الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْاؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا (43) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ (44) وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآىِٕكُمْؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا ﱪ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا (45) مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَۙ وَ لٰـكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا(46)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
اے ایمان والو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک تم جو کچھ کہہ رہے ہو، اسے سمجھنے نہ لگو،
یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا۔ لیکن اس آیت کے ذریعے یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے، کیونکہ اس کو پینے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، لہٰذا کسی وقت اس کو بالکل حرام بھی کیا جا سکتا ہے۔
دین جو ہے، یہ تدریج سے نافذ کیا گیا ہے۔ اللہ کے ہاں جو دین تھا، وہ تو پہلے سے بھی وہی تھا جو اب ہے۔ یعنی آپ ﷺ پر اس کو تدریج کے ساتھ جیسے قرآن اتارا گیا، اس طرح دین کو بھی۔ اور ظاہر ہے ایک جگہ انسان کو اس کے لیے بنانی ہوتی ہے، ورنہ پھر عمل مشکل ہو جاتا ہے، یا بعض دفعہ انسان عمل کر ہی نہیں سکتا۔ تو پوری امت کی چونکہ تربیت تھی، لہٰذا ساری چیزوں کا اس میں انتظام تھا۔
تو شراب جو کہ حرام بعد میں کر دی گئی تھی، لیکن اُس وقت چونکہ حرام نہیں ہوئی تھی، اور لوگ پیتے تھے، تو اس میں پھر یہ ہوتا تھا کہ نماز میں خلل آ جاتا تھا۔ چونکہ ان کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ شرابی آدمی کو جب نشے میں ہو، اس کو پتہ نہیں چلتا۔ تو یہاں پر حکم دے دیا گیا کہ جس وقت کسی نے شراب پی ہو، نشے میں ہو، اس وقت تک وہ نماز کے قریب نہ جائے، جب تک وہ اپنی اصلی حالت میں نہ آجائے، یعنی کہ وہ جان لے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ تو ایک تو شراب کے بارے میں یہ حکم بتایا گیا کہ نماز اس وقت نہ پڑھو۔
اور یہ فرمایا گیا:
وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْؕ
دوسری صورت یہ ہے؛
اور جنابت کی حالت میں بھی جب تک غسل نہ کر لو (نماز جائز نہیں) الّا یہ کہ تم مسافر ہو (اور پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہو)۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ سے آیا ہو یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اور اپنے چہروں اور ہاتھوں کا (اس مٹی سے) مسح کر لو۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا ہے ﴿43﴾
یہاں عورتوں کو چھونے کی مراد یہ ہے کہ عورتوں کے ساتھ ایسا اختلاط ہو چکا ہو کہ جس سے وضو ٹوٹے۔ ایسی صورت میں، تو پھر جو ہے نا، نہیں کرنا چاہیے لیکن یہ ہے کہ پاک مٹی سے اگر تیمم کر لیا جائے، تو پھر ان تمام صورتوں میں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بیماری کی صورت میں بھی، یا سفر پر ہو پانی نہ ملے، یا قضاءِ حاجت سے کوئی آیا ہو، یا عورتوں کو چھوا ہو، ان سب صورتوں میں اگر تیمم کر لے تو پھر جو ہے نا وہ۔۔۔
غالباً اسی سے بعض ائمہ نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر عورت کو touch کیا جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اس میں وہ چھونے کی جو ہے مقدار وہ ہے جس سے انسان کا وضو واقعی ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ مطلب ہے، اس صورت میں عام حالت میں صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
جن لوگوں کو کتاب (یعنی تورات کے علم) میں سے ایک حصہ دیا گیا تھا، کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا کہ وہ (کس طرح) گمراہی مول لے رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ ﴿44﴾
اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور رکھوالا بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے، اور مددگار بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے ﴿45﴾
یعنی تورات کا جو علم ہے جن لوگوں کو دیا گیا تھا جو اہلِ کتاب تھے، تو وہ ظاہر ہے اس کے اوپر پورا عمل نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کو آگے پیچھے کر لیتے تھے۔ اور اس پر پیسے لیتے تھے، تو یہ گمراہی لینا ہو گیا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے وہ نقصان پہنچاتے تھے۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں:
"اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور رکھوالا بننے کے لئے بھی اللہ کافی ہے"
یہودیوں میں سے کچھ وہ ہیں جو (تورات) کے الفاظ کو ان کے موقع محل سے ہٹا ڈالتے ہیں، اور اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر اور دین میں طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں، "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" اور "اسمع غیر مسمع" اور "رَاعِنَا" حالانکہ اگر وہ یہ کہتے کہ "سمعنا واطعنا" اور "اسمع وانظرنا" تو ان کے لئے بہتر اور راست بازی کا راستہ ہوتا۔
یہ آج کل جیسے بعض سیاسی لیڈر اپنے سیاسی مخالف کا نام صحیح طریقے سے نہیں لے سکتا، دل میں بغض ہوتا ہے، تو وہ پھر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ تو اس صورت میں وہ تو خیر سیاسی مخالفت تھی، وہ تو مذہبی مخالفت تھی۔ اور شرارت ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ اور یہاں جو شرارت کرنے والے ہیں، ان کے بھی ان کے ساتھ ہی تعلقات ہیں۔ تو اس طریقے سے معاملہ بالکل ایک جیسا نظر آتا ہے۔
تو یہاں پر مطلب یہ ہے کہ وہ اس قسم کی زبان سےتوڑ مروڑ کر وہ کہہ دیتے تھے۔ یعنی ؛
اوربعض اوقات اس کے الفاظ ہی کو کسی اور لفظ سے بدل لیتے تھے (یا تحریف کر لیتے تھے)۔اور بعض اوقات اس لفظ کو غلط معنی پہنا کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔ اور دوسری شرارت یہ ہے کہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو ایسے مبہم اور منافقانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ظاہری مفہوم برا نہیں ہوتا لیکن وہ اندرونی طور پر ان سے برے معنی مراد لیتے ہیں جو ان الفاظ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کی تین مثالیں اس آیت میں ذکر کی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کہتے ہیں: "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا" جس کے معنی یہ ہیں کہ "ہم نے آپ کی بات سن لی، اور نافرمانی کی"۔ وہ ان الفاظ کا مطلب یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سن لی ہے اور آپ کے مخالفین کی نافرمانی کی ہے۔
یعنی ہم تو اس سے مراد یہ لیتے ہیں لیکن اندر سے یہ مراد لیتے تھے جو کہ اس کا صحیح معنی ہے۔
لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم نے آپ کی بات سن کر اس کی نافرمانی کی ہے۔ دوسرے وہ کہتے تھے "اسمع غیر مسمع" اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ "آپ ہماری بات سنیں، خدا کرے آپ کو کوئی بات سنائی نہ جائے" ظاہری طور پر وہ یہ دعا دیتے تھے کہ آپ کو کوئی ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کی طبیعت کے خلاف ہو۔
تو اس طریقے سے وہ گڑبڑ کرتے تھے۔
لیکن اندر سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ خدا کرے آپ کو ایسی بات نہ سنائی جائے جو آپ کو خوش کرے۔ تیسرے وہ ایک لفظ "راعنا" استعمال کرتے تھے جس کے معنی عربی زبان میں تو یہ ہیں کہ "ہمارا خیال رکھیے" لیکن عبرانی زبان میں یہ ایک گالی کا لفظ تھا جو وہ اندرونی طور پر مراد لیتے تھے۔
تو یہ ان کی خباثتیں تھیں، جو ان چیزوں میں ظاہر ہوتی تھیں۔ تو اللہ پاک نے ان کو ظاہر کر دیا۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا(47) اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(48)
اے اہل کتاب! جو (قرآن) ہم نے اب نازل کیا ہے، جو تمہارے پاس پہلے سے موجود کتاب کی تصدیق بھی کرتا ہے، اس پر ایمان لے آؤ، قبل اس کے کہ ہم کچھ چہروں کو مٹا کر انہیں گدی جیسا بنا دیں، یا ان پر ایسی پھٹکار ڈال دیں جیسی پھٹکار ہم نے سبت والوں پر ڈالی تھی۔(۳۴) اور اللہ کا حکم ہمیشہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ ﴿۴۷﴾
"سبت" سنیچر کے دن کو کہتے ہیں۔ تورات میں بنی اسرائیل کو اس دن روزگار کا کوئی کام کرنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن ایک بستی کے لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ان کو مسخ کر دیا گیا۔ اس واقعے کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورہ اعراف (۷:۱۶۳)۔
مطلب، دیکھی جا سکتی ہے۔
بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے ، اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔ ﴿48﴾
یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے تو توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کر کے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کر کے توحید پر ایمان لے آئے۔
اس وجہ سے شرک سے بہت زیادہ بچنا چاہیے۔ اور کفر تو کفر ہے ہی، کیونکہ اس کی وجہ سے پھر وہ اس شرک کی معافی نہیں ہوتی، اور کفر کے ساتھ کسی عمل کو قبول نہیں کیا جاتا۔ تو اس وجہ سے، بہت زیادہ اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔
اللہ جل شانہٗ ہمیں ہر قسم کے کفر، شرک، بدعت اور کسی قسم کی بھی ذہنی، عملی اور سوچ کی گندگی سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔