نماز: مؤمن کی معراج اور خشوع و خضوع کی حقیقت

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 (چودہواں حصہ) - اشاعتِ اول: 31 جنوری، 2018 بمطابق 13 جمادی الاول 1439 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین میں مسابقت: نیکیوں کی حرص اور دنیا کی بے رغبتی۔
    1. استغراق فی الصلاۃ: تکبیرِ تحریمہ کے بعد دنیا سے کٹ جانا۔
      1. غفلت والی نمازیں: دورانِ نماز غیر ضروری حرکات اور موبائل کا استعمال۔
        1. طمانیتِ ارکان: اعضائے جسمانی کو سنت کے مطابق اپنی جگہ پر لانا۔
          1. خشوع کا حصول: نماز میں مختلف حالتوں کے دوران نگاہوں کو مسنون جگہ پر جمانا۔
            1. ائمہ کرام کی ذمہ داری: انفرادی نماز طویل اور باجماعت نماز میں مقتدیوں کی رعایت۔
              1. بیماروں کا خیال: الرجی اور دمہ کے مریضوں کی سہولت کے لیے سجدے اور مساجد کے ماحول کا دھیان۔
                1. سخت وعید: نماز میں امام سے پہلے حرکت کرنے یا سر اٹھانے کی ممانعت۔

                  الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

                  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


                  آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔


                  گزشتہ سے پیوستہ


                  حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی آپ بیتی میں فرمایا کہ ہمارے گھر کی جو عورتیں ہیں، رمضان شریف میں قرآن پاک کی تلاوت میں مسابقت کرتی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ اور چھپ چھپ کے معلوم کرتی ہیں کہ اگر وہ دس پارے پڑھے تو میں گیارہ پڑھوں گی۔ اگر اس نے گیارہ پڑھے تو میں نے بارہ پڑھنے ہیں۔ اس کے اندر مقابلہ ہو سکتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ آپ کے پاس چانس ہے۔ جتنا آپ لینا چاہیں تو لے لو۔ تو جہاں لینے کا تھا موقع وہاں پیچھے ہو گئے، کمال کی بات ہے۔ چلو پھر دنیا میں بھی ایسے ہو جاؤ نا۔ دنیا میں بھی ایسے ہو جاؤ۔ دیکھو تین قسم کے لوگ ہیں، تین قسم کے؛

                  1۔ وہ لوگ جو دین میں حریص ہیں، دنیا میں حریص نہیں ہیں۔

                  2۔ دوسرے وہ جو دین میں بھی حریص ہیں، دنیا میں بھی حریص ہیں۔

                  3۔ تیسرے وہ جو دنیا میں حریص ہیں، دین میں حریص نہیں ہیں۔

                  کون سی Category میں ہونا چاہیے؟ جو دین میں حریص ہیں اور دنیا میں حریص نہیں ہیں۔ اس میں ہونا چاہیے نا؟ اگر ایسا نہیں ہے تو چلو وہ برابر برابر والے معاملے پہ چلے جاؤ۔ اگر آپ کو دنیا کو جمع کرنے کا شوق ہے اور اس میں آپ پیچھے نہیں ہو سکتے تو دین میں بھی جمع کرنے کا شوق ہو جائے نا۔ وہاں پر بھی مستحبات کرو نا۔ کبھی آپ نے ایسا کیا کہ بس میرے زندہ رہنے کے لیے تو روٹی کافی ہے نا سادہ روٹی، اور پانی میں ساتھ پی لوں تو زندہ تو رہوں گا نا ان شاء اللہ۔ کیا خیال ہے ڈاکٹر صاحب؟ یہ ڈاکٹر صاحبان سے پوچھ لیں کہ زندہ رہتا ہے یا نہیں آدمی؟ تو کبھی اس پہ گزارا کیا ہے؟ فرائض واجبات پہ گزارا اس طرح ہے۔ فرائض واجبات پہ گزارا کیا ہے؟ وہ اس طرح ہے، کہ نہیں ہے؟


                  تو اگر وہاں پر آپ گزارا نہیں کرتے تو پھر یہاں بھی نہ کرو نا۔ یہاں بھی اپنے لیے کچھ بناؤ نا۔ ٹھیک ہے ہم ملامت نہیں کریں گے کسی کو وجہ شریعت کا حکم یہ ہے ملامت نہیں کریں گے، لیکن ترغیب، ترغیب تو ہے۔ ترغیب تو ہے، اور یہ بھی ہے جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتے ہو اس کو دوسرے کے لیے پسند کرو، یہ تو ہے، کہ اپنے لیے جس چیز کو پسند کرتے ہو دوسرے کے لیے بھی پسند کرو، اپنے اور بھائی کے لیے بھی پسند کرو۔ تو یہی اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگ اس بات کا خیال رکھیں۔

                  میرے نانا 108 سال کی عمر میں فوت ہوئے، آخر وقت تک الحمد للہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ شکر ہے اللہ کا، تو اخیر وقت میں کان سے نہیں سنتے تھے، ظاہر ہے یہ چیزیں ان کی، اور آنکھ کے لیے انہوں نے بہت موٹا سا شیشہ بنایا تھا، مطالعہ ان کا بدستور تھا۔ تو میری آخری ملاقات جو ہوئی حضرت کے ساتھ، تو میں ان کو لکھ کے بتایا کرتا تھا، لکھ لیتا تھا وہ پڑھ لیتے اور چونکہ بات تو کر سکتے تو جواب مجھے زبان سے دیتے تھے۔ تو میں نے لکھ دیا میں نے کہا حضرت اب آپ سنتے نہیں، سبحان اللہ، اب آپ ما شاء اللہ ذکر کے لیے بالکل فارغ ہو گئے، اب تو آپ بہت ذکر کر سکتے ہیں کیونکہ اب سنائی تو آپ کو دیتا نہیں ہے۔ تو شور تو آپ کو رہتا نہیں ہے۔ تو بس اب تو بس اللہ کے ساتھ ہی آپ لو لگائیں گے بہت زیادہ ۔تو ہنس پڑے، کہتے ہیں آپ نے بڑی اچھی بات کی ہے۔ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔ آپ نے بہت اچھی بات کی۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ دیکھو، خوش نصیب ہوتا ہے وہ شخص جس کو یہ بات سمجھ آجائے کہ میرا وقت کیسے قیمتی بن جائے؟ وقت تو جانا ہے، وقت تو رہتا نہیں ہے کسی کے پاس، تو بس قیمتی بن جائے، استعمال ہو جائے۔


                  تو یہاں پر حضرت نے یہ بات فرمائی:

                  کمالِ طہارت اور کمالِ وضو کے بعد نماز کا قصد کرنا چاہیے، جو مومن کی معراج ہے۔

                  سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ، اَلصَّلَاةُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ۔ "نماز مومن کی معراج ہے"۔ معراج کیوں کہتے ہیں اس کو؟ یعنی اس کے اندر جو روحانیت کی پرواز ہے وہ ایسی ہے جیسے اللہ پاک کے ساتھ ملاقات کرنا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے۔ اب آپ جو ہے نا نماز میں ۔۔کیوں وجہ کیا ہے؟ جس وقت ہم کہتے ہیں اللہ اکبر، تکبیر تحریمہ کہتے ہیں تو اس کے ساتھ ہم دنیا سے نکل جاتے ہیں۔ اب آپ دنیا میں نہیں ہیں۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا سمجھانے کے لیے، کہ دیکھو کبھی کوئی کسی کو اس طرح دیکھا ہو کہ آپ کے درمیان بیٹھا ہو اور اچانک کہہ دے، السلام علیکم! آپ کہیں گے اس کو کیا ہو گیا؟ آپ کدھر تھے؟ اچانک آپ نے کہہ دیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کیا بات ہے؟ آپ کو کیا ہو گیا؟ کہاں ہیں؟ تو کہتے ہیں: نماز میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں لوگ اور کہتے ہیں: "السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم"۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ادھر نہیں تھے۔ جیسے آپ نے کہا "اللہ اکبر" تو آپ یہاں سے چلے گئے۔


                  عرفات میں الحمد للہ، حضرت کے ساتھ ہم تھے، اللہ کا شکر ہے، کیا عجیب دن تھے سبحان اللہ۔ 1984، حضرت کے ساتھ الحمد للہ ہم نے حج کیا۔ تو حضرت کے ایک خلیفہ نے ہمارے ایک پیر بھائی نے، بیان فرمایا، اور بیان بھی بدلنے کا فرمایا، کہ اب امام بدلنا چاہیے یہی وقت ہے ،ہم بدل سکتے ہیں بہت پیارا بیان فرمایا۔ اس کے بعد حضرت نے دعا شروع کی۔ حضرت کی دعا تو ویسے بھی عجیب دعا ہوتی تھی۔ اور پھر عرفات کی دعا! اس کی تو بات ہی اور ہے۔ تو حضرت دعا کر رہے تھے ساتھ ہی مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف فرما تھے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ، اور جنہوں نے حضرت کو اجازت دی تھی۔ وہ بھی تشریف فرما تھے۔ آمین آمین ہم سب کر رہے تھے۔ اچانک مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ کی زبان سے نکلا، "اوئے یہ تو چلے گئے، یہ تو ہم سے چلے گئے!" بڑی استغراق کی حالت تھی۔ اس کے بعد لوگ آئے، بس دعا پوری کی، تو لوگ آئے اور اپنے اپنے مانگ رہے ہیں جیسے کہ کہا گیا ہو کہ مانگو کیا مانگتے ہو۔ تو یہ دعا کے اندر چلے جانا ہم نے دیکھا تو ہے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا کہ واقعی ایسا ہی ہوتا تھا۔ سب کے لیے یہ چانس موجود ہے۔ چانس سب کے لیے ہے۔ بس مقام مقام کی بات ہے۔


                  تو اس طرح سب سے پہلے یہ جو چیز ہے یہ ہم سیکھ سکتے ہیں نماز میں کہ نماز میں ہم سمجھیں کہ ہم یہاں سے چلے گئے۔ جب ہم نے کہہ دیا "اللہ اکبر" تو اب ہم یہاں سے چلے گئے، اب یہاں نہیں ہیں۔ مسجد میں داخل ہو گئے تو آپ اس ملک کی عملداری سے نکل گئے۔ اب آپ کے اوپر کسی ملک کی حکومت نہیں ہے شرعاً کیا خیال ہے مفتی صاحب؟ کسی ملک کی آپ کے اوپر حکومت نہیں ہے۔ اور دوسری طرف یہ بات ہے کہ نماز میں چلے گئے تو دنیا ہی سے چلے گئے آپ۔ دنیا ہی سے چلے گئے۔ اب واپس جب آتے ہیں اس کے بعد آپ سے بات ہو سکتی ہے۔ دیکھو آپ کو سلام نہیں کیا جا سکتا، آپ سے بات نہیں ہو سکتی، آپ کسی کا کچھ کر نہیں سکتے۔ بس اب نماز ہی پڑھ سکتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ آج کل کے بعض عرب حضرات کی نمازوں، اس میں تو آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ نماز، نماز نہیں رہتی پھر، پتہ نہیں کیا چیز بن جاتی ہے۔ جیسے کسی نے موبائل آیا کسی کا تو ہمارے ہاں تو مفتیان کرام نے یہ بتایا نا کہ ایک ہاتھ سے آپ اس کو بند کر لیں۔ اتنی گنجائش ہے۔ تو بس وہ عوام کو آپ ایک کوئی اختیار دیں تو پھر وہ اختیار وہ اس پہ تو نہیں رہتا نا پھر تو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ تو فون آیا تو اس نے نکال کر کہا: "أَخِيْ! فِي الصَلَاة"! بھلے میں بھائی نماز میں ہوں، تو کیا نماز رہ گئی ہے؟ اچھا یہ واقعہ مجھے ایک عالم نے سنایا اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے اسے نماز کے بعد کہا کہ آپ کی یہ نماز یہ ٹوٹ گئی ہے۔ کہتا ہے: "عِنْدَكَ أَمْ عِنْدَنَا؟" آپ کے نزدیک ہے یا ہمارے نزدیک؟ انہوں نے کہا آپ کے نزدیک ٹوٹ گئی، ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹی!یہ بس یہ حالت ہے جی۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ایسی چیز جو ہوتی ہے نا یہ بی بی تمیزہ کا وضو ہوتا ہے۔ بی بی تمیزہ کا وضو۔ وہ کوئی ظاہر ہے دایونی ہو گی جو بھی ہے۔ تو کسی بزرگ نے کہا کہ نماز تو پڑھ لیا کرو نا۔ انہوں نے کہا میرا وضو نہیں ہوتا۔ تو انہوں نے کہا اچھا میں وضو کراتا ہوں، تو اس کو اس نے وضو کروا دیا۔ وضو کرا کے کہتے اس طرح وضو کر لیا کرو۔ تو چھ سات مہینے کے بعد جب بزرگ آئے انہوں نے کہا کہ بھئی نماز پڑھتی ہو؟ کہتی ہاں پڑھتی ہوں۔ وضو بھی کرتی ہو؟ کہتی، " آپ نے کرایا نہیں تھا؟"

                  تو حضرت نے فرمایا: یہ بی بی تمیزہ کا وضو ہے، یہ ٹوٹتا نہیں ہے۔ اس طرح ان کی نماز بھی نہیں ٹوٹتی۔ کچھ بھی کر لو، باتیں کر لو، کبڈی کر لو۔ کرتے ہیں کبڈی؟ میں نے خود دیکھا ہے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں۔ ہم سے غالباً دو صف آگے ایک صاحب تھے۔ وہ پتہ نہیں اچانک اس نے پیر اس طرح، اس طرح کھڑے کھڑے نماز کے اندر وہ پیر اس طرح، پانچ چھ دفعہ اس طرح، اس طرح کر لیا۔ کمال کی بات ہے بھئی، آگے پیچھے ہونے کا تو چلو کچھ نہ کچھ، لیکن پیروں کو اس طرح کرنے کی کہاں پر ہے اور کس طرح ہے؟ اور ضرورت اس کی کیا ہے؟ لیکن ہے، ہم نے دیکھا ہے۔


                  ایک دفعہ میں میزابِ رحمت کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ وہ برآمدے جو تھے، اب تو برآمدے نہیں رہے لیکن وہ جو ترکی برآمدے تھے پہلے والے، اب ایک صاحب نماز پڑھ رہے ہیں، تو اپنی نماز میں اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی دستار کھولا، پھر باندھ لیا، نماز کے اندر۔ اچھا پھر کمال کی بات ہے، اپنی جیب کے اندر خالی ہاتھ ڈالا اور پھر خالی نکالا، یہ مجھے بتاؤ اس کی کوئی تُک بنتی ہے؟ بھئی خالی ہاتھ جیب میں ڈالو اور پھر نکالو، اس کا کیا مطلب؟ اور کبھی ادھر خارش کبھی ادھر خارش۔ میں حیران ہوں میں حیران دیکھتا تھا، وہ ہمارے ساتھی تھے مجھے کہتے ہیں، کیوں آپ کو حیرت ہو رہی ہے؟ میں نے کہا حیرت نہیں ہوگی تو کیا ہوگی؟ کہتے ہیں: آگے دیکھو۔ میں نے کہا یا اللہ خیر! ابھی ڈانس کرے گا، کیا کرے گا؟ سب کچھ تو اس نے کر لیا ہے۔ اب اس کے بعد یہ کیا کرے گا؟ اب نماز جب ختم ہو گئی تو آرام سے بیٹھ گے۔ کہتے ہیں: یہ دیکھو نا، یہ حیرت کی بات ہے۔ اب اس کو کوئی خارش نہیں ہو رہی ہے۔ اس کو ساری خارش نماز میں ہو رہی تھی۔ یہ بات ہے۔ آج کل نماز ایسی ہو گئی، اللہ بچائے، اللہ بچائے، اللہ بچائے۔ بعض لوگ حج اور عمرے سے یہ فیض لے کے آتے ہیں۔ ان کی اچھی باتیں نہیں لاتے۔ ان کی اچھی باتیں بھی ہیں، وہ بھی سنا سکتا ہوں، لیکن ان کی اچھی باتیں نہیں لاتے، ان کی یہ باتیں لاتے ہیں کہ ٹوپی چھوڑ دیں گے، اس طرح نماز کے اندر یہ حرکتیں کریں گے، ہاں اس طرح باتیں، وہ سمجھیں گے شاید ہم نے فیض بڑا پایا ہے۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کر تا ہوں، نماز معراج المؤمنین ہے اس کا خیال رکھنا چاہیے، بہت بڑی چیز ہے، اللہ تعالیٰ سے دلوانے والی نعمت ہے۔ وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ۔


                  اور کوشش کرنی چاہیے کہ فرض نماز با جماعت ادا ہوں بلکہ امام کے ساتھ تکبیر اولی بھی ترک نہیں ہونی چاہیے، اور نماز کو مستحب وقت میں ادا کرنا چاہیے۔ قرأت میں قدر مسنون کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ رکوع و سجود میں بھی طمانیت ضروری ہے کیونکہ فرض ہے یا بقولِ مختار واجب۔ قومہ میں اس طرح سیدھا کھڑا ہونا چاہیے کہ تمام بدن کی ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں۔

                  ہم نے کپڑوں کا کہا ہے نا، حضرت فرماتے ہیں کہ ہڈیاں اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں، یعنی بالکل سیدھے ہو جائیں، ٹھیک ٹھاک ہو جائیں۔ جیسے میں ادھر جا رہا ہوں تو میرا ہاتھ اس طرف، جب میں کھڑا ہو جاؤں گا تو ہاتھ بھی اس طرف ہو جائے گا، پیر بھی سیدھے ہو جائیں گے، سینہ بھی سیدھا ہو جائے گا، مطلب ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پہ آ جائیں، یہ والی بات ہے۔

                  اور سیدھا کھڑے ہونے کے بعد طمانیت در کار ہے کیونکہ طمانیت فرض ہے یا واجب یا سنت علی اختلاف الاقوال۔ ایسے ہی جلسے میں جو دو سجدوں کے درمیان ہے اچھی طرح بیٹھنے کے بعد اطمینان ضروری ہے جیسا کہ قومہ میں۔ اور رکوع و سجود کی کم سے کم تسبیحیں تین بار ہیں اور زیادہ سے زیادہ سات بار یا گیارہ بار ہیں علی اختلاف الاقوال۔ اور امام کی تسبیح مقتدیوں کے حال کے اندازے کے مطابق ہونی چاہیے۔ شرم کی بات ہے کہ انسان تنہا پڑھنے کی حالت میں طاقت ہوتے ہوئے اقل تسبیحات پر کفایت کرے۔ اگر زیادہ نہ ہو سکے تو پانچ یا سات بار تو کہے۔ سجدہ کرتے وقت اول وہ اعضا زمین پر رکھے جو زمین کے نزدیک ہیں۔ پس اول دونوں زانو زمین پر رکھے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی۔

                  اس طرح ناک لگ جائے گی پھر پیشانی۔ اور اٹھنے میں بالکل Reverse۔

                  زانو اور ہاتھ زمین پر رکھتے وقت دائیں طرف سے ابتدا کی جائے۔ سر اٹھاتے وقت اول ان اعضا کو اٹھانا چاہیے جو آسمان سے نزدیک ہیں، پس پہلے پیشانی اٹھانی چاہیے۔ قیام کے وقت اپنی نظر کو سجدے کی جگہ پر، اور رکوع کے وقت اپنے پاؤں پر اور سجدے میں ناک کی نوک پر، اور جلوس کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں پر یا اپنی گود کی طرف نظر رکھنی چاہیے۔ جب نظر پراگندہ ہونے سے روک لی جائے اور مذکورہ بالا جگہوں پر جما لی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ نماز بجمعیت اور حضور دل کے ساتھ میسر ہو گئی۔


                  میں اب آپ کو اس کا ایک Logic بتاؤں، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے، حضرت نے بڑی قیمتی بات فرمائی ہے الحمد للہ۔ خشوع کے بارے میں لوگ پوچھتے ہیں، کہ خشوع کیا چیز ہے؟ کیا خیال ہے، پوچھتے ہیں نا؟ خشوع کیا چیز ہے؟ خشوع مطلب ظاہر ہے کیسا؟ کیونکہ خشوع کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہے۔ کم سے کم خشوع یہ ہے، اصل تو کیفیتِ احسان ہے نا، وہ تو ملے گی تو ملے گی۔ جو کم سے کم خشوع ہے وہ یہ ہے کہ یہ جو اعمال ہیں مستحب اعمال ہیں، سنت اعمال ہیں، فرض و اعمال ہیں، واجب اعمال ہیں، ان کو اپنی اپنی جگہ پر کرنے کے لیے آپ کا ذہن اتنا اس طرف متوجہ ہو، کوئی اور چیز آپ کو اس سے ہٹا نہ سکے۔ اتنا خشوع، کم سے کم۔ سمجھ میں آ گئی نا؟ لہٰذا حضرت نے یہی بات فرمائی کہ اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ جو ضروری خشوع آپ کو حاصل ہو گیا۔ ضروری خشوع آپ کو، کیوں وجہ کیا ہے؟ اگر آپ کا ذہن کسی اور طرف گیا ہو گا تو پھر آپ یہ نہیں کر سکیں گے۔ وہ آپ جو ہے نا کبھی ایک چیز رہ جائے گی کبھی دوسری چیز رہ جائے گی۔ لیکن اگر آپ اس کو یعنی دیکھو نا، پہلے آپ ناک رکھتے ہیں، پھر پیشانی رکھتے ہیں، اٹھنے میں reverse کرتے ہیں، اور آگے نہیں دیکھتے بلکہ آپ جب بیٹھے ہو تو اپنے ہاتھوں پہ یا گود میں نظر رکھتے ہیں، سجدے میں ناک کے نوک پر رکھتے ہیں، اور اپنے انگوٹھوں پہ جو ہے نا وہ رکھتے ہیں، اس میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ ساری چیزوں کا جو اہتمام آپ کر رہے ہیں تو ما شاء اللہ یہ خشوع ہے نا۔ یہ خشوع ہے۔


                  تو اتنا خشوع تو ہر ایک کر سکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی بات تو نہیں کہ انسان نہیں کر سکتا۔ میں حیران ہوتا ہوں، نماز اتنی بڑی عبادت ہونے کے باوجود لوگ جو اس کی ناقدری کرتے ہیں نا، تو میرا دل بہت دکھتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص ہے، کیا کرے گا بھئی، کتنا ہم لوگوں کا وقت اہم ہے، اور کتنا وقت ہمارا بچتا ہے؟ مثلاً میں رکوع میں جاتا ہوں، تو رکوع میں بالکل میری کمر سیدھی ہو جائے اور یا اس طرح ہو، اس میں کتنا وقت لگے گا؟ کچھ بھی نہیں؟ پھر اٹھتے وقت، میں ادھر پہنچ کے ادھر سے چلا جاتا ہوں اور ادھر کھڑا ہو جاتا ہوں، اور پھر ادھر سے جاتا ہوں، کتنا وقت میرا زیادہ لگے گا؟ اور تھکاوٹ کتنی ہو گی؟ صرف اور صرف ناقدری ہے اور کچھ نہیں ہے۔ غفلت ہے اور کچھ نہیں ہے، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

                  اور دیکھو نا ساٹھ سال تک نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، یعنی آپ دیکھیں بوڑھے بوڑھوں کی نمازیں دیکھیں۔ کیا خیال ہے، اب جو اس طرح نمازیں پڑھے تو اس نے جوانی میں بھی ایسے ہی نمازیں پڑھی ہوں گی۔ جس کی جو نماز اب ہے، تو ظاہر ہے جوانی میں بھی ایسی ہی تھی۔ بلکہ شاید اس سے بھی ممکن ہے خراب ہو، کیونکہ اس وقت تو اور چیزوں کا بھی اثرات ہوں گے۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ ہم اپنی نمازیں درست کر لیں۔ ایک چھوٹی سی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم اس کی قدر کریں اور اس کے مطابق اپنی نمازیں بنائیں۔ "نمازیں سنت کے مطابق پڑھیں" حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی۔ کسی کو نہیں ملتی ہو نا کتب خانے سے تو انٹرنیٹ پہ بھی مل جائے گی۔ اس کو ہی لے کے ڈاؤن لوڈ کر کے پرنٹ کر لو۔ ویسے مل جاتی ہے۔ دینی کتب خانوں سے مل جاتی ہے۔


                  تو ایسی چیزیں "منزل" ہو گیا، یا "نمازیں سنت کے مطابق پڑھیے"، "مناجاتِ مقبول" ہو گیا، یا "چہل حدیث شریف" ہو گیا۔ یہ بہت مفید چیزیں ہیں۔ ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ اور اگر کسی کے پاس موبائل ہے تو موبائل پہ ڈاؤن لوڈ کر کے اس کو پڑھیں۔ بہت ما شاء اللہ، آسانی کی باتیں ہیں۔


                  ایک بات اور بھی مجھے کرنی ہے، جو کتاب میں نہیں لکھی۔ وہ یہ ہے کہ ابھی حضرت نے بات فرمائی ہے مجھے اس سے یاد آ گئی یہ بات۔ حضرت نے فرمایا کہ باجماعت نماز میں امام صاحب جو ہیں یہ مقتدیوں کی رعایت کریں۔ کیونکہ ذو الحاجہ ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے، ذو الحاجہ ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس میں تو آپ جو کم سے کم مقدار ہے، اس پہ آپ کر لیں، تاکہ سب کو سہولت ہو، اس میں کسی کو تکلیف نہ ہو۔ لیکن اپنی جو نماز ہے ذاتی، انفرادی، وہ انسان جتنی لمبی کر سکے، اچھا ہے۔ اب عجیب بات یہ ہے کہ ائمہ حضرات کو جب ہم دیکھتے ہیں، تو ان کی جماعت والی نماز لمبی ہوتی ہے، اپنی انفرادی نماز چھوٹی ہوتی ہے۔ مفتی صاحب اس کو ہم کیا کہیں گے؟ اس کی کوئی Logic ہے؟ اس کی کوئی Logic نہیں ہے۔ حالانکہ الٹی بات ہے نا۔ کہ جماعت والی نماز آج کل کے لوگوں کی رعایت کے لیے، بلکہ آپ ﷺ نے باقاعدہ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ: "کیا آپ فتنہ بننا چاہتے ہیں؟" سورۃ البقرہ پڑھتے ہیں فتنہ بننا چاہتے ہیں ذو الحاجہ ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے باقاعدہ دیکھا تھا کہ تقریباً چار رکعت نماز غالباً نو، دس منٹ میں پتہ نہیں گیارہ منٹ میں پڑھی تھی۔ اور ذاتی انفرادی نماز چھ، سات منٹ میں۔ تو کیا بات ہے، اس کو کیا کہیں گے ہم؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آج کل لوگ ہمارے جو نماز کے لیے آتے ہیں ان کو بڑی غنیمت سمجھنا چاہیے۔ الحمد للہ آ رہے ہیں۔ ہماری کسی وجہ سے اگر یہ آنا بند کر لیں، تو کتنا نقصان ہے! ان کو تو کم از کم ہم آنے دیں نا جو آ رہے ہیں۔ ہماری وجہ سے کہیں بدک کے واپس نہ چلے جائیں۔

                  یہ بہت اہم بات ہے۔ مجھے یاد ہے، رویتِ ہلال کمیٹی کے اجلاس میں، میں جا رہا تھا۔ راستے میں مجھے مغرب کی نماز پڑھنی تھی۔ اور میں نے بڑی مشکل سے مسجد دریافت کر لی راستے میں، جو فیصل ایوینیو ہے اس پہ میں جا رہا تھا۔ تو بائیں طرف اس میں مجھے مینار نظر آیا تو میں چلا گیا۔ میرے خیال میں غالباً، سبحان ربی العظیم، 21 مرتبہ پڑھا جا سکتا ہو گا۔ اس وقت میرا وقت کیسا تھا؟ لیکن پروا ہی نہیں۔ اتنی لمبی! میں ابھی تک نہیں سمجھا ہوں کہ ہمارے پنجاب کے خطیب حضرات یہ قعدہ میں کیا پڑھتے ہیں؟ زیادہ دعائیں پڑھتے ہیں؟ ایک دعا پڑھتے ہیں؟

                  کیونکہ ہم نے تو بہت آہستہ آہستہ بھی پڑھا ہو نا، پھر بھی ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ گویا کہ ہمیں مزید دعائیں کرنی پڑتی ہیں ساتھ۔ ٹھیک ہے، اچھا ہے، الحمدللہ ہمیں تو فائدہ ہو جاتا ہے، لیکن کسی کو حاجت ہو تو اس کا خیال رکھنا چاہیے، نہیں رکھنا چاہیے؟ کوئی جلدی جانا چاہتا ہو؟

                  ابھی تک مجھے پتہ نہیں کہ۔۔ بلکہ میں تو میرے خیال میں بعض حضرات سے درخواست کروں گا، مجھے سنائیں کہ آپ کتنی دیر میں سناتے ہیں؟ مطلب قعدہ میں آپ کیا پڑھتے ہیں؟ التحیات اور پھر اس کے بعد جو درود شریف، پھر اس کے بعد جو۔۔یہ کس طریقے سے پڑھتے ہیں؟ کیسے ہو جاتا ہے؟

                  اور دوسرا، اکثر یہ بات ہوتی ہے کہ آج کل کا موسم allergy کا موسم ہے، اور carpet allergy سب سے خطرناک allergy ہے۔ carpet allergy سب سے خطرناک allergy ہے، کیونکہ اس کے اندر برس ہا برس کی وہ چیزیں پڑی ہوتی ہیں۔ اور بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں اس کے۔اتنا لمبا سجدہ کیسے کرتے ہیں؟ بس تین دفعہ پڑھ لو اور اس کے بعد لوگوں کو سانس لینے دو۔ جتنا کم سے کم وقت آپ سجدے میں گزار سکتے ہیں اس carpet پر، اتنا اچھا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے خدانخواستہ اگر کسی کو allergy شروع ہوگئی، تو نماز میں اس کی یکسوئی کدھر رہے گی؟ چھینکیں شروع ہو جائیں گی۔ اور کمال کی بات ہے کہ نماز میں چھینکیں آتی بھی زیادہ ہیں۔ کیوں آتی ہے؟ وہ بتاتا ہوں، Medical reason!

                  Medical reason یہ ہے کہ آپ نیچے جھکتے ہیں، جھک کے دیکھتے ہیں۔ اگر سامنے دیکھتے پھر نہیں آئے گی۔ جیسے آپ نے نیچے دیکھا تو یہ سارا sinus نیچے کی طرف اس کا رخ ہو گیا۔ اور آپ کو اگر ذرہ بھر بھی allergy کا کوئی مسئلہ ہوگا تو چھینکیں آنی شروع ہو جائیں گی۔

                  تو اس لحاظ سے نمازیوں کی یکسوئی کے لیے۔ ویسے بھی شریعت کا حکم تو ہے کہ مختصر نماز پڑھانی چاہیے، مختصر پڑھانی چاہیے۔ تو یہ جو بیمار ہیں، ان بیماروں کا خیال تو بہت زیادہ ضروری ہے نا وجہ یہ ہے کہ وہ ان کو مسئلہ ہوتا ہے۔

                  ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے: سانس کی قدر اگر کسی سے پوچھنا چاہتے ہو تو اس سے پوچھو جس کو asthma کی بیماری ہو۔ یعنی جن کو سانس کا مسئلہ ہو ان سے پوچھو، کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ سانس لینا کتنا مشکل ہے۔حضرت کو تھا۔تو حضرت کے جو خدام تھے وہ بہت خیال رکھتے تھے کہ کہیں کسی نے اگربتی نہ جلائی ہو، کہیں کسی نے وہ جو دیسی scent نہیں ہوتا، جو لگا دیں توبس کام شروع ہو جائے، اس کا وہ خیال رکھتے ہیں کیونکہ حضرت بیمار ہو جاتے تھے۔ لوگ تو شوق میں لگاتے ہیں نا۔لیکن ظاہر ہے ہر ایک کے لیے تو نہیں ہوتا۔ تو وہ یہ چیز، اور اگربتیاں بھی لوگ شوق سے لگاتے ہیں، حالانکہ asthma والوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ اگر asthma والے ہوں تو پوچھنا چاہیے،اگر کوئی asthma والے ہوتے ہوں تو نہیں لگانی چاہیے آج کل کے دور میں۔

                  تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ چونکہ میں خود بھی allergy کا مریض ہوں، تو مجھے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ میں سجدے میں کتنی مشکل سے وقت گزارتا ہوں۔ اگر سجدہ لمبا ہو جائے۔

                  اس کے لیے باقاعدہ ہم نے فتویٰ لے لیا پھر کہ اس کے لیے کیا کریں؟ کس طریقے سے؟ کہ ہر ایک کو سمجھا تو سکتے نہیں جی۔ تو بتایا گیا کہ متأخره سجدہ کرو۔ یعنی تھوڑا سا تاخیر کے ساتھ شامل ہو جاؤ، یعنی اوپر اوپر وہ زیادہ وقت گزارو۔ اور سجدے میں بالکل تھوڑا تاخیر کے ساتھ جاؤ، تو آپ کو ٹائم تھوڑا لگے گا۔ تو اس سے یہ ہوگا کہ یہ مسئلہ آپ کو نہیں ہوگا۔ تو ٹھیک ہے، جن کو مسئلہ ہو تو ان کو یہ اس طرح کہہ رہ سکتا ہے؛کیونکہ ظاہر ہے، دوسرے کا عمل تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ہاں، پہلے نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ پہلے کی ممانعت ہے۔ آپ تھوڑے ایک لمحے کے لیے بھی اگر امام سے پہلے ہو گئے تو اس کے اوپر بڑی وعید ہے۔ کیا وعید ہے؟تمہارا سر گدھے کا بنایا جائے گا۔ مطلب آخر وجہ کیا ہے؟ اگر آپ پہلے اٹھتے ہیں تو مجھے بتاؤ کیا نماز پہلے ختم کر سکتے ہیں آپ؟ نماز تو آپ امام کے ساتھ ہی ختم کریں گے نا۔ تو جب امام کے ساتھ ہی نماز ختم کرنی ہے تو پہلے اٹھنے کا آپ کو فائدہ کیا ہے؟ تو یہ گدھا پن نہیں ہے؟ تو ویسے گدھے کو حماقت کی نشانی سمجھنا یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہو گیا نا۔یورپ والے تو اس کو ذہانت کا وہ سمجھتے ہیں نا۔ وہ گدھے کو ذہین لوگوں کا وہ سمجھتے ہیں۔ اور یہ تو، کم از کم حدیث شریف سے ثابت ہو گیا کہ گدھا جو ہے وہ کیا ہے؟ حماقت کی علامت ہے۔ نہیں اس طرح کرنی چاہیے گدھے جیسی حرکتیں۔ خوامخواہ جو ہے نا، بلاوجہ اپنے آپ کو آگے کرنا، اس سے آپ کو فائدہ کیا ہے؟

                  ماشاءاللہ جی حضرت کی برکت سے آج ماشاءاللہ بہت ساری چیزیں آ گئیں۔


                  وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ


                  جاری ہے، ان شاء اللہ



                  نماز: مؤمن کی معراج اور خشوع و خضوع کی حقیقت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور