اَلْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(26) وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا(27) یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا(28) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30) اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(31) وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْاؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَؕ وَ سْــئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا(32) وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا (33)
صَدَقَ اللهُ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے (احکام کی) وضاحت کر دے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ﴿26﴾ اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری طرف توجہ کرے، اور جو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے ہٹ کر بہت دُور جا پڑو ﴿27﴾ الہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے، اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔﴿28﴾
یعنی انسان فطری طور پر جنسی خواہش کا مقابلہ کرنے میں کمزور واقع ہوا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ خواہش جائز طریقے سے پورا کرنے سے نہیں روکا، بلکہ نکاح کو اس کے لئے آسان بنا دیا ہے۔
یہ نفس جو ہے یہ اصل میں پانی کی طرح ہے۔ اگر آپ اس کو contain کر لیتے ہیں نا، تو جس حالت میں بھی وہ container ہے، اس condition میں رک جائے گا۔ لیکن اس کو ذرہ بھر بھی، کہیں بھی کوئی puncture ملے گا، کوئی ڈھلوان ملے گا، تو اس طرف پانی بہہ جائے گا۔ مطلب ظاہر ہے کہ اس میں... تو اس میں گویا کہ انسان کی جو نفسانی خواہشات ہیں وہ بزور آپ نے روکی ہوتی ہیں۔ اس لیے اس کے بارے میں یہ نہیں ہوتی کہ ختم ہو جاتی ہیں، دبا دی جاتی ہیں۔ تزکیہ اس کو کہتے ہیں گھونس کر دبانا۔ اب مثال کے طور پر یہ جنسی خواہش ہی کو لے لیں۔ تو جنسی خواہش کو تو شریعت نے ختم تو نہیں کیا، ختم تو نہیں کیا۔ البتہ یہ ہے کہ اس کو control کر لیا ہے اور جب اس کو صحیح مصرف مل گیا تو وہاں پر اجازت دے دی۔
اس طرح کھانے پینے، کھانے پینے کو روکا تو نہیں ہے کہ کھانا پینا نہیں ہے۔ یہ نہیں روکا، صرف یہ بات ہے کہ محدود وقت کے لیے روک لیتے ہیں اور پھر جس وقت وہ ٹائم گزر جائے، اس کے بعد کہتے ہیں بس وہ کھاؤ كُلُوا وَاشْرَبُوا ۔ اس طریقے سے وہ جو خواہشاتِ نفسانی ہیں، ان خواہشاتِ نفسانی کو بالکل ختم نہیں کیا البتہ یہ ہے کہ اس کو ایک طریقے کا پابند کر دیا ہے۔ اس لیے ہمارے مشائخ فرماتے ہیں ازالہ نہیں کرتے، امالہ کرتے ہیں۔ ازالہ نہیں کرتے، امالہ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو صحیح مصرف پہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ والی بات ہے۔
اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، إلا یہ کہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے وجود میں آئی ہو (تو وہ جائز ہے)، اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ یقین جانو اللہ تم پر بہت مہربان ہے ﴿۲۹﴾
یا اللہ! یا کریم!
اس کا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا حرام ہے، کسی کی جان لینا اس سے زیادہ حرام ہے۔ دوسرے کی جان لینے کو "اپنے آپ کو قتل کرنے" سے تعبیر کر کے اس طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ کسی دوسرے کو قتل کرنا بالآخر اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے، کیونکہ اس کے بدلے میں خود قاتل قتل ہو سکتا ہے، (قصاص کی صورت میں) اور اگر یہاں قتل نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کی جو سزا ملنی ہے وہ موت سے بھی بدتر ہو گی۔ اسی طرح اس تعبیر سے خودکشی کی ممانعت بھی واضح ہو گئی۔ دوسرے کسی کا مال ناحق کھانے کے ساتھ یہ جملہ لانے سے اس طرف بھی اشارہ ممکن ہے کہ جب ناحق مال کھانے کا رواج معاشرے میں عام ہو جائے تو اس کا نتیجہ اجتماعی خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یعنی انسان جو ہے، جب بھی ظلم کرتا ہے، تو وہ ظلم اپنے اوپر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ، اسی کی طرف لوٹ کے آتا ہے۔ جیسے:
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
تو ظلم جو ہوتا ہے وہ ہر وہ چیز ہے جو اعتدال سے ہٹ جائے، تو اس صورت میں پھر ظلم ہو جاتا ہے۔ اب یہ والی بات یہاں پر بھی، یعنی اگر دیکھو، تو قتل ہے، وہ بھی ظلم ہے۔ تو اس کے بدلے میں پھر وہ قتل ہوگا۔ تو یہ اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے۔ اس طریقے سے اگر کوئی کسی کو نقصان پہنچاتا ہے تو بالآخر وہ اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ یعنی کیسے؟ کہ اس میں یہ والی بات ہے کہ اول تو اس نے اپنے اعمال کو حرام کر دیا، اگر کسی نے مال کسی سے لے لیا، زبردستی لے لیا، دھوکے سے لے لیا، تو اس نے اپنے مال کو حرام کر دیا۔ اب اس حرام مال کو حلال مال کے ساتھ ملا دیا تو سارہ حرام ہو گیا۔ اب ایسی صورت میں، وہ جو حرام مال کھانے کے جتنے بھی نقصانات ہیں وہ سب اس کے اوپر آ جائیں گے۔ تو یہاں پر بھی یہ والی بات ہے کہ اگر ناحق مال کھانے کا رواج ہو جائے اور لوگ اس کو ناحق نہ سمجھیں، تو گویا کہ سب لوگ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، گویا کہ اجتماعی طور پر خودکشی کر رہے ہیں۔ اجتماعی طور پر اپنے آپ کو، نقصان پہنچا رہے ہیں۔
أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ! اللہ بچائے جی۔
اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لئے بالکل آسان ہے ﴿30﴾ اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کر دیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان گناہِ کبیرہ سے پرہیز رکھے تو اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف فرماتے رہتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیک عمل، مثلاً وضو، نماز، صدقات وغیرہ سے گناہِ صغیرہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔
اب یہاں پر دو باتیں ہیں اور دونوں کو اپنے اپنے طور پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یعنی بڑے گناہوں سے بچنا لازمی ہے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو تباہ کرنے والی بات ہے، جیسے کہ گزر گیا۔ چھوٹے گناہوں کی بھی جرات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بعض دفعہ چھوٹے گناہ، بڑے گناہ کا ذریعہ ہو جاتے ہیں۔ ہر چھوٹے گناہ کا بڑے گناہ کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ گویا کہ یوں سمجھ لیں کہ اگر اس میں مزید کچھ کیا جائے تو وہ بڑا گناہ بن جاتا ہے۔
اب جب یہ صورتحال ہے، تو ایسی صورت میں اگر چھوٹے گناہ سے یہ بھی بچے گا، چھوٹے گناہ سے بھی بچے گا تو بڑے گناہ سے خود بخود بچ جائے گا۔ کیونکہ مطلب ظاہر ہے، یعنی جس کو ہم کہتے ہیں تقویٰ، وہ کس کو کہتے ہیں؟ تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ، یعنی اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ تو قریب نہ جانے کا مطلب کیا ہے کہ آپ چھوٹے گناہ کے بھی قریب نہ جائیں۔ چھوٹے گناہ نہ کریں، تو بڑا گناہ بھی آپ سے نہیں ہوگا۔ البتہ اس کوشش میں اگر کچھ غلطی ولطی چھوٹے گناہوں کی ہو جائے تو اللہ پاک اس کو معاف کرتے رہتے ہیں۔ یعنی اس میں بعض دفعہ ایسی کہ وضو سے معاف ہو جاتے ہیں، اس طرح معافی کے اوقات ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس میں معاف کر لیتے ہیں، مختلف جگہوں پہ معافی کے ذرائع ہوتے ہیں۔ لیکن بڑے گناہ جو ہوتے ہیں، وہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ بڑے گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔
اب ہمارے جیسے تبلیغی جماعت ہے، وہ فضائل کے ذریعے سے چلتے ہیں، مطلب فضائل ان کو بیان کیے جاتے ہیں تو اس کے ذریعے سے ان میں قوت آتی ہے اور وہ عمل کرتے ہیں اور یہ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا بعض دفعہ ایک side effect ہے۔ وہ side effect یہ ہے کہ آپ جب بیان کرتے ہیں اور اس میں وہ فضائل بیان کرتے کرتے اس کے مسائل سے اگر آپ ہٹ جائیں، تو پھر بعد میں اس سے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
مثلاً میں ایک مثال دیتا ہوں۔ حضرت مولانا مصطفیٰ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ رائے ونڈ میں مقیمین حضرات میں سے تھے اور ما شاء اللہ بہت محقق بزرگ تھے۔ وہ ہدایات بھی دیتے تھے اور کارگزاری بھی سنتے تھے۔ تو ایک دفعہ کارگزاری سن رہے تھے تو درمیان میں ہدایات دیتے دیتے فرمایا کہ میرے بزرگو، یاد رکھو اگر کوئی نئی بات سن لو کسی بھی ساتھی سے، تو اس کو آگے بیان نہ کرو جب تک آپ اپنے علاقے کے علماء سے اس کی تحقیق نہ کرو کہ اس نے یہ بات صحیح کی ہے یا غلط کی ہے۔ پھر سمجھانے کے لیے ایک صاحب کو اٹھایا، بھئی گشت کے آداب بیان کرو۔ اس نے گشت کے آداب بیان کرنے شروع کیے۔ اس نے کہا کہ گشت بہت اونچا عمل ہے، اس کے اول قدم پہ سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ حضرت نے بولا بھئی بتاؤ، کہاں سے سنا ہے؟ اب وہ بیچارہ حیران ہو گیا کہ عامی آدمی تھا تو کیا کہتا؟ تو حضرت نے فرمایا: بھئی، سارے گناہ معاف نہیں ہوتے! آپ یہ کہہ سکتے ہیں بہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ سارے گناہ، یعنی بڑے گناہ تو توبہ سے معاف ہوتے ہیں۔ اب کوئی قتل کر لے، اور آ کر آپ کے ساتھ گشت کر لے اور کہہ دے میرے گناہ معاف ہو گئے، پھر کیا کرو گے؟
اب دیکھو نا، حضرت نے کیسے زبردست طریقے سے اس کو پکڑا، ورنہ... اب دیکھیں بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً معاملات وغیرہ کی صفائی، ایسے ہی... وہ سمجھتے ہیں بس یہ گشت سے اور تمام چیزوں سے ساری چیزیں معاف ہو جاتی ہیں۔ یہ ہے concept ہے۔ تو یہ نتیجہ تو پھر غلط ہے، نقصان تو ہوگا۔ تو اس وجہ سے، تقویٰ یہ ہے کہ آدمی گناہ کے قریب نہ جائے۔ چھوٹے گناہوں سے بچے گا تو بڑے گناہوں سے بچ سکے گا۔ ورنہ چھوٹے گناہوں میں خیال نہیں رکھے گا، تو بڑے گناہوں میں پڑ جائے گا۔
ایک Indonesian تھے ہمارے class fellow، کلاس میں ہم بیٹھے ہوئے تھے۔ کسی طرح بات چیت شروع ہو گئی، تو میں نے اس سے کہا، دیکھو ایک دائرہ میں نے کھینچا، چھوٹا سا دائرہ، میں نے اس میں اندر لکھا: ایمان۔ پھر میں نے اس کے اردگرد اور بڑا دائرہ کھینچا، میں نے کہا: یہ فرائض ہیں۔ پھر اس سے آگے دائرہ: واجبات۔ پھر اس سے آگے دائرہ: سنن۔ پھر اس سے آگے دائرہ: مستحبات۔ پھر اس سے آگے: مباحات۔ تو میں نے کہا دیکھو! مباحات میں اگر انہماک ہو جائے تو مستحبات رہ جاتے ہیں۔ شیطان جو مطلب ایک تیر ہے، مطلب وہ ڈالتا ہے تو وہ... اگر یہیں روک دیا تو ٹھیک ہے، نہیں تو آگے جائے گا۔ تو مستحبات میں پڑ جائے گا۔ مستحبات ہٹ جائیں گے، اور اس کی پروا نہیں کرو گے تو سنتیں متأثر ہو جائیں گی۔ اور سنتیں متأثر ہو گئیں تو واجب کے لیے راستہ کھل گیا۔ واجب متأثر ہوا، واجب کے لیے راستہ کھلے، تو واجب کے بعد پھر فرائض ہے۔ تو فرائض میں اگر خیال نہیں کیا، تو پھر اس کے بعد پھر ایمان ہے، ایمان کے اوپر اثر پڑ سکتا ہے۔
تو میں نے کہا کہ، رکنا یہ ہے، تو یہاں پر تو رکنا ہے۔ وہ بہت خوش ہو گیا، بہت خوش، کہنے لگا یہ بہت صحیح آپ نے بات بتائی۔ تو اصل میں بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہی بات کرنی ہے کہ تقویٰ جو ہے کیا ہے؟ وہ نفس کی خواہش کے مقابلے میں چیز ہے۔
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا
نفس کے مقابلے میں تقویٰ ہے۔ نفس کی خواہشات کے مقابلے میں۔ تو اگر آپ نے نفس کی خواہشات کو لے لیا تو تقویٰ ہٹ گیا۔ لہٰذا آپ نے کوشش پوری طرح کرنی ہے، تقویٰ حاصل کرنے کی۔ اس میں اگر کمزوری ہے، جیسے فرمایا گیا کہ ہم میں کمزوری ہے، تو انسان کے اندر جو کمزوری ہے تو اللہ پاک نے اس کو صحیح طریقے سے کرنے کے لیے کوئی راستہ دیا ہوتا ہے۔ وہ صحیح طریقے سے کرنے کے لیے آپ کر لو، مطلب ظاہر ہے، انتظام کر لو، تاکہ اس غلط طریقے پہ نہ پڑو۔ یہ تفصیل بتانی ضروری تھی کیونکہ اس کے بغیر انسان غلطی میں پڑ سکتا ہے۔
اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے ﴿۳۱﴾
اور جن چیزوں میں، ہم نے تم کو ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے، ان کی تمنا نہ کرو، مرد جو کچھ کمائی کریں گے ان کو اس میں سے حصہ ملے گا، اور عورتیں جو کچھ کمائی کریں گی ان کو اس میں سے حصہ ملے گا۔
یعنی بعض خواتین نے اس تمنی کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد وغیرہ میں حصہ لے کر مزید ثواب حاصل کرتیں۔ اس آیت کریمہ نے یہ اصول واضح فرما دیا کہ جو باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہیں ان میں اللہ نے کسی شخص کو کسی اعتبار سے فوقیت دے رکھی ہے اور کسی کو کسی اور حیثیت سے۔ مثلاً کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی زیادہ طاقتور ہے کوئی کم، کسی کا حسن دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ چیزیں چونکہ انسان کے اختیار میں نہیں ہیں، اس لئے ان کی تمنا کرنے سے فضول حسرت ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہئے۔ البتہ جو اچھائیاں انسان کے اختیار میں ہیں انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے، اور ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے ویسا ہی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
سُبْحَانَ اللّٰهِ!
اللّٰهُ جَلَّ شَأْنُهُ نے جو نظام بھی بنایا ہے، اس پر دل سے راضی ہونا سب سے بڑی بات ہے۔ سب سے بڑی بات ہے۔ کہ جیسے آپ ﷺ کے پاس ایک نابینا آیا۔ اور آپ ﷺ سے عرض کیا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ میری بینائی کے لیے دعا فرمائیں کہ مجھے بینائی مل جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ ہاں، اگر آپ چاہیں تو دعا کر لوں۔ تو اس نے پھر کہا، يَا رَسُولَ اللّٰهِ میرے لیے دعا کیجیے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں تو دعا کر دوں۔ پھر اس نے کہا کہ، يَا رَسُولَ اللّٰهِ میرے لیے، مطلب بینائی کی دعا... پھر آپ ﷺ نے، مجھے پتہ نہیں کہ تیسری دفعہ کیا ہوا، لیکن بہرحال، بالآخر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ اور ان کی... بلکہ ان کو دعا سکھائی۔ ان کو دعا سکھائی۔ تو وہ دعا سکھائی، پھر جس نے وہ دعا کی تو اس کی بینائی آ گئی۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ، آپ ﷺ نے جو پہلے فرمایا کہ، آپ کے لیے یہ حالت اچھی ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جس کو جس حالت میں رکھا ہوتا ہے، اس کے لیے وہی بہتر ہوتا ہے۔ مثلاً غریب کیا ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کی بس وہ ہے، یعنی تشکیل ہے۔ کسی کو حسین بنایا، کسی کو بدصورت بنایا۔ اب بلال رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ حبشی تھے۔ لیکن ان کو سیدنا بلال کہتے ہیں۔ عمل کے لحاظ سے بہت آگے تھے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ کوئی بادشاہ ہوتا ہے، کوئی غلام ہوتا ہے۔ ہاں، کوئی جو ہے نا مطلب ہے، طاقتور ہوتا ہے، کوئی کمزور ہوتا ہے، کوئی صحت مند ہوتا ہے، کوئی بیمار ہوتا ہے۔ اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو اختیار میں نہیں ہیں۔
تو ہمارے حضرت تھانوی رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ نے آسان نسخہ بتایا۔ بہت آسان نسخہ ان تمام چیزوں کو دیکھ کر، بہت آسان۔ فرمایا: غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، اور اختیاری میں سستی نہ کرو۔
غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑو، اور اختیاری میں سستی نہ کرو۔
اب کیسی خوبصورت بات ہے۔ بالکل ساری باتوں کا نچوڑ ہے۔ اگر آپ غیر اختیاری باتوں کے پیچھے نہیں پڑتے تو آپ بہت سارے فضول خیالات سے بچے رہتے ہیں۔ وہ آپ کی جو battery discharge ہو رہی ہوتی ہے مسلسل، دماغ سوزی کی، تو آپ کو بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اگر آپ اس کو مِنْ وَعَنْ مان لیں کہ یہ تو اللہ پاک نے جیسے کیا بس ٹھیک ہے۔ ہاں، جو مجھے اختیار دیا ہے جن چیزوں میں، میں اس میں سستی نہ کروں۔
مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ گھر میں پڑا رہتا ہے، کچھ کام نہیں کرتا۔ بس اللہ پاک دینے والا ہے۔ یہ اختیاری میں سستی کرنے والا ہے۔ اس کو جو نقصان ہو رہا ہے، اپنے اختیار کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس میں اس کی پکڑ بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ پوری کوشش کرتا ہے، پھر بھی نہیں ملتا، تو پھر یہ غیر اختیاری ہے۔ تو غیر اختیاری میں پھر جو ہے نا وہ نہیں کرنا چاہیے۔ تو بس یہی والی بات ہے کہ اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
اس طرح مرد اور عورت والی بات۔ مرد اور عورت والی بات میں، اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی صلاحیتیں دی ہیں، مرد، عورتوں کو اپنی صلاحیتیں دی ہیں۔ عورتوں کو مطلب جو چیز ہے اس کی مرد خواہش نہ کرے، اور جو مردوں کی چیز ہے اس کی عورتیں خواہش نہ کریں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے تشکیل فرمائی ہے۔ اب اس میں یہ ہے کہ بعض دفعہ مجھے بھی خواتین وہ کہتی ہیں، اگر مرد ہوتیں تو ہم آپ کے ساتھ ہر وقت ہوتیں، یہ ہوتا، وہ ہوتا۔ میں نے کہا، یہ نہ کہو یہ اللہ پاک کی تشکیل ہے۔ آپ لوگوں کو سب کچھ اسی پر ملے گا۔ جس حالت میں تم ہو، اس حالت میں جن اعمال کے تم مکلف ہو، ان اعمال کو کرنے سے آپ کو سارا کچھ یہیں اسی پہ ملے گا۔ کیونکہ وہ حدیث شریف میں ہے نا، کہ عورتیں جو آئی تھیں آپ ﷺ کے پاس: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مرد تو سارا کچھ لے گئے۔ وہ جہاد بھی کرتے ہیں، یہ بھی کرتے ہیں، وہ بھی کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کو ان کے گھر کے کام بتائے کہ آپ کو اس پر یہ ملتا ہے، یہ ملتا ہے، اور وہ جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ، حج آپ کا جہاد ہے۔ تو عورتوں کا حج مطلب، جہاد جو ہے نا، کیا ہے؟ وہ حج ہے۔ اور اس طریقے سے گھر کے کاموں کی، شوہر کی تابعداری پر، بچے کی وہ پرورش کے لیے وہ جو محنتیں کر رہی ہے، اس پر پتہ نہیں کہ اس کو کیا کیا ملتا ہے، وہ ساری تفصیل موجود ہے اس میں۔
تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو تشکیل پر دیکھ، جانا چاہیے۔ جو تشکیل اللہ پاک کر لے، اس کے مطابق ہمیں کام کرنا چاہیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔