اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ
بزرگو اور دوستو! آج ہم ایک نیا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں، اس کا اعلان پچھلی دفعہ ہوا تھا۔ یہ ہماری کتاب ہے، بلکہ کتابوں کا سلسلہ ہے "پیغامِ محبت"۔ چونکہ پہلے بھی اس کے منتخب حصے مختلف موقعوں پہ سنائے گئے ہیں، تو ساتھیوں کی خواہش تھی کہ ایک دن اس کے لیے مقرر کیا جائے، جس میں اس کا درس ہو، جیسا کہ درسِ مثنوی ہمارا ہوتا ہے، تو ایسے اس کا درس شروع کیا جائے۔ اس سے اس کی تشریح بھی ہو جائے گی، پھر چونکہ محفوظ رہے گا ان شاء اللہ، تو اگر کوئی اس کی غلط تشریح کرتا ہے تو اس کے ساتھ تقابل کر کے اس کی صحیح تشریح معلوم کی جا سکے گی۔ تو اس نیت سے کہ یہ ایک حفاظت کا ذریعہ ہے، یہ درس شروع کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ شاعری ایسی چیز ہے کہ یہ کاٹ دونوں طرف کرتی ہے؛ اگر صحیح طرف چلے گئے تو اس کا فائدہ بہت ہوتا ہے، اور غلط طرف چلے گئے تو اس کا نقصان بہت ہوتا ہے، کیونکہ تیز دھار والا آلہ جو بھی ہوگا، تو اس کی کاٹ دونوں طرف زیادہ تیز ہوگی، چاہے وہ حق کے لیے ہے، چاہے باطل کے لیے ہے۔ اس وجہ سے اس کی صحیح تشریح کا سمجھ میں آنا بہت ضروری ہے کہ کہیں خدا نخواستہ بعد میں کوئی اس کو غلط مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ اس نیت سے یہ شروع کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر۔ اللہ جل شانہ اس سلسلے کو قائم و دائم رکھے اور اس کو سب کے لیے مفید بنا دے۔
یہ جو "پیغامِ محبت" ہے، اور اس سیریز میں ہے کیا؟ تو وہ ابھی میں سنا لوں گا کہ اس میں ایک غزل ہے، اس میں ہے، لیکن اس سے پہلے ایک بہت اہم بات عرض کرنی ہے؛ وہ یہ ہےکہ ایک لفظ "سماع" کا لوگ سنتے ہیں، "قوالی" کا۔ شاعری اور وہ بھی عارفانہ، اور اس کے ساتھ قوالی کا نام یا سماع کا نام نہ آئے، یہ بڑا عجیب لگتا ہے، لوگوں کے ذہنوں میں یہ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ لہٰذا صحیح قوالی یا صحیح سماع، اور غلط قوالی اور غلط سماع، اس کا فرق جاننا بہت ضروری ہے۔ جیسے "خانقاہ" کا لفظ ہے، اس کو صحیح جگہ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، غلط جگہ کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن غلط جگہ کے لیے استعمال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صحیح جگہ استعمال بھی روک دیا جائے، تو صحیح خانقاہ کا پتہ بتانا پڑتا ہے کہ صحیح خانقاہ میں یہ یہ ہوتا ہے اور غلط میں یہ یہ ہوتے ہیں۔ اور اسی طرح "تصوف" صحیح میں یہ ہوتا ہے اور غلط میں یہ ہوتا ہے، یہ ساری چیزیں عملی ہیں۔
تو اس طرح "سماع" بھی ایک بہت مؤثر چیز ہے، چاہے فائدے کے لیے ہو چاہے نقصان کے لیے، تو صحیح بہت زیادہ مفید ہوگا اور غلط بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا۔ تو اس وجہ سے اس کے بارے میں بھی عرض کرنا چاہیں گے۔ سماع کا لفظ نیا نہیں ہے، پرانا ہے، حتیٰ کہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پہ بھی کلام فرمایا ہے، سماع کے بارے میں، حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پرانا لفظ ہے، استعمال ہوتا رہا ہے اور خانقاہوں میں یہ ہوا کرتا تھا، کچھ قیود کے ساتھ، پابندیوں کے ساتھ۔
اب دیکھیں، برتن میں آپ پانی رکھتے ہیں تو یہ اس کو قید کر رہا ہے اس پانی کو کہ یہیں رہے۔ اور اگر یہ برتن نہ ہو تو پھیل جائے گا ادھر ادھر، تو یہ تو آپ کے کام نہیں آئے گا، بلکہ چیزوں کو خراب کر سکتا ہے، قالین کو خراب کر لے گا، کسی اور چیز کو خراب کر لے گا۔ تو قید کرنا یہ نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کو فائدے کے لیے قید کیا جاتا ہے، مطلب اس پہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔ تو اس کی قیود پہلے سے موجود ہیں، جیسا میں نے عرض کیا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پرانی بات ہے۔ ہاں! تو وہ قید کرنا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پرانی بات ہوگی۔ لیکن جو صاحب سماع کے بارے میں بہت زیادہ مشہور ہیں، بلکہ لوگ ان کو سماع کا، قوالی کا موجِد کہتے ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے، لیکن بہرحال لوگ سمجھتے ہیں، اور وہ ہیں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ ، ہمارے سرتاجِ اولیا، بہت بڑے بزرگ ہیں۔ ہماری بستی نظام الدین جو رائے ونڈ کی طرح ایک وہاں پر مرکز ہے، وہ اسی وجہ سے ہے بستی نظام الدین، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ ۔ تو بہت بڑے بزرگ ہمارے گزرے ہیں، ان کے ساتھ یہ چیزیں باندھی گئی ہیں، منسوب کی گئی ہیں کہ انہوں نے یہ چیز شروع کی، بالخصوص ان کا ایک خلیفہ امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ ، ان کے ساتھ تو بلکہ یہاں تک کہ یہ ساز بھی ان کی ایجاد ہیں، یہاں تک لوگوں نے کہا ہے۔
اب کمال کی بات ہے کہ ہم ان کی بات مانیں یا ان کی مستند کتابوں میں جو باتیں لکھی ہیں وہ ہم مانیں؟ ظاہر ہے کتاب کا تو ایک استناد ہوتا ہے، سند ہوتی ہے، ایک چیز چلی آرہی ہوتی ہے مستند طریقے سے، اور سنی سنائی بات کی کیا سند ہوتی ہے؟ میں نے آپ سے سنا، آپ نے مجھ سے، آگے بغیر تحقیق کے بات چلتی رہے گی، تو سنی سنائی بات پر تو یقین نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں! جو مستند کتاب میں لکھی گئی ہو، جس کا حوالہ دیا جا سکتا ہو، تو اب حضرت فرماتے ہیں اپنے ملفوظات میں، یہ "فوائد الفؤاد" وہ اور اس طرح اور جو حضرت کے ملفوظات ہیں، وہ فرماتے ہیں:
"چندیں چیز می باید تا سماع مباح شود: مستمع و مسمع و مسموع و آلۂ سماع۔ مسمع یعنی گویندہ، مردِ تمام باشد، کودک نباشد و عورت نباشد۔ و مستمع آں کہ می شنود، از یادِ حق خالی نباشد۔ و مسموع آں چہ بگویند، فحش و مسخرگی نباشد۔ و آلۂ سماع مزامیر است، چو چنگ و رباب و مثلِ آں می باید در میان نباشد۔ ایں چنیں سماع حلال است۔"
فرماتے ہیں یعنی چند چیزیں پائی جائیں تو سماع حلال ہوگا:
1۔ سنانے والے وہ تمام مردِ بالغ ہوں، بچے اور عورت نہ ہوں۔
2۔ سننے والے اللہ تعالیٰ کی یاد سے خالی نہ ہوں۔
یعنی یہ کوئی مزے کے لیے نہ سن رہے ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے لیے سن رہے ہوں۔
3۔ کلام فحش اور مذاق سے خالی ہو۔
4۔ اور آلۂ سماع سارنگی اور طبلہ وغیرہ نہ ہو، تو پھر ایسا سماع حلال ہوگا۔
تو اب دیکھ لیں یہ جو چار شرطیں بتائی گئی ہیں، ان چار شرطوں پہ آج کل کی قوالی کیا پوری ہوتی ہے؟ سوائے ایک شرط کے کہ کلام کسی عارف کا لے لیں گے، کسی بزرگ کا، بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا یا کسی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ کا یا کسی اور بزرگ کا کلام لے لیں گے اور یہ بہت بڑی بات ہوگی بس، اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے علاوہ ساری شرطیں نہیں پائی جائیں گی۔ بچے بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں، عورتیں بھی پڑھ رہی ہوتی ہیں، سننے والی بھی عورتیں ہوتی ہیں، مرد بھی ہوتے ہیں، بچے بھی ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ مزامیر (Musical Instruments) بھی ساتھ ہوتے ہیں، ہارمونیم اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں، طبلہ، یہ سب چیزیں ہوتی ہیں۔ تو یہ جو قوالی جس کوعرفِ عام میں قوالی کہا جاتا ہے، یہ شرعی سماع نہیں ہے، یہ غلط ہے، اس کی اجازت نہیں ہے، یہ حلال نہیں ہے، یہ حرام ہے۔
یہ لکھا ہے "سیر الاولیاء" میں، بابِ نہم، مرکزِ تحقیقاتِ فارسی ایران و پاکستان، اسلام آباد، صفحہ نمبر 501 اور 502 پر لکھا ہوا ہے۔
حضرت محبوبِ الہٰی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظاتِ کریمہ "فوائد الفواد" جو کہ حضرت کے مریدِ رشید امیر حسن علاء سنجری رحمۃ اللہ علیہ کے جمع کیے ہوئے ہیں، ان میں بھی حضور کا صاف ارشاد مذکور ہے کہ "مزامیر حرام است" کہ مزامیر کا استعمال حرام ہے۔ (میوزیکل انسٹرومنٹس کا) حضرت کے خلیفہ مولانا فخر الدین زرادی قدس سرہ نے حضرت کے زمانے میں ہی حضرت کے حکم سے سماع کے بارے میں ایک رسالہ عربیہ "کشف القناع عن اصول السماع" تالیف فرمایا۔ اس میں ہے: "
اَمَّا سَمَاعُ مَشَائِخِنَا رَحِمَهُمُ اللّٰهُ فَبَرِئٌ عَنْ هٰذِهِ التُّهْمَةِ وَمُجَرَّدُ صَوْتِ الْقَوَّالِ مَعَ اَشْعَارٍ مُشْعِرَةٍ مِنْ كَمَالِ صَنْعَةِ اللّٰهِ تَعَالٰی"۔ ہمارے مشائخ کرام رحمۃ اللہ علیہم کا سماع اس مزامیر کے بہتان سے پاک ہے۔ وہ تو صرف قوال کی آوازیں ان اشعار کے ساتھ جو کمالِ صنعتِ الہٰی کی خبر دیتے ہوں۔
تو یہاں پر بھی حضرت کے حکم سے یہ رسالہ تصنیف کیا گیا ہے۔
تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ حضرات سچے ہیں یا وہ جو اپنے ہوائے نفس کی حمایت کی خاطر بزرگوں پر مزامیر کی تہمت باندھتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق و ہدایت بخشے۔ آمین۔
ہمارے پاس ہی یہاں پر گولڑہ شریف ہے، جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ ، قادری اور چشتی بزرگ گزرے ہیں، صحیح اللہ والے تھے۔ ان کی محفل میں بھی قوالی ہوتی تھی ان شرائط کے ساتھ جو شرائط بتائی گئی ہیں۔
ایک دفعہ ایک قوال نے اپنے ہاتھ کو کچھ حرکت دی جس کو حضرت نے دیکھ لیا، اس پر حضرت رحمۃ اللہ علیہ بہت ناراض ہوئے اور اپنی محفل میں اس پر پابندی لگا دی۔ بہت منت سماجت کی لیکن حضرتؒ نے معاف نہیں فرمایا اور فرمایا: تو نے محفل میں ڈوموں کی طرح کیوں حرکت کی؟
یہ بہت موٹی سی کتاب ہے ہمارے پاس پڑی ہوئی پشتو زبان میں، 114 اولیاء اللہ کے بارے میں اس میں یہ واقعہ موجود ہے۔ اور کمال کی بات ہے کہ جو اس محفل میں ایک صاحب موجود تھے، ان سے براہِ راست سننے والے ایک صاحب نے مجھے یہ بات سنائی ہے۔ یعنی ان کے ماموں تھے، تو وہ اس محفل میں موجود تھے تو انہوں نے مجھے سنایا، اور یہ کتاب میں بھی موجود ہے، دونوں طریقوں سے تصدیق ہو گئی۔ تو حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سماع کی صحیح شناخت کی اور جو غلط چیزیں تھیں ان سے پرہیز اس حد تک کیا کہ اس شخص پر پابندی لگا دی جو پرہیز نہ کر سکا۔
تو یہ حضرات اس مسئلے میں کافی جس کو کہتے ہیں نا سخت واقع ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ بھی ان کی اتباع میں، ظاہر ہے اس چیز کو چھوڑ تو نہیں سکتے کیونکہ بہت مؤثر ہتھیار ہے۔ لیکن اس کے نقصان کو ختم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ چیزیں بتا دی جائیں۔ تو یہاں پر ہم نے صاف لکھا ہے کہ "جو حضرات بھی اس کو ان تمام شرائط کے ساتھ نہیں پڑھیں گے، تو ان کے خلاف ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں"۔ یہ ہم نے صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ کوئی بھی اس کا مجاز نہیں ہوگا کہ اس کو اپنے طرز پر، اپنے مطلب کے لیے، غلط طریقے سے کوئی پڑھے اور اس کو قوالی کی زینت بنائے، آج کل کی مروجہ قوالی کی کوئی زینت بنا لے، اس میں ہم حصہ دار نہیں بن سکتے۔ اس وجہ سے یہ بات صاف لکھی گئی ہے۔
اب یہ "پیغامِ محبت" ہے کیا؟ تو اس سیریز میں کتابیں ہیں کچھ، اس وجہ سے آج اس کے بارے میں عرض کرنا ضروری ہے۔ پیغامِ محبت کیا ہے؟ مطلب یہ جو ہماری سیریز ہے کتابوں کی، وہ کیا چیز ہے؟ پہلی کتاب اس کی ہے "شاہراہِ محبت"، وہ چھپ گئی ہے الحمد للہ۔ وہ حج سے متعلق ہے، کیونکہ حج جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کا بہت بڑا شرعی طریقہ ہے۔ تو لہٰذا ہم نے الحمد للہ ابتدا اس سے کی ہے، اور اللہ کا شکر ہے کہ بڑی مقبول بھی ہو گئی اور ساتھ یہ ہے کہ الحمد للہ حج سے متعلق ضروری باتیں اس میں آگئی ہیں، اور وہاں جو مختلف کیفیات تھیں وہ کیفیات اس میں قلمبند کی گئی ہیں۔ تو شروع اس سے ہوا ہے:
یہ شاہراہ ہے محبت کی نہیں ہے راستہ یہ عام
تعارف جس طرح لکھا ہوتا ہے نا
یہ شاہراہ ہے محبت کی نہیں ہے راستہ یہ عام
اور اس کے بعد آئے گا محبت کا بھی اک پیغام
یہ جو ابھی جس کتاب سے ہم پڑھ رہے ہیں تو یہ آنے والی ہےا ن شاء اللہ!
یہ شاہراہ ہے محبت کی نہیں ہے راستہ یہ عام
اور اس کے بعد آئے گا محبت کا بھی اک پیغام
پہنچائے ہمارا دل جو اہلِ دل ہیں ان کے ہاں
جو اہل دل ہیں ۔ ہر ایک کے لیے نہیں۔
پہنچائے ہمارا دل جو اہلِ دل ہیں ان کے ہاں
یہ دل والوں کا اک پیغام ان سارے دلوں کے نام
یہ ایک پیغام دل والوں کا دل والوں تک پہنچانا ہے، اور شاعری بڑا مؤثر ذریعہ ہے پیغام رسانی کا۔
پھر اس کے بعد فکرِ آگہی کا بھی ارادہ ہے
یہ ایک تیسری کتاب ہے
پھر اس کے بعد فکرِ آگہی کا بھی ارادہ ہے
مسلمانوں کا ہو اس دور میں کیا فکر اور کیا کام
دیکھیں دل کی اصلاح، ذہن اور فکر کی اصلاح اور نفس کی اصلاح، یہ تین اصلاحیں ہیں۔ ان تین اصلاحوں کے ساتھ شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ تو لہٰذا ذہن کا بھی تو خیال رکھنا پڑے گا، فکر کو بھی صحیح بنانا پڑے گا۔
پھر اس کے بعد فکرِ آگہی کا بھی ارادہ ہے
مسلمانوں کا ہو اس دور میں کیا فکر اور کیا کام
پھر اس کے بعد ایک چھوٹی کتاب "شجرہ رباعی" کی
نظر آئے گی منظر پر پڑھیں گے اس کو خاص و عام
یہ کیا چیز ہے؟
ہمارے سلسلے کے اولیا کی نسبتوں کی بات
ہاں جن حضرات کے ذریعے سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت نصیب فرمائی ہے، ان کے لیے ایک ایک رباعی ہوگی۔
ہمارے سلسلے کے اولیا کی نسبتوں کی بات
رباعی ایک شبیر ہوگی کہو اک عشق کا اک جام
جتنے بھی ہمارے سلسلے کے اکابر ہیں، ان کی ایک ایک رباعی۔ ایک تو شجرہ ہمارا ہوتا ہے نا، ایک ایک نام آتا ہے، لیکن یہاں نام کے ساتھ پوری رباعی ہوگی۔ اس لحاظ سے یہ بہت اہم کتاب ہے چھوٹی سی، تو یہ بھی آئے گی ان شاء اللہ العزیز۔ تو یہ سیریز اس طریقے سے مکمل ہوگی، ان شاء اللہ۔ باقی جیسا کہ طریقہ ہے ہر دینی کام کا کہ شروع اللہ کے نام سے ہوتا ہے، یہی مطلب ہمارا اصل الاصول ہے۔
میری انتہائے نگارش یہی ہے
ترے نام سے ابتدا کر رہا ہوں
تو اللہ کے نام سے ظاہر ہے ہماری ہر چیز کی ابتدا ہوتی ہے، "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ" جیسے ہے۔ اس وجہ سے اس کتاب کی بھی ابتدا حمدِ باری تعالیٰ سے کی جا رہی ہے۔
حمدِ باری تعالیٰ
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
تیری ہستی کے سامنے ہیچ ہیں سب
سب پہ لازم ہے بندگی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
تجھ پہ ایماں ہو، تجھ سے ڈرنا ہو
کتنی آسان ہے دوستی تیری
کیا بات ہے! یہ قرآن پاک سے ثابت ہے۔ اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ، الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۔ ایمان والے اور تقویٰ والے، یہ دونوں جب ایک اس میں آجائیں شخصیت میں، تو ولی اللہ بن جاتا ہے، اللہ پاک اس کو ولی کہتا ہے، ولی اللہ۔ تو اس وجہ سے دو کام کرنے ہیں بس، ایمان ہو اور اللہ سے ڈرنا ہو۔ بس یہ چیز ولایت کے لیے لازم ہے۔
تجھ پہ ایماں ہو، تجھ سے ڈرنا ہو
کتنی آسان ہے دوستی تیری
میں کیا ہوں، کیا میرا ہوگا
چیزیں میری جو ہیں وہ بھی تیری
جو میرے پاس ہے وہ بھی تو تیرا ہی ہے میں اپنے ساتھ کیا رکھتا ہوں؟
میں کیا ہوں، کیا میرا ہوگا
چیزیں میری جو ہیں وہ بھی تیری
جو بھی مر مٹ کے تیرا بن جائے
نگہباں اس کی خدائی تیری
پوری خدائی ساتھ ہو جاتی ہے۔
جو بھی مر مٹ کے تیرا بن جائے
نگہباں اس کی خدائی تیری
ہر کسی کو خوشی اپنی محبوب
مجھ کو محبوب ہے خوشی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
جو نہ پایا تجھے تو کیا پایا
آئن اسٹائن ہو، نیوٹن ہو، فلاں ہو، ساری چیزیں دنیا میں ختم۔ بڑے بڑے بادشاہ دنیا سے گزر گئے، کیا ہوا؟ کوئی مسئلہ نہیں۔
جو نہ پایا تجھے تو کیا پایا
کتنی پرلطف آگہی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
آنکھیں اندھی ہیں اس کی جس نے بھی
خود کو دیکھا، شان نہ دیکھی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
جس کو اپنا آپ نظر آ رہا ہے کہ میں کچھ ہوں، اس کو خدا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو خدا نظر نہیں آ رہا۔ اگر اس کو خدا نظر آ رہا ہوتا تو اپنا آپ نظر نہ آ رہا ہوتا۔ تو جس میں تکبر ہے وہ اللہ سے دور ہے۔ اس وجہ سے بہت زبردست ٹیسٹ ہے۔ جس کو بھی خود اپنا آپ نظر آئے تو اس کا مطلب ہے اس کو خدا نظر نہیں آ رہا۔
آنکھیں اندھی ہیں اس کی جس نے بھی
خود کو دیکھا، شان نہ دیکھی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
کان دونوں ہی اس کے بہرے ہیں
بات سن کر بھی نہ سنی تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ دل کی آنکھ اگر کسی کی بند ہو جائے، کان بند ہو جائیں، آنکھیں بند، کچھ بھی نہیں ہوگا پھر۔ سب کچھ ہوگا لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا۔ قرآن بھی ان کو ہدایت نہیں دے گا۔ مقصد یہ ہے کہ سب سے پہلے ہمیں ان چیزوں کی اصلاح کرنی ہے۔
دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے
جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری
لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا
دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے
جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری
قُلُوْبُهُمْ كَالْحِجَارَةِ مطلب ان کے دل کیا ہیں؟ ان کےدل پتھروں کی طرح ہیں۔ اور اللہ پاک فرماتے ہیں بلکہ بعض پتھروں سے تو چشمے نکلتے ہیں، مقصد ہے کہ بعض پتھر بھی پھٹ جاتے ہیں اللہ کے خوف سے، لیکن یہ دل بہت زیادہ ۔۔۔ کچھ ٹس سے مس نہیں ہوتے، تو یہ پتھروں سے زیادہ بھی سخت دل ہو جاتے ہیں۔
دل اس کا دل نہیں ہے پتھر ہے
جس نے بھی بات نہ سمجھی تیری
اس کی تعریف پہ مائل شبیر
زہے قسمت ہے شاعری تیری
یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین۔
اور یہ کیسے حاصل ہوگی معرفت؟ تو معرفت کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ آپ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے ساتھ جس کا تعلق نہیں ہوگا وہ اللہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ ﷺ اولین اور آخرین واسطہ ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے۔ لہٰذا جس نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ تعلق نہیں جوڑا، وہ اللہ کے ساتھ تعلق نہیں جوڑ سکتا۔ اس وجہ سے اللہ کے بعد ذکر کن کا آتا ہے؟ آپ ﷺ کا آتا ہے۔ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ ( الم نشرح: 4) قرآن پاک کی آیت۔ تو اس کی تشریح میں فرمایا کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ لہٰذا آپ ﷺ کا ذکر ایسے موقع پہ ضروری تھا۔ تو یہ آپ ﷺ کے ذکر اور تعریف کو نعت شریف کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کا مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کو نعت کا نام آتے ہی ان کے ماتھے پہ بل پڑ جاتے ہیں۔ یہ بدبختی کی علامت ہے، اللہ تعالیٰ ایسی بدبختی سے ہر ایک کو بچائے۔ نعت کا لفظ آتے ہی چہرے پر جو ہے نا وہ کچھ رنگ آجاتا ہے، ماتھے پہ بل آجاتے ہیں۔ یہ بدبختی کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بدبختی سے بچائے۔ اس وجہ سے اس کتاب کو چونکہ ہم نے بنیاد بنایا ہے ان concepts کو درست کرنے کے لیے، تو یہ چیزیں بھی ضرور اس میں سمجھانی چاہیے تھیں کہ آپ ﷺ کی محبت کے بغیر اللہ کی محبت حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس وجہ سے فرمایا آپ ﷺ نے: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ۔ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک مجھے اپنے والدین سے اور اپنی اولاد سے بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھو۔ اور ایک موقع پہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب تک مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھو گے۔ آپ ﷺ اپنے لیے تو یہ نہیں کہہ رہے تھے، ہمارے لیے کہہ رہے تھے، کیونکہ آپ ﷺ تو خود محمود ہیں۔ محمود کا مطلب ہے کہ خود ہی تعریف کیا گیا، مطلب ان کی تعریف تو ہو گئی، اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعریف ان کی کون کرے گا؟ اللہ نے ان کی تعریف کر لی، ان کے لیے کسی اور تعریف کی ضرورت ہی نہیں، لیکن جو نہیں کرتا تعریف وہ بیچارہ ختم ہو جاتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اللہ نے اپنی تعریف اگر کی ہے تو آپ ﷺ کی بھی تعریف کی ہے۔ اور ہر موقع پہ ما شاء اللہ فرشتے بھی آپ ﷺ کی تعریف، نیک لوگ بھی آپﷺ کی تعریف کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی آپﷺ کی تعریف۔ وہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر ہے، بڑا پیارا شعر ہے، فرمایا کہ:
نہ تنہا ہست جامی نعت خوانے
خُدائے ما ثناخوانِ محمد ﷺ
دیکھ جامی تنہا آپ ﷺ کا نعت گو نہیں ہے، بلکہ اللہ پاک خود بھی تو آپ ﷺ کی حمد بیان فرما رہا ہے، آپ ﷺ کی نعت بیان فرما رہا ہے۔ اللہ اکبر!
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو
ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں
وہ ہیں محبوب ِ رب ِّ کریم مصطفے ٰ
وہ کہ مظہر ہدایت کے ہیں مجتبٰی
تو مری اب زباں پہ ہو صلِّ علی
اب درود و سلام میں ہمیشہ پڑھوں
دل سے میں ہر جگہ صرف یہاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
ہیں سراپا وہ رحمت ہمارے لئے
ان کا رستہ ہدایت ہمارے لئے
منبعِ فیض و حکمت ہمارے لئے
جو کبھی بھی جدا ہوگیا ان سے تو
اس کے بچنے کا کوئی مکاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
یہ بڑی عجیب بات ہے، بڑی عجیب بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک بزرگ نے یہ بات فرمائی، روضۂ اقدس سے تاریں آ رہے ہیں ہر ایک دل کی طرف، جس کی وجہ سے لوگ ایمان پر ہیں، جو مومن ہے ایمان پر ہے۔ اور جس وجہ سے بھی یہ تار کٹ جائے، بس وہ کافر ہو جاتا ہے، وہ مومن نہیں رہتا۔ اور چونکہ صاحبِ معرفت تھے، فرمایا اگر کوئی چاہے تو کاٹ دوں؟ اگر کوئی چاہے تو کاٹ دوں؟ مطلب یعنی کوئی اگر یقین نہیں کرتا، تو ابھی پتہ چل جائے گا۔ تو یہ بات ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ قلوب کا تعلق درود شریف کے ذریعے سے اور آپ ﷺ کی تعریف کے ذریعے سے اور آپ ﷺ کی سنتوں کی اتباع کے ذریعے سے یہ جڑا ہوتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اگر درمیان میں کسی کا بھی اگر ٹوٹ جائے تو معاملہ گیا۔ اس وجہ سے معاملہ بہت نازک ہے۔ آپ ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی سے ایمان چلا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی ادنیٰ بے ادبی سے بھی ایمان چلا جاتا ہے۔ اس وجہ سے آپ نے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے معافی کا اعلان کر دیا تھا قریش کے لیے، بالکل، لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ۔ (سورۃ یوسف: 92) لیکن ان لوگوں کو معاف نہیں فرمایا جنہوں نے آپ ﷺ کی ہجو پڑھی تھی، آپ ﷺ کے بارے میں بدزبانیاں جو کرتے تھے ان کو معاف نہیں فرمایا۔ یہاں تک فرمایا کہ وہ کعبے کے اس کے ساتھ اگر چمٹے ہوئے بھی نظر آ جائیں پھر بھی ان کو مارو، تو ان کو مارا گیا۔ کعب جو یہودی تھا، ان کو مارنے کے لیے آپ ﷺ نے خود جماعت تشکیل کی۔ کیونکہ اس نے گستاخی کی تھی۔ اس وجہ سے آپ ﷺ کا گستاخ قابلِ معافی نہیں ہے، اس کو ہم معاف نہیں کر سکتے، ہمارے بس میں ہی نہیں، ہماری range میں نہیں ہے۔ ہم کر ہی نہیں سکتے۔ تو یہ بات بہت ضروری ہے سمجھنا۔
اب بھی ملتا ہے ان کی نظر کے طفیل
ان کی تعلیم دیں پُر اثر کے طفیل
ہے بشر زندہ خیر البشر کے طفیل
نام لیوا اگر نہ رہے ان کا تو
پھر خدا کی قسم یہ جہاں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
پڑھ کے سیرت میں ان کی ہی انساں بنوں
ان کے پیچھے رہوں مردِ میداں بنوں
ان کو میں چھوڑ کر کیسے حیراں بنوں
گر محبت نہ حاصل ہو ان کی شبیر ؔ
پھر کہوں یوں کہ اس میں ایماں ہی نہیں
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اب دیکھیں الحمد للہ اس کے لیے سب چیزوں کا یہاں بیان کیا گیا، قرآن اور حدیث کے دلائل موجود ہیں۔ یہ ہے نا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ، اس کے مطابق ہے یہ شعر ہے نا؟ کہ جس دل میں محبت نہ ہو آپ ﷺ کی، اس میں ایمان نہیں ہے۔ اس طریقے سے ہر چیز الحمد للہ۔ تو ہمیں جو ہے نا یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ تو اب الحمد للہ ہم اس پیغام کی طرف آ رہے ہیں اللہ کے نام کے ساتھ اور آپ ﷺ پر درود کے ساتھ، ان شاء اللہ۔
جاری ہے ان شاء اللہ
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ