نماز کے اسرار و حکم: تنوع، استقامت اور نظمِ جماعت

2020 کتابی حوالہ: سیرت النبی ﷺ، جلد 5، نماز، اشاعت، اول :جمعرات، 24 ستمبر

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·     اوقاتِ نماز کی نفسیاتی حکمت: کام کی تھکن اور بوریت کا علاج

·     نماز اور استقامت: مستقل مزاجی کے ذریعے کردار سازی

·     باجماعت نماز کی اہمیت: ملی اتحاد اور باہمی تعاون کا عملی مظاہرہ

·     تسویۂ صفوف کا مقصد: ڈسپلن کی تربیت اور زندگی میں اس کا اطلاق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج جمعرات ہے تو سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ہوتی ہے۔ اور اس میں نماز کے بارے میں الحمدلله تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔

14۔کاموں کا تنوع

انسان کی فطرت کچھ ایسی بنی ہے کہ وہ ہر رنگی کے باوجود تفنن اور تجدد کا طالب ہے، لیکن اگر انسان کے دل و دماغ، اعضاء و جوارح ہر وقت اسی ایک کام میں مصروف رہیں تو سکون واطمینان، عیش و راحت اور دلچسپی کی لذت، جو ہر عمل کا آخری نتیجہ ہے، مفقود ہو جائے، مفید سے مفید کام سے بھی دنیا چیخ اٹھے، اسی لئے قدرت نے اوقات کی تقسیم ایسے مناسب طریقے پر کی ہے جس میں انسان کو حرکت و سکون دونوں کا یکساں موقع ملتا رہتا ہے، رات اور دن کا اختلاف اسی بنا پر آیاتِ الہی میں شمار کیا گیا ہے کہ اس تغیر و تبدل سے نظامِ عالم میں نیرنگی پیدا ہوتی ہے، اور اس تقسیم سے انسانوں میں اپنے ہر کام کی لذت قائم رہتی ہے، نماز ایک ایسا فریضہ ہے جو نہ تو ہر لمحہ انسان پر فرض ہے اور نہ سال میں ایک دفعہ یا عمر بھر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے، بلکہ ہر روز پانچ دفعہ اس کو ادا کرنا پڑتا ہے، صبح سے کام شروع کیا تو ظہر پر آ کر توڑ دیا، پھر مشغولیت ہوئی اور عصر پر پہنچ کر ختم ہوئی، پھر جو سلسلہ چھڑا اس کا مغرب پر خاتمہ ہوا، بعد ازیں خانگی مصروفیت شروع ہوئی اور عشاء پر جا کر منتہی ہوئی، اب نیند آ گئی اور صبح تک بے خبری رہی، اٹھے تو دعاؤں کے افتتاح سے پھر اپنا کاروبار شروع کیا، وہ دولت مند جو جسمانی یا دماغی محنت و مشقت اور مزدوری سے اپنی روزی نہیں حاصل کرتے، وہ اس روحانی "انٹرول" (وقفہ) کے لطف سے آگاہ نہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان چند گھنٹوں تک ایک ہی قسم کی محنت کے بوجھ سے جو دبا جاتا تھا، وہ چند منٹ میں ہاتھ منہ دھو کر دعا و تسبیح اور نشست و برخاست کے ذریعہ اس سے ہلکا ہو گیا اور پھر سے اس نے اپنے کام کے لئے نئی قوت پیدا کر لی۔

اس میں ایک تجربہ ہمیں ہوا ہے۔ بڑا عجیب تجربہ ہوا ہے۔ ہمارے دفتر میں کمپیوٹر جب آ گیا، یہ بالکل کمپیوٹر کے ابتدائی دن تھے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ یہ شروع ہو گئے تھے 1980s کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مطلب کمپیوٹر پاکستان میں عام نہیں تھا۔ ہمارا دفتر چونکہ کافی Advance دفتروں میں شمار ہوتا تھا۔ تو لہٰذا وہاں کمپیوٹر پہلے آیا تھا۔ تو ہم بھی کمپیوٹر پہ کام کرتے تھے۔ اور کام بھی اچھا خاصا کر لیتے تھے۔ یعنی رات کے دو دو بجے تک بھی بعض دفعہ ہم لگے رہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ، Afternoon میں جا کے، عصر کی نماز بھی ہماری ادھر آ جاتی، مغرب کی نماز بھی ادھر آ جاتی، عشاء کی نماز بھی ہماری ادھر آ جاتی اور بعض دفعہ رات کو دو بجے ہم گھر واپس اتے۔ اس میں ہمیں ایک تجربہ ہوا۔ وہ تجربہ یہ ہوا کہ یہ جو نماز کے اوقات ہیں نا، یہ اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کہ یہ Compulsory وقفہ ہے۔ یعنی آپ عصر کو بیٹھ جائیں، تو مغرب کو آپ کو اٹھنا ہی پڑے گا۔ اور مغرب کو آپ بیٹھ جائیں تو عشاء کے لیے اٹھنا پڑے گا۔ عشاء کے لیے اٹھ جائیں تو پھر ظاہر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وقفہ اگر نہ ہوتا، تو انسان، کمپیوٹر ایسی چیز ہے جس میں انسان کو خود بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں کتنا مصروف ہوں۔ یا کہ میں کتنا کام کر رہا ہوں۔ گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ میں نے کتنا کام کیا ہے۔ پتہ اس وقت چلتا ہے جب کمپیوٹر سے اٹھتا ہے، پھر سر چکراتا ہے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ میں کدھر ہوں۔ کیوں؟ ایسے ہی ہے نا؟ مطلب پتہ چلتا ہے پھر کہ بھئی میں کدھر ہوں۔ تو اب یہ ہے کہ یہ جو وقفہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے، یہ اصل میں Fatigue کو ختم کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جو Mental Fatigue ہے اور Physical Fatigue ہے دونوں قسم کی۔ اس کو توڑنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے، تبدیلی۔ مسلسل انسان بیٹھا رہے، بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل انسان کھڑا رہے، بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل بولتا رہے، بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل چپ رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل سوتا رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ مسلسل جاگتا رہے، پھر بھی بیمار ہو جائے۔ یعنی انسان کی صحت اس تبدیلی میں ہے۔ انسان کی صحت جو ہے اس تبدیلی میں ہے۔ اگر یہ تبدیلی نہ ہو، تو انسان کی صحت برقرار نہیں رہتی اور بوریت غالب آ جاتی ہے۔ Depression طاری ہو جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اتنا زبردست، متنوع قسم کی چیزوں کا بندوبست کر دیا ہے کہ اس میں خود بخود یہ چیز شامل ہے۔ ہم اس کی نیت نہیں کریں گے ورنہ ثواب میں کمی آ جائے گی۔ ہم اس کی نیت نہیں کریں گے، لیکن یہ اللہ پاک مفت میں دے رہا ہے۔ مفت میں اللہ تعالیٰ دے رہے ہیں،اللہ پاک نے اس کا نظام کیا ہوا ہے۔ تو حضرت نے ، یہ بات کی ہے۔

15: تربیت

انسان کی عملی کامیابی استقلال اور مواظبت پر موقوف ہے کہ جس کام کو اس نے شروع کیا پھر اس پر عمر بھر قائم رہے، اسی کا نام عادات و اخلاق کی استواری اور کیرکٹر کی (character) مضبوطی ہے، جس کام میں اس خلق کی استواری اور کیرکٹر (character) کی مضبوطی کی تربیت ہو، وہ ضرور ہے کہ روزانہ ہو بلکہ دن میں کئی دفعہ ہو۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جس کے بارے میں عہدہ برآ ہونے کے لئے انسان میں استقلال، مواظبت اور مداومت شرط ہے، اس لئے انسان میں اس اخلاقی خوبی کے پیدا کرنے کا ذریعہ نماز سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی، اس لئے قرآنِ پاک نے صحابہ کی مدح میں فرمایا:

﴿الَّذِينَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ﴾

(المعارج: 23)

وہ جو اپنی نماز مداومت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

﴿أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ﴾ (ابوداؤد: باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقَصْدِ فِي الصَّلَاةِ)

"محبوب ترین عمل خدا کے نزدیک وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے گو وہ کم ہو"

یعنی مطلب یہ ہے کہ Discipline اور ساتھ ساتھ Continuity۔ اب میں آپ کو بتا دوں Exercise۔ ہم دیکھتے ہیں جو Exercise کرنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں اس میں۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پورے تندہی کے ساتھ Exercise شروع کرتے ہیں۔ اور چونکہ ابتداء میں تو اس میں انسان میں شوق و ذوق ہوتا ہے، تو دو گھنٹے، ڈھائی گھنٹے وہ Exercise کرتے ہیں، پورا۔ اب انسان کا جسم اس کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ تو بس دو تین دن میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ نہیں کر سکتے۔ بعض لوگ چارپائی سے ہل بھی نہیں سکتے۔ طریقے سے اگر کام شروع نہ کریں تو ہل بھی نہیں سکتے۔ اس حد تک یہ چیز، کیونکہ انسان ہے مطلب اس کے لیے اللہ پاک نے پورا نظام بنایا ہے۔ اچھا، اب یہ ہے کہ اگر وہ، مطلب یہ ہے کہ ایک ترتیب سے کام شروع کرے، کہ جتنا انسان برداشت کر سکے، شروع کر دے، اور پھر مستقل کرے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شروع کر لیتے ہیں، بڑے جذبے کے ساتھ ایک ہفتہ، دو ہفتے کر لیتے ہیں، پھر بس، چھوڑ دیتے۔ یہ بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے ریس کورس میں، مختلف جگہوں پہ کچھ لکھا ہوتا ہے۔ ان میں، ایک فقرہ یہ بھی لکھا ہے کہ

"Changes come over time, do not come overnight"

مطلب تبدیلی آتی ہے وقت کے ساتھ، یعنی وقت لگانا پڑتا ہے۔ نہیں کہ بس ایک ہی رات میں۔

کوئی آدمی یہ نہیں کر سکتا کہ آج میں بڑی محنت کر لوں گا تو میرا پیٹ کم ہو جائے گا۔ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ مسلسل روزانہ جائے گا، اور جتنا اس کو ڈاکٹر نے بتایا ہے، اتنا کرے گا تو پھر اس کے بعد اس میں تبدیلی آئے گی۔ مطلب آہستہ آہستہ اس میں تبدیلی آئے گی۔ تو جو مستقل مزاجی ہے، وہ بنیادی چیز ہے۔ استقامت، مستقل مزاجی۔ تو یہ تربیت میں استقامت اور مستقل مزاجی کا بہت بڑا دخل ہے۔ یہی چیز Discipline سکھاتی ہے۔ یہ PT وغیرہ جو کراتے ہیں نا، آرمی والے، باقاعدہ صبح سویرے اٹھاتے ہیں، اور ان کو PT کراتے ہیں، اور عصر کے وقت بھی ان کو کچھ کھیل کود جو روزانہ کراتے ہیں، تو اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کی عادت نہ چھوٹے۔ ان کی عادت نہ چھوٹے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ Alert رہیں۔ مطلب یہ کہ Alertness پیدا کرنے کے لیے کچھ کام ان کے ذمے اس طرح لگائے جاتے ہیں، جس سے ان کی یہ صلاحیت بچی رہتی ہے۔

16۔ نظمِ جماعت

کسی قوم کی زندگی اس کے نظمِ جماعت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، یہی گرہ جب کھل جاتی ہے تو قوم کا شیرازہ منتشر و پراگندہ ہو جاتا ہے، اسلام میں نماز باجماعت مسلمانوں کی زندگی کی عملی مثال ہے، محمد رسول اللہ ﷺ نے اسی عملی مثال کو عربوں کے سامنے پیش کر کے ان کی زندگی کا خاکہ کھینچا اور بتایا کہ مسلمانوں کا یہ صف بہ صف کھڑا ہونا، ایک دوسرے سے شانہ بہ شانہ ملانا، اور یکساں حرکت و جنبش کرنا، ان کی قومی زندگی کی مستحکم و مضبوط دیوار کا مسالہ ہے، جس طرح نماز کی درستی صف اور نظامِ جماعت کی درستی پر موقوف ہے، اسی طرح پوری قوم کی زندگی اسی باہمی تعاون، تضامن، مشارکت، میل جول اور باہمی ہمدردی پر موقوف ہے، اسی لئے آنحضرت ﷺ صفوف کی درستی پر بہت زور دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ :"جب تک تم خوب مل کر کھڑے نہ ہو گے تمہارے دل بھی آپس میں نہ ملیں گے"۔

اصل میں یہاں پر ایک بات ہے۔ ہم لوگ الفاظ کے پیچھے جاتے ہیں۔ حقیقت کے پیچھے نہیں جاتے۔ الفاظ اصل میں حقیقت کے ترجمان ہوتے ہیں۔ تو اگر صرف الفاظ کے پیچھے کوئی چلا جائے اور حقیقت اس کا حاصل نہ کرے، تو اس کو وہ نعمت نہیں ملتی، وہ جو چیز اس کے اندر ہے وہ نہیں ملتی۔ اب یہاں پر "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ"، "اپنے صفوں کو برابر رکھو"۔ یہ اصل میں الفاظ ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے ایک حقیقت ہے۔ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اپنے میں Discipline پیدا کرو۔ اپنے میں Discipline پیدا کرو۔ یعنی یہ چیز عملاً تمہارے اندر ہونی چاہیے کہ ایک طرح کا نظام ایک وقت میں چلے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں سب ایک ہی طرح کا Behavior وہ شو کریں۔ یعنی گویا کہ "الف" سے لے کر "ی" تک، ایک ہی حقیقت کے ترجمان ہوں۔ یہ مطلب ہے اس کا۔

تو اب یہ جو نماز کے اندر آپ اس کا بتاتے ہیں، تو اس کی ایک حقیقت ہے، اور ایک اس کا مظاہرہ ہے۔ تو مظاہرہ تو ہوتا ہے نماز میں۔ لیکن حقیقت اس سے حاصل کی جاتی ہے۔ حقیقت اس سے حاصل کی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ صلاحیت، جس کا تو یہاں مظاہرہ کر رہا ہے، اس حقیقت کو اپنی زندگی میں پھیلاؤ۔ اپنی زندگی میں اپناؤ۔ اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناؤ۔ یہ بات ہے۔ پھر آپ کو اس کا فائدہ ملے گا۔ پھر آپ کو اس کا فائدہ ملے گا۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر ہماری زندگی نماز کے نہج پر آ جائے، پوری زندگی، تو ہم کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہو جائیں گے۔ اگر نماز کے نہج پر، نماز کے نہج پر یہی بات ہے کہ نماز کے اندر جو صفات ہیں، وہ ہمارے اسی طرح بن جائیں نا، کہ جو Assignment بھی ہمیں دیا جائے، تو اس کے اندر یکا یگت، اتفاق اور Discipline اور حاضر باشی، استقلال، یہ ساری چیزیں کیا کامیابی کے ضامن نہیں ہیں؟ اگر ہم لوگ اپنے کاموں میں یہ چیزیں پیدا کر لیں، جو نماز میں اتنی چیزیں بتائی گئی ہیں، تو کیا ہم کامیاب نہیں ہوں گے؟ تو وہ نماز گویا کہ ہمیں ایک Rehearsal کروا رہا ہے۔ ایک Rehearsal کروا رہا ہے کہ ہم باقی زندگی میں بھی اسی طریقے سے کریں۔

آرمی میں، میدانِ جنگ میں کیا PT کرنا ہوتا ہے؟ کیا کرنا ہوتا ہے؟ وہاں تو لڑتے ہیں۔ اچھا، تو PT کیوں کراتے ہیں؟ اگر کسی کام کی نہیں ہے؟ PT اس لیے کراتے ہیں کہ ایک آواز سے سب Actions ایک جیسا ہونا انسان سیکھ لے۔ اور جو Target دیا جائے اس Target کو آدمی مشترکہ طور پر حاصل کر لے۔ یہی اس میں بتایا جاتا ہے، سکھایا جاتا ہے۔ اب آگے جا کر اس کا جو زندگی میں استعمال ہے، وہ تو مختلف کاموں میں ہے۔ لیکن یہاں پر صرف ایک مظاہرہ کرایا جاتا ہے، اور اس مظاہرے کے ذریعے سے ہمیں گویا کہ سبق سکھایا جاتا ہے، تو نماز میں بھی ہمیں سبق سکھایا جاتا ہے، لیکن وہ جو سبق ہوتا ہے ہر جگہ مختلف کاموں میں مختلف ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر وہ صفات پیدا کرنی ہوتی ہیں جو نماز کے اندر موجود ہیں۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ


جاری ہے ان شاءاللہ


نماز کے اسرار و حکم: تنوع، استقامت اور نظمِ جماعت - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور