عقائدِ اہل السنۃ والجماعت: مقامِ صحابہؓ، اہلِ بیت اور امہات المومنینؓ

اشاعت اول: اتوار، 7 اگست 2022 بمطابق 8 محرم الحرام 1444

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      ہجری سال اور اسلامی تقویم (Calendar) کی اہمیت اور مسلم تشخص کی بقا۔

·      سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق خبریں اور افواہیں پھیلانے کے شرعی و سماجی نقصانات۔

·      حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم کی شہادتوں کا تاریخی، تقابلی اور روحانی پس منظر۔

·      اہل السنۃ والجماعت کا متوازن عقیدہ: صحابہ کرام، اہلِ بیت اور امہات المومنین سب کا یکساں احترام و دفاع۔

·      ائمہ کرام اور محدثینِ عظام (جیسے امام احمد بن حنبلؒ اور یحییٰ بن معینؒ) کی جانب سے علمِ رجال کے ذریعے احادیث کی حفاظت کا محتاط طریقہ۔

·      خلفائے راشدین کے بعد اہلِ بیت کی افضلیت اور سلسلہ تصوف و ولایت میں ان کا کلیدی کردار۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ... سَلَامٌ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ.


أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.

﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.


معزز خواتین و حضرات! آج کا جو جوڑ ہے، یہ بہت ہی ضروری جوڑ ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ ہمارے کچھ عقائد وابستہ ہیں، کچھ مفاہیم وابستہ ہیں۔ کچھ ضروری باتیں جو سمجھنے کی ہیں، وہ بھی وابستہ ہیں۔ اور اگر وہ باتیں ہم نہ سمجھیں، نہ جانیں، تو confusion کے شکار ہو کر اپنے آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آج کل چونکہ media کا دور ہے، تو کوئی چیز چھپی نہیں رہتی، ہر قسم کی باتیں social media پر آتی رہتی ہیں۔ تو اگر انسان کو اپنے صحیح عقیدے کا پتہ نہ ہو، تو عین ممکن ہے کہ دوسروں کی باتوں کو سن کر اپنا عقیدہ خراب کر بیٹھے۔


اور بعض دفعہ کسی سے سن کر انسان غلط نظریہ قائم کر لیتا ہے۔ تو اس وجہ سے ویسے حکم یہ ہے کہ اگر کوئی بات کسی کا سن لے تو اس کو اس وقت تک دوسرے کو نہ بتا دے جب تک اس کی تحقیق نہ ہو۔ کیونکہ اگر ایسا کوئی کرتا ہے تو پھر وہ جھوٹی بات ہو جائے گی۔ لیکن اس کا خیال چونکہ آج کل نہیں رکھا جاتا، تو لوگ جیسے ہی کوئی چیز دیکھ لیتے ہیں تو بس فوراً ان کو جب پسند آ جاتا ہے تو فوراً اس کو دوسروں کو بھیجنا شروع کر لیتے ہیں، اور اس سے وہ چیز پھیلتی جاتی ہے۔ تو پہلے بھی یہ باتیں تھیں، لیکن اتنی زیادہ خطرناک نہیں تھیں کیونکہ وہ local ہوتی تھیں۔ اب جو غلط بات یہاں پر کسی نے کسی کو بتائی وہ ممکن ہے ایک گھنٹے کے بعد امریکہ میں اور سعودی عرب میں اور انڈیا میں سب جگہ پہنچی ہوئی ہو۔ تو اس وجہ سے بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ کم از کم ہم تو کوئی غلط بات نہ پھیلائیں۔


عاشورہ، یہ محرم کے ساتھ ظاہر ہے ایک شناخت رکھتا ہے۔ محرم کے مہینے کی کئی قسم کی اہمیتیں ہیں۔ سب سے پہلے اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ مہینہ ہجری سن کی ابتدا کا ہے۔ اور جو ہمارا ہجری سن ہے، یہ ہمارے بہت ساری عبادات کا امین ہے۔ یعنی اس میں حج کی جو تاریخ ہے وہ معلوم ہوتی ہے، روزے کا پتہ چلتا ہے، اور اس طرح زکوٰۃ کا پتہ چلتا ہے۔ اس طرح اور بہت سارے شرعی مسائل ان کا جو انحصار ہے، وہ اس پر ہے۔ ہاں، نمازوں کے اوقات کا انحصار وہ شمسی تاریخوں پر ہے۔ لیکن یہ جو چیزیں ہیں اس کے لیے ہمیں اس چیز کو زندہ رکھنا پڑے گا۔ اور اس میں بنیاد جو ہوتی ہے چاند دیکھنے پر ہوتی ہے۔ تو لہٰذا ان چاند دیکھنے کا خیال بھی رکھنا چاہیے اور یہ فرض کفایہ ہے، مطلب ہر ایک شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ چاند دیکھے اور اس چیز کو یاد بھی رکھے۔ آج کل افسوس کی بات ہے اس محرم کی تو بات نہیں ہے کیونکہ یہ تو سب لوگوں کو پتہ ہوتا ہے، مشہور ہو جاتا ہے، ورنہ باقی مہینوں کا اگر کسی سے پوچھیں کہ آج کون سی تاریخ ہے یا کون سا مہینہ ہے تو بہت سارے لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔

میں Germany میں تھا تو وہاں ایک دفعہ office گیا۔ چوبیس اپریل میری یومِ پیدائش لکھی ہے تاریخ کے طور پر۔ تو اس پر ایسا ہوا کہ وہ جو secretary تھی تو اس نے کہا Happy birthday to you۔ مطلب ان کا culture یہی ہے۔ تو میں نے کہا کہ اب ان کو میں کیا کہوں؟ ظاہر ہے پھر تو یہ اس کو ہنگامہ بنائیں گے۔ تو میں نے کہا میرا birthday تو نہیں ہے۔ کہتی میرے ساتھ لکھا ہوا ہے، یہی ہے! میں نے کہا یہ ہمارا سن ہے ہی نہیں، ہم تو اور سن کو follow کرتے ہیں۔ بس اس کا جواب اس کے پاس نہیں تھا، بات ختم ہو گئی۔ تو ہمیں اپنی چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہماری اپنی ایک شناخت ہے۔ اگر ہم اپنی شناخت کو گم کر دیں، تو اس کا نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور ہم لوگ اس کو اتنا زیادہ نہیں جانتے لیکن ہمارے دشمن اس کو زیادہ جانتے ہیں۔ لہٰذا جن چیزوں سے ہماری شناخت ہے، ان کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کو ہم سے بھلایا جاتا ہے۔ تفصیل میں میں نہیں جاؤں گا کیونکہ وقت کم ہے۔

تو اس میں یکم محرم جو ہے، یہ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ وفات ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ وفات ہم مناتے نہیں ہیں، ہم کسی کا دن بھی نہیں مناتے۔ لیکن یاد رکھتے ہیں سب کو۔ اس کی وجہ ہے کہ منانے کا مطلب کیا ہے کہ اس کو ظاہر ہے پھر وہ جو تمام چیزیں لوگوں نے اس کے ساتھ وابستہ، وہ ساری چیزیں پھر کرنی ہوتی ہیں۔ منانے کا دین میں نہیں کوئی اعتبار۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الحمد للہ ایک لاکھ، اس سے کم و بیش پیغمبر ہیں، تقریباً اتنے صحابہ کرامؓ ہیں، پھر اولیاء کرامؒ ہیں، مجھے بتاؤ اگر ہم دن منانا شروع کر لیں تو کوئی دن فارغ رہے گا؟ کوئی بھی دن فارغ نہیں رہے گا۔ تو ہم دن مناتے نہیں، یاد رکھتے ضرور ہیں۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اگر ہمیں آتی ہے، تو یاد آنی چاہیے۔ اور وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ صحابی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ نے مانگا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ نے ان کو مانگا تھا۔ اور پھر سخت مخالف تھے اسلام کے، لیکن جس وقت مسلمان ہو گئے تو بہت سخت اسلام کے لیے طاقت کا ذریعہ بن گئے۔ اور ماشاءاللہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ عمر جس راستے پہ جاتا ہے اس پہ شیطان نہیں جا سکتا۔ اور عمرؓ کی زبان پہ حق بولتا ہے۔ میرے بعد اگر پیغمبر ہوتے تو عمرؓ ہوتے۔ یہ ساری باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان کے بارے میں کی ہیں۔ تو یکم محرم ان کا دن ہے۔

اور دس محرم جو ہے وہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا دن ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت بڑی مظلومیت کی شہادت ہے۔ بہت مظلومیت کی شہادت ہے۔ لیکن ذرا غور کر لیں کہ کہیں یہ تو نہیں کہ ان کی مظلومیت ہم صرف دوسروں سے لے رہے ہوں؟ کیونکہ اگر مظلومیت کی بنیاد پر کریں گے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اس سے زیادہ مظلومیت کی تھی۔ اس کے بارے میں کسی نے بات کی ہے؟ دن گزر گیا ہے نا۔ ان کے بارے میں کسی نے بات کی؟ کسی کو یاد بھی ہے؟ لیکن کسی نے یاد بھی کیا؟ پتہ ہی نہیں لوگوں کو۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ کچھ اور لوگوں سے اثر لینے والی بات ہے۔ یہ مظلومیت کی بنیاد پہ بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا!

یقیناً یہ بہت بڑا ظلم تھا۔ اور وہ بھی بہت بڑا ظلم تھا۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ظلم تو اس سے زیادہ اس وجہ سے تھا کہ وہ تو خلیفہ تھے۔ وہ تو کر سکتے تھے۔ اگر مثال کے طور پر مقابلہ کرنا چاہتے تو حسن رضی اللہ عنہ، حسین رضی اللہ عنہ باقاعدہ ان کے دربان تھے، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقرر کیے تھے۔ اور انہوں نے باقاعدہ اجازت مانگی عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ ہم آپ کی طرف سے قتال کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا نہیں! کیونکہ میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اگر آپس میں قتال شروع ہو گیا تو پھر وہ تلوار رکے گی نہیں، اور میں اس کی ابتدا اپنے لیے نہیں کروانا چاہتا۔ یہ قربانی تھی۔ تو عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت قبول کی لیکن اپنی طرف سے تلوار نہیں اٹھائی، حالانکہ خلیفہ تھے، اگر چاہتے تو بہت سخت مقابلہ ہو جاتا۔ مطلب بلوائیوں کی حیثیت ہی ان کے تو سامنے کچھ بھی نہیں تھی۔ تو صرف اور صرف… بلکہ میں کہتا ہوں کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت جو ہے وہ دو احادیث کے ساتھ وفا کی وجہ سے ہے۔

ایک حدیث یہ تھی جو میں نے بتا دیا۔ اور ایک حدیث یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو فرما دیا کہ آپ کو امت ایک قمیض پہنائے گی۔ اور پھر کچھ لوگ آپ سے اس کو اتروانے کی کوشش کریں گے تو آپ نے اتارنا نہیں۔ تو عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ قمیض کیا ہے؟ خلافت ہے۔ تو خلیفہ تو ہو گئے۔ اب کچھ لوگ ان کے مخالف ہو گئے تو اتروانا چاہا تو آپ ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق خلافت نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ورنہ اگر اپنی شہادت کرتے تو پھر خلافت بھی چھوڑ سکتے تھے۔ لیکن نہیں، خلافت اس لیے نہیں چھوڑی کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں چھوڑنا۔ اور جان اس لیے دی کہ اپنی طرف سے تلوار نہیں چلوانی تھی۔ تو یہ وفا کی شہادت ہے۔ یعنی احادیث شریف کے ساتھ وفا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت بہت اونچی شہادت ہے اور آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سید شباب اہل الجنہ، ان کا خطاب ہے۔

تو اس لحاظ سے تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہ ہماری اپنی بات ہے۔ یہ کسی اور کی بات نہیں ہے۔ لیکن حقائق جو ہیں ان کو ہمیں سامنے لانا ہوگا۔ اس طرح جیسے پتھر، پتھر کو مارا جاتا ہے تو جو مارا جاتا ہے اس پتھر پہ پہلے پتھر کا اثر ہوتا ہے۔ یعنی ردعمل ہوتا ہے۔ تو یہ ردعمل کا قانون تو دنیا میں موجود ہے۔ تو ایسا ہوتا ہے کہ آپ، مثال کے طور پر، یعنی جو آپ کے مخالف لوگ ہیں، وہ جن کو آپ مانتے ہیں ان کے اوپر اگر بات کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ تو ردعمل کے طور پر دوسرے لوگ وہ جو لوگ جن کو مانتے ہیں، ان کے اوپر باتیں کرنا شروع کر لیتے ہیں۔ اور یہ بات خطرناک ہے۔ کیونکہ اہل سنت والجماعت جو ہیں، یہ سب کو مانتے ہیں۔ یہ صحابہ کرامؓ کو بھی مانتے ہیں۔ یہ اہل بیت کو بھی مانتے ہیں۔ یہ امہات المومنین کو بھی مانتے ہیں۔ تینوں کو مانتے ہیں۔ لہٰذا ان میں سے جس کے خلاف بھی بات ہوگی، تو اہل سنت والجماعت اس کا مقابلہ کریں گے۔ جس کے خلاف بھی بات ہوگی! صحابہؓ کے خلاف بات ہوگی، تب بھی اہل سنت والجماعت سامنے آئیں گے دفاع کے لیے۔ اہل بیت کے خلاف بات ہوگی، پھر بھی اہل سنت والجماعت ہی آئیں گے دفاع کے لیے۔ اور اگر امہات المومنین کے خلاف بات ہوگی، تو پھر بھی دفاع کے طور پہ کون آئیں گے؟ اہل سنت والجماعت آئیں گے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں یہود میں اکہتر فرقے بن گئے تھے، نصاریٰ میں بہتر ہو گئے تھے، اور میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے۔ لیکن ایک فرقہ ناجی ہوگا۔ تو پوچھا کون؟ فرمایا: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي" جس پر میں ہوں، جس پر میرے صحابہؓ ہیں۔ پس آپ ﷺ کا طریقہ اور آپ ﷺ کے صحابہؓ کا طریقہ جنہوں نے جمع کیا، ان کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں۔ اور صحابہؓ کی بات اگر صرف لے لی جائے اکیلی، تو اس میں تینوں گروہ شامل ہوتے ہیں۔ عام صحابہؓ بھی، اہل بیت بھی، اور امہات المومنین بھی۔ جیسے ہم صحابہؓ کہتے ہیں تو صحابیاتؓ بھی اس میں شامل ہوتی ہیں، خود بخود شامل ہوتی ہیں۔ اس طرح اہل بیت بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک اہل بیت وہ ہیں جن کو آلِ ردا کہتے ہیں، مطلب جو چادر ان کے اوپر ڈالی گئی تھی نا آپ ﷺ نے ڈالی تھی مباہلے کے وقت میں، تو وہ بھی اہل بیت کہلاتے ہیں، اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات بھی اہل بیت ہیں۔ قرآن میں تو باقاعدہ صاف اہل بیت ان کو کہا گیا ہے۔ تو وہ بھی اہل بیت ہیں۔ تو اہل بیت مطلب یہ دونوں ہیں۔ لیکن وہ اہل بیت جو آلِ ردا ہیں، وہ آپ ﷺ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مطلب یہ وہ ہیں۔ اور جو امہات المومنین ہیں، ان کی اپنی حیثیت ہے۔ کیوں؟ اس وقت ایک ماں ہماری وہ بھی چادر کے نیچے آنا چاہتی تھی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا، آپ کی اپنی حیثیت ہے۔ تو کیا فرمایا؟ آپ کی اپنی الگ حیثیت ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ دوسری قسم کی حیثیت ہے۔ تو اہل بیت دو قسم کے ہیں۔ جس طرح صحابہؓ تین قسم کے ہیں۔ تو اہل بیت دو قسم کے ہیں۔


تو بہرحال یہ ہے کہ ہم جو ہے نا، ہم سب کے ساتھ ہیں۔ ہم کسی کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ بلکہ ہم سب کو own کرتے ہیں، اور ان کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ اور اس بات کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ میں آپ کو اس کی مثال دیتا ہوں۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی پوری عمر جو ہے نا، گزری ہے نا یہ صحابہؓ کے مخالفین کے ساتھ لڑائی میں گزری ہے۔ یعنی مسلسل ان کے مقابلے میں رہے ہیں۔ بلکہ اکبر کو خراب بھی ان لوگوں نے کیا تھا نا! تو ظاہر ہے جب اکبر کی مخالفت میں بات ہو رہی تو یہی لوگ سامنے آتے تھے، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلے میں۔ تو ان کے ساتھ لڑائیاں تو تھیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف میں دیکھیں، تو جب دعا کرتے ہیں تو دعا کیا کرتے ہیں: "اے اللہ! آلِ فاطمہؓ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما!" "اے اللہ! آلِ فاطمہؓ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما۔" اس کا مطلب کیا ہے؟ یعنی حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ باوجود یہ کہ کتنے بڑے دفاعی کام کر رہے ہیں، لیکن reaction میں نہیں آ رہے ہیں۔ ردعمل میں نہیں آ رہے، بلکہ وہ اپنا جو اپنا عقیدہ ہے وہ بالکل صاف رکھتے ہیں، کہ "اے اللہ! آلِ فاطمہؓ کے طفیل میری دعائیں قبول فرما!"

اور ایک اور مکتوب special مکتوب ہے، کون سا مکتوب نمبر ہے وہ؟ جس میں اہل بیت کے بارے میں؟ 123... کون سی جلد میں ہے؟ دفترِ سوم میں؟ یعنی اس میں جلد سوم میں، مکتوب نمبر 123 ہے، جس میں فرمایا حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے، کہ خلفائے راشدین کے بعد یہ جو آئے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس، اس کے بعد پھر چاہے اقطاب ہیں یا اوتاد ہیں یا غوث ہیں، جو بھی جس قسم کا بھی ولی ہے، ان کو فیض اہل بیت کے ذریعے سے پہنچتا ہے۔ ان کو فیض اہل بیت کے ذریعے سے پہنچتا ہے۔ یعنی دیکھیں نا! اور یہ ہمارا اہل السنۃ والجماعت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد سب سے زیادہ افضل کون ہیں؟ اہل بیت ہیں۔ خلفائے راشدین کے بعد! کیونکہ تین خلفائے راشدین تو جب گزر گئے، تو پھر اس کے بعد تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود خلیفہ راشد ہیں۔ اور پھر اس کے بعد اہل بیت ہیں۔ تو باقی تمام صحابہؓ سے اہل بیت افضل ہیں۔ ہاں خلفائے راشدین جو ہے نا ان سے بھی افضل ہیں۔ یہ والی بات ہے۔ تو اس وجہ سے ہم جب دیکھتے ہیں، تو حضرت فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بالکل جس طرح ایک list گئی ہے نا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر اس کے بعد، اور ساتھ فرمایا ان میں فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی شامل ہیں۔ اور پھر ان کی اولاد یعنی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ، پھر اس کے بعد امام باقر رحمۃ اللہ علیہ، پھر اس کے بعد امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ، پھر اس کے بعد، ایک ایک کر کے سب بتا دیا۔ پھر فرمایا جب یہ سب پورے ہو گئے، اس کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ دیکھو انہوں نے بالکل اتنا clearly صاف کر دیا ہے۔ تو یہ چیزیں بالکل واضح ہیں اور ہمیں ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے۔

پھر ایک بات اور بتاتا ہوں، اور وہ بہت اہم بات ہے اور آج کل میں اس وجہ سے اس پر زور سے بات کرتا ہوں، مجبوری ہے، فتنوں کا دور ہے نا! کہ جو سلسلہ دیکھیں نا، ظاہری سلسلہ اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدین سے چلایا ہے اور عام صحابہؓ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ"۔ میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کے پیچھے بھی جاؤ گے تو ہدایت پا لو گے۔ لیکن اہل بیت کے بارے میں فرمایا کہ ان کے ساتھ ہونے کی مثال جو ہے، یہ کشتیٔ نوحؑ میں بیٹھنے کے مترادف ہے۔ اچھا اس کی امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت اچھی توجیہ فرمائی ہے، بہت زبردست، خوبصورت توجیہ فرمائی ہے۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم الحمد للہ اہل سنت والجماعت اہل بیت کی محبت کی کشتی میں سوار ہو کر صحابہؓ کی ہدایت کی روشنی میں ہم منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ مطلب دونوں چیزیں، دونوں احادیث شریف کو ملا دیا کہ صحابہ کرامؓ ہدایت کے لیے indicator ہیں، ہاں! وہ جو ہے نا ہمیں رات کا راستہ بتاتے ہیں۔ اور یہ بات بھی بالکل صحیح۔ اور دوسری طرف یہ محبت، تو محبت کا سلسلہ جو ہے نا وہ کن کے ساتھ ہونا چاہیے؟ اہل بیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ یہ محبت اگر ختم ہو جائے، تو پھر معاملہ ڈانواڈول ہو جاتا ہے۔ پھر آدمی پتہ نہیں کس طرف گیا، پتنگ کی طرح وہ کٹ جائے گا۔ تو اس وقت یہ بہت ضروری ہے کہ کہیں یہ محبت کا رشتہ، یہ ختم نہ ہو جائے۔ اب دیکھیں میں آپ کو... یعنی بات کہاں تک پہنچی ہے؟ مجھ سے ایک سوال کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کسی اور سے بات نہیں کر رہا، میں اپنے خود ذاتی بات کر رہا ہوں۔ مجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہم امام کہہ سکتے ہیں؟ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہم امام کہہ سکتے ہیں؟ میں نے کہا آپ کی سمجھ پر تو مجھے حیرت ہو رہی ہے۔ میں نے کہا خدا کے بندے، ان کا پڑپوتا ہے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کے ساتھ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے آپ کو شامل کرنا انتہائی اعزاز کی بات سمجھتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اگر یہ دو سال جو میں امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ نہ رہا ہوتا، تو میں ہلاک ہو جاتا۔ اور اپنے لیے ان کی اجازت کو سند مانتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہیں مسجد نبوی میں، اور فتوے دے رہے ہیں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔ کسی نے کان میں کہا کہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ بھی فلاں ستون کے پیچھے موجود ہیں۔ تو حضرت کا رنگ زرد ہو گیا، چلے گئے، حضرت کے پاس پہنچ گئے، حضرت مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ تشریف فرما ہیں۔ آئیے مسند پر آپ تشریف فرما ہوں، ہم سوال کریں گے آپ جواب دیں گے۔

تو حضرت نے فرمایا، میں نے آپ کے جواب سن لیے ہیں۔ آپ کے جوابات ہمارے آبا و اجداد کے جوابات سے مختلف نہیں ہیں، آپ فتوے دے دیا کریں۔ یہ جو ہے نا وہ ماشاءاللہ مشہور سند ہے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ان کو عطا ہوا ہے۔ لہٰذا میں نے کہا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اگر امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے امام ہے، تو خدا کے بندے ان کا جو پردادا ہے، ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو وہ امام نہیں ہوں گے؟ تو ان کو بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ بات بالکل میں آپ کو یعنی ایسی چیزیں آج کل ہیں۔

اچھا، ایک صاحب عالم ہیں۔ اس نے مجھے کہا کہ ہم یزید زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔ اسی پنڈی کے ہیں۔ یزید زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے۔ تو میں نے کہا خدا کے بندے، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی تھا یا تابعی تھا؟ کہتے ہیں صحابی تھا۔ تو میں نے کہا یزید صحابی تھا یا تابعی تھا؟ کہتے تابعی تھا۔ تو میں نے کہا صحابی اور تابعی میں اختلاف ہو جائے تو کس کی مانو گے؟ تو حیرت سے کہا، ہائے! یہ تو مجھے خیال ہی نہیں رہا! تو مطلب اس کو سمجھ میں آ گئی بات۔ واقعی صحابہؓ کے بارے میں، احادیث شریف کی کتاب دیکھ لو، تو اس میں اخیر میں جو راوی بیان کیے جاتے ہیں، تو اس میں اخیر میں جب آتے ہیں: "وَهُمْ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ" وہ صحابہؓ میں سے ہیں، اور صحابہؓ سارے کے سارے عادل ہیں۔ تو صحابہؓ کے بارے میں تو ہم کوئی بات ہی نہیں کر سکتے، اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو صحابی ہیں۔ مجھے پرسوں ایک، وہ آیا تھا وہ text۔ وہ بڑی اچھی بات تھی، انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یا تو ان کی بچپن کی باتیں ہیں یا پھر ان کی بالکل آخر کی باتیں۔ درمیان میں عرصہ کدھر گزرا؟ اور اس میں کون سی باتیں ہوئی ہیں؟ وہ کوئی بتاتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ درمیان میں کیا تھا؟ ظاہر ہے خلفائے راشدین کے ساتھ تھے۔ اور ظاہر ہے ان کے باقاعدہ غزوات لڑتے رہے ہیں، یہاں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں پاکستان تک آئے ہیں۔ آپ کو علم ہے؟ ہاں سندھ تک آئے ہیں!

یہاں باقاعدہ امام عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وقت میں باقاعدہ ان کا جو ہے نا دستہ یہاں پہنچا تھا، اور انہوں نے یہاں کے حالات note کر کے پھر ان کو report دی کہ علاقہ ایسا ہے کہ یہاں نقصان زیادہ ہے فائدہ کم ہے، لہٰذا اس وقت یہاں نہیں آنا چاہیے۔ تو یہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک آئے ہوئے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ مطلب یہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ان کا اپنا پورا کردار تھا! جیسے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کردار تھا۔ علی کرم اللہ وجہہ غائب تو نہیں رہے scene سے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ بلکہ جس وقت لوگوں نے اعتراض کیا کہ دیکھو نا ان کا دور تو اچھا تھا، آپ کا دور اچھا نہیں، تو امام، حضرت نے کیا جواب دیا؟ فرمایا: "میں ان کا مشیر تھا، تم میرے مشیر ہو!" "میں ان کا مشیر تھا تو ان کا دور اچھا چل رہا تھا، تم میرے مشیر ہو تو میرا دور ایسا چل رہا ہے۔" تو بہرحال یہ ہے کہ مطلب یہ ہے کہ یہ سب ماشاءاللہ بہت اونچے لوگ ہیں اور اہل بیت، ان کے بارے میں اس وجہ سے بھی بہت زیادہ محتاط رہنا چاہیے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔

ممکن ہے ہمارے دور میں آ جائیں، قریب قریب بات لگ رہی ہے، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ کیونکہ جو حالات جتنی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں تو ایسے تو لگ رہا ہے کہ کہیں ہمارے دور میں ہی نہ آ جائیں۔ اور اگر ہمارے دور میں آ جائیں، تو ہے تو اہل سنت والجماعت کا عقیدے کے مطابق وہ کون ہوں گے؟ حسنی حسینی ہوں گے۔ تو اہل بیت میں سے ہیں۔ اب بتائیں اگر اہل بیت کے ساتھ بغض ہوگا تو کدھر ہوگا وہ؟ معاملہ خطرناک ہو جائے گا نا! لہٰذا اور ان کے ساتھ ہونے کا یہ حکم ہے۔ باقی کے ساتھ بھی حکم ہے جیسے سفینہ، حدیث سفینہ والی بات ہے، باقی کے ساتھ بھی ہے۔ لیکن امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ خصوصی طور پر حدیث شریف ہے۔ فرمایا اگر برف کے سلوں کے اوپر پھسل کر تمہیں ان کے پاس پہنچنا پڑے، تو پہنچ کر ان سے بیعت کر لینا۔ برف کے سلوں کے اوپر اگر پھسل کے بھی، اگر آپ کو پہنچنا پڑے ان کے پاس اور بیعت کرنے کے لیے، تو بیعت کر لینا۔ تو اس وجہ سے یہ بات ہم لوگوں کو گوش گوش گزار کرنا چاہیے، کہ ذرا ہم لوگ کہیں تعصب میں آ کر کہیں اس chance کو miss نہ کریں۔ بہت خطرناک بات ہے۔

باقی جہاں امہات المومنین کی بات ہے، تو ایک بات عرض کروں، سارے امہات المومنین بہت ظاہر ہے اونچی ہیں، کیونکہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں۔ بالخصوص حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی علمی جو معرفت بہت زیادہ ہے۔ یہ نصف علم کا ان کو حاملہ فرمایا گیا کہ مطلب نصف علم کو رکھا ہوا ہے اپنے ساتھ۔ اور بڑے بڑے صحابہؓ بھی ان سے پوچھتے تھے۔ مشکل مشکل فتوے انہوں نے دیے ہوئے ہیں، احادیث شریف ان سے مروی ہیں۔ لہٰذا بہت زیادہ علم ان کے ذریعے سے ملا ہے۔ اور بالخصوص ایسا علم جو دوسرے لوگوں کے پاس نہیں تھا۔

دیکھیں میں آپ کو بتاؤں کہ میاں بیوی کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ confidential ہوتی ہیں۔ مطلب اس کو کوئی ٹوہ میں لگے تو جرم ہے۔ لیکن پیغمبر کے لیے یہ ہوتا ہے کہ ان کی ظاہر ہے وہ زندگی کی بھی تو تربیت ہوتی ہے نا، مطلب وہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے، تو وہ کون بتا سکتی تھیں؟ ظاہر ہے وہی بتا سکتی تھیں۔ اور انہوں نے بتایا بھی۔ بلکہ بعض دفعہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تھے، اس قسم کی بات پوچھنے لگے تو شرما رہے تھے کہ میں کیسے پوچھوں؟ تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: "بیٹے شرماؤ نہیں، میں تمہاری ماں ہوں، پوچھو میں جواب دوں گی۔" "میں جواب دوں گی۔" تو پھر جو ہے نا انہوں نے جواب دیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ان کا بہت بڑا contribution ہے اور اس کو ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔ بہرحال اس topic پہ بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میرے خیال میں آپ لوگوں نے بہت کچھ سنا بھی ہے۔

اور میں امید کرتا ہوں کہ ان شاءاللہ وہ یاد رہے گا۔ اور اس کو یاد رکھنا چاہیے۔ کہ علم کے جو مآخذ ہیں، اگر وہ confuse ہو جائیں، اس کے اندر تردد آ جائے تو پھر پورے علم میں تردد آ گیا۔ یہی بات ہے نا! مطلب یہ ہے کہ جو احادیث شریف ہیں، تو ہمارے پورے علم کا جو مطلب، گویا کہ قرآن کی تشریح بھی احادیث شریف کی بنیاد پر ہے نا! ہاں! تو احادیث شریف جو ہمارے، اگر اس کے اندر آپ نے شک ڈال دیا، تو پھر آپ کو علم کیسے ملے گا؟ وہ ساری چیزیں مشکوک ہو جائیں گی۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے انتہائی زبردست انتظام کروایا ہے۔ یعنی یہ جو ہے نا، میں آپ کو بتاؤں، دنیا میں کہیں پر بھی کسی چیز کے لیے بھی علم موجود نہیں ہے، یہ رجال والا علم۔ کہ اتنے سارے راویوں کا record رکھنا کہ وہ کیسے تھے۔ اور اس طرح جو ہے نا وہ معلوم ہو جاتا ہے۔ تو آج بھی اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو معلوم کر سکتا ہے۔ کہ کون سی حدیث شریف کے کیا راوی ہیں اور ان راویوں کی کیا حیثیت ہے۔ وہ ایک CD آئی تھی ہمارے پاس، تو اس میں احادیث شریف نو کتابیں تھیں۔ ان میں راویوں کا بھی ذکر تھا رجال کا، سارا ذکر تھا۔ تو میں نے Federal Shariat Court میں presentation میں نے دی تھی۔ تو ایک حدیث شریف پہ انہوں نے بات کی کہ کیا یہ صحیح حدیث ہے؟ تو میں نے کہا کہ اس کے یہ یہ راوی ہیں، یہ بھی ثقہ ہے، یہ بھی ثقہ ہے، یہ بھی ثقہ ہے، یہ بھی ثقہ، اب بتاؤ کیا ہے؟ بات ختم ہو گئی نا، یعنی اتنی چیز ماشاءاللہ سامنے بالکل واضح ہر چیز ابھی موجود ہے۔ تو اگر کوئی اس کی تحقیق کرنا چاہے تو آج کل بھی کوئی مشکل نہیں ہے، وہ کی جا سکتی ہے۔

تو اللہ پاک نے احادیث شریف کی حفاظت بھی کی ہے اس طریقے سے۔ اور قرآن کی حفاظت کا تو اللہ پاک نے ذمہ لیا ہے۔ کہ وہ تو کوئی بھی اس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ہمارا جو پورا دین ہے اس کی بنیاد بہت ہی زیادہ مستحکم بنیادوں پر ہے۔ لہٰذا اس میں ہمیں کوئی شک نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی شک ڈالتا ہے، تو پھر اپنی طرف سے وہ کوشش کرتا ہے کہ بعض چیزوں کو وہ کمزور کر دے گا۔ اب مثال کے طور پر نعوذ باللہ من ذلک، اگر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کی رائے غلط ہو جائے، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں رائے غلط ہو جائے، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلط ہو جائے، معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلط ہو جائے، یا آپ کے کسی اور صحابی کے بارے میں غلط ہو جائے، تو جو چیز اس سے مروی ہوگی، تو آپ کے لیے اس کی حیثیت کیا رہے گی؟ وہ ظاہر ہے دین میں شک پڑ جائے گا۔

تو یہ جو شیطان کا حملہ ہوتا ہے وہ اسی پر ہوتا ہے کہ ہمارے اس علمی مآخذ کو، جو ہے نا وہ مشکوک کرنے کی پہ تلا ہوا ہے۔ تاکہ مطلب ان کے اندر شک آ جائے، اور الحاد اسی کو کہتے ہیں۔ یعنی اس میں اس قسم کے شک ڈالنے والے چیز کو جو ہے نا الحاد کہتے ہیں۔ وہ ایک زندیق تھا، اس نے ساٹھ ہزار جھوٹی حدیثیں گھڑی تھیں۔ تو ہارون کے دور میں پکڑا گیا۔ تو اس پر فیصلہ ہو گیا کہ اس کو مار دیا جائے۔ ہارون کے سامنے اس کو مارا جا رہا تھا، تو اس نے کہا: "ہارون! ان ساٹھ ہزار احادیث کا کیا کرو گے جو میں نے کتابوں میں شامل کی ہیں؟" تو انہوں نے بڑا جواب دیا زبردست! فرمایا: "میرا کام تیرا گردن مارنا ہے۔ وہ امام مالک اور یہ فلاں امام ابو یوسف اور یہ سب کس لیے بیٹھے ہوئے ہیں؟ یہ اس سے اس طرح علیحدہ کر لیں گے جیسے دودھ سے مکھی کو نکالا جاتا ہے۔" "وہ اس طرح نکال لیں گے۔" مطلب اب اصل بات یہی ہے کہ ماشاءاللہ اس کے لیے جو اپنے special علماء ہیں، وہ ان چیزوں کے نگہبان ہیں، نگران ہیں۔

اگر آپ دیکھیں محدثین کرام کے آپ طرق کو دیکھیں۔ سبحان اللہ! کسی کی پرواہ نہیں کرتے، یعنی کسی کی پرواہ نہیں کرتے! یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، ان کا واقعہ ہے کہ ان کے استاد تھے۔ تو انہوں نے یہ ساتھ class fellow تھے یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، ایک اور بھی تھے، نام مجھے بھول گیا۔ تو یہ تینوں جو ہے نا ان کے شاگرد تھے۔ تو یحییٰ بن معین کہتے ہیں اپنے استاد کو check نہ کریں کہ کیسے ہیں؟ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ذرا اس مسئلے میں تھوڑا سا احتیاط کریں، استاد ٹھیک ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں نہیں ہمیں check ضرور کرنا چاہیے۔ خیر انہوں نے ترتیب یہ بنائی کہ حدیث شریف کا متن وہی رکھا، لیکن راویوں میں گڑبڑ کی۔ اب جتنے راوی تھے ان کو آگے پیچھے، یعنی اس کا راوی اس کے ساتھ لگا دیا، اس کا راوی اس کے ساتھ لگا دیا، اس طرح آگے پیچھے کر لیے۔ تو انہوں نے کہا استاد جی! ہم نے آپ سے کچھ احادیثیں سنی ہیں تو وہ check کرنا چاہتے ہیں کہ ٹھیک ہے یا نہیں ہے، تو آپ کو سنا دیں؟ تو طریقہ تھا ظاہر ہے "جی سناؤ!" پہلی روایت جو سنائی اس میں جو گڑبڑ ہوئی نا، تو حضرت نے کہا کہ اس کو دور کرو یہ میں نے آپ کو نہیں بتایا۔ چلو مطلب وہ تو، وہ تو نرم انداز میں، چلو غلطی ہو گئی۔ دوسری بار بھی جب ایسا ہو گیا نا، تو ذرا غصے سے کہا کہ اس کو بٹھا دو، یہ تم لوگوں نے مجھ سے نہیں سنا۔

لیکن ماتھے پہ بل پڑ گئے کہ ہو کیا رہا ہے۔ جب تیسرا بھی ایسا ہو گیا تو چہرہ سرخ ہو گیا۔ جو سامنے بیٹھا تو اسے کہا کہ تو تو اس قابل ہی نہیں کہ تو ایک ایسی حرکت کر سکے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا تو تو صوفی آدمی ہے، تو تو ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ دیکھو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو بھی اپنا استاد بھی صوفی کہہ رہا تھا۔ آج کل اماموں کے بارے میں یہ چیز نہیں جانتے لوگ۔ وہ بھی صوفی تھے، ان کا استاد ان کو صوفی کہہ رہے تھے۔ تو تو صوفی آدمی ہے تو تو ایسا نہیں کر سکتا۔ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا یہ تیری شرارت لگتی ہے۔ اٹھے اور ٹھڈے مار مار کر اس کو چبوترے سے گرا دیا۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا، دیکھو میں نہیں کہتا تھا یہاں نہیں کرنا؟ کہتے ہیں یہ ٹھڈے تو ہمارے سر کے تاج ہیں۔ یہی اب ہم کھل کے کہہ سکیں گے ہمارا استاد ثقہ ہے۔ ہمارا استاد ثقہ ہے، مطلب جو ہے نا وہ کھل کے کہہ سکیں گے۔

اب ان لوگوں نے ایسے کام کیے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کذاب اور دجال اور پتہ نہیں کیا... "ما في شيء" اور اس قسم کی باتیں ان کے لیے بالکل عام تھیں، راویوں کے بارے میں۔ کہ وہ کہتے ہیں اس کو کچھ بھی نہیں آتا، کسی نے بھی اس سے نقل نہیں کیا، اس قسم کی باتیں ان کے بارے میں یعنی کہی دیتے۔ تو یہ صرف دین کی حفاظت کے لیے، تاکہ کوئی غلط بات شامل نہ ہو جائے۔

لیکن دیکھیں نا، ایک طرف تو یہ محدثین تھے، دوسری طرف دوسرے محدثین۔ جنہوں نے سوچا کہ اگر ہم اس طرح سختی کریں گے، تو کہیں آپ ﷺ کا کوئی قول گم نہ ہو جائے۔ کوئی گم نہ ہو جائے، ایسا نہ ہو کہ مطلب گم ہو جائے، تو انہوں نے پھر ذرا کمزور روایتیں بھی جمع کر دیں۔ کہ ممکن ہے کسی اور ذریعے سے تحقیق ہو جائے، لیکن ختم تو نہیں ہونا چاہیے نا! تو ان میں امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ہیں اور دوسرے حضرات ہیں جو انہوں نے مختلف روایات جمع کیں۔ تو لوگ کہتے ہیں شاید جو صحاح والے روایت ہیں وہ تو مضبوط ہیں، تو شاید یہ بڑے لوگ ہیں۔ نہیں، بھئی بڑے لوگ، وہ تو اللہ کو پتہ ہے کہ کون بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نیتوں کی بات ہے، "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"۔ ایک نے صحت کی نیت سے مطلب یہ ہے کہ سخت جان پھٹک کی، اور دوسرے نے گم نہ کرنے کی وجہ سے، مطلب وسعت کی تاکہ جو ہے نا کوئی چیز گم نہ ہو جائے۔ نیتیں تو دونوں کی اچھی ہیں۔ لہٰذا الحمد للہ اللہ پاک نے اس دین کو محفوظ رکھا ہے، اور اس دین کو محفوظ رکھیں گے قیامت تک ان شاءاللہ۔ البتہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بچائیں۔

اور اسی کے لیے ماشاءاللہ یہ باتیں ہوتی ہیں۔ تو یہ جو ماشاءاللہ ابھی جوڑ ہوا ہے اسی بنیاد پہ ہوا ہے۔ تو آپ نے ماشاءاللہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں بھی سن لیا۔ اور امہات المومنین کے بارے میں بھی آپ نے سن لیا۔ اہل بیت کے بارے میں سن لیا۔ تو کچھ ایسے کلام ہیں اس کے بارے میں، وہ بھی میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ بعض دفعہ نثر سے زیادہ نظم موثر ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے وہ کچھ کلام آپ کو سناتا ہوں۔ وہ بھی آپ سن لیجئے گا۔


کلامِ فکر آگہی، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم۔

عنوان ہے: **صحابہؓ کی شان**


صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار

طریقِ نبیؐ یعنی سنت کا معیار

حُب ان کا نبیؐ کی محبت کا معیار

ستارے ہدایت کے ہیں یہ صحابہؓ

مقام ان کا سب پر عیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


یہ حُبِ صحابہؓ نہ ہو جن کو حاصل

نہ ہو سکتا ہے وہ کبھی حق کا واصل

یہ حُبِ صحابہؓ نہ ہو جن کو حاصل

نہ ہو سکتا ہے وہ کبھی حق کا واصل

یہ حق اور باطل کا ہے ایک فاصل

جو بغضِ صحابہؓ کا داعی بنے تو

جو بغضِ صحابہؓ کا داعی بنے تو

جو شر ہے وہ اس میں جواں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار

طریقِ نبیؐ یعنی سنت کا معیار

حُب ان کا نبیؐ کی محبت کا معیار

ستارے ہدایت کے ہیں یہ صحابہؓ

مقام ان کا سب پر عیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


عقیدہ صحابہؓ کا اصلی عقیدہ

جو ہے مختلف اس سے ہے سر بریدہ

عقیدہ صحابہؓ کا اصلی عقیدہ

جو ہے مختلف اس سے ہے سر بریدہ

کہ باقی شنیدہ ہیں اور وہ ہیں دیدہ

جو غیر انبیاء سے ہیں افضل یہ سارے

جو غیر انبیاء سے ہیں افضل یہ سارے

کہ رب ان پہ یوں مہرباں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے


کبھی بھی صحابہؓ پہ تنقید نہ کرنا

کہ بارے میں ان کے خدا سے ہے ڈرنا

کبھی بھی صحابہؓ پہ تنقید نہ کرنا

کہ بارے میں ان کے خدا سے ہے ڈرنا

جو ان سے کٹے ان کا کیسے سنورنا؟

جو ان سے کٹے ان کا کیسے سنورنا؟

تباہی کے رستے کھلے واں پہ شبیرؔ!

تباہی کے رستے کھلے واں پہ شبیرؔ!

ظلم خود پہ ایسا جہاں ہو چکا ہے

تباہی کے رستے کھلے واں پہ شبیرؔ!

ظلم خود پہ ایسا جہاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کا رستہ ہدایت کا معیار

طریقِ نبیؐ یعنی سنت کا معیار

حُب ان کا نبیؐ کی محبت کا معیار

ستارے ہدایت کے ہیں یہ صحابہؓ

مقام ان کا سب پر عیاں ہو چکا ہے

صحابہؓ کی شان میں بیاں کیا کروں کہ

قرآں میں اس کا بیاں ہو چکا ہے



اب انشاء اللہ، اہل بیت کے بارے میں۔

کلام حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم۔

صحابہؓ کی شان کے عنوان سے ہے، **اہل بیت کا مقام**۔ حضرت فرماتے ہیں:


مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ

مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


جو سمجھے کوئی دل میں شانِ رسولؐ

وہ محبوبِ کبریا، خانوادۂ رسولؐ

جو سمجھے کوئی دل میں شانِ رسولؐ

وہ محبوبِ کبریا، خانوادۂ رسولؐ

ذرا پڑھ تو لینا فرمانِ رسولؐ

ہے قرآن کے ساتھ عترت اسی میں

ہے قرآن کے ساتھ عترت اسی میں

جو لائقِ اتباع کے، پھر سارے ہیں یہ

مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


خواتینِ جنت کی ہیں سیدہ

جگر گوشۂ آقاؐ کی ہیں فاطمہؓ

خواتینِ جنت کی ہیں سیدہ

جگر گوشۂ آقاؐ کی ہیں فاطمہؓ

مثالی رہی ہے یوں ان کی حیا

جو نبیؐ کے ہیں پھول، ایسے کہ جو

جو نبیؐ کے ہیں پھول، ایسے کہ جو

حق پہ ہیں سب، ان کے پیارے ہیں یہ

مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


وہ سردارِ امت و نام کا حسنؓ

فہیمِ امت تھے، بچایا چمن

وہ سردارِ امت و نام کا حسنؓ

فہیمِ امت تھے، بچایا چمن

تھے امت کے جوڑ کی امید کی کرن

تھے امت کے جوڑ کی امید کی کرن

یہ آقاؐ کی گود میں ہیں پلے اور بڑے ہیں

یہ آقاؐ کی گود میں ہیں پلے اور بڑے ہیں

اور آقاؐ کے سچ مچ دلارے ہیں یہ

مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


شجاعت علیؓ کی رہی ہے مثالی

جو ہے بابِ علم، مقام ان کا عالی

شجاعت علیؓ کی رہی ہے مثالی

جو ہے بابِ علم، مقام ان کا عالی

سلاسل کے باغِ مقدس کے مالی

ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ

ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ

جو دیں کے لیے تھا ضروری کیا وہ

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

یوں احسان ان کا بہت امت پر ہے

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

یوں احسان ان کا بہت امت پر ہے

مقامِ اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

مقامِ اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

مقامِ اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


وہ شیرِ متقی وہ حسینؓ وہ نڈر

کہ حق کے لیے پیش کیا جس نے سر

وہ شیرِ متقی وہ حسینؓ وہ نڈر

کہ حق کے لیے پیش کیا جس نے سر

جوابِ حق اس پہ تھی منحصر

رقم اپنے خوں سے کی داستانِ حق

رقم اپنے خوں سے کی داستانِ حق

عجب فکرِ حق کے نظارے ہیں یہ

مقام اہلِ بیت کا بیاں کیا کروں؟

محبت کے آسماں کے تارے ہیں یہ


نبوت ولایت یہاں دیکھ لو

یہ دل کا کچھ اور ہی جہاں دیکھ لو

نبوت ولایت یہاں دیکھ لو

یہ دل کا کچھ اور ہی جہاں دیکھ لو

شبیرؔ ان کی قربانیاں دیکھ لو

شبیرؔ ان کی قربانیاں دیکھ لو

تھے ساتھ ان کے سب، فرمایا ہے

کہ دیں پر عمل کے سہارے ہیں یہ

تھے ساتھ ان کے سب، فرمایا ہے

کہ دیں پر عمل کے سہارے ہیں یہ



اب انشاءاللہ چونکہ آخری ہے امہات المومنین کا مقام، اور چونکہ یہ بیان بھی خواتین کے لیے ہے، تو ان کے لیے بہت مناسب بھی ہے۔

حضرت والا کا کلام ہے: **امہات المومنین کا مقام**


میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے


خدیجہؓ کا جب لب پہ آتا ہے نام

تصور میں میں پیش کر دوں سلام

خدیجہؓ کا جب لب پہ آتا ہے نام

تصور میں میں پیش کر دوں سلام

وہی ایثار و قربانی و احترام

وہی ایثار و قربانی و احترام

نبیؐ کے لیے جو ہمیش کرتی تھیں

نبیؐ کے لیے جو ہمیش کرتی تھیں

ذرا سوچے کوئی کہ وہ کس قدر ہے

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے


ہو میرا لقب عائشہؓ ماں ہماری

ہو میرا لقب عائشہؓ ماں ہماری

اشاعتِ دیں کا حصہ ان کا بھاری

ہو میرا لقب عائشہؓ ماں ہماری

اشاعتِ دیں کا حصہ ان کا بھاری

اٹھائی ہے کس شان سے ذمہ داری

اٹھائی ہے کس شان سے ذمہ داری

ہے قرآں میں ان کی براءت کا اعلان

ہے قرآں میں ان کی براءت کا اعلان

جو ظاہر کہ سب پر کَشَمسٌ وَالقَمَر ہے

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے


ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ

ہمیں ماؤں سے دین کا حصہ ملا وہ

ہے باقی صحابہؓ سے بالکل چھپا وہ

جو دیں کے لیے تھا ضروری کیا وہ

جو دیں کے لیے تھا ضروری کیا وہ

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

یوں احسان ان کا بہت امت پر ہے

بغیر اس کے تکمیلِ دیں کیا تھا ممکن؟

یوں احسان ان کا بہت امت پر ہے

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے


تو بھیجیں ہم ان پر شبیرؔ اب سلام

رہے دل میں ان کے لیے احترام

تو بھیجیں ہم ان پر شبیرؔ اب سلام

رہے دل میں ان کے لیے احترام

ایصالِ ثواب کا بھی ہو اہتمام

ایصالِ ثواب کا بھی ہو اہتمام

کہ ماؤں کا حق ہے مُسَلَّم، وہ سمجھیں

کہ ماؤں کا حق ہے مُسَلَّم، وہ سمجھیں

شرافت کی جس کی کوئی کچھ نظر ہے

کہ ماؤں کا حق ہے مُسَلَّم، وہ سمجھیں

شرافت کی جس کی کوئی کچھ نظر ہے

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

میں ماؤں کا جب بھی مقام سوچوں تو

جھکا احترام سے مرا جاتا سر ہے



تو جیسے اب اس میں ذکر آ گیا کہ ایصالِ ثواب کرنا چاہیے، تو اگرچہ اب ہمارا یہ مجلس پوری ہونے والی ہے، اختتام کو پہنچنے والی ہے، تو اس کے اختتام پر ہم لوگ سب ایک دفعہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں، تین دفعہ سورہ اخلاص۔ انشاءاللہ ایصالِ ثواب کرتے ہیں صحابہ کرامؓ کو بھی، اہل بیت کو بھی، اور امہات المومنین کو بھی۔


(تلاوتِ قرآن)


الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ.

اللَّهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ.

یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے ہمیں افراط و تفريط سے محفوظ فرما دے۔ اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ.

یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے، اپنے ساتھ اور اپنے حبیب پاک ﷺ کے ساتھ، ہمیں یا اللہ کامل محبت عطا فرما دے۔ تمام صحابہؓ کے ساتھ، امہات المومنین کے ساتھ، اہل بیت کے ساتھ، یا اللہ کامل محبت نصیب فرما دے۔ اور یہ محبت ہمارے لیے قبولیت کا ذریعہ بنا دے۔ یا اللہ علمِ نافع عطا فرما دے، اس پر عملِ صالح نصیب فرما دے۔ یا اللہ! للہیت، اس میں اخلاص نصیب فرما دے، اس کو قبول فرما دے، اس پر راضی ہو جا۔ ایسا راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔ یا اللہ! ہم افراط و تفریط سے بچنا چاہتے ہیں، فتنوں کا دور ہے۔ یا اللہ تو ہماری حفاظت فرما دے۔ یا اللہ! ہر قسم کے نقصانات سے، ہر قسم کے شرور سے، ہر قسم کے فسادات سے، ہر قسم کی غلطیوں سے، ہر قسم کے نقصان سے ہماری حفاظت فرما دے۔ یا اللہ ہماری آنکھوں کی، کانوں کی، زبانوں کی، ذہنوں کی، اور یا اللہ ہاتھ پاؤں کی، یا اللہ ہر طرح کی حفاظت فرما دے۔ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! تو جن چیزوں سے راضی ہوتا ہے ہمارا رخ اسی طرف کر دے، اور یا اللہ ہم کرنے والے بن جائیں، اور جن چیزوں سے ناراض ہوتا ہے ہمارے دل کو اس سے اچاٹ کر دے، اور یا اللہ ہمیشہ ہمیشہ اس سے محفوظ فرما دے۔


یا اللہ ہمیں تو اپنے فضل و کرم سے یا اللہ نفسِ مطمئنہ عطا فرما دے، قلبِ سلیم عطا فرما دے، عقلِ فہیم فہیم عطا فرما دے، اور یا اللہ اس پر اپنا فضلِ عظیم نصیب فرما دے۔ یا اللہ تو ہم سے راضی ہو جا، ایسا راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔ ہمارے دلوں کے اندر جو جائز حاجات ہیں، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ تجھے معلوم ہیں، ان تمام حاجات کو پورا فرما دے۔ اور جو یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ناجائز ہیں یا اللہ ان سے ہمارے دلوں کو، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، یا اللہ ہمارے دلوں سے ان کو بھلا دے، اور یا اللہ ہمارے دلوں کو ان سے محفوظ فرما دے۔


اور یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! تو اپنے فضل و کرم سے جو جن لوگوں نے دعاؤں کے لیے کہا ہے، سوچا ہے، توقع رکھتے ہیں سب کی دعائیں قبول فرما۔ سب کی جو حاجات ہیں، مدارس کی ہیں، مساجد کی ہیں، خانقاہوں کی ہیں، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ تو اپنے فضل و کرم سے سب کی تمام حاجات کا تکفل فرما دے۔ اور یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! اپنے حبیب پاک ﷺ کی امتِ پاک میں اپنے درِ پاک عطا فرما۔ یا اللہ! جب تو فرمائے گا میں تم سے راضی ہوا پھر کبھی ناراض نہیں ہوں گا، اے اللہ ہم خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ عمل نامہ دائیں ہاتھ سے نصیب فرما دے، حسنِ خاتمہ کی عظیم دولت سے سرفراز فرما دے۔ موت کی سختی سے، عذابِ قبر سے، پل صراط کی مشکلات سے، جہنم کی آگ اور دوزخ سے، حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔


جتنے مسلمان فوت ہو چکے ہیں سب کی مغفرت فرما۔ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! تمام صحابہ کرامؓ اور امہات المومنین اور یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ جو اہل بیت ہیں، ان سب کے درجات بلند فرما، ان کی فیوض و برکات سے مکمل وافر حصہ عطا فرما دے۔ ہمارے جتنے اکابر دنیا سے گئے ہیں ان کے درجات بہت بلند فرما۔ یا اللہ! پاکستان کو رہتی دنیا تک اسلام کا قلعہ بنا دے۔ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا، اس کے لیے قبول فرما دے۔ اور یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! جو بھی اسے اصل مقصد سے اس کو ہٹانا چاہتا ہے، توڑنا چاہتا ہے، ان کو ہدایت عطا فرما۔ اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں ہے تو ان کو عبرت کا نمونہ بنا دے۔ یا اللہ جو شرور یہاں پر، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! چل پڑے ہیں، یا اللہ ان شرور سے پاکستان کی حفاظت فرما دے۔ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! جو ہمارے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، ان سازشوں سے ہماری حفاظت فرما دے۔ اور یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ تو اپنے فضل و کرم سے یا اللہ دینِ اسلام کو یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، قانونِ اسلام کو یہاں پر نافذ فرما دے۔ یا اللہ! ہمیں ہر خیر عطا فرما، ہر شر سے محفوظ فرما۔


ہمیں مقبولین میں سے، محبین میں سے، محبوبین میں سے، یا اللہ متقین میں سے، صدیقین میں، صادقین میں شامل فرما دے۔ ان لوگوں میں شامل فرما جن کو دیکھ کر تو خوش ہوتا ہے، ان لوگوں میں شامل فرما جن کے بارے میں تو فرماتا ہے جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ یا اللہ! یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ! حرمین شریفین کی بالخصوص حفاظت فرما دے۔ اور وہاں پر جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں یا اللہ ان مسائل سے بھی یا اللہ ہمیں... یا اللہ تمام مسلمانوں کی حفاظت فرما دے۔ اور یا اللہ اہل حق کو حق پر یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ جمع فرما دے، اور وہاں پر حق کو، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، ہر جگہ پر حق کو نافذ فرما دے۔ اور یا اللہ ہمیں بھی اس کے لیے استعمال فرما دے۔ اور یا اللہ دجال کے، دجالی فتنوں سے ہماری حفاظت فرما۔ امام مہدی علیہ السلام اگر ہمارے وقت میں آ جائیں تو ان کے ساتھ ہمیں شامل فرما، ان کی بیعت نصیب فرما دے۔


اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ حَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ۝ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ۝ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ...



عقائدِ اہل السنۃ والجماعت: مقامِ صحابہؓ، اہلِ بیت اور امہات المومنینؓ - خواتین کے لیے اصلاحی بیان - اشاعت دوم