الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
ایمان پر استقامت ہی کامیابی ہے۔
(85) وَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ تَعَالى عَنْهُ، وَقِيلَ: أَبِي عَمْرَةَ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالى عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ: لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: "قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ"
”حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ آپ ﷺ کے بعد پھر کسی سے سوال کرنے کی ضرورت نہ ہو، آپ ﷺ نے فرمایا کہو میرا اللہ پر ایمان ہے پھر اس پر استقامت اختیار کر۔“
ایمان لاؤ اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو
قُلْ آمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ: استقامت کی بحث پہلے گزر چکی ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اوامر و نواہی پر اسلام لانے کے بعد انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہنا اور احکام، فرائض، سنن پر عمل کرتے رہنا۔ یعنی ایمان لانے کے بعد عمل بھی ساتھ میں ہو اس لئے کہ عمل ایمان کا ثمرہ اور تتمہ ہے، جس طرح وہ درخت جس میں کوئی پھل نہ ہو اس کی کوئی اہمیت نہیں اسی طرح عمل کے بغیر ایمان کی اہمیت نہیں، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل بھی موت تک کرتا رہے بلکہ روز بروز اس میں اضافہ کرتا رہے اسی بارے میں قرآن کی یہ آیت بھی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا.
ترجمہ: ”بیشک جن لوگوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر جمے رہے۔“ خلاصہ یہ ہوا کہ استقامت اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایمان پر جما رہے اور اس کا انتقال بھی ایمان کی حالت میں ہو۔
رواہ مسلم كتاب الايمان (باب جامع اوصاف الاسلام)، و ترمذی، نسائی، رواہ ابن ماجہ ایضاً.
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔