الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
جو تم کرو گے اللہ کے ہاں اس سے بہتر پاؤ گے
﴿وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللہِ ہُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا﴾ (مزمل: 20)
اور اللہ نے فرمایا: ”اور جو تم اپنے لئے اچھائی آگے بھیجتے ہو اللہ کے ہاں اس سے بہتر صلے میں پاؤ گے۔“
اس آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ اپنے پاس مال رکھنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستہ میں اس کو خرچ کر دے جو بھی جتنا بھی خرچ کرے گا وہ اللہ کے علم میں ہوگا اور اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ جل شانہ خود عطاء فرمائیں گے، اس کا اجر و ثواب ضائع ہونے والا نہیں ہوگا۔
یہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہترین دعوت ہے۔ کیونکہ انسان اپنے لیے خیر تلاش کرتا ہے، بھلائی تلاش کرتا ہے۔ تو خیر اور بھلائی اللہ کے سوا کسی اور کے ساتھ نہیں ہے۔ جن سے ہم خیر کی توقع رکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ خیر پہنچا سکیں۔ بے شک چاہیں بھی تو ضروری نہیں ہے۔ لیکن اللہ جب چاہتا ہے تو اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔
تو اس لیے جس کے خزانے میں خیر موجود ہے ہر ایک کے لیے، تو پھر اس کے لیے کیوں نہ بھیجا جائے؟ تو اللہ جل شانہٗ بہترین صلہ عطا فرمانے والے ہیں۔ ہاں، ضرورت کے مطابق انسان رکھ لے، لیکن باقی اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔
یہ جو تاجر لوگ ہیں نا، تو یہ بھی ضرورت کے مطابق رکھتے ہیں، باقی سارا Invest کرتے ہیں۔ کیونکہ پتا ہے کہ بھئی مال میرے پاس پڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، وہ تو خرچ کرنے سے فائدہ ہوگا۔ تو اس طریقے سے اگر ہم لوگ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کر لیا کریں تو یہ فائدہ ایک جاریہ ہے مطلب اللہ پاک ہمیں اس کا مستقل اجر عطا فرمائیں گے۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔