الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ (37) وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(38) وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا(39) اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(40) فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا (41) یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا (42)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ
گزشتہ آیت میں ایک چیز کا ترجمہ رہ گیا تھا اور وہ یہ کہ:
اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ (36)
بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ﴿36﴾
ایسے لوگ جو خود بھی کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں، اور اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے ذلیل کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿37﴾ اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے ﴿38﴾
اللہ جل شانہ کا کلام جو ہے، یہ بلاغت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ، یعنی آگےہے اور اس کے اندر ایک اعتدال کی فضا اللہ برقرار رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر کسی وقت جنتیوں کا ذکر ہوتا ہے تو ساتھ دوزخیوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ دوزخیوں کا ہوتا ہے تو ساتھ جنتیوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ جیسے یہاں پر یہ فرمایا کہ یعنی پہلے تو یہ فرمایا کہ جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں تو کنجوسی اور کنجوسی کی تلقین کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ناشکرے ہیں کیونکہ اپنے مال کو چھپاتے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ لیکن اس کے بالعکس وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی خرچ تو کرتے ہیں لیکن لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں تو پھر ان کے بارے میں بھی یہ فرمایا:
اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے ﴿38﴾
تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے جو ہے اس سے اپنے آپ کو بچا کر، یعنی اعتدال کے اوپر رہنا چاہیے۔ ایمان کے ساتھ یہاں پر ایمان کی بات آ گئی۔ ایمان کے ساتھ۔ کیونکہ اعمال کا جو اجر ہے وہ ایمان کے اوپر منحصر ہے۔ ایمان نہیں ہوگا تو اعمال کا اجر نہیں ہوگا۔ ایمان ہوگا تو اعمال کا اجر ہوگا۔
مثال کے طور پر کوئی بہت بھی زیادہ خرچ کر لے لیکن صرف اس لیے کہ دنیا میں اس کو فائدہ ہو جائے اور ایمان نہ ہو اس کا، تو بس ٹھیک ہے بس ان کو دنیا کا فائدہ ہو جائے گا۔ اور یہ ہے کہ آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو اللہ جل شانہ ہمیں ایمان کے ساتھ اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اور یہ جو فرمایا: ﴿وَمَاذَا عَلَيْهِمْ﴾ "بھلا ان کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے، اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کر دیتے؟ اور اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے ﴿39﴾ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے کئی گنا کر دیتا ہے، اور خود اپنے پاس سے عظیم ثواب دیتا ہے ﴿40﴾پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے؟" ﴿41﴾
تو یہاں پر یہ والی بات آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ان کے لیے ایک راستہ میں نے کھولا ہوا تھا اور یہ کہ اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے، یعنی کوئی کام بھی کرتے تو آخرت کو سامنے رکھ کر کرتے اور اللہ پر ان کا ایمان ہوتا اور جو اللہ نے ان کو رزق عطا فرمایا ان میں سے کچھ نیک کاموں میں بھی خرچ کر لیتے۔ تو اللہ جل شانہ ان کی اس نیکی کو کئی گنا بڑھا دیتا۔ اور اپنے پاس سے مزید عظیم ثواب بھی پہنچا دیتا۔ یعنی یہ گویا کہ بہت نفع کا سودا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا مال، اس کو اللہ کا دیا ہوا مال سمجھو۔ یعنی اس پر شکر کرو۔ اور اللہ کا فضل سمجھو۔ اور دوسری بات اس میں سے اللہ ہی کے لیے اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ پاک اس کی نیکی کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔ اور پھر اپنے پاس سے بھی بہت کچھ عطا فرمائیں گے، فضل سے۔
تو یہ اصل میں جو اپنے پاس سے دینے والی بات ہے نا، یہ انسان کو بچاتی ہے، اور انسان کو آگے بڑھاتی ہے۔ یہ جو ہم اعمال کرتے ہیں، اعمال کے لحاظ سے تو گویا کہ وہ اللہ پاک سے لینے والا راستہ کھل جاتا ہے۔ وہ کافی نہیں ہوتے ہمارے اعمال اس کے لیے۔ جیسے فرمایا گیا نا کہ جنت لوگ اپنے عمل سے نہیں حاصل کر سکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جنت میں بھیجیں گے۔ لیکن اعمال اس کے لیے راستہ بناتے ہیں نا۔ کیونکہ پورے قرآن میں اعمال کا حکم ہے۔ اور بری چیزوں سے رکنے کا حکم ہے۔
تو اس کا مطلب یہ اعمال تو کرنے پڑیں گے لیکن وہ اعمال کافی نہیں ہوں گے، مطلب اس نتیجے کے لیے۔ اس کے لیے اللہ پاک نے اپنی طرف سے فضل کا ایک نظام بنایا ہوا ہے، تو اللہ پاک اس پر اپنا فضل فرمائیں گے اور کام بن جائے گا۔
اچھا، اب جو لوگ اپنے اعمال پر اتراتے ہیں، تو اس فضل والے سلسلے سے ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ نتیجتاً اپنا کام خراب کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک برابر کا برابر معاملہ فرمائے تو ان اعمال کا اجر بھی ان کو کافی نہیں ہوگا۔ تو اللہ کی طرف سے تو ظلم نہیں ہوا، لیکن یہاں پر فرمایا کہ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ تو اللہ پاک کی طرف سے ظلم تو نہیں ہوگا۔ صرف اعمال کا بدلہ وہ مل جائے گا، لیکن وہ ناکافی ہوگا۔ نتیجتاً خسارے میں چلے جائیں گے۔
لیکن اگر وہ اعمال کریں گے اور ساتھ ساتھ اللہ کے فضل پہ نظر ہوگی، نیت اللہ کی رضا کی ہوگی تو پھر اللہ پاک اس کو اپنی طرف سے اس کو بہت بڑھا دے گا۔ اور اسی پر نجات ہو جائے گی۔ ما شاء اللہ!
پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔﴿41﴾
تمام انبیائے کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بنا کر پیش کیا جائے گا۔
یعنی وہ لوگ تو کہیں گے نا کہ ہمیں تو پتہ نہیں تھا۔ تو پیغمبر کہے گا کہ میں نے تو ان تک بات پہنچائی تھی۔ میں نے تو ان کو بات پہنچائی۔ تو یہ بات ہے کہ آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے اس بات پر۔ تو اچھے برے اعمال جو ہوں گے وہ اس پر گواہ ہوں گے۔ تو اس وجہ سے کوئی بات بچ نہیں سکے گی۔
جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے اور رسول کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اختیار کیا ہے، اس دن وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہیں زمین (میں دھنسا کر اس) کے برابر کر دیا جائے، اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ ﴿42﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو برے انجام سے بچائے۔