الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَہٗ﴾ (زلزلت: 7)
”جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔“
ذَرَّةٍ: کہتے ہیں چھوٹی چیونٹی کو کہ وہ نیکی جو بھی ہو معمولی سی ہی کیوں نہ ہو اگر اللہ کے دربار میں قبول ہوگئی تو قیامت کے دن اس پر بھی بہت کچھ ملے گا۔ اسی وجہ سے حضرت مقاتلؒ نے فرمایا اس آیت میں مسلمانوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ نیک عمل کرلو خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ آئندہ قریب وقت میں چھوٹی نیکی بھی بڑی ہو جائیگی جیسے کہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے آدھے چھوارے کے برابر بھی خیرات کرتا ہے تو اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ میں اس کو لے لیتا ہے پھر خیرات کرنے والے کے لئے اس نیکی کو بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو کر دیا جاتا ہے جیسے کہ تم میں سے بعض لوگ بچھڑے کی پرورش کرتے ہیں۔ (وہ بڑا ہو جاتا ہے)
یہ آیت بہت ہی جامع آیت ہے، اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ قرآن کی سب سے زیادہ مستحکم اور جامع آیت ہے، حضرت انس بن مالکؓ کی ایک لمبی روایت آئی ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسی آیت کو ”اَلْاٰیَةُ الْجَامِعَةُ“ فرمایا یعنی منفرد یکتا اور جامع آیت۔
ایک شخص حسن بصریؒ کے پاس سورۃ الزلزال پڑھتے ہوئے گذرا، جب اس آخری آیت پر پہنچا تو حسن بصریؒ نے فرمایا بس میرے لئے یہی کافی ہے تو نے نعمت کی انتہاء کردی۔
سبحان اللہ! فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔ سبحان اللہ! یعنی ہر چیز، جو انسان جو بھی نیکی کرتا ہے وہ، اس کا بہت زیادہ فائدہ اس کو ہوگا۔ ماشاء اللہ۔