دنیاوی آزمائشیں، احکاماتِ شریعت اور مال میں بخل کی حقیقت

درس نمبر 162، سورۃ آل عمران: آیات:179 تا 180- (اشاعتِ اول) 8 مئی، 2022، بمطابق 6 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      ظاہری مال و اسباب اور دنیاوی عیش و عشرت اللہ کی رضا یا ناراضگی کا حتمی معیار نہیں۔

·      مسلمانوں پر مصیبتیں اور آزمائشیں کھرے اور کھوٹے ایمان کی پہچان کے لیے آتی ہیں۔

·      انسان کے نفس کا دھوکہ: اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر اللہ کے فیصلوں کو پرکھنا۔

غیب کے فیصلے اللہ کے پاس ہیں، انسانوں کی ذمہ داری صرف شریعت (اوامر و نواہی) کی پابندی ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔


مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕوَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ - فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ ۚوَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (179) وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ ؕبَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ؕسَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕوَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕوَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ (180)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

اللہ ایسا نہیں کر سکتا کہ مؤمنوں کو اُس حالت پر چھوڑے رکھے جس پر تم لوگ اِس وقت ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے۔ اور (دوسری طرف) وہ ایسا بھی نہیں کر سکتا کہ تم کو (براہِ راست) غیب کی باتیں بتا دے۔ ہاں! وہ (جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لئے) اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔

اس میں جو آیت نمبر 176 سے 178 تک آیات ہیں، اس میں اس شبہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لئے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہے کا جواب ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آ رہی ہیں؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لئے آ رہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو جائے کہ ایمان کے دعوے میں کون کھرا ہے اور کون کھوٹا؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وضاحت کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا، اور مشکلات ہی کے وقت یہ پتہ چلتا ہے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے؟ اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشکل میں ڈالے بغیر کیوں نہیں بتا دیتا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں ہر ایک شخص کو نہیں بتاتا، بلکہ جتنی باتیں چاہتا ہے اپنے پیغمبر کو بتا دیتا ہے۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان منافقین کی بد عملی آنکھوں سے دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کریں، اس لئے یہ آزمائشیں پیش آ رہی ہیں۔ آزمائشوں کی مزید حکمت آگے آیات 185 اور 186 میں بھی بیان فرمائی گئی ہے۔

یہ ایک ہمارے لیے سمجھنے کی بات ہے کہ انسان کا جو نفس ہے وہ اس کے ذریعے سے سوچتا ہے زیادہ تر۔ لہذا آدمی کو جو چیزیں پسند ہیں وہ جن کو مل رہی ہیں اور جو چیزیں ناپسند ہیں وہ جن کو نہیں مل رہی، اس سے وہ اپنا ذہن بناتا ہے۔ یعنی بہت سارے لوگ جن کو نعمتیں مل رہی ہیں وہ اس غرے میں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اگر غلط ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں یہ کیوں دیتے۔

تو جیسے مثال کے طور پر لڑائی میں اللہ پاک کسی کی مدد فرما دے ان کے کسی عمل کی وجہ سے اور ان کو فتح نصیب فرما دے، تو کہتے ہیں دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما دیا، مجھے فتح نصیب فرما دی۔ لیکن دوسری طرف اگر اللہ پاک آزمائش کر رہا ہو اور آزمائش کی وجہ سے کسی کو تکلیف ہو جائے تو دوسرا آدمی کہہ سکتا ہے وہ جو اس کے مقابلے میں کہتا ہے کہ دیکھو نا، یہ اللہ کو پسند نہیں ہے تبھی تو اس کے ساتھ ایسا ہوا۔


تو یہ باتیں چونکہ ہمارے ذہن کے لحاظ سے ہوتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ پر یہ چیزیں وہ نہیں لاگو۔ اللہ جل شانہٗ اپنے ارادے سے کام کرتے ہیں اور وہ آزمائش کرتے ہیں اور لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور اس طریقے سے لوگوں کو سزا بھی دیتے ہیں، دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ لیکن کون سی بات کیا ہے، یہ غیب کی بات ہے۔ یہ یہاں نہیں بتاتے اللہ تعالیٰ کسی کو۔

لہذا ہمارے پاس کیا Guarantee ہے؟ کیا طریقہ کار ہے؟ ہمارے پاس یہی ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کا حکم مانیں اور ہر حال میں نافرمانی سے بچیں۔ بس! ہمارے پاس یہی کسوٹی ہے۔ ہمارے پاس کوئی اور کسوٹی نہیں ہے کہ ہم اس چیز کو دیکھیں تو ایک رائے قائم کر لیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ چیز ہے اور یہ... نہیں، یہ ہمارا ذہن ہے اس میں، اس میں ہمارا ذہن کام کر رہا ہے۔ اور وحی میں ہمارا ذہن کام نہیں کر رہا۔ وحی اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لہذا جو اللہ نے وحی کے ذریعے سے بتا دیا کہ یہ کرو، تو کرنا چاہیے۔ اور یہ نہ کرو، یہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہی دونوں چیزوں کو اوامر و نواہی کہتے ہیں۔ اور یہ اوامر و نواہی کیا چیز ہے؟ یہ شریعت ہے۔ شریعت کا definition ہی اوامر و نواہی ہے۔

کہ جو اللہ پاک نے احکامات دیے ہیں اس کے مطابق عمل کرے، اور جو اللہ تعالیٰ نے جن کو منع فرمایا ہے اس کو نہ کرے۔ بغیر اپنے ذہن کو کام میں لاتے ہوئے کہ یہ اس کا نتیجہ یہ ہے تو یہ اچھا ہے اور یہ اس کا نتیجہ یہ ہے تو یہ برا ہے۔ کیونکہ اس میں ہمارا ذہن استعمال ہو رہا ہے، ہماری اپنی بات ہے اور ہمارا ذہن چونکہ نفس کے ساتھ attach ہے، لہذا اس میں وہ صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اور یہ فیصلہ اللہ پاک نے اپنے پر چھوڑا ہوا ہے۔ یہ قرآن پاک میں جا بجا آیا ہے کہ چھوڑے رکھو ان کو۔ اللہ پاک ان کو وہاں پر، اللہ پاک ان پر فیصلہ کر دے گا کہ کیا ہے۔ یعنی مطلب، مختلف جگہوں پر آیا ہوا ہے کہ اللہ پاک اُدھر فیصلہ کر دے گا کہ کون صحیح تھا۔

تو یہ بات ہے۔ میں Germany میں جا رہا تھا ایک street میں۔ تو دو تین لڑکے تھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، مجھے لگ رہا تھا کہ اردو بول رہے ہیں۔ تو میں نے کہا پاکستانی ہو گے، تو میں نے السلام علیکم کہا۔ وعلیکم السلام کیا، ہاتھ ملایا، کہا جی کہ آپ کہاں سے ہیں؟ میں نے کہا پاکستان سے ہوں، ہم بھی پاکستانی ہیں۔ تو میں نے کہا کہ اچھا پھر تو پھر آپ فلاں صاحب کو، فلاں صاحب کو، جو پاکستانی جن کو میں جانتا تھا، کیونکہ میں نیا نیا گیا تھا تو ان کو بھی تو آپ جانتے ہوں گے۔ کہتے ہیں ہاں، ہم ان کو جانتے ہیں لیکن وہ ہمیں اچھا نہیں کہتے تھے، اچھا نہیں سمجھتے۔ میں نے کہا کمال ہے بھئی ان لوگوں کے درمیان لڑائی ہو گی۔ تو میں نے کہا کہ بھئی کیوں آپ کو اچھا ان کو... یعنی وہ آپ کو اچھا نہیں سمجھتے؟ کہتے ہیں ہم احمدی ہیں۔ بس یہ جیسے ہی ان کی زبان سے نکلا، میں نے کہا پھر میں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ میں نے راستہ لے لیا۔ ان کو غصہ آ گیا۔ ظاہر ہے insult تو ان کی ہو گئی۔ تو انہوں نے کہا یہ سارے مولویوں کے پھڈے ہیں۔ تو میں نے کہا پتہ چل جائے گا۔ کہتے ہیں لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ، میں نے کہا میں بھی یہی کہتا ہوں۔

تو اب اس کا مطلب ہے کہ ان کے ساتھ الجھنے کی بجائے، فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کرے گا نا۔ تو میں ان کو کیا کہتا کہ تمہارے ساتھ کیا ہے، وہ تو ڈھٹائی کے ساتھ کہہ رہے تھے۔ تو فیصلہ تو اللہ... اب وہ جو ہے نا مثال کے طور پر یہی جو قادیانی، یہ کہتے ہیں، مثال کے طور پر وہاں پر وہ دوسری جگہوں پہ اچھے اچھے پوسٹوں پر، تو کہتے ہیں اگر ہم برے ہوتے تو پھر پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ ہمیں یہاں سزا کیوں نہیں دیتے۔ ہندو بھی جب مسلمان اور ہندو اکٹھے ہوتے تھے، تو وہ ہندو بھی مسلمانوں سے یہی کہتے تھے۔ اور یہ جو یہود و نصاریٰ ہیں، وہ اپنی technology، یہ باتیں تو کرتے رہتے ہیں اور کہتے رہتے ہیں کہ دیکھو نا ہم chosen people ہیں۔ ایسے اور ایسے اور ایسے، اس طرح باتیں کرتے ہیں وہ۔ تو حالانکہ یہ فیصلہ اللہ پاک نے اپنے پاس رکھا ہے، یہ فیصلہ کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ صرف پیغمبروں کو غیب کی خبریں بتاتا ہے، کسی اور کو ضروری نہیں کہ بتا دے۔ ہاں کسی کو بھی بتا سکتے ہیں اگر بتانا چاہیں تو بتا سکتے ہیں۔

اور جو لوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لئے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہوگا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔

وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کا حکم دیں، انسان وہاں خرچ نہ کرے، مثلاً زکوٰۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا، قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ: ”میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال اللہ پاک نے کسی کو دینے کا حکم نہیں فرمایا، اس میں آپ کے اوپر فیصلہ چھوڑا ہے، وہ نفلی صدقہ ہے، اگر آپ کرنا چاہیں۔ وہ آپ کا فرض صدقہ نہیں ہے، مطلب ہے کہ اس کے نہ کرنے سے آپ گنہگار نہیں ہوتے، اور اس کے کرنے سے آپ کو فائدہ ملتا ہے۔ تو ترغیب اس کی دی ہے، بہت دی ہے۔ ترغیب اس کی بہت دی ہے۔ لیکن لازم نہیں کیا۔ تو اگر کوئی وہ نہیں کرتا تو اس کو بخیل ہم نہیں کہیں گے، بخل تو حرام ہے۔ تو ہم نفلی کام کے چھوڑنے پر کسی کو ملامت کیسے کر سکتے ہیں۔ تو بخل وہ ہے جہاں خرچ کرنے کا حکم ہو اور وہاں کوئی نہ کرے۔ جہاں خرچ کرنے کا حکم ہو اور وہاں کوئی نہ کرے۔

ویسے بعض لوگ ذرا اسراف سے بچتے ہیں اور فضول پیسہ خرچ کرنے سے بچتے ہیں، تو لوگ ان کو بخیل مشہور کر لیتے ہیں۔ تو نہیں، بخیل وہ ہے جو کہ اللہ جل شانہٗ کے جو حکم کیا ہوا ہے اس پر عمل نہیں کرتا اور وہاں مال نہیں خرچ کرتا۔ جو لوگ وہاں خرچ کرتے ہیں، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بالکل الٹ ہوتا ہے۔

ہمارے جہانگیرہ میں حاجی آدم خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہوا کرتے تھے، بہت مالدار تھے۔ اور عام کپڑوں میں بالکل رہتے تھے، یعنی ایسا نہیں محسوس ہوتا کہ کوئی بہت مالدار آدمی ہے۔ لیکن جہاں خیر کا موقع ہوتا تھا خرچ کرنے کا وہاں سب سے آگے ہوتے تھے۔ مسجدوں میں پنکھے لگوانا، اور رفاہی کام کرنا، لوگوں کو قرض دینا، جس کو بھی قرض کی ضرورت ہوتی حاجی آدم خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلے جاتے۔ اخیر میں سارے خاندان کو حج کرایا، پھر فوت ہو گئے۔

اب اس کو بخیل ہم کہہ سکتے ہیں؟ وہ مطلب یہ ہے کہ خرچ کرنے میں بہت مطلب کم... یعنی بہت وہ تھے لیکن، لیکن جب موقع آتا تھا تو ایسا ماشاءاللہ وہ خرچ کرتے تھے۔ تو اس کو ہم بخیل تو نہیں کہہ سکتے، بلکہ ہم تو ان کو سخی کہیں گے۔ سخی تھے کیونکہ ظاہر ہے جہاں خرچ کرنے کا موقع ہوتا تھا وہاں سب سے آگے ہوتے تھے۔

یہ ہماری جس زمین پہ ہم رہ رہے ہیں، یہ جو صاحب تھے جن کا نام تھا حاجی سلیمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کا بھی یہ حال تھا۔ سادہ طریقے سے رہتے تھے، پرانا سکوٹر تھا اس کے اوپر آتے جاتے تھے۔ لیکن خرچ کے موقع پر، یہ مسجد انہوں نے بنائی ہوئی ہے، یہ جو مسجد (امیر حمزہ) جس میں ہم نماز پڑھ کے آئے ہیں۔ یہ مسجد انہوں نے بنائی ہوئی ہے۔ یہ جو مدرسہ بنا ہوا ہے، یہ ان کی زمین ہے۔ اور بھی زمین دی تھی، یہ کارنر پر جو زمین ہے، یہ انہوں نے وقف کیا ہوا تھا مدرسے کے لیے۔ وہ تو اگرچہ بیٹوں نے پھر بعد میں گڑبڑ کر دیا، لیکن انہوں نے وقف کیا ہوا تھا۔

تو یہ بات ہے، مجھے خود یہ زمین زبردستی دی، کہتے ہیں آپ لیں میری موجودگی کے بغیر پھر آپ کے لیے مشکل ہو گا۔ تو میں نے خریدی ہے، یہ نہیں کہ مطلب اس نے مجھے مفت دی ہے، لیکن اس نے کہا کہ یہ آپ یہاں خانقاہ ضرور بنائیں گے۔ تو مطلب میرا یہ ہے کہ یہ چیز، ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو وسعتِ قلبی دیا تھا۔ اور خرچ کرنے کا ماشاءاللہ ان کو وہ دیا ہوا تھا۔

تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ جو لوگ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتے ہیں ان کو بخیل نہ کہو۔ ہاں جو مثال کے طور پر کہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کیا جائے، آپ کی مرضی کے مطابق خرچ کر لیں۔ تو لوگ کیا کہتے ہیں؟ لوگ جن کی مرضی کے مطابق کوئی خرچ کرتا ہے، وہ کہتے ہیں یہ سخی ہے۔ حالانکہ بعض دفعہ اسراف ہوتا ہے۔ مثلاً شادی کے موقع پر بہت زیادہ خرچ کریں۔ بھئی وہ تو اسراف ہے۔ وہ تو اسراف ہے۔ وہ تو ضائع جا رہا ہے۔ تو ایسی چیزوں سے تو بچنا چاہیے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


---


**تجزیہ اور خلاصہ:**


**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** دنیاوی آزمائشیں، احکاماتِ شریعت اور مال میں بخل کی حقیقت

**متبادل عنوان:** اللہ کی رضا کا معیار: نفسانی سوچ کے بجائے اوامر و نواہی کی پیروی


**اہم موضوعات:**

* ظاہری مال و اسباب اور دنیاوی عیش و عشرت اللہ کی رضا یا ناراضگی کا حتمی معیار نہیں۔

* مسلمانوں پر مصیبتیں اور آزمائشیں کھرے اور کھوٹے ایمان کی پہچان کے لیے آتی ہیں۔

* انسان کے نفس کا دھوکہ: اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر اللہ کے فیصلوں کو پرکھنا۔

* غیب کے فیصلے اللہ کے پاس ہیں، انسانوں کی ذمہ داری صرف شریعت (اوامر و نواہی) کی پابندی ہے۔

* بخل کی شرعی تعریف: جہاں اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہو (جیسے زکوٰۃ) وہاں مال کو روکنا حرام ہے۔

* مال کو راہِ خدا میں خرچ کرنے والوں کی مثالیں (حاجی آدم خان اور حاجی سلیمان کے سبق آموز واقعات)۔

* فضول خرچی اور اسراف کی مذمت اور سادگی کو بخل سمجھنے کی غلط فہمی کا ازالہ۔


**خلاصہ:**

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں کفر و ایمان، دنیاوی آزمائشوں کی حکمت اور مال میں بخل کی حقیقت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ دنیاوی نعمتوں کا ملنا اللہ کی رضا کی دلیل نہیں اور نہ ہی تکالیف کا آنا اس کی ناراضگی کی علامت ہے؛ بلکہ یہ ایک آزمائش ہے تاکہ سچے اور منافق کی پہچان ہو سکے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے زور دیا کہ انسانوں کو اپنے نفس اور عقل کی خود ساختہ کسوٹیوں کے بجائے صرف اور صرف اللہ کی وحی اور شریعت (اوامر و نواہی) کو اپنا معیار بنانا چاہیے۔ مزید برآں، آپ نے بخل کی شرعی تعریف بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ فرائض (جیسے زکوٰۃ) ادا نہ کرنا اصل بخل اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے، جبکہ نمود و نمائش سے بچ کر سادگی اختیار کرنا بخل نہیں ہے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اپنے بزرگوں کے واقعات کے ذریعے سمجھایا کہ حقیقی سخاوت یہ ہے کہ انسان اپنی ذات پر سادگی اختیار کرے مگر کارِ خیر اور اللہ کے راستے میں دل کھول کر خرچ کرے۔

دنیاوی آزمائشیں، احکاماتِ شریعت اور مال میں بخل کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور