اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
ہم نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے، "پیغامِ محبت" کے درس کا منگل کے دن۔ منگل کے دن یہ ہمارا درس ہوتا ہے، ان شاءاللہ باقاعدگی کے ساتھ ہوا کرے گا۔
ابھی حسنِ ازل اور حسنِ عارضی۔ حسنِ ازل یعنی اللہ جل شانہٗ کا حسن۔ اور حسنِ عارضی جو یہاں دنیا کی چیزوں کا حسن ہے۔
حسنِ ازل اور حسنِ عارضی
کرنی ہمت ہے جہاں تک بھی ہے انسان کا بس
حُسن پرستی ہے جال، یاد رکھ شیطان کا بس
اس طرف خالقِ حسن و جمال کا دیدار
اس طرف جلوہ فقط عارضی سامان کا بس
ہم لوگ اگر compare کر لیں صحیح معنی میں، تو دیکھ لو صاف صاف چیزیں موجود ہیں۔ یعنی ہمارا کام صرف ہمت کرنا ہے۔ ہم اور کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن ٹارگٹ بھی تو ہونا چاہیے نا؟ تو ٹارگٹ یہ ہے کہ حسن پرستی جو ہے یہ تو شیطان کا جال ہے۔ دنیا کی حسن پرستی، شیطان اس میں پھنساتا ہے۔ اب اگر آپ نے واقعی حسن کو لینا ہے، تو ذرا سوچیں کہ جس نے سارا حسن و جمال بنایا ہے وہ کتنا حسین ہوں گے؟ ان شاء اللہ دیدار ہوگا وہاں پر، اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ لیکن اس کاآپ کو تو اس وقت پتہ نہیں چل سکتا۔ لیکن آپ by intuition، ایک چیز تو معلوم کر سکتے ہیں نا؟ کہ جس نے حسن بنایا ہے وہ کیسا حسین ہوگا؟ تو اب اگر آپ اِن حسینوں میں پھنس گئے تو وہاں سے رہ جاؤ گے۔ وہاں سے رہ جاؤ گے۔ تو لہٰذا اپنے آپ کو ان کے جالوں میں نہیں پھنسانا، اور اُس کو اپنے ذہن میں رکھنا ہے، دل میں رکھنا ہے۔ پھر آپ دیکھو کہ یہاں تو عارضی سامان کا جلوہ ہے اور وہاں ماشاءاللہ اس کا دیدار ملے گا۔ میں اُس کو ان کے لیے کیوں چھوڑوں؟ تو یہ پھر سن لیں۔
کرنی ہمت ہے جہاں تک بھی ہے انسان کا بس
حُسن پرستی ہے جال، یاد رکھ شیطان کا بس
اُس طرف خالقِ حسن و جمال کا دیدار
اِس طرف جلوہ فقط عارضی سامان کا بس
اب دل دینا، یہ ایک term ہے، اصطلاح ہے، لوگ استعمال کرتے ہیں
دل دینا
نہیں آسان پروانہ بننا
اور جل جل کے مستانہ بننا
کھیل تماشا نہیں ہے دل دینا
اور پھر کسی کا دیوانہ بننا
مطلب ظاہر ہے کچھ تو کرو گے۔ہاں! یہ الگ بات ہے کہ پھر وہ تجھے کیا دے، وہ ایک علیحدہ بات ہے۔ لیکن یہاں تو کچھ کرنا پڑے گا۔
وہ نظر آئے بہر صورت
یہ ایک غزل ہے، جو حقائق کے ساتھ ہمیں ملاتی ہے۔ وہ حقائق کیا ہیں وہ اس میں ان شاء اللہ نظر آ جائیں گے امید ہے۔
میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت
مٹے میری نظر میں جو بھی تھا موجود ثمر صورت
میں اگر ہر طرف دیکھوں تو مجھے ہر صورت میں وہی نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ اس کی قدرت ہر طرف جلوہ فرما ہے۔ ہوائیں اس کی چلائی ہوئی ہیں، سورج اس کے حکم سے چل رہا ہے۔ زمین میں سب کچھ اس کے دم سے ہے۔ ہمارے اندر بہت کچھ وہی کروا رہا ہے۔ جس طرف بھی دیکھوں تو وہ نظر آ رہا ہے اس کی قدرتوں کے ذریعے سے۔ اور جب مجھے وہ نظر آ جاتا ہے، تو جو بھی میری نظر میں کچھ تھا، جس کی مجھے خواہش تھی، وہ سارا ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس سے اعلیٰ چیز ہمیں نظر آ رہی ہے، اس سے اعلیٰ چیز ہم پا رہے ہیں، اس کی وجہ سے، لہٰذا میری نظر میں وہ چیزیں مٹتی جا رہی ہیں۔ جیسے ذاتی مفادات۔ اب دیکھ لیں، ملکی مفادات، ذاتی مفادات۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت۔ یہ تین چیزیں ہیں جو معاشرے کو rule کر رہی ہیں۔ معاشرے کو rule کر رہی ہیں۔ ذاتی مفادات اگر غالب ہیں، تو اس کے لیے انسان غدار بھی بن جاتا ہے۔ کیونکہ ملکی مفادات تو نہیں ہوتے نا سامنے۔ لہٰذا غدار بھی بن جاتا ہے، دھوکہ باز بھی بن جاتا ہے،ہر قسم کا غلط کام کرنے والا بن جاتا ہے، کیونکہ ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں ملکی مفادات ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس کی وجہ سے اللہ پاک کے خلاف، اللہ تعالیٰ کے نظام کے خلاف باتیں بھی سوچنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ہمیں یہ ملک دیا ہے۔ تو اگر ہم ان کے طریقوں سے اس کو نہیں چلائیں گے تو اس میں کوئی برکت نہیں ہوگی۔ دیا تو اللہ نے ہے نا؟ یہ کس نے دیا ہے؟ تو اگر اللہ سے ہم نہیں ملیں گے، اللہ سے نہیں جڑیں گے تو ملک ہمیں کیا وفا دے گا؟ ملک ہمیں کچھ نہیں دے سکے گا اگر اللہ پاک کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں ہوگا۔
تو اس وجہ سے یہ تینوں stages ہیں۔ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر غالب کرنا چاہیے۔ اور ملکی مفادات پر اللہ کی محبت کو غالب کرنا چاہیے۔ تو priority یہ ہے۔ جیسے جذبات پہ عقل کو غالب کرو، عقل پر شریعت کو غالب کرو۔ ورنہ پھر تو کام ہی نہیں ہوگا۔ تو یہاں پر یہ ہے:
مٹے میری نظر میں جو بھی تھا موجود ثمر صورت
جو بھی میں ثمر، پھل، مفادات چاہتا تھا، وہ سب میری نگاہ سے مٹ رہے ہیں جب اس پہ نظر پڑ رہی ہے۔
تجلی اس کی ہر اک چیز پر حاوی نظر آئے
پڑے جس پر بھی جیسے ہی، وہاں پائے اثر صورت
میں دائیں بائیں دیکھوں وہ نظر آئے بہر صورت
اس کی تجلی جس پر بھی پڑ جائے، تو وہاں اس کا اثر بن جاتا ہے۔ جیسے سورج، آگے شعر میں وہ آ رہا ہے۔
جو کرنیں آتی ہیں سورج سے رستے میں نہ روشن ہوں
یہ روشن خود کو کرتی ہیں پہنچنے پر ہی بر صورت
یہ جو سورج کی کرنیں آ رہی ہیں، راستے میں کوئی ان کو دیکھ سکتا ہے؟ راستے میں نظر آتی ہیں؟ نہیں آتی۔ "Photons"، اس کے بارے میں ہے فزکس والوں سے پوچھو۔ آپ "photons" کو observe نہیں کر سکتے۔ ہاں، وہ کسی بھی چیز پہ پڑ جائیں اس سے reflection جو ہوتی ہے، وہ چیز آپ کو نظر آ رہی ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خود بخود یہ چیز نظر نہیں آئے گی، ہاں کسی چیز کی صورت میں نظر آ جائے گی۔ تو اسی وجہ سے اس کی تجلی براہ راست نظر نہیں آتی، لیکن جس پہ بھی پڑ جائے اس سے وہ چیز صورت پا لیتی ہے۔ وہ چیز نظر آنے لگتی ہے، لہٰذا آپ کو تجلی کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔
حقیقت پر نظر پڑتی ہے جس کی بھی جہاں میں تو
بس حیرت ہی وہ پاتا ہے، جو ہوتی ہے مفر صورت
جب انسان کی حقیقت پر، جہاں میں، جگہ میں نظر پڑ رہی ہوتی ہے، تو حقیقت حقیقت ہے۔ جیسے جیسے حقیقت ظاہر ہو رہی ہے، وہ چیز غائب ہو رہی ہوتی ہے۔ اب پتہ چلتا ہے بھئی اس سے بھی نہیں ہو رہا، اس سے بھی نہیں ہو رہا، اس سے بھی نہیں ہو رہا۔ پہلے ہم تو سب سمجھ رہے تھے کہ اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے، اس سے بھی ہو رہا ہے۔ لیکن جیسے جیسے حقیقت پہ نظر پڑ رہی ہے، تو پتہ چلتا ہے بھئی اس میں تو کوئی بھی کچھ نہیں کر رہا۔ کرنے والی ذات کون ہے؟ صرف وہی ہے۔ تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقت پر اگر کسی کی نظر پڑ جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ پھر وہ حیرت ہی میں مبتلا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ساری کی ساری چیزیں اس کی نظر سے غائب ہو رہی ہوتی ہیں، جس کو اس نے بہت یقینی سمجھا ہوتا ہے۔ مثلاً: کسی نے post بڑی یقینی سمجھی ہوتی ہے بہت، میں اس post تک پہنچ جاؤں تو بس میرا کام بن جائے۔ کسی نے اپنے کاروبار کو اپنا وہ بنایا ہوتا ہے کہ بس اس سے سب کچھ ہوتا ہے۔ حالانکہ جب ادھر سے پکڑ لیتا ہے نا اللہ تعالیٰ، بس! ساری چیزیں لٹک جاتی ہیں۔ پتہ چلتا ہے کچھ بھی نہیں کر سکتا اس میں سے۔ سارا گیا۔ نہ post کچھ کر سکتی ہے، نہ کاروبار کچھ کر سکتا ہے، نہ دوستی کچھ کر سکتی ہے، نہ کچھ اور کچھ کر سکتا ہے۔ آدمی کچھ بھی نہیں کر سکتا ہوتا۔ مجھے بتائیں اگر انسان انتہائی اہم post پر ہو۔ اور meeting میں جا رہا ہو اور یکدم اس کے بولنے کی طاقت گویائی ختم ہو جائے۔ وہ کیا کر سکتا ہے؟ ہونقوں کی طرح سامنے بیٹھا ہوگا۔ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ تو میں نے ایک مثال دی۔ مثالیں بہت ساری ہیں۔ جس سے پھر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، کرنے والی ذات کون ہے؟ اللہ پاک کی ذات ہے۔
وہ اندھا بنتا ہے شبیر صورت سے بظاہر کے
اِدھر وہ اک کو دیکھے جب، تو غائب ہو اُدھر صورت
یہ جو ہے نا شاعر کہہ رہا ہے :کہ وہ شخص صورت سے اندھا بن جاتا ہے، صورت اس کو نظر نہیں آتی۔ کیوں؟ جیسے اس کی ایک پر نظر پڑ گئی تو بس وہ دوسری چیزیں اس کی نگاہ سے غائب ہو گئی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے سورج جب چمک رہا ہو تو ستارے نظر نہیں آتے۔
تو دیکھیں، سورج چمک رہا ہے نا، آپ باہر دیکھیں ستارے نظر آ رہے ہیں؟ تو کیا ستارے ہیں نہیں؟ ہیں تو سہی۔ پورا آسمان کھربوں ستاروں سے بھرا ہوا ہے۔لیکن آپ کو ایک بھی نظر نہیں آ رہا۔ کیونکہ سورج چمک رہا ہے۔ تو اس طرح جس کو اللہ نظر آنا شروع ہو جائے اس کو پھر چیزیں نظر نہیں آتیں۔ ایک حقیقت پر نظر پڑ جائے، باقی ساری چیزیں ختم۔ ان سے نظر ہٹ جاتی ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ اللہ کے علاوہ اور کوئی چیز سوچتے ہی نہیں۔ ان کا نعرہ "اللہ اکبر"، ان کا نعرہ "الحمد للہ"، ان کا نعرہ "سبحان اللہ"، ان کا نعرہ "لا الہ الا اللہ"، وہ سب کچھ یہی ہوتا ہے "اللہ"، بس ہر ہر چیز میں اللہ۔ تو یہ کوئی جذباتی سوچ نہیں ہے۔ کہ ہم کہیں بھئی یہ تو جذباتی سوچ ہے، یہ کیا ہے ہر چیز کے اندر بس ایک ہی بات۔ نہیں، ان کو نظر آ رہا ہے کہ بھئی اس کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔ یہ بجلی ہے نا چلی ہی جاتی ہے نا ساری چیزیں رک جاتی ہیں۔ اور بجلی آ جاتی ہے ساری چیزیں چلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ جب آپ اس کو چلانا چاہیں۔ تو اب کیا کریں آپ؟ اس سے تو آپ نہیں نکل سکتے۔ اسی طریقے سے ہر کام اللہ کرتے ہیں۔ ہر کام اللہ کرتے ہیں۔ ہر چیز اللہ پاک چلاتے ہیں۔ لہٰذا جس کی اللہ پہ نظر پڑ جائے وہ اللہ کی طرف ہی متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اللہ جل شانہٗ ہی سے لینا چاہتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے ہمیں سکھایا سورہ فاتحہ میں، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی statement ہے۔ اور وہ یہ ہے، "اللہ کو راضی کرو"۔ اللہ کو راضی کرو۔ ہمارے پاس ہزاروں statements نہیں ہیں۔ ہمارے پاس ایک ہی statement ہے۔ جہاں بھی جاؤ گے تو آپ کو، اگر کوئی صوفی ملے گا تو یہی کہے گا اللہ کو راضی کرو (صحیح صوفی)۔ صحیح صوفی جہاں بھی ملے گا تو وہ کیا کہے گا؟ اللہ کو راضی کرو۔ تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ یہاں پر وہ کہتے ہیں:
وہ اندھا بنتا ہے شبیر صورت سے بظاہر کے
اِدھر وہ اک کو دیکھے جب، تو غائب ہو اُدھر صورت
عاشقِ مستور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
تب سے میں ایسا لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں
جس نے مجھے پیغام محبت کا دیا ہے
دل سے کبھی سے اس کا میں مشکور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
تب سے میں ایسا لکھنے پہ مجبور ہوا ہوں
دنیا کی کثافت سے جو لبریز ہے وہ چھوڑ
میں طالبِ شراب، مگر طہور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
اب مجھ کو وہی چاہیے، جو چاہیے اُس کو
مئے عشقِ حقیقی سے میں مخمور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
مئے عشق یعنی شرابِ عشقِ حقیقی، اس سے میں مخمور ہوا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اب میرا تعلق ان دوسری چیزوں کے ساتھ نہیں ہے۔ اب تو میرا کام یہی ہے کہ مجھے وہی چاہیے جو اُس کو چاہیے۔ مجھے تو وہی چاہیے جو اُس کو چاہیے۔ اسی کو کہتے ہیں رضا بالقضا، جو بہت اونچا مقام ہے۔ انسان جس وقت رضا بالقضا پہ پہنچ جاتا ہے، تفویضِ محض شروع کر لیتا ہے، اُس کے ساتھ پھر کچھ بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔
حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ، جن کو کچھ لوگ دیوانے کہتے تھے، کچھ لوگ دانا کہتے تھے۔ باتیں بہت دانائی کی کرتے تھے، لیکن دیوانگی کے انداز میں کرتے تھے۔ تو کچھ لوگ ان کو دیوانہ کہتے، کچھ لوگ ان کو دانا کہتے تھے۔ ہارون الرشید کے contemporary تھے۔ ایک دفعہ ہارون الرشید جا رہے تھے۔ تو بہلول رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے ہوئے ہیں، بڑے موڈ میں، بڑے خوش باش۔ ہارون الرشید کی ان کے ساتھ بے تکلفی تھی۔ انہوں نے کہا بہلول کیا حال ہے تمہارا؟ کیا گزر رہی ہے؟ اس نے کہا: اس شخص کا کیا پوچھنا جس کی مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہو؟ اب یہ دعویٰ تو بادشاہ بھی نہیں کر سکتا۔ بادشاہ کر سکتا ہے یہ دعویٰ؟ یہ دعویٰ بادشاہ بھی نہیں کر سکتا، کہ میری مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے۔ ہارون الرشید نے اسے کہا: بہلول یہ خدائی کا دعویٰ کب سے شروع کیا ہے؟ خدائی کا دعویٰ کب سے شروع کیا؟ یہ تو خدا کا مقام ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ میری مرضی کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے۔ کہتا ہے :میں نے تو خدا ئی کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ کہتا ہے: ابھی کہہ جو رہے ہو؟ کہتا ہے: میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کیا۔ اب جو اس کی مرضی ہے، میری مرضی۔ اب بتاؤ سب کچھ میری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟ اب بتاؤ یہ دانائی ہے یا دیوانگی ہے؟ کیا چیز ہے یہ؟ اس نے کہا کہ میں نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا۔ اب جو اس کی مرضی وہ میری مرضی۔ تو بس یہی بات ہے جو ان لوگوں کو سمجھ آ جاتی ہے۔ تو بس پھر ان کو پریشانی نہیں ہوتی۔ پریشان کتنے لوگ ہیں دنیا میں؟ لیکن ایسے لوگوں کو آپ پریشان نہیں دیکھیں گے۔ یہ کیا پریشان ہوں گے، ان کے ساتھ بیٹھنے والے پریشان نہیں رہتے۔ ان کے پاس جو دوسرے پریشان لوگ آ جاتے ہیں بیٹھ جاتے ہیں ان کی پریشانی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ خود کیا پریشان ہوں گے؟ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ ہونے میں سکون ہے، اطمینان ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ۔ "آگاہ ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کی یاد دلوں کو اطمینان دے دیتا ہے"
یہ کوئی ضعیف حدیث نہیں ہے، قرآن پاک کی آیت ہے۔
وہ حسنِ ازل چھپ گیا اسباب و علل میں
مرضی ہے اس کی عاشقِ مستور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
یہ جو حسنِ ازل ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، وہ اسباب و علل، یہ جو ہمیں چیزیں نظر آ رہی ہیں، دو دو چار ہوتے ہیں، اور آگ میں چیز پڑ جائے تو جل جاتی ہے، اور پانی اس پہ ڈال دے تو وہ آگ بجھ جاتی ہے، یہ اسباب ہیں۔ اور علتیں ہیں مختلف چیزوں کی۔ اللہ پاک نے ان چیزوں میں اپنے آپ کو چھپا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسباب میں اور علتوں میں اپنے آپ کو چھپا دیا۔ کبھی کبھی دکھا دیتے ہیں کہ ان اسباب کو پھاڑ دیتے ہیں۔ اور اس سے ایسے چیز ظہور میں آ جاتی ہے جو بالکل اسباب کے مطابق نہیں ہوتی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی ایک خشک چٹان سے باہر آتی ہے۔ اب یہ کیا اسباب ہوں گے؟ اسباب تو نہیں ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اللہ پاک اس طرح اسباب کو توڑ دیتے ہیں جس کو "خرقِ عادت"کہتے ہیں۔ لیکن عموماً اسباب سے ہوتا نظر آتا ہے۔ تو اللہ پاک نے گویا کہ اسباب و علتوں میں اپنے آپ کو چھپا لیا۔
تو یہاں شاعر کہتا ہے کہ یہ اس کی مرضی ہے۔ اس پہ میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، میں تو اس چھپے ہوئے خدا پر عاشق ہوں۔ جس نے اپنے آپ کو چھپا لیا ہے، میں اس پر عاشق ہوں۔ تو مجھ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ مجھ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ لہٰذا میں تو اسی کا ہوں۔
پھایا مجھے شبیر اس کے در کا چاہیے
زخموں سے میں دنیا کے بہت چور ہوا ہوں
میں عشق کے پیغام پہ مامور ہوا ہوں
یعنی زخموں کا علاج پھایا رکھا جاتا ہے اس کے اوپر۔ تو مجھے ہر پھائے سے شفا نہیں آئے گی۔ مجھے وہ پھایا چاہیے جو اس کے در سے میرے پاس آئے۔ یعنی وہاں سے جوحل آئے گا، میں اس حل کی تلاش میں ہوں۔ میں کسی اور کے۔۔ دیکھیں ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہوا تھا نا؟ بعض لوگ اس شاعری کو صرف وہ سمجھ لیتے ہیں کہ بھئی کیا ہے صرف جذباتی باتیں ہیں۔ حالانکہ ہر چیز کا ایک base ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام جس وقت آگ میں ڈالے گئے۔ سچا واقعہ ہے نا؟ تو فرشتہ آیا۔ اس سے کہا کہ، مجھے حکم دیں، کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ فرشتہ، جبال کا فرشتہ وہ آتا ہے۔ میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ ابھی چاہیں تو اس پر پانی ڈال دوں سارا بجھ جائے۔ ابراہیم علیہ السلام کیا کہتے ہیں؟ کیا تو خود اپنی مرضی سے آیا یا اس نے بھیجا ہے؟ اپنی مرضی سے آیا ہے، یا اس نے بھیجا ہے؟ یہ سوال کوئی اس وقت کر سکتا ہے جب آگ میں ڈالے جا رہے ہوں؟ وہ اس کا تعلق ہے نا۔ تو خود آیا ہے یا اس نے بھیجا ہے؟ تو فرشتہ کہتا ہے: جی میں تو خود آیا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر مجھے تیری کوئی خدمت نہیں چاہیے۔ جس کے لیے ہو رہا ہے، وہ دیکھ رہا ہے نا۔ جس کے لیے ہو رہا ہے وہ دیکھ رہا ہے۔ تو بس پھر اللہ پاک کی رحمت کو بھی جوش آ گیا۔ براہِ راست اللہ پاک حکم دے رہا ہے آگ کو: يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰی إِبْرَاهِيمَ۔ اے آگ ٹھنڈی ہو جا سلامتی کے ساتھ ابراہیم پر۔ مفسرین کرام کہتے ہیں اگر یہ نہ کہتے سلامتی کے ساتھ، تو یہ آگ اتنی ٹھنڈی ہو جاتی کہ ابراہیم علیہ السلام اس میں ہی ۔۔کیونکہ وہ اللہ کا حکم تھا نا براہِ راست۔ آگ کو ٹھنڈی ہو جا، ٹھنڈی ہو جاتی تو zero temperature پہ چلی جاتی، zero نہیں وہ minus 273 پر چلی جاتی۔اللہ پاک نے ساتھ فوراً فرمایا: "بَرْدًا وَسَلَامًا عَلٰى إِبْرَاهِيمَ"۔ تو room temperature جیسا ہوتا ہے، comfort condition، comfort temperature آج کل 22 degree centigrade بتاتے ہیں نا؟ تو جس پہ انسان کو راحت ملتی ہے اس ٹمپریچر پر وہ آگ ٹھنڈی ہو گئی اور گلزار بن گئی۔
اس طرح اصحاب الاخدود کا واقعہ ہے، قرآن پاک میں آیا ہے۔ اس میں جو عیسائی، صحیح عیسائی تھے، جو مسلمان تھے اس وقت، ظاہر ہے اس وقت عیسائیت اسلام تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح ماننے والے، ان کو یہودیوں نے آگ میں ڈالا۔ آگ میں ڈالا تو ایک عورت کے بچے کو پھینکا پہلے، تو عورت رو رہی تھی۔ تو اس بچے نے کہا: اماں فکر نہ کرو، یہاں تو بڑے مزے ہیں۔ تو عورت بھی اس کے پیچھے، تو جو ہے نا وہ جو بچہ نہیں جل رہا، اور اس طرح کہہ رہا ہے، تو بادشاہ نے جس نے ڈلوایا تھا، اس نے کہا: اے آگ تجھے کیا ہو گیا؟ تو آگ نہیں رہی؟ اس نے کہا: تو میرے اندر آ جا تجھے پتہ چل جائے گا میں کیا ہوں۔ میرے اندر تو آ جا، پھر دیکھو کہ میں کیا ہوں۔ تو مطلب یہ ہے کہ دیکھو اللہ پاک کا حکم جن کے لیے جو ہو جائے تو وہی ہو جائے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ یہ عشاق کی باتیں، عاشقوں کی باتیں ہیں۔
پھایا مجھے شبیر اس کے در کا چاہیے
زخموں سے میں دنیا کے بہت چور ہوا ہوں
تو دنیا کے زخموں کا علاج جو ادھر سے ا رہا ہے نا، وہ ہمیں چاہیے۔ باقی "made in Europe" اور "made in America" "made in Moscow"، یہ نہیں سوشلزم، کیپیٹلزم پتہ نہیں کیا کیا ازم، یہ نہیں چاہیے، ہمیں کون سی چیز چاہیے؟ جو اس کے در سے آیا ہوا ہے۔ وہ چیز ہمیں چاہیے۔ پھر فائدہ ہوگا۔ ورنہ نہیں ہوگا۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
جاری ہے ان شاء اللہ