صحت اور فراغت: دو عظیم نعمتیں اور ان کی ناقدری

بَابٌ فِي المجاہدہ، درس نمبر: 151 حدیث نمبر: 97 اشاعتِ اول: 19 دسمبر، 2022 بمطابق 24 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

  صحت اور فراغت کی دو عظیم نعمتیں

  بیماری کے وقت صحت کی ناقدری پر پچھتاوا

  فارغ اوقات کا ضیاع اور ایک ایک لمحے کی اہمیت

 

·  اکابرینِ امت کا کتب بینی اور مطالعے میں استغراق

·  ذکرِ الٰہی کی خاطر وقت بچانے کا منفرد اہتمام

·  علمی شغف میں نیند اور بھوک سے بے نیازی

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

صحت اور فراغت ایک عظیم نعمت ہے

(97) «الثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ"» (رواه البخاري)

"حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو نعمتوں میں اکثر لوگ نقصان میں ہیں (یعنی ان نعمتوں کی موجودگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے عبادت میں مصروف نہیں) ایک نعمت تندرستی اور دوسری نعمت فراغت ہے۔"

لغات: «مغبون»: غبن غبناً نصر سے بمعنی خرید و فروخت میں دھوکہ دینا غبن فلان بھاؤ میں کسی کو نقصان پہنچانا، فاعل غابن، مفعول مغبون۔

«الفراغ»: فرغ فراغاً وفروعاً سمع نصر اور فتح سے بمعنی کام پورا کر کے خالی ہونا۔

دو نعمتوں کی بہت زیادہ ناقدری کی جاتی ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے کہ یہ بہت بڑا علم ہے۔ ان دو نعمتوں کی ناقدری بہت زیادہ کی جاتی ہے۔ کونسی نعمتیں ہیں؟ ایک صحت اور تندرستی کی دولت ہے۔ اور اس کا کوئی پتہ نہیں کہ یہ کب تک نعمت رہے گی۔ تو اچانک انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ اور بہت زیادہ بھی خیال رکھتا ہے accident ہو جاتا ہے۔ کوئی اور مسئلہ ہو جاتا ہے۔ تو صحت اور تندرستی کا پتہ نہیں چلتا کہ کب تک ہے۔ اس وجہ سے انسان کو اس کی قدر کرنی چاہیے کہ جس وقت اس کو صحت میسر ہے تو اس کو استعمال کرے۔ ورنہ پھر بعد میں کوشش کرنا بھی چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ کام ہی نہیں ہوگا۔ اس وقت انسان افسوس کرے گا، کاش صحت میں کچھ حاصل کر لیتا۔

حضرت مولانا حسن جان صاحب رحمۃ الله علیہ بہت بڑے، یعنی شیخ الحدیث حضرات میں سے تھے۔ اور کافی دور دور سے لوگ ان کے درس میں شامل ہونے کے لیے آیا کرتے تھے۔ تو ایک دفعہ ان پہ heart attack ہوا، minor heart attack، خطبے کے دوران۔ تو ظاہر ہے اس وقت ان کے علاج میں مشغول ہو گئے۔ میں حضرت کی مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت لیٹے ہوئے تھے اور لوگ ان کو دبا رہے تھے۔ میں جیسے پہنچا، میں نے کہا حضرت، کیسی ہے طبیعت؟ تو حضرت نے فوراً فرمایا کہ کوئی کھانسی نہیں ہے، کوئی بخار نہیں ہے، لیکن بہرحال بیماری ہے۔ اور ساتھ ہی کہا: میں نے کتاب نہیں لکھی۔ میں نے کتاب نہیں لکھی۔ مطلب یہ کہ وہ چونکہ ظاہر ہے بہت بڑے عالم تھے اور کتاب لکھ (سکتے تھے) پٹھانوں میں یہ کمزوری ہے کتابیں نہیں لکھا کرتے۔ مطلب بہت بڑا عالم ہوتا ہے، لیکن کتابیں نہیں لکھتے۔ تو یہ اس وجہ سے ان کا علم اکثر ان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ تو مجھے فوراً فرمایا کہ میں نے کتاب نہیں لکھی۔

تو یہ بات ہے کہ تندرستی جاتے رہنے سے فوراً انسان کو احساس ہوتا ہے کہ میں یہ کام بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا۔ پھر ظاہر ہے، پھر نہیں کر سکتا۔

اس طرح فراغت: فراغت جو ہے، یہ بھی ایک بڑی دولت ہے۔ لیکن فراغت کی بھی لوگ قدر نہیں کرتے۔ مثلاً کسی کے پاس وقت ہے۔ اس وقت کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ ادھر ادھر گپ شپ میں لگا دیتے ہیں۔

ایک دفعہ ہم گشت پہ گئے تھے۔ بیان ہو گیا، پھر آپس میں students جیسے ملتے ہیں، بات چیت شروع کی۔ تو مسرت شاہ صاحب رحمة الله علیہ باہر آئے تو ہمیں کہا، کیوں کھڑے ہو؟ اب آپس میں گپ شپ لگا رہے ہو، وقت ضائع کر رہے ہو۔ پھر کہو گے جی، گشت کی وجہ سے ہمارا وقت ضائع ہو گیا۔ یا میں نے نمبر حاصل نہیں کیے۔ جاؤ اپنا کام کرو! مطلب ہمیں اپنی اپنی جگہوں پہ رخصت کر لیا۔

تو یہ بات صحیح ہے کہ انسان اپنے وقت کی قدر نہیں کرتا۔ وقت بڑی دولت ہے۔ ایک ایک منٹ ایسے قیمتی ہے کہ کبھی بھی نہیں مل سکتا۔ کبھی بھی نہیں مل سکتا۔ گیا تو گیا۔ چاہے اچھے کام میں گیا، چاہے برے کام میں گیا۔ واپس نہیں آئے گا۔ اچھے کام میں گیا، تو ٹھیک ہے استعمال ہو گیا، صحیح معنوں میں، آپ کو اس کا صلہ ملے گا۔ برے کام میں گیا، تو توبہ بھی کر لیا، توبہ سے گناہ معاف ہو جائے گا، لیکن وہ جو وقت میں آپ صحیح کام کر سکتے تھے، وہ تو گیا۔ اس کا تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ مطلب آپ zero پہ لا سکتے ہیں، اب plus پہ نہیں لا سکتے۔ مطلب یہ والی بات۔

وقت کی قدر کرنے والے اکابر

مولانا یحییٰ کاندھلویؒ، والد ماجد شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خود فرماتے تھے کہ "پانچ ماہ نظام الدین کے حجرے میں، میں نے اس طرح گزارے کہ خود مسجد والوں کو معلوم نہ ہوا کہ میں کہاں ہوں چنانچہ اس زمانے میں کاندھلہ سے نکاح طلبی کا تار آیا لوگوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مکتوب الیہ عرصہ سے یہاں نہیں ہے اسی عرصہ میں بخاری، سیرۃ ابن ہشام، طحاوی، ہدایہ، اور فتح القدیر کا بالاستیعاب اس اہتمام سے دیکھیں کہ مجھے خود حیرت ہے۔"

علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے بارے میں لکھا ہے۔ کہ ان کی طبیعت کافی خراب چل رہی تھی اسی دوران خبر پھیل گئی کہ شاہ صاحب کا وصال ہو گیا جب کمرے میں جا کر دیکھا تو شاہ صاحب نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکیے پر کتاب رکھی مطالعہ کر رہے ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں، خود فرماتے ہیں کہ "میں نے طالب علمی میں بیس روز میں فتح الباری کی تیرہ جلدیں مکمل دیکھ ڈالی تھیں" اسی طرح فتح القدیر کے بارے میں فرمایا کہ "اس کے مطالعہ میں بھی بیس دن صَرف ہوئے صِرف دیکھا ہی نہیں بلکہ مطالعہ کے دوران تلخیص بھی کی"۔ کبھی پشت پر نہیں سوتے تھے جب شدید نیند آتی تو بیٹھے بیٹھے سو لیتے اور جب غنودگی ختم ہو جاتی تو پھر مطالعہ میں مشغول ہو جاتے۔

شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحبؒ کے بارے میں لکھا ہے کثرت مطالعہ، کتب بینی، درس و تدریس وغیرہ کی مشغولیت کی وجہ سے مسلسل ایک ایک ہفتہ قطعاً نہ سوتے تھے، شب و روز کتاب سامنے ہی رہتی، جب حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ رات بارہ بجے کڑکڑاتی سردی میں تشریف لاتے اور مسلسل ایک ہفتہ نہ سونے کی وجہ سے کتاب ہاتھ سے لے کر رکھ دیتے، مولانا اعزاز علی صاحبؒ فرماتے ہیں "کہ شاہ صاحب کے جانے کے بعد چند منٹ تو حضرت شاہ صاحب کے اس کہنے کا جی پر اثر رہا مگر جب برداشت نہ ہو سکا تو کتاب لے کر دوبارہ مطالعہ میں مشغول ہو گیا۔"

حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ بازار سے کوئی چیز خریدتے تو پیسوں کی تھیلی دکان دار کے سامنے کر دیتے کہ اس میں سے پیسے نکال لو میں نکالوں گا تو وقت لگے گا اتنی دیر میں: "سبحان اللہ" کتنی مرتبہ کہہ لوں گا" ایک مرتبہ وہ پیسوں کی تھیلی کوئی اچکا چھین کر بھاگ گیا، اس کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا فرمایا "اس چکر میں کون پڑے کہ اس کے پیچھے بھاگے اس کو پکڑے بس اللہ اللہ کرو۔"

شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اپنا حال خود لکھتے ہیں کہ "بسا اوقات رات دن میں ڈھائی تین گھنٹے سے زیادہ سونا نصیب نہیں ہوتا تھا اور بلا مبالغہ کئی مرتبہ بلکہ بہت سی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ روٹی کھانا یاد نہیں رہی۔ عصر کے وقت جب ضعف معلوم ہوتا تھا تو اس وقت یاد آتا تھا کہ دوپہر کی روٹی نہیں کھائی رات کا معمول تو اس سے پہلے ہی چھوٹ گیا تھا تیس پینتیس گھنٹے بغیر روٹی کھائے ہوئے گزر جاتے تھے۔"

یہ تو ماضی قریب کے اکابر کا حال ہے اسلاف کا کیا حال ہو گا خود ہی اندازہ لگا لیا جائے۔

تخریج حدیث: بخاری کتاب الرقاق (باب ماجاء فی الرقاق و ان لا عیش الا عیش الاٰخرہ)، ترمذی، وابن ماجہ 4170، وأخرجہ امام احمد فی مسندہ 3207۔


یا اللہ، یا کریم، یا کریم، یا کریم! بس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ جو وقت بھی میسر ہے اس کو ہم صحیح استعمال کر لیں۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔



حصہ دوم: تفصیلی تشریح و افادات (اکابرین کے واقعات، معمولات اور تجربات)

صحت اور فراغت: غفلت کے پردے اور حقیقت کا ادراک

حدیثِ مبارکہ میں جن دو نعمتوں، صحت اور فراغت، کا تذکرہ کیا گیا ہے، بدقسمتی سے آج کا انسان سب سے زیادہ انہی کے بارے میں غفلت کا شکار ہے۔ انسانی زندگی حوادثات کے نرغے میں ہے اور کسی بھی شخص کے ساتھ کسی بھی لمحے کچھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ صحت کا معاملہ کتنا حساس ہے، اس کا اندازہ میرے اپنے ذاتی تجربے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مجھے صحت کا مسئلہ درپیش ہوا، تو میری زندگی کے کم از کم دو قیمتی سال اس آزمائش کی نذر ہو گئے۔ یہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انسان ہر وقت اللہ کی پناہ میں رہے۔

حفاظتی دعاؤں کا معمول: آفات و بلیات سے بچاؤ کا قلعہ

ناگہانی آفات اور وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے مسنون دعاؤں کا اہتمام ایک مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے روزمرہ کے معمولات میں فجر کی نماز کے بعد بلاناغہ حفاظتی دعاؤں کا ورد شامل ہونا چاہیے۔ ان میں دعائے حادثات، دعائے انسؓ اور آیاتِ شفا کی تلاوت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ بعض اوقات انسان اس خام خیالی اور تکبر کا شکار ہو جاتا ہے کہ "مجھے کچھ نہیں ہوگا" اور وہ ان مسنون دعاؤں کو ترک کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تقدیر کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے تو وہ بے بس ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر سوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ہمارے ایک پیر بھائی ڈاکٹر حمزہ خان تھے، جنہیں حکیم الامت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ان دعاؤں کی تلقین کی گئی تھی اور وہ زندگی بھر انتہائی پابندی کے ساتھ ان کا ورد کرتے رہے۔ فجر کے وقت پڑھی جانے والی یہ حادثات سے بچاؤ کی مسنون دعائیں کوئی بہت طویل نہیں ہیں، یہ بمشکل دو آیات کے برابر ہوں گی، لیکن ان کی برکات بے شمار ہیں۔

اسمائے حسنیٰ کا وجدانی وظیفہ اور شفا کا کمال

بیماری کے دوران مجھے مفتی مختار الدین شاہ صاحب نے ایک نہایت بابرکت وظیفہ تلقین فرمایا، جسے روزانہ صبح و شام اور ہر نماز کے بعد اکیس (21) مرتبہ پڑھنے کا معمول بنانا چاہیے:

"يَا حَيُّ، يَا قَيُّوْمُ، يَا قَوِيُّ، يَا مَتِيْنُ، يَا سَلَامُ"

اگر ان صفاتی ناموں کے معانی اور ان کی ترتیب پر غور کیا جائے تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ ان میں کس قدر زبردست روحانی اور منطقی ربط موجود ہے۔

سب سے پہلے "يَا حَيُّ" ہے، یعنی وہ ذات جو خود زندہ ہے اور ہر چیز کو زندگی بخشتی ہے۔ پھر "يَا قَيُّوْمُ" ہے، جس نے اس دی گئی زندگی کو تھاما ہوا ہے اور اسے قائم رکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد "يَا قَوِيُّ" ہے، جو اس قائم جسم کے اندر قوت اور توانائی داخل کرتا ہے۔ پھر "يَا مَتِيْنُ" ہے، جو اس پیدا ہونے والی قوت کو عارضی نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ٹھوس، پائیدار اور مستحکم بنا دیتا ہے۔ اور سب سے آخر میں "يَا سَلَامُ" ہے، جس کی برکت سے تمام نظام ٹھیک ہو جاتا ہے، مکمل سلامتی اور شفائے کاملہ نصیب ہو جاتی ہے۔

یہ اسمائے الٰہیہ اپنے اندر ایسی تاثیر رکھتے ہیں کہ عامل بھی انہیں کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ میں ان کی افادیت اور فضائل کے پیشِ نظر دوسروں کو بھی سختی سے اس بات کی تلقین کرتا ہوں کہ اسے اپنی زندگی کا لازمی معمول بنائیں۔

"یا اللہ خیر": ایک بے ساختہ دعا کی حیرت انگیز برکات

انسان کی زبان پر جاری ہونے والے کلمات بسا اوقات اس کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے جب ڈیرہ اسماعیل خان کو 'سائیکلوں کا شہر' (Cycle City) کہا جاتا تھا۔ میری سائیکل چلانے کی عادت تھی؛ میں پیڈل چلاتا اور میرے کزن نے ہینڈل (Steering) سنبھالا ہوتا۔ اس باہمی اشتراک کے دوران اکثر ہمارا سائیکل رکشوں کے ساتھ خطرناک تصادم ہو جاتا تھا۔ لیکن جیسے ہی حادثہ پیش آتا، بالکل اسی لمحے (Instantly) میری زبان سے بے ساختہ نکلتا: "یا اللہ خیر!"

اس دعا کی کمال برکت یہ ہوتی تھی کہ حادثہ ہونے کے باوجود ہم دونوں کو خراش تک نہ آتی، جبکہ سائیکل کا پہیہ ٹیڑھا ہو جاتا یا کوئی اور نقصان ہو جاتا۔ ہم قریبی دکان سے ایک ڈیڑھ روپے میں سائیکل ٹھیک کروا کر گھر پہنچ جاتے اور گھر والوں کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔

یہ سب اس ایک جملے "یا اللہ خیر" کی برکت تھی۔ اور پھر ایک دن ایسا آیا جب نقصان ہونا مقدر تھا، تو حادثے کے وقت وہ جملہ میری زبان سے ادا ہی نہ ہو سکا۔ اس دن سائیکل کو تو کچھ نہ ہوا، لیکن میرا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان دعا کے لیے باقاعدہ ہاتھ اٹھانے کا محتاج نہیں، جب زبان کو اللہ کی یاد کی عادت پڑ جائے، تو مصیبت کے وقت منہ سے نکلی ہوئی ایک بے ساختہ پکار بھی تقدیر کے بڑے بڑے حملوں کو ٹال دیتی ہے۔

سیدنا ابان بن عثمانؓ کا واقعہ: تقدیر اور دعا کا تعلق

دعا اور تقدیر کے اس تعلق کو جامع ترمذی اور سنن ابی داؤد کی ایک صحیح روایت بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے، سیدنا ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ اکثر یہ حدیث سنایا کرتے تھے کہ جو شخص صبح و شام "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" پڑھے گا، اسے کوئی ناگہانی آفت نہیں پہنچے گی۔

ایک مرتبہ انہیں فالج کا حملہ ہو گیا۔ ایک شخص انہیں حیرت سے دیکھنے لگا کہ جو شخص خود اس حفاظتی دعا کا راوی ہے، اس پر فالج کا حملہ کیسے ہو گیا؟ سیدنا ابانؓ اس شخص کی حیرت کو بھانپ گئے اور فرمایا: "تم مجھے کیا دیکھتے ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم ﷺ پر جھوٹ نہیں بولا، لیکن جس دن مجھے یہ فالج ہوا، اس دن میں سخت غصے میں تھا اور یہ دعا پڑھنا بھول گیا تھا، چنانچہ اللہ کا فیصلہ مجھ پر نافذ ہو گیا۔"

اکابرین کی نفاست اور وقت کی بے مثال قدر دانی

جہاں صحت ایک انمول نعمت ہے، وہیں فراغت اور وقت کی قدر کرنا بھی ہمارے اکابرین کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ، حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت تھانویؒ کی نظر میں وقت کی اتنی قدر تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا گویا اللہ تعالیٰ نے وقت کی اہمیت کو آپ کی فطرت میں پیوست کر دیا ہو۔ آپ کے حجرے کے دو دروازے تھے، اور آپ نے دونوں دروازوں پر اپنے جوتوں کا ایک ایک جوڑا رکھا ہوا تھا، تاکہ اگر ایک دروازے سے نکلنا پڑے تو دوسرے دروازے تک جوتے پہننے کے لیے جانے میں چند سیکنڈ کا وقت بھی ضائع نہ ہو۔

میں نے اپنی زندگی میں دو ایسے باکمال عالم دیکھے ہیں جن کا طرزِ زندگی انتہائی نفاست اور ترتیب کا شاہکار تھا، جن کے کمرے کو دیکھ کر واقعی محسوس ہوتا تھا کہ یہ ایک عالم باعمل کی قیام گاہ ہے۔ ایک کا تعلق کشمیر سے تھا، اور دوسرے حضرت مولانا تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

حضرت تسنیم الحق صاحبؒ کے مزاج میں نظم و ضبط کمال درجے کا تھا۔ شدید جسمانی معذوری کے باوجود ان کے کمرے کی ہر شے اپنے مقررہ مقام پر اور انتہائی قرینے سے رکھی ہوتی تھی۔ اسی معذوری کی حالت میں انہوں نے علم کا وہ پہاڑ عبور کیا جو اچھے بھلے تندرست انسان کے لیے ناممکن نظر آتا ہے۔ انہوں نے حضرت تھانویؒ کے 40 مواعظ، تفسیرِ عثمانی، بہشتی زیور، حیاۃ المسلمین اور حکایاتِ صحابہ جیسی عظیم الشان کتب کا پشتو زبان میں کامیاب ترجمہ فرمایا۔

"اب کچھ کام کر لیں"

حضرت تسنیم الحق صاحبؒ کے ساتھ ایک بار سفر کے دوران ہم دینی موضوعات پر بات چیت کر رہے تھے، میں ان سے مختلف مسائل پوچھ رہا تھا اور وہ نہایت شفقت سے جوابات دے رہے تھے۔ یونہی کچھ دیر گزرنے کے بعد حضرت نے اچانک اپنی جیب سے تسبیح نکالی اور ایک جملہ ارشاد فرمایا جس نے میرے دل کی دنیا ہلا دی:

"چلیے جی! اب بہت باتیں کر لی ہیں، اب کچھ کام کر لیں۔"

یہ "کام" کیا تھا؟ یہ اللہ کا ذکر تھا!

ان نابغہ روزگار ہستیوں کی زندگیوں پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل "کام" کیا ہے اور وقت کی حقیقی قدر و قیمت کیا ہوتی ہے۔ ان کا ہر سانس، ہر لمحہ اور ہر حرکت کسی نہ کسی اعلیٰ مقصد اور رضائے الٰہی کے تابع ہوتی تھی۔ اللہ پاک ہمیں بھی ان کی روشن مثالوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

صحت اور فراغت: دو عظیم نعمتیں اور ان کی ناقدری - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور