الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ (33)
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِـعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا (34) وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا(35) وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــئًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ (36)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
"اور ہم نے ہر اس مال کے کچھ وارث مقرر کئے ہیں جو والدین اور قریب ترین رشتہ دار چھوڑ کر جائیں۔ اور جن لوگوں سے تم نے کوئی عہد باندھا ہو ان کو ان کا حصہ دو"۔
جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کر لیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہٰذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آ پڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا۔ اس رشتے کو "موالاۃ" کہا جاتا تھا۔ یہاں اسی معاہدے کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نو مسلم سے قائم ہو سکتا ہے، اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔
یہ وہ مولی الموالات جو ہے اس کا باقاعدہ میراث میں ایک وہ ہے۔ یعنی وارث، اگر دوسرے ورثاء نہ ہوں۔
"بیشک اللہ ہر چیز کا گواہ ہے ﴿33﴾ مرد عورتوں کے نگران ہیں"۔
بڑے خوبصورت الفاظ سے ما شاء اللہ ان کا کیا ہے۔
"مرد عورتوں کے نگراں ہیں، کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور کیونکہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ چنانچہ نیک عورتیں فرماں بردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے (اس کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو (پہلے) انہیں سمجھاؤ، اور (اگر اس سے کام نہ چلے تو) انہیں خواب گاہوں میں تنہا چھوڑ دو، (اور اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں مار سکتے ہو۔پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کارروائی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر، سب سے بڑا ہے ﴿34﴾ اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو تو (ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے) ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے بھیج دو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا فرما دے گا۔ بیشک اللہ کو ہر بات کا علم اور ہر بات کی خبر ہے ﴿35﴾ اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی"
اصل میں یہاں جو باتیں کی گئی ہیں معاشرتی باتیں ہیں۔ اور معاشرت صحیح انداز میں اسی پر چل سکتی ہے جب ان باتوں پر عمل ہوگا۔ مثلاً یہ جو قانون ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَآء" " مرد عورتوں کے نگران ہیں"
اس کی وجہ کیا ہے؟ میں نے کل بھی اس پر بات کی ہے کہ مرد جو ہیں، ان کو اللہ پاک نے باہر کے کاموں کے لیے پیدا کیا ہے۔ باہر کے کام، ذمہ داریاں، نان نفقہ کی ذمہ داریاں۔ اس وجہ سے اللہ جل شانہ نے ان کو فطرتاً عقل زیادہ دی ہے۔ تاکہ وہ اس کو استعمال کر کے، ان کاموں کو کر سکیں۔ عورتوں کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ بچوں کی تربیت ہے، گھر کے کام کاج ہیں۔ تو یہ ساری باتیں ان کی چونکہ ذمہ داریاں ہیں، اس وجہ سے اللہ پاک نے اس کے حساب سے ان کو ذوق دیا ہوا ہے اور محبت ان کے اندر یعنی جو جذبہ جو ہے نا کوٹ کے بھرا ہے۔ یعنی بچوں کے لیے محبت، ممتا جس کو ہم کہتے ہیں۔
تو جیسے ربڑ ہم کھینچتے ہیں تو لمبی ہو جاتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کی چوڑائی اور موٹائی کم ہو جاتی ہے۔ فطری بات ہے۔ تو اگر عقل زیادہ ہوتی ہے تو وہ دوسرا اس کا زور جو ہے نا وہ جذباتیت کی طرف نکل جاتا ہے، یعنی وہ کم ہو جاتے ہیں جذبات۔ اور جذباتیت زیادہ ہو جائے تو اس کے حساب سے عقل پہ اثر پڑتا ہے، عقل کم ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی غصہ ایک جذبہ ہے۔ مثال کے طور پر۔ تو جب غصہ آ جاتا ہے تو عقل کیسے ہو جاتی ہے؟ عقل پھر کام نہیں کرتی نا۔ تو اس کا مطلب ہے دیکھو نا جذبہ بڑھ گیا تو عقل کم ہو گئی۔
اسی طریقے سے کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے۔ یعنی محبت ایک جذبہ ہے، تو اس کی وجہ سے بھی عقل، جو بینائی ہے وہ مطلب وہ کم ہو جاتی ہے۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ ایک چیز کو بڑھاؤ تو دوسری کم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے عورتوں کے حصے میں چونکہ جذباتیت زیادہ آئی ہے، جذبہ زیادہ آیا ہے، تو اس کی وجہ سے ان کی عقل کم ہو جاتی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ مردوں بہت جلدی وہ نہیں آتا کہ وہ تعلقات چھوڑ دیں یا کوئی اس طرح ،بہت planning کے ساتھ وہ ہوتی ہے ایک قسم کی۔ لیکن اگر ہو جائے تو پھر اس کو کم بھی کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جیسے پانی دیر سے گرم ہوتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ تو مردوں میں اگر کسی کی دشمنی پڑ جائے تو وہ پھر دیر تک رہتی ہے۔ عورتوں کا یہ ہے کہ ابھی دشمنی ہے، تھوڑی دیر کے بعد دیکھو۔ بچوں میں سب سے زیادہ کم ہوتی ہے، بچے ابھی لڑیں گے پھر بعد میں آپس میں بات چیت کریں گے۔ اس طرح عورتیں جو ہیں نا آپس میں لڑ پڑیں، اس کے بعد تھوڑی دیر کے بعد آپس میں مل جائیں گی، ان کو پھر وہ مسئلہ نہیں ہوتا۔
تو معاشرت کے جو نظام جو چل رہے ہیں، اس پر ہے۔ اب ایک ایسے شخص کو نگران تو نہیں بنایا جا سکتا جو جذباتی ہو۔ وہ تو dynamite ہو گیا۔ مثال کے طور پر یہ طلاق کا جو حق ہے، اگر یہ عورت کو دیا جائے تو کوئی گھر نہیں بس سکتا۔ ذرا فوراً! بات بات پر۔ تو یہ حق اس لیے مرد کو دیا گیا ہے کیونکہ مرد کافی حد تک برداشت کر سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب معاملہ حد سے گزر جائے تو پھر وہ مسائل ہیں۔ اگرچہ سارے ایک جیسے نہیں ہوتے، بعض مرد بھی عورتوں کی طرح ہوتے ہیں، یعنی وہ ان کی طرح جذباتی ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے اندر بھی یہ چیز آ جاتی ہے۔ اور بعض عورتیں بھی مردوں کی طرح یعنی لیکن حکم زیادہ تر جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ یہی ہے جو کہ میں نے عرض کر لیا۔ تو قانون تو زیادہ لوگوں کے حساب سے بنتا ہے۔
تو یہ فرمایا کہ "الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَآءِ"۔ "مرد عورتوں کے نگران ہیں"۔
اور وہ فضیلت کی جو بات ہے وہ میں نے کر لی کہ عقل اور جذباتیت، اور اس قسم کی جو باتیں ہیں وہ تو سب ہیں۔ اور مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں عورتوں پہ، یہ بھی بات ہے۔ پھر جب یہ والی بات ہے، نگران جو ہوئے، تو اب ان کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ ذمہ داریاں ہیں۔
پہلی ذمہ داری کیا ہے؟ اگر عورتیں فرمانبردار ہوں، چنانچہ نیک عورتیں تو نیک عورتیں جو ہوتی ہیں وہ فرمانبردار ہوتی ہیں۔ اور وہ اپنے کام کو جانتی ہیں۔ مرد کی غیر موجودگی میں اپنی بھی حفاظت کرتی ہیں، ان کے مال کی بھی حفاظت کرتی ہیں۔ ان کے حقوق کی بھی حفاظت کرتی ہیں۔ اور اگر عورتوں میں جذباتیت کی وجہ سے کوئی ایسی سرکشی پائی جائے جو معاملے کو خراب کرتی ہو، تو پھر اس صورت میں پھر کیا کریں؟ وہ پہلا کام یہ کریں کہ ان کو سمجھائیں۔
تو جو سمجھنے والی عورتیں ہوتی ہیں جو سمجھائی جا سکتی ہیں، وہ سمجھ جائیں گی۔ اس سے کام نہ چلے تو ان کو خواب گاہوں سے علیحدہ کر دو۔ یہ ان کے لیے اچھی خاصی سزا ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ وہ پھر تنہا محسوس کرتی ہیں، تو اس سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر طریقے کی مار۔ ایسا نہیں بے طریقے نہیں جیسے منہ پر مارنا، یا ہڈی توڑنا، یا کوئی اس طرح، نہیں وہ طریقہ نہیں۔ اس طریقے سے اس کو تنبیہ تو ہو جائے لیکن نقصان نہ ہو۔ تنبیہ تو ہو جائے لیکن نقصان نہ ہو۔ تو ایسے طریقے سے پھر ان کو مارنا ہے۔
"پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان کے خلاف کارروائی کرنے کا پھر کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔"
مطلب خواہ مخواہ ایخ میخ نکال کے ان کے خلاف منصوبہ سازی، یہ ٹھیک نہیں ہے۔
"یقین رکھو کہ اللہ سب کے اوپر ہے اور سب سے بڑا ہے"۔
اور اگر درمیان میں کوئی لڑائی آ جائے، کوئی پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو، تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان سے۔ یعنی گویا کہ ایک ادھر سے اور ایک ادھر سے تاکہ دونوں کے حقوق کی حفاظت ہو۔ اور دونوں منصف ہوں، جو منصف ہوں تو فیصلہ بھی بہتر کریں گے۔ اچھا تو پھر ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ ان میں اتفاق پیدا کرے۔ کیونکہ اللہ پاک، دیکھیں نا یہاں پر فرمایا:
" اگر وہ دونوں اصلاح کرانا چاہیں گے"
یعنی وہ جو منصف مرد ہیں، "تو اللہ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا کرے گا۔" یہ بھی بہت بڑا مسئلہ یعنی اس کے اندر حل ہو رہا ہے لیکن الفاظ کے اندر غور کرنے سے پتہ چلے گا۔ وہ یہ ہے کہ مشہور قاعدہ ہے یعنی اختیار والا کہ کتنا اختیار ہے لوگوں کو۔
تو یہاں پر یہ ہے کہ اگر دونوں اصلاح کرانا چاہیں گے، یہ ان کا ارادہ ہے۔ تو وہ ارادہ کریں گے تو پھر اللہ پاک اپنا ارادہ ان کے ساتھ شامل کر کے ان میں اتفاق پیدا کریں گے۔ کیونکہ وہ خود کر نہیں سکتے، کیوں کرنے کی طاقت تو اللہ کے پاس ہے۔ لیکن جب وہ چاہتے ہیں تو پھر اللہ پاک وہ کر لیتے ہیں۔
"اور اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نیز رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی"
قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو "جار ذی القربیٰ" (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو "الجار الجنب" کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر "دور والے پڑوسی" سے کیا گیا ہے۔
اور فرمایا:
"ساتھ بیٹھے (یا ساتھ کھڑے) ہوئے شخص"
یہ فوری طور پہ ہوتا ہے مثال کے طور پر بڑی بھیڑ ہے تو میرے اس طرف، اس طرف، آگے پیچھے جو ہیں وہ یہ وہ ہیں۔ وہ لگے ہوئے پڑوسی ہیں، اس وقت کیونکہ تھوڑی دیر کے لیے ہوتے ہیں۔ یا مطلب گاڑی میں جا رہے ہیں آپ تو seat پر ساتھ بیٹھے ہوئے۔ یہ مطلب گویا کہ ہے، تو گویا کہ اس قسم کے پڑوسی جو ہوتے ہیں ان کا بھی حق ہوتا ہے۔ ان کا بھی حق ہوتا ہے۔
مثلاً سفر کے دوران ساتھ بیٹھا یا کھڑا ہو، یا کسی مجلس یا کسی لائن میں لگے ہوئے ان کے پاس ہو۔ وہ بھی ایک طرح کا پڑوسی ہے، اور اس کے ساتھ بھی اچھے برتاؤ کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے ہر راہگیر اور مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ اپنا ساتھی یا پڑوسی نہ ہو۔
مقصد یہ ہے کہ دیکھیں، اب مسجد میں ہم نماز پڑھ رہے ہیں۔ نماز کے دوران میں نے اس طرح کر لیا ہے۔ ادھر ایک کو بھی ٹکرایا ہے، دوسرے کو بھی ٹکرایا۔ یہ پڑوسی کا حق مارنا ہے۔ اور نماز کے اندر مارنا ہے۔ تو کتنی بری بات ہے؟ مطلب ظاہر ہے وہ ساتھ والے کا حق ہے کہ آپ اس کو راحت پہنچائیں، اس کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ اس سے ہمیں اندازہ لگانا چاہیے کہ جو تھوڑی دیر کے لیے بھی ہیں ان کا بھی حق ہے کہ ان کو تنگ نہ کیا جائے اور اس کو راحت پہنچائی جائے۔ تو اس طرح جو دوسرے پڑوسی ہیں جو ان سے زیادہ ہیں، وہ پھر ان کا حق اس سے بھی زیادہ ہوگا۔ بالخصوص جب بالکل پاس گھر والے ہوں۔
تو ان کا حق بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ ہمارے معاشرتی اصول ہیں۔ معاشرتی۔ تو یہ معاشرتی اصول جو ہیں، ان کے اوپر اگر ہم عمل کریں گے تو ہماری معاشرت اچھی ہوگی۔ ورنہ پھر کیا ہوگا؟ پھر دوزخ والی معاشرت ہوگی، یعنی ایک دوسرے کو کوسنا، ایک دوسرے کو تنگ کرنا، ایک دوسرے کو پریشان کرنا۔ یہ والی بات ہوگی۔ تو اس سے پھر نقصان ہوگا۔ اللہ پاک بچائے، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔