بخل اور ریاکاری کی مذمت اور اعمال میں ایمان و نیت کی اہمیت

درس نمبر 184، سورۃ النساء: آیت: 37 تا 42- اشاعتِ اول: 30 مئی، 2022، بمطابق 28 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• قرآنِ مجید کے اندازِ بیان میں بشارت اور انذار کا اعتدال

• کنجوسی (بخل) اور دکھاوے (ریاکاری) کی سنگینی اور ان کا وبال

• اعمال کے اجر کے لیے ایمان اور آخرت پر یقین کی بنیادی شرط

• اللہ تعالیٰ کا بے پایاں عدل، فضل اور نیکیوں کو کئی گنا بڑھانا

• اعمال پر اترانے کے نقصانات اور اللہ کے فضل پر نظر رکھنے کی ضرورت

• قیامت کے دن انبیائے کرام اور بالخصوص نبی کریم ﷺ کی اپنی امت پر گواہی

• روزِ قیامت نافرمانوں اور کافروں کا خوف اور زمین میں دھنس جانے کی حسرت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ (37) وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(38) وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا(39) اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا(40) فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا (41) یَوْمَىٕذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا (42)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ


گزشتہ آیت میں ایک چیز کا ترجمہ رہ گیا تھا اور وہ یہ کہ:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ (36)

بیشک اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا ﴿36﴾

ایسے لوگ جو خود بھی کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی تلقین کرتے ہیں، اور اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے ایسے ناشکروں کے لئے ذلیل کر دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿37﴾ اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں، اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے ﴿38﴾


اللہ جل شانہ کا کلام جو ہے، یہ بلاغت کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ، یعنی آگےہے اور اس کے اندر ایک اعتدال کی فضا اللہ برقرار رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر کسی وقت جنتیوں کا ذکر ہوتا ہے تو ساتھ دوزخیوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ دوزخیوں کا ہوتا ہے تو ساتھ جنتیوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ جیسے یہاں پر یہ فرمایا کہ یعنی پہلے تو یہ فرمایا کہ جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں تو کنجوسی اور کنجوسی کی تلقین کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ناشکرے ہیں کیونکہ اپنے مال کو چھپاتے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ لیکن اس کے بالعکس وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ یعنی خرچ تو کرتے ہیں لیکن لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں تو پھر ان کے بارے میں بھی یہ فرمایا:

اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ روز آخرت پر۔ اور شیطان جس کا ساتھی بن جائے تو وہ بدترین ساتھی ہوتا ہے ﴿38﴾


تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے جو ہے اس سے اپنے آپ کو بچا کر، یعنی اعتدال کے اوپر رہنا چاہیے۔ ایمان کے ساتھ یہاں پر ایمان کی بات آ گئی۔ ایمان کے ساتھ۔ کیونکہ اعمال کا جو اجر ہے وہ ایمان کے اوپر منحصر ہے۔ ایمان نہیں ہوگا تو اعمال کا اجر نہیں ہوگا۔ ایمان ہوگا تو اعمال کا اجر ہوگا۔

مثال کے طور پر کوئی بہت بھی زیادہ خرچ کر لے لیکن صرف اس لیے کہ دنیا میں اس کو فائدہ ہو جائے اور ایمان نہ ہو اس کا، تو بس ٹھیک ہے بس ان کو دنیا کا فائدہ ہو جائے گا۔ اور یہ ہے کہ آخرت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو اللہ جل شانہ ہمیں ایمان کے ساتھ اچھے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اور یہ جو فرمایا: ﴿وَمَاذَا عَلَيْهِمْ﴾ "بھلا ان کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے، اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کر دیتے؟ اور اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے ﴿39﴾ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے کئی گنا کر دیتا ہے، اور خود اپنے پاس سے عظیم ثواب دیتا ہے ﴿40﴾پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے؟" ﴿41﴾


تو یہاں پر یہ والی بات آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ان کے لیے ایک راستہ میں نے کھولا ہوا تھا اور یہ کہ اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے، یعنی کوئی کام بھی کرتے تو آخرت کو سامنے رکھ کر کرتے اور اللہ پر ان کا ایمان ہوتا اور جو اللہ نے ان کو رزق عطا فرمایا ان میں سے کچھ نیک کاموں میں بھی خرچ کر لیتے۔ تو اللہ جل شانہ ان کی اس نیکی کو کئی گنا بڑھا دیتا۔ اور اپنے پاس سے مزید عظیم ثواب بھی پہنچا دیتا۔ یعنی یہ گویا کہ بہت نفع کا سودا ہے کہ اللہ کا دیا ہوا مال، اس کو اللہ کا دیا ہوا مال سمجھو۔ یعنی اس پر شکر کرو۔ اور اللہ کا فضل سمجھو۔ اور دوسری بات اس میں سے اللہ ہی کے لیے اللہ کے راستے میں خرچ کرو۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ پاک اس کی نیکی کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔ اور پھر اپنے پاس سے بھی بہت کچھ عطا فرمائیں گے، فضل سے۔


تو یہ اصل میں جو اپنے پاس سے دینے والی بات ہے نا، یہ انسان کو بچاتی ہے، اور انسان کو آگے بڑھاتی ہے۔ یہ جو ہم اعمال کرتے ہیں، اعمال کے لحاظ سے تو گویا کہ وہ اللہ پاک سے لینے والا راستہ کھل جاتا ہے۔ وہ کافی نہیں ہوتے ہمارے اعمال اس کے لیے۔ جیسے فرمایا گیا نا کہ جنت لوگ اپنے عمل سے نہیں حاصل کر سکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جنت میں بھیجیں گے۔ لیکن اعمال اس کے لیے راستہ بناتے ہیں نا۔ کیونکہ پورے قرآن میں اعمال کا حکم ہے۔ اور بری چیزوں سے رکنے کا حکم ہے۔


تو اس کا مطلب یہ اعمال تو کرنے پڑیں گے لیکن وہ اعمال کافی نہیں ہوں گے، مطلب اس نتیجے کے لیے۔ اس کے لیے اللہ پاک نے اپنی طرف سے فضل کا ایک نظام بنایا ہوا ہے، تو اللہ پاک اس پر اپنا فضل فرمائیں گے اور کام بن جائے گا۔


اچھا، اب جو لوگ اپنے اعمال پر اتراتے ہیں، تو اس فضل والے سلسلے سے ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں۔ نتیجتاً اپنا کام خراب کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک برابر کا برابر معاملہ فرمائے تو ان اعمال کا اجر بھی ان کو کافی نہیں ہوگا۔ تو اللہ کی طرف سے تو ظلم نہیں ہوا، لیکن یہاں پر فرمایا کہ اللہ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ تو اللہ پاک کی طرف سے ظلم تو نہیں ہوگا۔ صرف اعمال کا بدلہ وہ مل جائے گا، لیکن وہ ناکافی ہوگا۔ نتیجتاً خسارے میں چلے جائیں گے۔


لیکن اگر وہ اعمال کریں گے اور ساتھ ساتھ اللہ کے فضل پہ نظر ہوگی، نیت اللہ کی رضا کی ہوگی تو پھر اللہ پاک اس کو اپنی طرف سے اس کو بہت بڑھا دے گا۔ اور اسی پر نجات ہو جائے گی۔ ما شاء اللہ!


پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور (اے پیغمبر!) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔﴿41﴾

تمام انبیائے کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بنا کر پیش کیا جائے گا۔

یعنی وہ لوگ تو کہیں گے نا کہ ہمیں تو پتہ نہیں تھا۔ تو پیغمبر کہے گا کہ میں نے تو ان تک بات پہنچائی تھی۔ میں نے تو ان کو بات پہنچائی۔ تو یہ بات ہے کہ آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے اس بات پر۔ تو اچھے برے اعمال جو ہوں گے وہ اس پر گواہ ہوں گے۔ تو اس وجہ سے کوئی بات بچ نہیں سکے گی۔


جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے اور رسول کے ساتھ نافرمانی کا رویہ اختیار کیا ہے، اس دن وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش انہیں زمین (میں دھنسا کر اس) کے برابر کر دیا جائے، اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ ﴿42﴾


اللہ جل شانہ ہم سب کو برے انجام سے بچائے۔


حصہ دوم: تفصیلی تشریح و افادات

خوف اور امید کا متوازن احساس
قرآنِ پاک کا اسلوبِ بیان نہایت واضح اور مؤثر ہے۔ اس میں اکثر دو مختلف اور متضاد باتوں کو ایک ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔ جب بھی نیک لوگوں کے اعمال اور ان پر ملنے والی جنت کا تذکرہ آتا ہے، تو فوراً بعد برے اعمال اور دوزخ کے عذاب کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کے دل میں خوف اور امید دونوں کا احساس قائم رہے اور وہ اعتدال کے راستے پر چلتا رہے۔

نبی کریم ﷺ کی سخاوت
سورۃ النساء کی آیت 37 میں بخل کرنے اور مال چھپانے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے برعکس جب ہم نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کو دیکھتے ہیں، تو آپ ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ جو مال بھی آتا اسے فوراً حاجت مندوں میں تقسیم فرما دیتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیرتے ہی جلدی سے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر میں واپس آئے تو کسی کے پوچھنے پر فرمایا کہ گھر میں صدقے کا کچھ سونا رکھا ہوا تھا، مجھے یہ بات ناپسند گزری کہ وہ رات بھر میرے پاس رہے، اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔

مال پر غرور اور قارون کا انجام
مال کے معاملے میں انسان کو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے دیا ہے، وہ اسے اپنی قابلیت اور محنت کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے۔ قارون اس کی واضح مثال ہے۔ وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے زکوٰۃ دینے کا حکم دیا اور سمجھایا کہ جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان کیا ہے، تو بھی دوسروں پر احسان کر، تو اس نے تکبر سے جواب دیا کہ یہ سب تو مجھے میرے اپنے علم اور قابلیت کی وجہ سے ملا ہے۔ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے قارون نے ایک سازش کی اور ایک بدچلن عورت کو رشوت دے کر راضی کیا کہ وہ مجمعِ عام میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگائے۔ جب عورت نے مجمع میں یہ بات کہی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے اللہ کی قسم دی کہ سچ بتائے۔ عورت کانپ اٹھی اور اس نے اعتراف کر لیا کہ یہ قارون کی سازش ہے۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شدید رنج ہوا اور انہوں نے رو کر اللہ سے قارون پر عذاب کی دعا کی۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی، زمین کو ان کے تابع کر دیا، اور ان کے حکم پر قارون اور اس کا عالی شان محل اور ساری دولت زمین میں دھنسا دی گئی۔

دورِ حاضر کی حرص بمقابلہ قناعت
آج کے دور میں مال کی حرص کی مثال ایلون مسک جیسے افراد ہیں، جن کے پاس اربوں ڈالر ہونے کے باوجود مال بڑھانے کی ہوس ختم نہیں ہوتی۔ حالانکہ انسان کی اصل ضرورت بہت محدود ہے۔ شیطان انسان کو مستقبل اور حالات کا خوف دلا کر مزید دولت جمع کرنے پر اکساتا ہے۔ بعض لوگوں کے پاس اتنی دولت ہوتی ہے کہ پیسے گر جائیں تو اٹھاتے وقت گنتے بھی نہیں، لیکن پھر بھی سود کے ذریعے پیسہ بڑھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اس کے برعکس صحابہ کرام کا مزاج قناعت اور توکل پر مبنی تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جب ضرورت کے مطابق کھجوریں مل جاتیں تو وہ مزید کے لیے مزدوری نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بہت مالدار تھے، لیکن اپنا مال سخاوت میں خرچ کر دیتے تھے۔

ریاکاری اور اعمال پر فخر کے نقصانات
آیت 38 میں دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والوں کا ذکر ہے۔ ریاکاری ایک انتہائی خطرناک چیز ہے جس کی وجہ سے انسان اپنا عمل خود خراب کر لیتا ہے اور لوگوں کو دکھانے کی خاطر اپنا سارا اجر ضائع کر بیٹھتا ہے۔ ہر کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ریاکاری جتنی خطرناک ہے، اپنے اعمال پر فخر کرنا اور اترانا اس سے بھی زیادہ شدید نقصان دہ ہے۔

ایمان اور یقین کا فرق
ایمان اور یقین بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں لیکن یہ دونوں الگ الگ درجے ہیں۔ پہلے ایمان ہوتا ہے اور اس کے بعد یقین کا مرحلہ آتا ہے۔ آخرت پر جتنا یقین بڑھے گا، اعمال میں اتنی ہی پختگی آئے گی۔ عقیدے کے اعتبار سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ایک عام مسلمان کا ایمان ایک ہی ہے، لیکن یقین کے درجے میں نمایاں فرق ہے۔ لوگ مانتے ہیں کہ شریعت میں ایک کام ناجائز ہے، لیکن یقین کی کمی کی وجہ سے پھر بھی وہ کام کرتے ہیں، جیسے سود کا لین دین۔

یقین کی کمی: ایک سبق آموز واقعہ
اس یقین کی کمی کو ایک واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک گاؤں میں ایک عورت سود پر پیسے دینے کا کام کرتی تھی۔ ایک دن وہ کوئی محنت مزدوری کا کام (جیسے سویٹر بننا) کر رہی تھی، تو دوسری عورتوں نے پوچھا کہ تم تو اتنی مالدار ہو، یہ کام کیوں کر رہی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ یہ پیسے میں اپنے کفن کے لیے بچا رہی ہوں تاکہ میرا کفن حلال پیسوں سے آئے۔ یعنی اس کا ایمان تھا کہ سود حرام ہے، لیکن یقین اتنا کمزور تھا کہ وہ سود کے کام کو چھوڑ نہیں سکتی تھی۔ تبلیغی جماعت والے بھی اسی ایمان اور یقین کی محنت پر زور دیتے ہیں۔

زندگی کے مختلف شعبوں میں یقین کے درجات
اگر لوگوں کا جائزہ لیا جائے تو عبادات کی حد تک یقین رکھنے والے سب سے زیادہ ہیں۔ معاملات (لین دین) کے معاملے میں یقین والے افراد اس سے کم ہیں۔ معاشرت (رہن سہن اور تعلقات) میں یہ تعداد اور کم ہو جاتی ہے، اور اخلاق کے معاملے میں یقین رکھنے والے لوگ سب سے کم ہیں۔ کامل اخلاق میں عبادات، معاملات اور معاشرت کی تمام اعلیٰ صفات شامل ہوتی ہیں، اسی لیے یقین کا درجہ جتنا بڑھتا ہے، اعمال کا اجر بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔

قرآن میں تدبر کی دعوت
انہیں باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت نے درس کے آخر میں یہ نصیحت فرمائی کہ قرآنِ پاک کو پڑھتے وقت اس میں غور و فکر (تدبر) کیا جائے اور ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں لانے کی کوشش کی جائے۔

بخل اور ریاکاری کی مذمت اور اعمال میں ایمان و نیت کی اہمیت - درسِ قرآن - دوسرا دور