اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٗ وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ (الزلزال:7-8)
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ۔ (مسلم، رقم الحدیث: 1163)
وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: وَ صِيَامُ يَوْمِ عَاشُوْرَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْْ يُّكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِيْ قَبْلَهٗ۔ (مسلم، رقم الحدیث:1162)
وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: صُوْمُوْا عَاشُوْرَاءَ وَ خَالِفُوْا فِیْهِ الْیَھُودَ، صُوْمُوا قَبْلَهٗ یَوْمًا اَوْ بَعْدَہٗ یَوْمًا۔ (مسند احمد، رقم الحدیث:2154، وَ إلَيْهِ ذَهَبَ فُقَھَاءُنَا، وَ کَرِھُوا انْفِرَادَ عَاشُوَرَآءَ بِالصَّوْمِ۔)
وَ كَانَ عَاشُوْرَاءُ يُصَامُ قَبْلَ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ قَالَ: مَنْ شَاءَ صَامَ وَ مَنْ شَاءَ أَفْطَرَ۔ (بخاری، رقم الحدیث:4502)
وَ مِنَ الْأَوَّلِ إِبَاحَةً وَّ بَرَکَةَنِ التَّوْسِعَةُ فِیْهِ عَلٰی عَیَالِهٖ؛ فَقَدْ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: مَنْ وَّسَّعَ عَلٰی عَیَالِهٖ فِي النَّفَقَةِ یَوْمَ عَاشُوْرَاءَ وَسَّعَ اللهُ عَلَیْهِ سَائِرَ سَنَتِهٖ۔ (شعب الِإیمان للبیھقي، رقم الحديث:3513)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات، آج یکم محرم ہے۔ یکم محرم کئی لحاظ سے اہم ہے۔ ایک تو یہ کہ اس سے ہمارا نیا سال شروع ہو جاتا ہے۔ اور ہمارا نیا سال جو قمری ہے، وہ ہماری عبادات کے لیے بہت اہم سال ہے اور اس کو برقرار رکھنا، اس کو یاد رکھنا اور ظاہر ہے اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا چاند دیکھنا اور چاند دیکھنے کی گواہی دینا اور پھر اس پر فیصلہ ہو جانا اور اس کے مطابق تمام اعمال کرنا، یہ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔
تو اس لحاظ سے یکم محرم چونکہ اس سال کی ابتدا ہے اور یہ سن ہجرت ہے اور ہجرت بذاتِ خود بہت بڑا واقعہ ہے، بہت بڑا واقعہ ہے۔ تو اس لحاظ سے ہم لوگوں کو اس کی حفاظت کرنی ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یکم محرم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی ہیں اور اس حالت میں کہ حضرت کی فراست کو آج کل کے جو غیر مسلم ہیں وہ بھی مانتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ بعض لوگوں نے کہا کہ اگر دوسرا کوئی عمر اس طرح ہوتا جیسے کہ یہ عمر ہے، تو شاید ہم لوگ نہ ہوتے۔ اور اب بھی بعض غیر مسلم ممالک میں عمر لاز (Umar Laws) کے نام سے قوانین Social security کے نافذ ہیں۔ اور ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
بڑی ہی دور اندیشی اور بہت زیادہ عاقبت اندیشی، یہ دونوں چیزیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر تام تھیں۔ دور اندیشی تو اس حد تک تھی کہ ان کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔ یہاں تک کہ قیصر نے جب مسلمانوں سے پوچھا کہ آپ کا خلیفہ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے یہی کہا کہ نہ وہ دھوکہ دیتا ہے، نہ دھوکہ کھاتا ہے۔ تو قیصر نے کہا کہ نہ دھوکہ دیتا ہے یہ ان کے دین کی بات ہے، اور نہ دھوکہ کھاتا ہے یہ ان کی ہوشیاری کی بات ہے۔ واقعی ان کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔ وہ جو جس نے شہید کیا ہے، اس نے بھی کہا تھا کہ میں آپ کے لیے ایسا پاٹ بناؤں گا، کہ وہ دنیا یاد رکھے گی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت کہا اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔ اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات حضرت کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا تھا اور اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی ہے آپ ﷺ کے حکم سے، تو اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ اخفاء کے قائل تھے، اپنی حالت کو چھپاتے تھے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا میرا نام عبداللہ ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آسمان سے نیچے اور زمین کے اوپر جتنے لوگ ہیں یہ سارے عبداللہ ہیں۔ مجھے وہ نام بتا دو جو تیری ماں نے رکھا ہے۔ اب ظاہر ہے ان سے اپنے آپ کو چھپانا ناممکن تھا۔
تو ان کو اللہ جل شانہ نے یہ جو شان دی تھی، تو یہ تو ظاہر ہے ان کی دور اندیشی کی بات ہے۔ اور عاقبت اندیشی اس حد تک تھی کہ اپنے اوپر یہ خوف تھا کہ کہیں میں منافق نہ ہوں۔ اپنے اعمال کو اس قدر کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ اور جس وقت وفات کا وقت آ گیا تو اپنے چہرے کو خاک پہ رکھوا دیا اور رونا شروع کر دیا کہ اے اللہ اگر تو نے مجھے نہیں بخشا تو پھر تو میری کوئی خلاصی نہیں ہے۔ مجھ پر اگر تو نے کرم نہیں فرمایا اور مجھے نہیں بخشا۔ حالانکہ آپ ﷺ نے ان کے لیے کیسے اونچے اونچے اقوال ارشاد فرمائے تھے۔
اس وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ ہمارے لیے ایک فراست کے لحاظ سے ضرب المثل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو عقل نصیب فرمایا تھا، یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جو دل نصیب فرمایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو جو عقل نصیب فرمایا تھا ضرب المثل ہے۔ ضرب المثل ہے۔ تو بہرحال عمر رضی اللہ عنہ کے خاندان میں پھر ایسے لوگ زیادہ آئے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ، یہ جن کی اولاد میں ہیں وہ اس میں جو یعنی ان کی ماں وہ عمر رضی اللہ عنہ کی بہو تھی۔ مطلب گویا کہ وہ اس طرح ان کا رشتہ ان کے ساتھ ملتا تھا۔
تو عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لوگوں نے شکایت کی کہ انہوں نے ہمیں ایسا کیا، بنو امیہ کے لوگوں نے، تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے جو عمر کے خاندان کے ساتھ رشتہ کیا ہے، یہ اسی کا اثر ہے۔ تو عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی ظاہر ہے ان کی جو شان تھی، وہ ہمیں یاد ہے کہ کس طرح تھے خلیفہ راشد تھے، اور پہلے مجدد ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو بات ہے، یہ جو شان ہے، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس ماشاءاللہ قبولیت کی علامت ہے کہ ابھی تک ان کی اولاد میں وہ نعمت چلی آ رہی ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کی اولاد میں ہیں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کی اولاد میں ہیں۔ تو یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمارے لیے حضرت کا تعلق۔
ہم لوگ دن نہیں مناتے، ہمارا کام دن منانا نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ہم دن منانا شروع کر لیں تو ہمیں کوئی دن بھی اس کے علاوہ نہ بچے۔ کیونکہ ہمارے اتنے مشاہیر ہیں، مثلاً کم از کم ایک لاکھ سے اوپر تو صحابہ ہیں۔ اور صحابہ کا یہ حال ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی اونچے سے اونچے ولی سے بڑا ہے۔ تو اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا دن منا سکتا ہے تو پھر کسی صحابی کو چھوڑا جا سکتا ہے؟ تو ایک لاکھ دن تو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ تو کیسے وہ کریں گے؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ناممکن تھا۔ لہٰذا ہمارے دین کے اندر دن منانا نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھنا ضرور ہے۔ جو لوگ اپنی تاریخ بھول جاتے ہیں، اپنے بڑوں کو بھول جاتے ہیں، وہ بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔ بہت کچھ بھول جاتے ہیں، بہت کچھ نقصان اٹھا لیتے ہیں۔
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
یہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا تھا۔ یورپ میں چونکہ زندگی گزاری تھی، اب بھی افسوس کی بات یہ ہے، یعنی ہمیں بہت ساری Information وہاں سے ملتی ہے۔ یہ پندرہ درجے اور اٹھارہ درجے کے جو اوقات کے لحاظ سے تو انگلینڈ کے ایک عالم ہیں، وہ مجھے بھیجتے رہتے ہیں کہ فلاں مخطوطہ، فلاں مخطوطہ، فلاں مخطوطہ، اس میں یہ ہے، اس میں یہ ہے، اس میں یہ ہے۔ بہت بڑی تحقیق ماشاءاللہ اس کے ذریعے سے الحمدللہ collect ہو گئی۔ تو دیکھو نا ان لوگوں نے ان چیزوں کو محفوظ کیا ہوا ہے، اور ہم لوگوں نے ضائع کر لیا۔ یہاں تو ایسی حالت ہے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، بعض دفعہ کوئی بڑا آدمی فوت ہو جاتا ہے، ان کی اولاد میں وہ لیاقت نہیں ہوتی، تو ان کی بڑی اہم مخطوطات اور کتابیں ردی میں بک جاتی ہیں۔ ایسا ہوا ہے۔ ہمارے زیارت کاکا صاحب میں بعض لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ بڑے علماء ان کی کتابیں ردی میں۔ تو اس وقت میرے والد صاحب نے کچھ چیزیں الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ محفوظ کر دیں، یعنی وہ ان کو جب پتہ چل گیا تو وہ لے لیں۔ تو مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی ہمارے ہاں ناقدری ہے۔
یہ جو ہمارے سندھ کا علاقہ ہے، یہ علم و فن کا گہوارہ تھا۔ یعنی یہاں جو ٹھٹہ کے جو مدارس تھے اور علماء تھے وہ اتنے بڑے علماء تھے کہ بخارا اور سمرقند کے علماء اپنے فتووں کی تائید حاصل کرنے کے لیے یہاں بھیجا کرتے تھے کہ ان کی تصدیق یہاں سے ہوا کرتی تھی۔ اب کدھر ہیں وہ؟ مطلب کوئی نام و نشان بھی نہیں ملتا۔ مطلب ہم نے اس حد تک ناقدری کی۔ نتیجہ کیا ہوا؟
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
علامہ اقبال نے صحیح فرمایا ہے۔ تو یہ علم کی ناقدری اور اپنے مشائخ اور اپنے علماء کی ناقدری یہ بہت ہی زیادہ خراب کرتی ہے۔ ان کو سجدے بھی نہ کرو، ان کی قبروں کے طواف بھی نہ کرو، اللہ کے ساتھ ان کو شریک نہ ٹھہراؤ، لیکن خدا کے بندو! ان کے علم و فن سے، ان کے تقویٰ سے، ان کی بصیرت سے تو فائدہ حاصل کرو۔ وہ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ جو یہ فرمایا ہے کہ جو چھوٹوں پہ رحم نہیں کرتے اور بڑوں کی عزت نہیں کرتے اور علماء کی تکریم نہیں کرتے تو وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ تو کم از کم کرنا چاہیے نا کہ ان کا اکرام کریں۔ اور آپ ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ تو آخر ہم لوگوں کو ان چیزوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔ یہ بھی بہت اہم بات ہے۔ تو اپنے خلفائے راشدین سے۔۔۔
اللہ پاک نے ایک ایسا عجیب نظام تکوینی طور پر بنایا ہے کہ خلافتِ راشدہ ایک مختصر عرصہ ہے، تقریباً 30 سال کا لگ بھگ کا عرصہ ہے۔ اس 30 سال کے عرصے میں ہر خلیفہ راشد مختلف طریقے سے قائم ہوا ہے۔ ہر خلیفہ راشد مختلف طریقے سے خلیفہ بنا ہے۔ کسی دوسرے کا طریقہ نہیں استعمال ہوا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جس طریقے سے ہوئے، عمر رضی اللہ عنہ اس طریقے سے نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ جس طریقے سے ہوئے، عثمان رضی اللہ عنہ اس طریقے سے نہیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ جس طریقے سے ہوئے، علی رضی اللہ عنہ اس طریقے سے نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ جس طریقے سے ہوئے، حسن رضی اللہ عنہ اس طریقے سے نہیں۔ پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اس طریقے سے نہیں۔ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ یعنی ہر ایک بالکل مختلف طریقے سے۔
تو اس میں پورا نظام ہمیں دے دیا گیا۔ اس مختصر سے عرصے میں ہمیں پورا نظام دے دیا گیا کہ ہم لوگ اگر خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، اور یہ باقاعدہ ہمیں ماشاءاللہ وہ دکھایا گیا ہے۔ تو ایک تو یہ والی بات ہے کہ ہمیں اپنے بڑوں سے سیکھنا چاہیے۔ اور ان کے طریقوں کا اتباع کرنا چاہیے۔ ویسے بھی فرمایا گیا:
مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔
جس پر میں چلا ہوں اور جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔
یعنی سنتِ رسول ﷺ اور طریقِ صحابہ رضوان اللہ اجمعین، یہ ہمارے لیے معیارِ حق ہیں۔ یعنی آپ ﷺ کی سنت پر چلنا اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے طریقے کو اختیار کرنا۔ اور یہ یاد رکھیے کہ اصل طریقہ ہی یہی ہے۔ ہمیں حکم ہی اس چیز کا دیا گیا ہے۔
اب اس میں ہماری چونکہ دو رکاوٹیں ہیں، ایک رکاوٹ شیطان کا ہے، دوسرا رکاوٹ نفس کا ہے۔ جس میں اصل رکاوٹ نفس کا ہے۔ کیونکہ شیطان کی رکاوٹ کو ضعیف کہا گیا ہے، شیطان کے مکر کو ضعیف قرار دیا گیا ہے قرآن پاک میں، کہ وہ ضعیف ہے۔ لیکن نفس کے شر کو بہت بڑا شر بتایا گیا ہے۔ ہاں، اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا
یقیناً کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر دیا تمام رذائل سے۔ یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو اس حالت پہ چھوڑ دیا
مکمل تباہی کا یعنی فرمایا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ نفس کا جو شر ہے وہ بہت ہی خطرناک ہے۔ بہت ہی خطرناک ہے۔ بہت ہی خطرناک ہے۔
لہٰذا نفس کی اصلاح کیے بغیر چین سے بیٹھنا انتہائی درجے کی بے وقوفی ہے۔ مطلب اس میں ہمیں ذرہ برابر بھی سستی نہیں کرنی چاہیے۔ ایک ایک لمحے اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ آپ ﷺ کے اس قول کو ذرا دیکھ لیں اور غور سے سنیں، اور پھر اس کے اوپر سر جوڑ کے بیٹھ جاؤ، اور دیکھو کہ اس میں کیا ہے، دعا ہے:
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ.
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ یہ تو ہم اللہ پاک سے عرض کر رہے ہیں۔ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ تیری رحمت کا واسطہ ہے، تو ہماری مدد فرما دے۔ کس چیز میں؟ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ کہ میری ہر حالت کو درست کر لے۔ وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ اور مجھے میرے نفس کے ایک لمحے کے لیے بھی حوالے نہ فرما۔ کیونکہ ایک لمحے کے لیے بھی اگر نفس کے کوئی حوالے ہو گیا، تو وہ انتہائی درجے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ انتہائی درجے کا نقصان ہو سکتا ہے۔
لہٰذا اپنے نفس کے مکر سے بچنا، حدیثِ نفس سے بچنا، حدیثِ نفس کے شر سے بچنا، یہ بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔ بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔ یہ تصوف جس کو کہتے ہیں وہ اسی چیز کا نام ہے۔ یعنی نفس کے شر سے بچنے کے طریقوں کا نام تصوف ہے۔ مطلب کیسے انسان وہ طریقہ اختیار کر لے کہ نفس کے شر سے بچ جائے اور نفس کی اصلاح ہو جائے۔ یہ سب کا سب جو ہے نا وہ تصوف ہے۔
آج کل تصوف کو پتہ نہیں کس چیز کا سمجھا جاتا ہے۔ شاید کچھ واقعات کو تصوف قرار دیا جاتا ہے، چاہے کچھ تعویذوں کو تصوف قرار دیا جاتا ہے، چاہے کچھ گہری گہری باتوں کو تصوف قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی تصوف بس دھمال ڈالنے کو قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی ھو حق کے نعرے لگا کے، کبھی بڑے لمبے لمبے مجاہدے کرنا، ہندوؤں کی طرح کرنا، اس کو تصوف سمجھا جاتا ہے۔ یہ سارے تصوف نہیں ہیں۔ یہ سارے تصوف نہیں ہیں۔
تصوف صرف دو چیزوں کا نام ہے۔ صرف دو چیزوں کا نام ہے کہ ہمارے اندر جو اللہ پاک نے صلاحیتیں رکھی ہیں ان کو ابھاریں۔ ہمارے اندر جو صلاحیتیں اللہ پاک نے خیر کی رکھی ہیں ان کو ہم ابھاریں، جس کو فاعلہ کہتے ہیں۔ فاعلہ کی قوت کے ذریعے سے ان کو ابھاریں۔ اور ہمارے اندر جو رذائل رکھے ہوئے ہیں ان کو دبائیں۔ ہمارے اندر جو رذائل اللہ پاک نے حکمت کے ساتھ رکھے ہیں، ہاں اللہ پاک نے فرمایا: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا، ہمارے اندر جو رذائل اللہ پاک نے حکمت کے ساتھ رکھے ہیں ان کو دبائیں۔ بس۔ بات بن جائے گی ان شاء اللہ۔ یہی تصوف ہے۔
کیسے ہم فاعلہ اختیار کر لیں؟ کیسے ہم مجاہدہ اختیار کر لیں؟ کس طریقے سے ہم رذائل کو دبائیں؟ کس طریقے سے ہم اپنے اندر اخلاقِ حمیدہ کو پیدا کر لیں؟ یہ طریقِ صحابہ ہے بس۔ اس طریقِ صحابہ پر لانا ہے۔ طریقِ صحابہ پر لانا ہے۔ تو بس ہم لوگوں نے طریقِ صحابہ پر لانے کے لیے یہی محنت کرنی ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ یکم محرم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصال کا دن بھی ہے، شہادت کا دن بھی ہے، یقیناً عمر رضی اللہ عنہ یاد آئیں گے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یکم محرم کو ایک عمل بتایا جاتا ہے کتابوں میں لکھا ہے۔ چونکہ کتابوں میں لکھا ہے، مجھ سے پوچھا جا رہا ہے اس وجہ سے میں بیان کر رہا ہوں۔ ورنہ ضروری نہیں کہ میں بیان بھی کر لیتا۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ 113 مرتبہ اگر کوئی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھ لے، اور اس کو اپنے ساتھ محفوظ کر لے، تو اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں گے۔ یاد رکھنا چاہیے اگر یہ روایت نہیں بھی ہوتی، تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی برکت قائم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی برکت قائم ہے۔ ہاں البتہ اس کو 113 عدد کے مطابق کرنا، یہ ایک تجربے کی بات ہے۔ اس میں ہم لوگ نہ plus میں جاتے ہیں نہ minus میں جاتے ہیں۔ نہ اس کو ضروری اور لازم سمجھتے ہیں، نہ اس کو نہ اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ نہ اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ بس صرف یہ ہے کہ اس کو سنت نہ سمجھا جائے۔ اس کو بزرگوں کا طریقہ قرار دیا جائے۔ تجربے کی بات سمجھی جائے۔ تجربے سے بہت ساری چیزیں انسان کو معلوم ہوتی ہیں۔
لیکن وہ تجربے سے غلط بھی ثابت ہو سکتی ہیں، تجربے سے ٹھیک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ تو اس کو ایک تجرباتی بات اگر سمجھا جائے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ٹھیک ہے، ماشاءاللہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ لہٰذا تجرباتی بات اس کو لے لیں اور جو لوگ اس کو تعویذ کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ ہم لوگ تعویذوں کے مخالف نہیں، لیکن تعویذوں کو تصوف نہیں مانتے۔ تعویذوں کے مخالف نہیں ہیں، لیکن تعویذوں کو تصوف نہیں مانتے۔ دموں کے مخالف نہیں ہیں، لیکن دموں کو تصوف نہیں مانتے ہیں۔ وظیفوں کے مخالف نہیں ہیں، لیکن وظیفوں کو تصوف نہیں مانتے۔ یہ تصوف نہیں ہے۔
یہ تجرباتی باتیں ہیں۔ اور جو مسنون باتیں ہیں، اس تک پہنچنا، یہ یقیناً اس کے لیے نفس کو دبانا، اور ظاہر ہے دل کی صفائی، یہ پھر تصوف ہے۔ مسنون اعمال تک پہنچنا۔ تو اس وجہ سے یہ عمل بھی بے شک اگر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
ہاں چونکہ ایک عمل باقاعدہ آپ ﷺ سے چونکہ یہ ثابت ہے ایک حدیث شریف کے مطابق کہ عاشورہ کے دن اگر کوئی اپنے عیال کے اوپر کچھ ذرا خرچ کھلا کر دے، تو پھر پورے سال ان کے لیے رزق کی فراوانی کا ماشاءاللہ بتایا گیا ہے۔ تو ٹھیک ہے، ماشاءاللہ اس کو کیا جا سکتا ہے۔ اس کو کیا جا سکتا ہے۔ مطلب اس کو کر لیں۔
اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بھی ہے۔ لیکن ایک روزہ رکھنا یہود کا شعار ہے۔ ان سے بچنے کے لیے ہم دو روزے رکھتے ہیں۔ یا نویں دسویں کو، یا دسویں گیارہویں کو۔ لیکن ایک روایت یہ بھی ہے کہ عاشورہ تین دنوں تک ہے۔ کسی کا نو ہے، کسی کا دس ہے، کسی کا گیارہ ہے۔ لہٰذا ایک صاحب نو، دس، گیارہ کو یعنی روزے رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں کسی chance کو بھی miss نہیں کر سکتا۔ لہٰذا ایسا ہے۔
میں جب الحمدللہ حج کے لیے جایا کرتا تھا، اور حج میں ہمارا آتا تھا، تو ان کا ایک دن ہم سے پہلے ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے ان کا نویں گویا کہ پہلے آتا ہے، تو ان کی دسویں ہماری نویں ہوتی تھی۔ تو میں دس، گیارہ کا رکھتا کیونکہ جو دس ہوتا تھا وہ ہمارا نو ہوتا تھا۔ اور جو ان کا گیارہ ہوتا تھا وہ ہمارا دس ہوتا تھا۔ تو گویا کہ دونوں کے بارے میں بات ہو جاتی کہ اچھا دونوں کا معاملہ صحیح ہو جاتا۔ لیکن یہ میرے طریقے سے بہتر وہ اس بزرگ کا ہے جو نو، دس، گیارہ کو روزے رکھتے تھے۔ تو ماشاءاللہ یہ ایک احتیاط والی بات ہے۔ اگر کوئی کرنا چاہے تو بالکل کر سکتا ہے۔
بہرحال اس میں اب ایک اہم بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ مجھ سے پوچھا جا رہا ہے۔ گروپوں میں مجھ سے پوچھا جا رہا ہے۔ تو یہ ایک چینل ہے جس کے ذریعے سے میں جواب دے سکتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ یہ جو محرم کے اندر مصائب جو بیان کیے جاتے ہیں، اور ہم لوگ بھی چونکہ ایسی باتیں بتاتے ہیں، تو ان کے ساتھ مماثلت تو نہیں ہے؟
نہیں، ان کے ساتھ مماثلت اس لیے نہیں ہے کہ ہم اعتدال کے داعی ہیں، اور ہم صرف دفاع کے طور پہ بات کرتے ہیں، ہم خود نہیں بات چلاتے۔ دفاع کے طور پہ بات کرتے ہیں، اور دفاع ہر مسلمان کا حق ہے۔ اگر کوئی کسی کو پتھر مارتا ہے، تو اس کو پتھر مارنے کا حق نہیں ہے۔ السِّنَّ بِالسِّنِّ دانت کے بدلے دانت، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے، تو یہ ہے مطلب دفاع کا تو ہر مسلمان کو حق ہے۔ تو اہل سنت والجماعت کے مسلک کا دفاع کرنا ہر اہل سنت والجماعت کا حق ہے۔
اور اہل سنت والجماعت کا یہ حال ہے کہ ان کو کسی حالت میں بھی نقصان نہیں ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ اہل سنت والجماعت تینوں کو ماشاءاللہ محترم مانتے ہیں۔ عام صحابہ کو، امہات المومنین رضوان اللہ علیہن کو، اور اہل بیت کو بھی۔ ان تینوں کو محترم مانتے ہیں، ان تینوں کے ساتھ محبت کرتے ہیں، ان تینوں کو follow کرتے ہیں، ان تینوں کو دین کا معیار سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اہل سنت والجماعت تو کسی...
اگر کوئی ناصبی ہے، ہم ناصبی کو جواب دیتے ہیں۔
اگر کوئی شیعہ ہے، وہ صحابہ کے خلاف ہے، ہم ان کو بھی جواب دیتے ہیں۔
اگر کوئی امہات المومنین کے خلاف بولتا ہے، ہم ان کو بھی جواب دیتے ہیں۔
کیوں؟ ہم تینوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ الحمدللہ ہم کسی کے مخالف نہیں ہیں۔ ماشاءاللہ، فرقہ تو تب ہوتا جب ہم کسی ان میں سے ایک کے خلاف ہوتے۔ ہم تو کسی کے بھی خلاف نہیں، ہم تو فرقہ نہیں ہم تو تمام دین کو ماننے والے ہیں۔ مجھ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کا طریقہ ہے؟ میں نے کہا دیکھو تین...
تین طریقے ہیں جس ذریعے سے دین ہم تک پہنچا ہے۔ ایک ہے امہات المومنین کے ذریعے سے، خاص حصہ جو کسی اور کے سامنے آ ہی نہیں سکتا تھا۔ ایک صحابہ کرام کے عام واقعات، جیسے غارِ ثور میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، اور تو کوئی نہیں تھا۔ تو ظاہر ہے وہ تو انہی سے معلوم ہو سکتا تھا۔ اور یا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ ہوتے، یا زبیر رضی اللہ عنہ یا طلحہ رضی اللہ عنہ، مطلب ایسے صحابہ ہوتے تھے۔ تو پھر انہی سے معلوم ہو سکتا تھا۔ اور یا پھر اہل بیت، جب گھر میں حضرت ہوتے تھے۔ تو اس وقت تو حسنین کریمین اور فاطمہ رضی الله تعالىٰ عنہا، مطلب وہی دیکھ سکتی تھیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ تینوں سے دین جو آیا ہے، جنہوں نے تینوں کا لے لیا، انہوں نے پورا دین لے لیا۔ اور جنہوں نے ان میں سے کسی کا لیا، کسی کا نہیں لیا، تو ناقص لے لیا۔ ان میں سے کسی نے کسی کی مخالفت کی، تو اس نے کچھ بھی نہیں لیا۔ کیوں؟ کچھ بھی نہیں لیا؟ اس لیے کچھ بھی نہیں لیا کہ ہر ایک کے حق میں آپ ﷺ نے بات ارشاد فرمائی ہے۔
ان تینوں کے بارے میں آپ ﷺ نے کچھ ارشادات فرمائے ہیں۔ لہٰذا جس نے کسی کی مخالفت کی، اس نے اُن ارشادات کی مخالفت کی۔ تو جنہوں نے آپ ﷺ کے ارشادات کی مخالفت کی، اس کو کچھ مل سکتا ہے؟ اس کو تو کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ تو اس وجہ سے جس نے کسی کی بھی مخالفت کی ان میں، ان کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ چاہے کوئی بھی ہو۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ اگر کوئی اہل سنت میں سے بھی اگر اس قسم کی باتیں کرے، تو ہم ان کی باتوں کو بھی نہیں مانیں گے۔ اپنے آپ کو اہل سنت کہنے سے کوئی اہل سنت تھوڑا بنتا ہے۔ اہل سنت تو ایک Concept ہے کہ سنت اور صحابہ کرام کے طریقے کو جمع کرنا۔ یہ ماشاءاللہ اہل سنت والجماعت کا بنیادی کام ہے۔
لہٰذا ہم لوگ اس کو جمع کرنے والے ہیں۔ ہم لوگ اس میں فرق کرنے والے نہیں۔ تفرقہ، فرقہ کس چیز سے بنتا ہے؟ بتاؤ۔ فرقہ بنتا ہے فرق کرنے سے۔ یعنی آپ اصل سے فرق کر رہے ہیں۔ تو یہ فرقہ ہے۔ تو جب فرقہ ہے، تو ظاہر ہے ہم اصل کے ساتھ ہیں، تو ہم فرقہ کدھر ہوئے؟ ہم تو اصل کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، ہم تو فرقہ نہیں ہیں۔ فرقہ ہم سے جو جدا ہوگا، تو فرقہ ہوگا۔ وہ فرقہ ہوگا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگ فرقہ واریت پھیلاتے بھی نہیں ہیں۔ فرقہ واریت کی بات بھی نہیں کرتے ہیں۔ ہم اپنی اصل کی بات کرتے ہیں، اور اصل کے لیے بلاتے ہیں، اور یہ بلانا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ بلانا ہماری ذمہ داری ہے، اس سے ہمیں کوئی منع نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ہم سب کو ایک ہی چیز کی طرف بلا رہے ہیں اور وہ ہے مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ اس کی طرف بلا رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں، ایک قرآن اور دوسرے میری اولاد۔ ان کے ساتھ رہو۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر یہ ملیں گے آپس میں۔ اب دیکھ لیں، ذرا ساتھ رہنے کا یہ باقاعدہ چونکہ حکم ہے، لہٰذا ہم قرآن کے بھی ساتھ رہیں گے، ہم اہل بیت کے ساتھ بھی رہیں گے۔
اہل بیت کے ساتھ رہنا بہت زیادہ ضروری ہے۔ اور آج کل کے دور میں تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ آج کل فتنوں کا ظہور ہو رہا ہے۔ اور ان فتنوں کا جو انتہا ہے، وہ دجال پر ہوگا۔ دجل و فریب، اس کا جو Chief ہوگا، وہ دجال، وہ آنے والا ہے۔ تو اس کا جو انتہا ہوگا، وہ دجال کے اوپر ہوگا۔ اس کے مقابلے میں جو روحانی سلسلہ ہے، جس کے ذریعے سے امتِ مسلمہ ﷺ کی حفاظت کی جائے گی، وہ امام مہدی عليہ السلام کا طریقہ ہے۔ امام مہدی عليہ السلام کے ساتھ جو ہوگا، وہ دجال سے بچے گا۔ جو امام مہدی عليہ السلام کی طرف جائے گا، وہ دجال سے بچے گا۔ امام مہدی عليہ السلام آلِ رسول میں سے ہوگا۔ اس وجہ سے اگر کسی کو آلِ رسول کے ساتھ بغض ہے، اس کے لیے بہت خطرناک ہے معاملہ۔ عین ممکن ہے کہ اس وقت بھی اس کے لیے حجاب بن جائے۔
جیسے بعض چیزیں ہیں، جیسے دجال کے ساتھ جو چیزیں ہوں گی، اگر کسی کے دل میں ان چیزوں کے لیے تڑپ ہے، کچھ طلب ہے، تو ان کے لیے خطرہ ہے۔ کیونکہ عین دجال ممکن ہے اس کی طرف بلائے اور وہ اس کی طرف چلا جائے۔ جن کو ان چیزوں کی طلب نہیں ہوگی، تو ظاہر ہے یا طلب سے مجبور نہیں ہوں گے۔ تو ظاہر ہے وہ دجال سے بچ سکتے ہیں۔ لیکن جو ان میں اس طرح، جیسے آج کل ہم دیکھتے ہیں، وہ offices میں ہم دیکھتے ہیں، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، وہ اپنے promotion کے لیے وہ دوسرے تمام چیزوں کے لیے مجبور ہوتے ہیں، Yes man بن جاتے ہیں۔ وہ پھر حق اور باطل کو نہیں دیکھتے۔
حق و باطل، بے شک نعوذ باللہ من ذلک کفر کی بات میں بھی ہاں کر دیں۔ کر دیتے ہیں! کر دیتے ہیں ہم نے دیکھا ہے۔ اس طرح کر دیتے ہیں۔ تو کیا ہے؟ اپنے ایمان کو خراب کر لیتے ہیں۔ کس چیز کے لیے؟ promotion کے لیے۔ او خدا کے بندے تمہارا promotion کہاں تک تمہیں لے جائے گی؟ تھوڑا سا بھئی اپنے عاقبت پہ غور کرو۔ یہ کیا ہے تمہارا promotion؟ کتنا آپ کو دے گی کام؟ اور یقین جانیے promotion دینے والا بھی اللہ جل شانہ ہی ہے۔ ہاں، جب اللہ تعالیٰ کسی کو بچاتا ہے، تو ان کو نقصان پہنچانے والے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان کو نقصان پہنچانے والے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ حفاظت کا ایسا انتظام کر دیتے ہیں۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسے لوگوں سے مدد کرواتے ہیں جو اس کے مخالف ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہم نے دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے، ظاہر ہے چلتا ہے۔
تو بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ ایک تو یہ والی بات ہے کہ جیسے ہمارے دفتروں میں، ہمارے محلوں میں، ہمارے سیاسی لوگوں میں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک سیاسی پارٹی کا لیڈر کفریہ بات کر لیتا ہے، وہ ان کی حمایت میں باتیں کرنا شروع کر لیتے ہیں کہ یہ بالکل صحیح بولا۔ خوامخواہ زبردستی اپنے آپ کو کافر بنا لیتے ہیں۔ خدا کے بندو، غور کرو، یہ تمہیں کیا بچائے گا ادھر؟ تمہیں ادھر نہیں بچا سکے گا۔
تو لہٰذا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو بچاؤ۔ اس وقت اس دور کے اندر فتنے اسی طرح آتے ہیں، کہتے ہیں تسبیح کے دانے جس طرح کھل جاتے ہیں نا، اس طرح جیسے گرتے ہیں نا، تو اس طریقے سے فتنے آ رہے ہوں گے۔ اور ابھی اس سے بڑھ کے فتنے آنے والے ہیں۔ تو اس وقت دو چیزوں کی بڑی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اپنی نفسانی خواہشات کو کم کرنا۔ کیونکہ دجال کے ساتھ نفسانی خواہشات کا سامان ہوں گے۔ اپنی نفسانی خواہشات کو control کرنے کا طریقہ سیکھنا، بہت ضروری ہے۔ دوسری بات اہل بیت کے ساتھ کبھی بھی قلب میں کوئی کدورت نہ ہونا۔ کیونکہ بہت خطرناک بات ہوگی۔ امام مہدی عليہ السلام ان حضرات میں سے ہوں گے، اور آپ ذرا غور فرمائیں، تھوڑا سا اپنی عقل سے بھی کام لیں۔ یہ ہماری جو چہل حدیث شریف ہے، اس میں 25 میں سے 22 احادیث شریفہ، درود شریف کے جو ہیں، اس میں اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ ہے۔ آخر اس بات پہ غور کرو، وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ بار بار آ رہا ہے اور یہ صحیح احادیث شریفہ ہیں۔ تو اس صحیح حدیث شریف سے کوئی مطلب ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا مطلب ہے؟ تو آلِ رسول کے ساتھ ہونے کا، اور آلِ رسول کے ساتھ محبت...
ذرا غور کر لو ہمارے اماموں سے سیکھو، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ کیا تھا؟ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ان کے بیٹے کے ساتھ۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے تو یہاں تک کہہ دیا، استغفراللہ کیا عجیب بات فرمائی ہے۔ اتنی اونچی بات فرمائی ہے انسان حیران ہو جاتا ہے۔ حضرت نے فرمایا، عربی کا شعر ہے مجھے تو یاد نہیں ہے، لیکن اس کا مفہوم بتاتا ہوں کہ
اے منیٰ کو جانے والے حاجیوں، ثقلین گواہ رہنا مطلب جن و انس گواہ رہیں، کہ اگر آلِ رسول کے ساتھ محبت رَفْض ہے، تو میں رافضی ہوں۔
اگر ان کے ساتھ محبت رَفْض ہے، تو میں رافضی ہوں۔ کسی نے کہا کہ یہ کیسے مطلب؟ میں نے کہا خدا کے بندے آپ ﷺ نے نہیں فرمایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ تو یہ تو نہیں کہ تمہیں ریاکار کی دعوت دی جا رہی ہے؟ یا تمہیں پاگل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ اس لیے کہ اس کی پرواہ نہ کرو۔ اگر لوگ تمہیں ریاکار بھی کہہ دیں، تب بھی نہ رکو، ذکر سے نہ رکو۔ اگر لوگ تمہیں پاگل کہیں، تب بھی نہ رکو۔ اس کا مطلب یہی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ آپ کو رافضی ہونے کی وہ نہیں دے رہا مطلب دعوت نہیں دے رہا۔ صرف اتنا کہہ رہا ہے، اگر اس وجہ سے کہ میں اہل بیت کے ساتھ محبت کرتا ہوں، کیونکہ اس وقت بھی ایسے لوگ تھے کہ جنہوں نے اہل بیت کا نام لیا، ان کو شیعہ لوگوں نے قرار دیا کہ یہ شیعہ ہے۔ حالانکہ اہل بیت کے ساتھ محبت تو ہمارے تمام اماموں سے ثابت ہے۔ مطلب ان کے وہ ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اگر ایسی بات بھی ہو، اور لوگ مجھے رافضی کہنا چاہیں، تو میں اس کی وجہ سے رکوں گا نہیں۔ میں تو پھر بھی اہل بیت کے ساتھ محبت ہی کروں گا۔ تو اہل بیت کے ساتھ محبت کرنا چاہیے، تو ایک بات یاد رکھیے، میں نے جو یہ بیان کیا ہے مصائب والا بیان میں نے نہیں کیا ہے۔ وہ بیان میں نے نہیں کیا۔ مصائب کا بیان میں کیوں نہیں کرتا؟ اس لیے نہیں کرتا، یہ تو ان کا مقام بڑھانے والی چیز تھی۔ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بنانے والی بات تھی۔ اس پر ہم خفا ہوں گے؟ ہاں دکھ ضرور ہے، لیکن ان کا مقام تو اسی سے بنا ہے۔ ان کا مقام تو اسی سے بنا ہے۔ شہادت مسلمانوں کے لیے ایک عالی مرتبہ ہے۔
ایک صحابی رسول ﷺ کو نیزہ لگ گیا، تو اس وقت اس نے کہا: فُزْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ۔ میں کامیاب ہو گیا ربِ کعبہ کی قسم۔ تو جو نیزہ مارنے والا تھا، اس نے بعد میں کسی مسلمان سے پوچھا، یہ کیا بات تھی؟ میں اس کو مار رہا تھا، وہ کہتا ہے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے کہا خدا کے بندے! ہم لوگ موت کے ساتھ تم جو شراب کے ساتھ محبت کرتے ہو، اس سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ہم موت کے ساتھ اس سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ والی بات کہ ہماری کامیابی کس چیز میں ہے؟ شہادت! شہادت اتنا اونچا مرتبہ ہے۔ تین مقامات ہیں نا: انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین ۔ تو باقی صالحین سارے کے سارے شہیدوں کے بعد ہیں۔ تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء، صدیقین ، پھر شہدا ، پھر صالحین ۔ تو اب دیکھو شہدا ان کا اتنا اونچا مقام ہے؟ اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ، امام حسین رضی اللہ عنہ، دونوں شہدا ہیں۔ علی کرم اللہ وجہہ بھی شہید ہیں۔
تو مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اونچا مقام ہے ان کو اللہ پاک نے دیا ہے۔ ہم اس کی وجہ سے... تو ان کو اتنا اونچے مرتبے والا سمجھتے ہیں، اس پر ہم لوگ جس کو کہتے ہیں رونے دھونے والی باتیں نہیں کرتے۔ ہاں البتہ اس کے مقام کو کوئی challenge کرتا ہے، پھر ضرور جواب دیتے ہیں۔
مثلاً بعض لوگوں نے کہا، نعوذ باللہ من ذلک کہ یزید رحمۃ اللہ علیہ۔ تو یقین جانیے یہ حدیث کے ساتھ مقابلہ ہے۔ حدیث شریف کے ساتھ مقابلہ ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ جو کچھ باتیں بتائی تھیں کہ اگر یہ کسی نے کی، تو اس پر اللہ کی لعنت اور اس پر سب فرشتوں کی لعنت ہو۔ تو وہ کیا ہے؟ اس میں سے کچھ یہ بھی کام ہیں۔ جو آپ ﷺ کی اولاد کی حرمت کو زائل کر دے، اور خانہ کعبہ کی اور مدینہ منورہ کی۔ یہ تینوں یزید کر چکے ہیں۔
اس لیے اس کو فاسق کہنے میں کوئی وہ بات نہیں، ہمارے علمائے کرام کہتے ہیں اس کو فاسق کہنا کربلا کے واقعے کی وجہ سے نہیں ہے، وہ تو ایک جز ہے۔ اصل میں یہ تین واقعات ہیں جس کی وجہ سے ان کو فاسق کہا جاتا ہے۔ البتہ ہم اس کو فاسق کہنے کی وجہ سے کافر نہیں سمجھتے۔ اور اس کے لیے دعا بھی کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔ کیونکہ ہر مسلمان کے لیے مغفرت کی دعا کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر لے، ہمیں اس سے کوئی تکلیف بھی نہیں ہوگی، بلکہ خوشی ہوگی کہ ایک مسلمان کو اللہ پاک نے معاف کر دیا۔ لیکن اس کے اس کام کو ہم صحیح نہیں سمجھتے۔ اس کام کو ہم غلط سمجھیں گے۔
یہ کام لعنتیوں والا کام اس نے کیا ہے۔ یہ کام اس نے فاسقوں والا کام کیا ہے۔ اور اس کی وجہ سے فاسق ہو گیا، لعنتی ہو گیا۔ البتہ اللہ پاک اس کو معاف کرنا چاہے تو اللہ جل شانہ اس پر قادر ہے۔ ہاں البتہ ایک بات ہے، علمائے کرام میں دو گروہ ہیں۔ بڑے دو گروہ ہیں، اہل سنت والجماعت کی بات کر رہا ہوں۔ ایک گروہ یہ ہے، وہ سکوت کو بہتر سمجھتے ہیں، لیکن وہ لعنت کہنے والوں کے خلاف نہیں ہیں۔ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ یزید پلید کہتے تھے باقاعدہ، اپنی کتابوں میں لکھا ہے، یزید پلید۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سکوت فرماتے تھے، سکوت فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ہم لوگ تو شیطان پر بھی لعنت نہیں کرتے، اس کی جگہ، اس وقت ہم ذکر کیوں نہ کریں اللہ تعالیٰ کا۔ تو اس وجہ سے، ان حضرات کا ذوق ہے، ان حضرات کی بات ہے، تو لہٰذا ہم ان کو غلط تو نہیں کہیں گے۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ جنہوں نے اس کو لعنتی کہا، حدیث کی متابعت میں کہا۔ اور جنہوں نے سکوت اختیار کیا، انہوں نے بھی احادیث شریفہ کی حمایت میں کہا۔ اسی کو تو اجتہادی اختلاف کہتے ہیں۔ اجتہادی اختلاف ہے، تو کوئی بات نہیں، اجتہادی اختلاف بہت ساری چیزوں میں ہے۔ اس میں بھی ہے۔ اس وجہ سے ہم اہل حق کے اختلاف کو مانتے ہیں، اور ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے ان میں سے کوئی بھی طریقہ آپ اختیار کر سکتے ہیں۔ لیکن یزید رحمۃ اللہ علیہ کہنا، اہل سنت والجماعت میں کم از کم نہیں ہے، یہ ناصبیت ہے۔ یہ ناصبیت ہے۔ اس کو ناصبیت کہنا پڑے گا۔ ورنہ خود اس پر ناصبی ہونے کا شک کیا جا سکتا ہے کہ یہ بھی ناصبی ہے۔ جو ایسے شخص کو ناصبی نہ کہہ دے، اس پر یہ شک کیا جا سکتا ہے کہ یہ بھی ناصبی ہے۔ کیوں؟ ناصبی کس کو کہتے ہیں؟ ناصبی اہل بیت کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جو اس قسم کی بات کرتے ہیں تو یزید رحمۃ اللہ علیہ کہنا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات ہے امام حسین رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، اور یزید تابعی ہے۔ تابعی اور صحابی میں اختلاف ہو جائے تو کس کی بات مانو گے؟ ظاہر ہے صحابی کی بات مانو گے! لہٰذا ہم لوگ صحابی کے ساتھ ہیں۔ اور جو لوگ یزید کے ساتھ ہیں، تو وہ رکھ دیں نا اپنے بیٹے کا نام یزید رکھ لیں۔ پتہ چل جائے گا اس کو، کہ کتنی اس کی حمایت ہو رہی ہے۔
مطلب یہ تو ظاہر ہے ہم لوگوں کو تھوڑا سا عقل سے بھی کام لینا چاہیے۔ بہرحال یہ بات زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن مجھ سے چونکہ پوچھا گیا تھا، اس لیے مجبوراً میں بات بیان کر رہا ہوں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو حق پر جمع فرما دے۔ اگر میں نے کچھ بات غلط کی ہے، اللہ تعالیٰ میری اصلاح فرما دے۔ اور اگر حق بات کی ہے، اللہ جل شانہ اس کو پھیلا دے، اور اللہ پاک سب کو پہنچا دے، اللہ تعالیٰ سب کو اس پر لے آئے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔