حدیثِ قدسی کی روشنی میں: مقامِ ولایت، قربِ الٰہی کے ذرائع اور اس کے ثمرات

بَابٌ فِي المجاہدہ، درس نمبر: 149 حدیث نمبر: 95 اشاعتِ اول: 17 دسمبر، 2022 بمطابق 22 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اللہ کے ولی سے عداوت پر اللہ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ

    فرائض اور نوافل کے ذریعے قربِ الٰہی اور مقامِ محبوبیت کا حصول

    اللہ کا بندے کے اعضاء (کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں) بن جانے کا مفہوم

   حدیثِ قدسی کی تشریح میں اکابر محدثین و علماء کے اقوال

    "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ" (جو اللہ کا بنتا ہے، اللہ اس کا بن جاتا ہے) کی حقیقت

   بندے اور اللہ کے ارادے و چاہت کا یکجا ہو جانا (مقامِ رضا)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

اللہ کے ولی سے دشمنی اللہ سے دشمنی ہے

(95) ﴿فَالْاَوَّلُ: وَعَنْ اَبِیْ ہُـرَیْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: "اِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ: مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ؛ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ"﴾ (رواہ البخاری)

”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں، میرا بندہ فرائض سے زیادہ اور کسی محبوب عمل کے ساتھ میرا تقرب حاصل نہیں کرسکتا، میرا بندہ نوافل پڑھ کر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو محبوب سمجھتا ہوں تو میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ حاصل کرے تو میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔“ (بخاری)

اٰذَنْتُہٗ: اس کا معنی ہے میں اس کو بتا دیتا ہوں کہ میری اس سے جنگ ہے۔

اللہ کے ولی کی دشمنی اللہ سے دشمنی ہے کیونکہ اللہ پاک یہی فرماتے ہیں، اللہ پاک: "مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ"، جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں جو میرے ولی کو ایذا دیتا ہے تو اس شخص کی یہ انتہائی قابلِ نفرت حرکت کی وجہ سے میں اس کے ساتھ لڑائی کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو میرے ولی سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے، جب وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے تو میں بھی اس کے خلاف اعلانِ جنگ کروں گا۔

اعلانِ جنگ اللہ جل شانہ کے ہاں وہ جگہ ہوتا ہے، دو جگہ ہوتا ہے، ایک یہاں پر اور دوسرا سود کے بارے میں۔

اللہ کا کان، ہاتھ، پاؤں بن جانے کے پانچ مطلب

«فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ»: میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے۔ اس جملہ کے محدثین متعدد مطالب بیان فرماتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

حافظ تور بشتیؒ یہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات کے ذریعہ میں اپنے بندے پر محبت ڈال دیتا ہوں پھر وہ ہر قسم کے شہوات چھوڑ کر اللہ ہی کی محبت کو دل میں غالب کر لیتا ہے پھر وہ بندہ جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو سنتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں سنتا اور اسی طرح جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو دیکھتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھتا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان فرمایا کہ بندہ عبادت کے ذریعہ سے جب اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے تو اللہ کا نور اس کو گھیر لیتا ہے پھر اسی کی برکت سے اس شخص سے ایسی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں جو خلافِ عادت ہوتی ہیں، اسی وقت میں بندے کے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جیسے کہ قرآن میں بھی اس کی متعدد مثال ملیں گی مثلاً «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمٰى»: اے نبی! ﷺ کنکریاں تم نے نہیں، ہم نے پھینکی تھیں، تو اسی وجہ سے یہاں پر بھی اللہ نے اپنی طرف منسوب کر لیا۔

مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے بندہ کو اللہ سے قرب حاصل ہوتے ہوتے اس درجہ شدید تعلق و محبت ہو جاتی ہے گویا کہ وہ اللہ کی آنکھ و کان اور ہاتھ سے دیکھتا ہے، سنتا اور کرتا ہے، اس جملہ سے بندہ کو اللہ کے ساتھ شدتِ محبت کو بیان کرنا مقصود ہے (معاذ اللہ اتحاد یا حلول ثابت کرنا مقصود نہیں ہے)

شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نوافل کے ذریعہ سے بندے کا اللہ جل شانہ سے قرب ہو جاتا ہے پھر تمام معاملات اس پر منکشف ہونے لگتے ہیں

علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ میں اس بندہ پر ان افعال و اعمال کو آسان کر دیتا ہوں جن کا تعلق ان اعضاء سے ہے اور ان اعمال و افعال کے کرنے کی توفیق دیتا ہوں یہاں تک کہ گویا اعضاء ہی بن جاتا ہوں۔

اصل میں بات اتنی ہے کہ جو اللہ کا بن جاتا ہے اللہ اس کا بن جاتا ہے۔ "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ"۔

جو اللہ کا بن جاتا ہے اس میں یہ آتا ہے کہ وہ وہی کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس چیز کو دیکھنے کا کہتا ہے وہی دیکھتا ہے، جس چیز کو سننے کا کہتا ہے وہی سنتا ہے، جو چیز کو بولنے کو کہتا ہے وہی بولتا ہے، جہاں چلنے کو کہتا ہے وہیں چلتا ہے۔ تو گویا کہ وہ خود اللہ جل شانہ کا آلہ بن جاتے ہیں، مطلب اللہ جل شانہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ یہ تو "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ"کا مطلب ہو گیا۔

"كَانَ اللّٰهُ لَهُ" پھر اللہ پاک وہی کرنے لگتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے، یعنی مطلب گویا کہ اس کے ارادے کے ساتھ اللہ کا ارادہ شامل ہو جاتا ہے، یعنی وہ اللہ کی محبت میں جو عمل بھی کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے کیونکہ اللہ بھی وہی چاہتا ہے۔

تو یہ دونوں بالکل آپس میں لازم ملزوم ہو گئے کہ "يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُمْ"۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو چاہتا ہے اور وہ بھی اللہ کو چاہتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں جس کو کہتے ہیں Bi-directional۔ یعنی اللہ پاک جو چاہتا ہے بندہ وہی کرتا ہے اور جو بندہ چاہتا ہے وہی اللہ کرتے ہیں۔ یعنی چونکہ اللہ کی چاہت بندے کی چاہت بن جاتی ہے تو بندہ بھی وہی چاہتا ہے جو اللہ چاہتا ہے تو جو بندہ کرتا ہے اللہ بھی وہی کرتا ہے۔ تو اس میں کوئی مشکل والی بات نہیں ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔



حصہ دوم: تفصیلی تشریح و افادات

حدیثِ قدسی اور مقامِ عبدیت

مذکورہ روایت ایک حدیثِ قدسی ہے۔حدیثِ قدسی وہ ہوتی ہے جس میں الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہوتے ہیں جبکہ مفہوم براہِ راست اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے، اِس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سچی عبدیت (بندگی) ہی سے اللہ پاک کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ جب انسان فرائض اور نوافل کی پابندی کر کے اپنے اعضاء کو اللہ پاک کی رضا والے کاموں میں استعمال کرتا ہے، تو اللہ پاک اسے اپنا آلہ بنا لیتے ہیں۔ پھر وہ جو بھی عمل کرتا ہے، اللہ پاک کے ارادے سے کرتا ہے۔ جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، تو پھر جو شخص اس سے عداوت اور دشمنی کرتا ہے، اس کے لیے اللہ پاک نے فرمایا ہے: "مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ" (جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے، میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں)۔ اللہ پاک بعض اوقات اس کی بڑی واضح اور عجیب مثالیں دنیا ہی میں دکھا دیتے ہیں۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کا واقعہ

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) بلاشبہ امت کے جید عالم، مجاہدِ حریت اور ولی اللہ تھے۔ اپنے عجز و انکسار کے سبب وہ خود کو ہمیشہ "خاکسار" یا "عاجز" کہا کرتے تھے۔

قیامِ پاکستان سے قبل کے دور میں، ایک سیاسی جماعت کا حضرت کے ساتھ شدید سیاسی و نظریاتی اختلاف تھا۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کا اپنا سیاسی و دینی دورہ مکمل کر کے ٹرین کے ذریعے واپس تشریف لا رہے تھے۔ جب ان کی ٹرین جالندھر ریلوے اسٹیشن پر رکی، تو وہاں مخالف سیاسی جماعت کے چند جذباتی نوجوان پہلے سے موجود تھے، جن کی قیادت شمس الحق نامی ایک نوجوان کر رہا تھا۔

ان نوجوانوں نے ٹرین کے ڈبے پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے نعرے بازی کی اور حد سے گزرتے ہوئے حضرت مولانا مدنیؒ پر حملہ آور ہو گئے۔ ان لوگوں نے آپ کو طمانچے مارے، آپ کی پگڑی سر سے اتار دی اور انتہائی شرمناک حرکت کرتے ہوئے آپ کی داڑھی مبارک پر شراب انڈیل دی۔

اللہ کے اس ولی نے اس بدترین توہین پر بھی کسی قسم کے غصے یا بدلے کا اظہار نہیں کیا۔ آپ نے کمالِ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی، ان نوجوانوں کے لیے بددعا تک نہ کی، اور اپنے چاہنے والوں کو بھی پرامن رہنے کی تلقین کی۔

جب اس واقعے کی خبر خطیبِ اسلام سید عطاء اللہ شاہ بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) کو پہنچی، تو وہ اس توہین کو برداشت نہ کر سکے۔ انہوں نے امرتسر کے "چوک فرید" میں ایک بہت بڑے جلسے کا انعقاد کیا۔ اس دن شاہ جی تاریخ میں پہلی بار ننگے سر (بغیر ٹوپی کے) اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے روتے ہوئے فرمایا: "جب سے میری قوم نے حسین احمد کی پگڑی اتاری ہے، میں نے عہد کیا ہے کہ آج سے سر پر ٹوپی نہیں رکھوں گا۔" چنانچہ انہوں نے اپنی باقی زندگی ننگے سر ہی گزاری۔

اللہ کے ولی سے دشمنی کا انجام

دوسری طرف شمس الحق کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے اس کارنامے کا مزے لے لے کر ذکر کرتا تھا۔ ایک مرتبہ مولانا عظامی صاحب نے یہ واقعہ سنا تو کانپنے لگے اور بار بار پوچھا: "کیا واقعی تم نے یہی کیا ہے؟" وہ فخر سے سینہ پھلا کر بولا کہ جی، میں نے یہی کیا ہے۔ مولانا نے فرمایا: "میاں! جس نے حسین احمد مدنیؒ کے ساتھ یہ کیا ہے، اس کی تو لاش بھی نہیں ملے گی۔" پھر زمانے نے دیکھا کہ شمس الحق پاکستان آ کر قتل ہو گیا۔ اس کی لاش تک نہ ملی اور اس کا قتل ایک معمہ ہی رہا۔ مقتول کا دوسرا ساتھی ہجرت کے وقت دریائے بیاس میں ڈوب کر مر گیا۔

اسی واقعے کی روشنی میں، حضرت نے بیان کے آخر میں فرمایا کہ میں اکثر یہ دعا کرتا ہوں: "یا اللہ! کسی دنیاوی معاملے میں، میں کبھی کسی اللہ والے کا مخالف نہ بن جاؤں۔" کیونکہ اللہ والوں سے مخالفت خود کو تباہ و برباد کرنے والی بات ہے۔

حدیثِ قدسی کی روشنی میں: مقامِ ولایت، قربِ الٰہی کے ذرائع اور اس کے ثمرات - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور