی و قومی مشکل پیدا ہوتی، یا کوئی مذہبی بات سنانی ہوتی، تو مسلمانوں میں منادی کرائی جاتی تھی کہ "الصلوٰۃ جامعہ" (نمازِ جمع کرنے والی ہے) سب لوگ وقت پر جمع ہو جاتے، اور اس اہم امر سے اطلاع پاتے یا اس کے متعلق اپنے مشورے عرض کرتے، یہ گویا مسلمانوں کے مذہبی، اجتماعی، سیاسی مسائل کے مخلصانہ حل کا بھی ذریعہ تھا، جس کے لئے نماز سے ہر مسلمان کا کسل و سستی کے بہانہ بغیر جمع ہونا ضروری تھا۔

              ان تمام امور کو سامنے رکھنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز اسلام کا اولین شعار اور اس کے مذہبی و اجتماعی، تمدنی و سیاسی و اخلاقی مقاصد کی آئینہ دار ہے، اسی کی شیرازہ بندی سے مسلمانوں کا شیرازہ بندھا تھا، اور اسی کی گرہ کھل جانے سے اس کی نظم و جماعت کی ہر گرہ کھل گئی ہے، مسجد مسلمانوں کے ہر قومی اجتماع کا مرکز، اور نماز اس مرکزی اجتماع کی ضروری رسم تھی، جس طرح آج ہر جلسہ کا افتتاح اس کے نصب العین کے اظہار و تعین کے لئے صدارتی خطبات سے ہوتا ہے، اسی طرح مسلمان جب زندہ تھے ان کے ہر اجتماع کا افتتاح نماز سے ہوتا تھا، ان کی ہر چیز اس کے تابع اور اسی کے زیر نظر ہوتی تھی، ان کی نماز کا گھر ہی ان کا دارالامارہ تھا، وہی دارالشوریٰ تھا، وہی بیت المال تھا، وہی صیغہ جنگ کا دفتر تھا، وہی درسگاہ اور وہی معبد تھا۔

              جماعت کی ہر ترقی کی بنیاد افراد کے باہمی نظم وارتباط پر ہے، اور جماعت کے فائدہ کے لئے افراد کا اپنے ہر آرام وعیش اور فائدہ کو قربان کر دینا، اور اختلاف باہمی کو تہہ کر کے صرف ایک مرکز پر جمع ہو کر جماعتی ہستی کی وحدت میں فنا ہو جانا، اس کے حصول کی لازمی شرط ہے، اسی کی خاطر کسی ایک کو امام و قائد و سرِ لشکر مان کر اس کی اطاعت وفرمانبرداری کا عہد کر لینا ضروری ہے، اسلام کی نماز انہیں رموز و اسرار کا گنجینہ ہے، یہ مسلمانوں کا نظم و جماعت، اطاعت پذیری و فرمانبرداری اور وحدت قوت کا سبق دن میں پانچ بار سکھاتی ہے، اسی لئے اس کے بغیر مسلمان، مسلمان نہیں، اور نہ اس کی کوئی اجتماعی وحدت ہے، نہ انقیاد و امامت ہے، نہ زندگی ہے، اور نہ زندگی کا نصب العین ہے، اسی بناء پر داعیِ اسلام ﷺ نے یہ فرما دیا۔

              ﴿ اَلْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ ﴾ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

              "ہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے وہ نماز ہے، تو جس نے اس کو چھوڑا اس نے کفر کا کام کیا"۔

              کہ نماز کو چھوڑ کر مسلمان صرف قالب بے جان، شرابِ بے نشہ اور گلِ بے رنگ و بو ہو کر رہ جاتا ہے، اور رفتہ رفتہ اسلامی جماعت کا ایک ایک شعار اور ایک ایک امتیازی خصوصیت اس سے رخصت ہو جاتی ہے، اسی لئے نماز اسلام کا اولین شعار ہے، اور اسی کی زندگی سے اسلام کی زندگی ہے۔

              اللہ جل شانہ ہم سب کو نماز صحیح طریقے سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ




              جاری ہے ان شاءاللہ


              نمازِ باجماعت: اسلامی مساوات، اطاعت اور اجتماعیت کی بہترین درسگاہ - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور