اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ وَ سْــئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(32)
صَدَقَ اللهُ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اور جن چیزوں میں، ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔
بعض خواتین نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد وغیرہ میں حصہ لے کر مزید ثواب حاصل کرتیں۔ اس آیت کریمہ نے یہ اصول واضح فرما دیا کہ جو باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہیں ان میں اللہ نے کسی شخص کو کسی اعتبار سے فوقیت دے رکھی ہے اور کسی کو کسی اور حیثیت سے۔ مثلاً کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی زیادہ طاقتور ہے کوئی کم، کسی کا حسن دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ چیزیں چونکہ انسان کے اختیار میں نہیں ہیں، اس لئے ان کی تمنا کرنے سے فضول حسرت ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہئے۔ البتہ جو اچھائیاں انسان کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے، اور ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے ویسا ہی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ!
اللّٰہ جل شانہ نے جو نظام بھی بنایا ہے، اس پر دل سے راضی ہونا سب سے بڑی بات ہے۔ سب سے بڑی بات ہے۔ کہ جیسے آپ ﷺ کے پاس ایک نابینا آیا۔ اور آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ میری بینائی کے لیے دعا فرمائیں کہ مجھے بینائی مل جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ ہاں، اگر آپ چاہیں تو دعا کر لوں۔ تو اس نے پھر کہا، یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے دعا کیجیے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو دعا کر دوں۔ پھر اس نے کہا کہ، یا رسول اللہ ﷺ میرے لیے بینائی کی دعا پھر آپ ﷺ نے، مجھے پتہ نہیں کہ تیسری دفعہ کیا ہوا، لیکن بہرحال، بالآخر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ بلکہ ان کو دعا سکھائی۔ ان کو دعا سکھائی۔ تو وہ دعا سکھائی، پھر جس نے وہ دعا کی تو اس کی بینائی آ گئی۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ، آپ ﷺ نے جو پہلے فرمایا کہ: آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جس کو جس حالت میں رکھا ہوتا ہے، اس کے لیے وہی بہتر ہوتا ہے۔ مثلاً غریب کیا ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کی بس وہ ہے، یعنی تشکیل ہے۔ کسی کو حسین بنایا، کسی کو بدصورت بنایا۔
اب بلال رضی اللہ عنہ حبشی تھے۔ لیکن ان کو "سیدنا بلال" کہتے ہیں۔ عمل کے لحاظ سے بہت آگے تھے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ کوئی بادشاہ ہوتا ہے، کوئی غلام ہوتا ہے۔ کوئی طاقتور ہوتا ہے، کوئی کمزور ہوتا ہے، کوئی صحت مند ہوتا ہے، کوئی بیمار ہوتا ہے۔ اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو اختیار میں نہیں ہیں۔
تو ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے آسان نسخہ بتایا۔ بہت آسان نسخہ ان تمام چیزوں کو دیکھ کر، بہت آسان۔ فرمایا:" غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، اور اختیاری میں سستی نہ کرو"۔
"غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، اور اختیاری میں سستی نہ کرو"۔
اب کیسی خوبصورت بات ہے۔ بالکل ساری باتوں کا نچوڑ ہے۔ اگر آپ غیر اختیاری باتوں کے پیچھے نہیں پڑتے تو آپ بہت سارے فضول خیالات سے بچے رہتے ہیں۔ وہ آپ کی جو battery discharge ہو رہی ہوتی ہے مسلسل، دماغ سوزی کی، تو آپ کو بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اگر آپ اس کو من وعن مان لیں کہ یہ تو اللہ پاک نے جیسے کیا بس ٹھیک ہے۔ ہاں، جو مجھے اختیار دیا ہے جن چیزوں میں، میں اس میں سستی نہ کروں۔
مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ گھر میں پڑا رہتا ہے، کچھ کام نہیں کرتا۔ بس اللہ پاک دینے والا ہے۔ یہ اختیاری میں سستی کرنے والا ہے۔ اس کو جو نقصان ہو رہا ہے، اپنے اختیار کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس میں اس کی پکڑ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ پوری کوشش کرتا ہے، پھر بھی نہیں ملتا، تو پھر یہ غیر اختیاری ہے۔ تو غیر اختیاری میں پھر وہ نہیں کرنا چاہیے۔ تو بس یہی والی بات ہے کہ اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
اس طرح مرد اور عورت والی بات۔ مرد اور عورت والی بات میں، اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی صلاحیتیں دی ہیں، عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دی ہیں۔ عورتوں کی جو چیز ہے اس کی مرد خواہش نہ کریں، اور جو مردوں کی چیز ہے اس کی عورتیں خواہش نہ کریں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے تشکیل فرمائی ہے۔ اب اس میں یہ ہے کہ بعض دفعہ مجھے بھی خواتین وہ کہتی ہیں، اگر مرد ہوتیں تو ہم آپ کے ساتھ ہر وقت ہوتیں، یہ ہوتا، وہ ہوتا۔ میں نے کہا: یہ نہ کہو یہ اللہ پاک کی تشکیل ہے۔ آپ لوگوں کو سب کچھ اسی پر ملے گا۔ جس حالت میں تم ہو، اس حالت میں جن اعمال کے تم مکلَف ہو، ان اعمال کو کرنے سے آپ کو سارا کچھ یہیں اسی پہ ملے گا۔ کیونکہ وہ حدیث شریف میں ہے نا، کہ عورتیں جو آئی تھیں آپ ﷺ کے پاس: یا رسول اللہ ﷺ مرد تو سارا کچھ لے گئے۔ وہ جہاد بھی کرتے ہیں، یہ بھی کرتے ہیں، وہ بھی کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کو ان کے گھر کے کام بتائے کہ آپ کو اس پر یہ ملتا ہے، یہ ملتا ہے، اور حج آپ کا جہاد ہے۔ تو عورتوں جہاد جو ہے نا، کیا ہے؟ وہ حج ہے۔ اور اس طریقے سے گھر کے کاموں کی، شوہر کی تابعداری پر، بچے کی وہ پرورش کے لیے وہ جو محنتیں کر رہی ہے، اس پر پتہ نہیں کہ اس کو کیا کیا ملتا ہے، وہ ساری تفصیل موجود ہے اس میں۔
تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو تشکیل پر جانا چاہیے۔ جو تشکیل اللہ پاک کر لے، اس کے مطابق ہمیں کام کرنا چاہیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔