احکامِ طہارت، یہود کی خباثتیں اور شرک کی سنگینی

درس نمبر 185، سورۃ النساء: آیت: 43 تا 48- اشاعتِ اول: 31 مئی، 2022، بمطابق 29 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* شراب کی تدریجی حرمت اور نشے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت۔

* جنابت، بیماری، سفر یا پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور تیمم کے شرعی احکام۔

* عورت کو Touch کرنے کے حوالے سے وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے فقہی مسائل کی وضاحت۔

* یہود کی جانب سے تورات کی تحریف اور دینِ اسلام میں طعنہ زنی۔

* یہودیوں کا نبی کریم ﷺ کی شان میں ذومعنی اور گستاخانہ الفاظ ("سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا"، "رَاعِنَا") کا منافقانہ استعمال۔

* اصحابِ سبت (سنیچر کے دن نافرمانی کرنے والوں) پر اللہ کے عذاب کا تذکرہ۔

* شرک کی ناقابلِ معافی نوعیت اور دیگر گناہوں پر اللہ کے فضل و رحمت کی وسعت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْاؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا (43) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ (44) وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآىِٕكُمْؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا ﱪ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا (45) مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَۙ وَ لٰـكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا(46)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اسے سمجھنے نہ لگو،

یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا۔ لیکن اس آیت کے ذریعے یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے، کیونکہ اس کو پینے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، لہٰذا کسی وقت اس کو بالکل حرام بھی کیا جا سکتا ہے۔


دین جو ہے، یہ تدریج سے نافذ کیا گیا ہے۔ اللہ کے ہاں جو دین تھا، وہ تو پہلے سے بھی وہی تھا جو اب ہے۔ یعنی آپ ﷺ پر اس کو تدریج کے ساتھ جیسے قرآن اتارا گیا، اس طرح دین کو بھی۔ اور ظاہر ہے ایک جگہ انسان کو اس کے لیے بنانی ہوتی ہے، ورنہ پھر عمل مشکل ہو جاتا ہے، یا بعض دفعہ انسان عمل کر ہی نہیں سکتا۔ تو پوری امت کی چونکہ تربیت تھی، لہٰذا ساری چیزوں کا اس میں انتظام تھا۔


تو شراب جو کہ حرام بعد میں کر دی گئی تھی، لیکن اُس وقت چونکہ حرام نہیں ہوئی تھی، اور لوگ پیتے تھے، تو اس میں پھر یہ ہوتا تھا کہ نماز میں خلل آ جاتا تھا۔ چونکہ ان کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ شرابی آدمی کو جب نشے میں ہو، اس کو پتہ نہیں چلتا۔ تو یہاں پر حکم دے دیا گیا کہ جس وقت کسی نے شراب پی ہو، نشے میں ہو، اس وقت تک وہ نماز کے قریب نہ جائے، جب تک وہ اپنی اصلی حالت میں نہ آجائے، یعنی کہ وہ جان لے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ تو ایک تو شراب کے بارے میں یہ حکم بتایا گیا کہ نماز اس وقت نہ پڑھو۔


اور یہ فرمایا گیا:

وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْؕ

دوسری صورت یہ ہے؛

اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کر لو (نماز جائز نہیں) الّا یہ کہ تم مسافر ہو (اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا (اس مٹی سے) مسح کر لو۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے ﴿43﴾


یہاں عورتوں کو چھونے کی مراد یہ ہے کہ عورتوں کے ساتھ ایسا اختلاط ہو چکا ہو کہ جس سے وضو ٹوٹے۔ ایسی صورت میں، تو پھر جو ہے نا، نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ ہے کہ پاک مٹی سے اگر تیمم کر لیا جائے، تو پھر ان تمام صورتوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بیماری کی صورت میں بھی، یا سفر پر ہو پانی نہ ملے، یا قضاءِ حاجت سے کوئی آیا ہو، یا عورتوں کو چھوا ہو، ان سب صورتوں میں اگر تیمم کر لے تو پھر جو ہے نا وہ۔۔۔


غالباً اسی سے بعض ائمہ نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر عورت کو touch کیا جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس میں وہ چھونے کی جو ہے مقدار وہ ہے جس سے انسان کا وضو واقعی ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ مطلب ہے، اس صورت میں عام حالت میں صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) گمراہی مول لے رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ ﴿44﴾

اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور رکھوالا بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے، اور مددگار بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے ﴿45﴾

یعنی تورات کا جو علم ہے جن لوگوں کو دیا گیا تھا جو اہلِ کتاب تھے، تو وہ ظاہر ہے اس کے اوپر پورا عمل نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کو آگے پیچھے کر لیتے تھے۔ اور اس پر پیسے لیتے تھے، تو یہ گمراہی لینا ہو گیا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے وہ نقصان پہنچاتے تھے۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں:

"اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور رکھوالا بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے"

یہودیوں میں سے کچھ وہ ہیں جو (تورات) کے الفاظ کو ان کے موقع محل سے ہٹا ڈالتے ہیں، اور اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر اور دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں، "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" اور "اسمع غیر مسمع" اور "رَاعِنَا" حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ "سمعنا واطعنا" اور "اسمع وانظرنا" تو ان کے لئے بہتر اور راست بازی کا راستہ ہوتا۔

یہ آج کل جیسے بعض سیاسی لیڈر اپنے سیاسی مخالف کا نام صحیح طریقے سے نہیں لے سکتا، دل میں بغض ہوتا ہے، تو وہ پھر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ تو اس صورت میں وہ تو خیر سیاسی مخالفت تھی، وہ تو مذہبی مخالفت تھی۔ اور شرارت ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ اور یہاں جو شرارت کرنے والے ہیں، ان کے بھی ان کے ساتھ ہی تعلقات ہیں۔ تو اس طریقے سے معاملہ بالکل ایک جیسا نظر آتا ہے۔


تو یہاں پر مطلب یہ ہے کہ وہ اس قسم کی زبان سےتوڑ مروڑ کر وہ کہہ دیتے تھے۔ یعنی ؛

اوربعض اوقات اس کے الفاظ ہی کو کسی اور لفظ سے بدل لیتے تھے (یا تحریف کر لیتے تھے)۔اور بعض اوقات اس لفظ کو غلط معنی پہنا کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔ اور دوسری شرارت یہ ہے کہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو ایسے مبہم اور منافقانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ظاہری مفہوم برا نہیں ہوتا لیکن وہ اندرونی طور پر ان سے برے معنی مراد لیتے ہیں جو ان الفاظ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی تین مثالیں اس آیت میں ذکر کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں: "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" جس کے معنی یہ ہیں کہ "ہم نے آپ کی بات سن لی، اور نافرمانی کی"۔ وہ ان الفاظ کا مطلب یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے اور آپ کے مخالفین کی نافرمانی کی ہے۔

یعنی ہم تو اس سے مراد یہ لیتے ہیں لیکن اندر سے یہ مراد لیتے تھے جو کہ اس کا صحیح معنی ہے۔

لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم نے آپ کی بات سن کر اس کی نافرمانی کی ہے۔ دوسرے وہ کہتے تھے "اسمع غیر مسمع" اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ "آپ ہماری بات سنیں، خدا کرے آپ کو کوئی بات سنائی نہ جائے" ظاہری طور پر وہ یہ دعا دیتے تھے کہ آپ کو کوئی ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہو۔

تو اس طریقے سے وہ گڑبڑ کرتے تھے۔

لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ خدا کرے آپ کو ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کو خوش کرے۔ تیسرے وہ ایک لفظ "راعنا" استعمال کرتے تھے جس کے معنی عربی زبان میں تو یہ ہیں کہ "ہمارا خیال رکھیے" لیکن عبرانی زبان میں یہ ایک گالی کا لفظ تھا جو وہ اندرونی طور پر مراد لیتے تھے۔

تو یہ ان کی خباثتیں تھیں، جو ان چیزوں میں ظاہر ہوتی تھیں۔ تو اللہ پاک نے ان کو ظاہر کر دیا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(47) اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(48)

اے اہل کتاب! جو (قرآن) ہم نے اب نازل کیا ہے، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا ہے، اس پر ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ ہم کچھ چہروں کو مٹا کر انہیں گدی جیسا بنا دیں، یا ان پر ایسی پھٹکار ڈال دیں جیسی پھٹکار ہم نے سبت والوں پر ڈالی تھی۔(۳۴) اور اللہ کا حکم ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ ﴿۴۷﴾


"سبت" سنیچر کے دن کو کہتے ہیں۔ تورات میں بنی اسرائیل کو اس دن روزگار کا کوئی کام کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن ایک بستی کے لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ان کو مسخ کر دیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ اعراف (۷:۱۶۳)۔

مطلب، دیکھی جا سکتی ہے۔



بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے ، اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔ ﴿48﴾


یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے تو توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کر کے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کر کے توحید پر ایمان لے آئے۔

اس وجہ سے شرک سے بہت زیادہ بچنا چاہیے۔ اور کفر تو کفر ہے ہی، کیونکہ اس کی وجہ سے پھر وہ اس شرک کی معافی نہیں ہوتی، اور کفر کے ساتھ کسی عمل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ تو اس وجہ سے، بہت زیادہ اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔


اللہ جل شانہٗ ہمیں ہر قسم کے کفر، شرک، بدعت اور کسی قسم کی بھی ذہنی، عملی اور سوچ کی گندگی سے محفوظ فرمائے۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔


حصہ دوم: تفصیلی تشریح و عصری انطباق (تفصیلی مضمون)

انسانی تربیت اور نزولِ احکام میں حکیمانہ تدریج

قرآنِ مجید کا نزول اور اسلامی احکام کا نفاذ یک لخت نہیں ہوا، بلکہ اس میں انسانی نفسیات اور معاشرتی حالات کی بھرپور رعایت رکھی گئی۔ تربیت کا یہ آفاقی اصول ہے کہ کسی بھی پختہ عادت کو بدلنے کے لیے تدریج (مرحلہ وار طریقہ) اختیار کرنا پڑتا ہے، بصورتِ دیگر انسان کے لیے اس پر عمل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ شراب نوشی دورِ جاہلیت کی ایک رسی ہوئی عادت تھی۔ اسلام نے اسے فوراً حرام قرار دینے کے بجائے پہلے یہ حکم دیا کہ "نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ"۔ اس حکم کا مقصد حالتِ نشہ اور حالتِ عبادت کے درمیان حدِ فاصل قائم کرنا تھا۔

اس کی حکمت کو سمجھنے کے لیے احادیثِ مبارکہ میں موجود ایک سبق آموز واقعہ ملتا ہے۔ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ بدر کے دن مالِ غنیمت اور مالِ خمس میں سے انہیں دو زیادہ عمر والی اونٹنیاں ملی تھیں۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رخصتی کے وقت ولیمہ کرنے کے لیے یہ ارادہ کیا کہ بنو قینقاع کے ایک سنار کے ساتھ جا کر 'اذخر' (ایک خوشبودار گھاس) لائیں اور اسے فروخت کر کے ولیمے کا انتظام کریں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے پاس بٹھائی تھیں، جب میں ضروری سامان لے کر پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کسی نے میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دیے ہیں، پیٹ چاک کر دیے ہیں اور ان کے کلیجے نکال لیے ہیں۔ یہ دلخراش منظر دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ کام حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کیا ہے جو اسی گھر میں چند انصاریوں کے ساتھ شراب نوشی کی محفل میں شریک تھے۔ ایک مغنیہ نے انہیں گا کر اکسایا تو وہ تلوار لے کر اٹھے اور اونٹنیوں کے ساتھ یہ سلوک کیا۔

حضرت علی ؓ فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ کے پاس حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے چہرہ دیکھ کر صدمہ بھانپ لیا اور وجہ پوچھی۔ حقیقتِ حال جان کر نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر اوڑھی اور حضرت علی ؓ و حضرت زید ؓ کے ہمراہ اس گھر تشریف لے گئے جہاں حضرت حمزہ ؓ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت حمزہ ؓ کو ان کے کیے پر ملامت فرمائی۔ مگر چونکہ شراب ابھی حرام نہیں ہوئی تھی اور حضرت حمزہ ؓ شدید نشے کی حالت میں تھے، ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے نشے کی حالت میں آپ ﷺ کے قدموں سے لے کر چہرہِ انور تک دیکھا اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر کہا: "تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو"۔ رسول اللہ ﷺ جان گئے کہ حمزہ ؓ اس وقت نشے میں دھت ہیں اور ہوش میں نہیں ہیں، چنانچہ آپ ﷺ کمالِ تحمل سے الٹے قدموں وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ نشے کی حالت انسان کو کس قدر بے قابو کر دیتی ہے، اور یہی وجہ تھی کہ پہلے نشے کی حالت میں نماز سے روکا گیا اور پھر بالآخر شراب کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔

فقہی بصیرت کی شاندار مثال: امامِ اعظمؒ اور حضرت حمادؒ کا واقعہ

مذکورہ بالا آیات میں پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کا ایک نہایت ہی خوبصورت اور سبق آموز واقعہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔

آپؒ اپنے استادِ گرامی اور کوفہ کے جلیل القدر فقیہ حضرت حماد بن ابی سلیمانؒ کے ہمراہ ایک سفر پر تھے۔ راستے میں ایک مقام پر نماز کا وقت ہو گیا لیکن قافلے کے پاس وضو کے لیے پانی موجود نہیں تھا۔ پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں شرعی حکم تیمم کا ہے۔ استادِ گرامی حضرت حمادؒ نے نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنے کی فضیلت کو مدنظر رکھا، پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز ادا کر لی۔ قافلے کے دیگر افراد نے بھی اپنے عظیم استاد کی پیروی میں تیمم کر کے ابتدائی وقت میں ہی نماز پڑھ لی۔

دوسری جانب نوجوان شاگرد حضرت ابوحنیفہؒ نے ایک گہری فقہی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی وقت میں تیمم کر کے نماز نہیں پڑھی، بلکہ قافلے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور آخری وقت تک پانی کی تلاش کی امید رکھی۔ قافلے کے لوگ اس بات پر متعجب تھے کہ شاگرد اپنے استاد کے برعکس عمل کیوں کر رہا ہے۔ ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ قافلے کو آگے جا کر پانی مل گیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے فوراً پانی سے وضو کیا اور وقت کے اندر ہی کامل طہارت (وضو) کے ساتھ نماز ادا کی۔

جب استاد کی خدمت میں حاضری ہوئی تو امام ابوحنیفہؒ نے نہایت ادب اور علمی وقار کے ساتھ عرض کیا: "اے استادِ محترم! آپ نے نماز کے اول وقت کی فضیلت کو تو پا لیا، لیکن آپ کی طہارت مٹی سے تھی جو کہ ایک ناقص (یا اضطراری) طہارت ہے۔ جبکہ میں نے وقتِ آخر تک انتظار کیا، جس کے نتیجے میں مجھے پانی مل گیا اور میں نے طہارتِ اصلی (وضو) کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس لیے میرا یہ عمل فضیلت کے اعتبار سے زیادہ بہتر رہا۔" حضرت حمادؒ اپنے ہونہار شاگرد کی اس باریک بین فقہی رسائی اور اجتہاد پر بے حد مسرور ہوئے اور ان کی تحسین فرمائی۔

عورتوں کو چھونے کے قرآنی حکم پر فقہی استنباط

آیت مبارکہ میں "عورتوں کو چھونے" (لامستم النساء) سے وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے حوالے سے فقہاءِ کرام کے مابین ایک علمی اور استدلالی اختلاف پایا جاتا ہے۔

فقہِ حنفی کے نزدیک، کسی عورت کو چھونے سے وضو باطل نہیں ہوتا، چاہے وہ چھونا شہوت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ احناف کی دلیل احادیثِ مبارکہ کے وہ واقعات ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض ازواجِ مطہراتؓ کو چھوا یا بوسہ دیا اور بغیر نیا وضو کیے نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ البتہ استثناء یہ ہے کہ اگر اس چھونے کے نتیجے میں کوئی ناپاک رطوبت (مذی یا منی) خارج ہو جائے تو پھر وضو یا غسل فرض ہو جائے گا۔

اس کے برعکس، فقہِ شافعی (امام شافعیؒ) کا موقف یہ ہے کہ کسی بھی نامحرم عورت کی جلد کو چھونے (خواہ وہ بلا ارادہ ہو یا بغیر کپڑے کے حائل ہوئے ہو) سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تاہم ان کے ہاں محرم رشتہ داروں (جیسے ماں، بہن) یا چھوٹی بچیوں کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ شوافع کا بنیادی استدلال قرآنِ مجید کے اسی ظاہری لفظ "لامستم النساء" سے ہے۔

یہود کی روش اور دورِ حاضر کا المیہ: عقائد میں تحریف اور اکابرین کی تضحیک

آیات میں یہودیوں کی جس قبیح خصلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ الفاظ کے معانی بدلنا اور بغض و عناد میں مبتلا ہو کر انبیاء کا مذاق اڑانا تھا۔ وہ عربی اور عبرانی الفاظ کے ہیر پھیر سے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمانوں کے اندر بھی بعض ایسے طبقات پیدا ہو گئے ہیں جو غیر ارادی یا شعوری طور پر اسی یہودی روش پر چل پڑے ہیں۔

آج بعض لوگ قرآنِ مجید کی صریح آیات میں تحریفِ معنوی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن کریم نے نبی کریم ﷺ کی بشریت کا واضح اعلان کیا ہے، لیکن کچھ لوگ اس قرآنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہو کر قرآن کے معانی میں تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی طرح دورِ حاضر میں بعض گروہ، جن میں پنج پیری مکتبہ فکر سے متاثرہ افراد شامل ہیں، اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین کی شان میں گستاخیاں اور بے ادبیاں کرتے نظر آتے ہیں، جو کہ دراصل اکابرینِ دین کی تضحیک کی اسی یہودی ذہنیت کا تسلسل ہے۔

اس سے بھی بڑھ کر، یہ خصلت ہمارے سیاسی اور سماجی رویوں میں سرایت کر چکی ہے۔ سیاسی مخالفت یا پارٹی بازی کی آڑ میں مخالفین کے برے نام رکھنا، الفاظ کو توڑ مروڑ کر ان کی تضحیک کرنا آج کا فیشن بن چکا ہے۔ اس بغض اور عناد میں بسا اوقات اتنی حد پار کر لی جاتی ہے کہ بڑے بڑے جید علماء کرام اور اکابرین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ جس طرح مولانا فضل الرحمن جیسے قد آور علماء کے نام بگاڑ کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور ان کی کردار کشی کی کوشش کی جاتی ہے، یہ قطعی طور پر اسلامی اخلاقیات نہیں بلکہ اسی منافقانہ اور یہودی روش کا حصہ ہے جس کی قرآن نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر قسم کے کفر، شرک، بدعت، اور الفاظ و معانی کی تحریف سے محفوظ رکھے۔ ہمارے دلوں کو اکابرینِ دین کی محبت سے آباد کرے اور ہماری زبانوں کو بغض و عناد اور تضحیک کے فتنوں سے پاک فرمائے۔ آمین۔

احکامِ طہارت، یہود کی خباثتیں اور شرک کی سنگینی - درسِ قرآن - دوسرا دور