اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَرَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘ وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (23) وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(24)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں،تمہاری پھوپھیاں،تمہاری خالائیں،اوربھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔
سوتیلی بیٹیاں عام طور پر انسان کے زیر پرورش ہوتی ہیں اس لئے یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، ورنہ اگر کوئی سوتیلی بیٹی زیر پرورش نہ بھی ہو تو وہ حرام ہی ہے۔
ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہو گیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے (23)
نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آ جائیں (وہ مستثنیٰ ہیں)۔
جو کنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کر کے دارالاسلام لائی جاتی تھیں، اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے، ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہو جاتا تھا۔ لہذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کر لیتیں، اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا تو ان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان کے ساتھ جائز تھا۔ مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں۔ آج کل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔
اللہ نے یہ احکام تم پر فرض کر دیے ہیں۔ ان عورتوں کو چھوڑ کر تمام عورتوں کے بارے میں یہ حلال کر دیا گیا ہے کہ تم اپنا مال (بطور مہر) خرچ کر کے انہیں (اپنے نکاح میں لانا) چاہو، بشرطیکہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کا رشتہ قائم کر کے عفت حاصل کرو، صرف شہوت نکالنا مقصود نہ ہو۔
مقصد یہ ہے کہ نکاح ایک دیرپا تعلق کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنسی خواہش پوری کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کا قیام ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند ہوتے ہیں، اور اس رشتے کو عفت و عصمت کے تحفظ اور بقائے نسلِ انسانی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ صرف شہوت نکالنے کے لئے ایک عارضی تعلق پیدا کر لینا، خواہ وہ پیسے خرچ کر کے ہی کیوں نہ ہو، ہرگز جائز نہیں ہے۔
یہ متعہ والی باتیں جو ہیں وہ سب اس میں آ گئی۔
چنانچہ جن عورتوں سے (نکاح کر کے) تم نے لطف اٹھایا ہو، ان کو ان کا وہ مہر ادا کرو جو مقرر کیا گیا ہو۔ البتہ مہر مقرر کرنے کے بعد بھی جس (کمی بیشی) پر تم آپس میں راضی ہو جاؤ، اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر بات کا علم بھی رکھتا ہے، حکمت کا بھی مالک ہے ﴿24﴾
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان احکامات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جیسے میں نے عرض کیا یہ سورۃ النساء ہے اس میں دو چیزیں بہت زیادہ اہم ہیں، دو باتیں۔ اور وہ فقہ کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اور وہ کیا ہیں؟ ایک میراث ہے اور ایک یہ نکاح و طلاق کے جو احکام ہیں۔ چونکہ یہ بہت زیادہ اہم ہیں اور معاشرے کے اندر فتنہ فساد کا ذریعہ ہو سکتے ہیں اگر ان پر عمل نہ کیا جائے صحیح باتوں پر، تو اس صورت میں ان کو بالکل کھول کھول کے بیان کیا گیا ہے۔
تو ان احکامات کو پوری طرح سمجھنا چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
**تجزیہ اور خلاصہ:**
**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** محرماتِ نکاح، عفت کا حصول اور اسلامی خاندانی نظام کی اہمیت
**متبادل عنوان:** سورۃ النساء کی روشنی میں نکاح، طلاق اور میراث کے اہم احکامات
**اہم موضوعات:**
• محرمات (وہ عورتیں جن سے نکاح شرعاً حرام ہے) کی قرآنی تفصیل۔
• رضاعی (دودھ شریک) اور سسرالی رشتوں کی حرمت کے احکام۔
• نکاح کا اصل مقصد: محض شہوت رانی کے بجائے عفت، عصمت اور خاندانی نظام کا قیام۔
• متعہ (عارضی نکاح) اور محض جنسی تسکین کے لیے تعلق قائم کرنے کی سختی سے ممانعت۔
• کنیزوں اور باندیوں کے شرعی احکام کی تاریخی و فقہی وضاحت۔
• مقررہ مہر کی ادائیگی کی فرضیت اور باہمی رضامندی سے اس میں ردوبدل کا جواز۔
• معاشرتی امن کے لیے میراث اور نکاح و طلاق کے قوانین کی حساسیت اور اہمیت۔