اَلْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (25)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اور تم میں سے جو لوگ اس بات کی طاقت نہ رکھتے ہوں کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکیں، تو وہ ان مسلمان کنیزوں میں سے کسی سے نکاح کر سکتے ہیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور اللہ کو تمہارے ایمان کی پوری حالت خوب معلوم ہے۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔
چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا، اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکم یہ دیا گیا
لہذا ان کنیزوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کر لو، اور ان کو قاعدے کے مطابق ان کے مہر ادا کرو، بشرطیکہ ان سے نکاح کا رشتہ قائم کر کے انہیں پاک دامن بنایا جائے؛ نہ وہ صرف شہوت پوری کرنے کے لئے کوئی (ناجائز) کام کریں، اور نہ خفیہ طور پر ناجائز آشنائیاں پیدا کریں۔ پھر جب وہ نکاح کی حفاظت میں آ جائیں، اور اس کے بعد کسی بڑی بے حیائی (یعنی زنا) کا ارتکاب کریں تو ان پر اس سزا سے آدھی سزا واجب ہو گی جو (غیر شادی شدہ) آزاد عورتوں کے لئے مقرر ہے۔
آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لئے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورہ نور کی دوسری آیت میں آیا ہے۔ زیر نظر آیت میں باندیوں کے لئے اس کی آدھی سزا یعنی پچاس کوڑے مقرر فرمائی گئی ہے۔
یہ سب (یعنی کنیزوں سے نکاح کرنا) تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جن کو (نکاح نہ کرنے کی صورت میں) گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر تم صبر ہی کئے رہو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿25﴾
یہ اصل میں اللہ جل شانہٗ نے پرورش کے نظام بھی بنائے ہوئے ہیں، اور حفاظت کے نظام بھی بنائے ہوئے ہیں۔ تو جو پرورش کے نظام ہیں، اس کو بھی اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ اس کے بغیر وہ کام ہوگا نہیں۔ مثال کے طور پر جیسے کھانا پینا، یہ اگر کوئی نہیں کرتا، اس کی وجہ سے مر جائے تو ظاہر ہے وہ حرام موت ہوگی، خودکشی ہوگی۔ اس طرح اللہ پاک نے عفت اور پاکدامنی کے لیے بھی نظام بنائے ہوئے ہیں۔اور وہ شادی ہے۔ نہ صرف یہ پاکدامنی کا ذریعہ ہے، بلکہ نسل بڑھانے کے لیے بھی یہی ذریعہ ہے۔ پس نکاح میں دو مقاصد ہونے چاہئیں سامنے۔ ایک تو اپنی عفت، حفاظت۔ اور دوسرا یہ کہ نسل بڑھانا۔ تو اس کے لیے پھر اللہ پاک نے جو صورتیں پیدا فرمائی ہیں، تو ایک تو آزاد عورتوں کے ساتھ شادی ہے۔ اور دوسرا جو کنیزیں اس وقت ہوا کرتی تھیں، آج کل تو کنیزیں ہیں نہیں، ان کے ساتھ شادی ہے۔
آزاد عورتوں کے ساتھ شادی جو تھی، تو اس میں مہر اس وقت زیادہ ہوا کرتا تھا، کیونکہ ظاہر ہے وہ آزاد ہوا کرتی تھیں، مجبور نہیں ہوتی تھیں۔ اور جو کنیزیں ہوتی تھیں، ان کے مہر کم ہوتے تھے۔ تو اس طریقے سے ان کے اوپر جو سزا ہے، مطلب اس میں وہ بھی ظاہر ہے اس کو کم رکھا گیا ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ضرورت ہو، یعنی پاکدامنی اس کی متاثر ہو سکتی ہو، تو اس صورت میں اس کے اوپر نکاح واجب ہوگا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو سنت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اُس وقت بھی نکاح کرنا سنت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي﴾ نکاح میری سنت میں سے ہے۔ اور جو اس سے اعراض کرے گا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس وجہ سے سنت کے طور پر بھی اس کو کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ ایسے حالات ہوں کہ اس میں برائی میں پڑنے کا قوی اندیشہ ہو، تو اس وقت تو واجب ہے کہ وہ نکاح کر لے۔ اس صورت میں اگر ان سے نہیں کر سکتے ہو، آزاد عورتوں سے، تو اس میں تو پھر بہتر یہی ہے کہ ٹھیک ہے جو کنیزیں ہیں، ان سے پھر نکاح کیا جائے۔ ورنہ پھر صبر، تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان چیزوں کے سمجھنے کی، اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔