استقامت فی العبادت: آخری سانس تک اللہ کی بندگی کا حکم

بَابٌ فِي المجاہدہ، آیت: الحجر: 99، اشاعتِ اول: 13 دسمبر، 2022 بمطابق 18 جمادی الاول 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

قرآنِ مجید میں لفظِ 'یقین' کا مفہوم اور مفسرین کی تشریح

رسولِ اکرم ﷺ کو تاحیات عبادتِ الٰہی میں مشغول رہنے کا حکم

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندگی بھر نماز اور زکوٰۃ کی وصیت

مال و دولت جمع کرنے کے بجائے تسبیح و سجود اور بندگی کی تلقین

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

فرمایا، اور اپنے پروردگار کی عبادت کیے جاؤ، یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آ جائے۔

حضرت ابن عباس رضی الله عنہ، مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، جمہور مفسرین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک "یقین" سے مراد موت ہے، کیونکہ موت کا آنا ہر زندہ کے لیے یقینی ہے۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو اولاً خطاب ہے کہ جب تک آپ ﷺ زندہ رہیں، اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں، عبادت کو ترک نہ کر دیں۔

یہی قول تقریباً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے بھی کہا گیا ہے:

وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۔

ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ نے مال کو جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ:

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

کہ میں اللہ کی تسبیح اور حمد، اور اللہ کے لیے سجدہ کرتا رہوں، یہاں تک کہ موت کا وقت آ جائے۔



صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


استقامت فی العبادت: آخری سانس تک اللہ کی بندگی کا حکم - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور