عورتوں کے حقوق، مہر کے احکام اور زمانہ جاہلیت کی رسومات کا خاتمہ

درس نمبر 178، سورۃ النساء: آیت: 17 تا 22- اشاعتِ اول: 25 مئی، 2022، بمطابق 23 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

**اہم موضوعات:**

* نادانی میں کیے گئے گناہوں پر اللہ کی طرف سے توبہ کی قبولیت۔

* نکاح، طلاق اور مہر کے شرعی اور خاندانی احکام کی اہمیت۔

* زمانہ جاہلیت میں بیواؤں کو زبردستی وراثت کا حصہ سمجھنے کے ظالمانہ رواج کا خاتمہ۔

* ہندؤوں کی رسمِ 'ستی' اور مشرکینِ مکہ کی رسومات کا تقابلی جائزہ۔

* بیویوں کو تنگ کر کے مہر واپس لینے کی سختی سے ممانعت اور اسے بہتان قرار دینا۔

* میاں بیوی کے درمیان قربت کے مقدس اور بھاری عہد (میثاقاً غلیظاً) کی اہمیت۔

* سوتیلی ماں سے نکاح کی قطعی حرمت اور اسے کھلی بے حیائی قرار دینا۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(17) وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْــئٰـنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(18) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــئًـا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا(19) وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْــئًـاؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا(20) وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا(21) وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًاؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا (22)


صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ


یہ جو آیاتِ مبارکہ ہیں، یہ عورتوں کے ساتھ کیسے معاملات ہوتے ہیں گھروں میں، نکاح و طلاق کے، اس کے بارے میں ہیں۔ اور یہ چیز بہت اہم ہوتی ہے۔ ہمارے بزرگ فرماتے ہیں کہ جن کو میراث کے علم اور نکاح و طلاق کے علم سے کوئی مناسبت نہیں، تو ان کو دین سے نہیں، مطلب ہے گویا کہ دین بنیادی ان دو چیزوں کے، کیونکہ اب بھی اگر ہم دارالافتاء وغیرہ میں چلے جائیں تو ان پہ زیادہ سے زیادہ جو افتاء ہیں، مطلب جو فتاویٰ ہیں، وہ چل رہے ہوتے ہیں۔


اللہ نے توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی (17) توبہ کی قبولیت ان کے لئے نہیں جو برے کام کئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آ کھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کر لی ہے، اور نہ ان کے لئے جو کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (18)

اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو،اور ان کو اس غرض سے مقید نہ کرو کہ تم نے کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔


زمانہ جاہلیت میں یہ ظالمانہ رسم چلی آتی تھی کہ جب کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جاتا تو اس کے ورثاء اس عورت کو بھی میراث کا حصہ سمجھ کر اس کے اس معنی میں مالک بن بیٹھتے تھے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر نہ دوسری شادی کر سکتی تھی، اور نہ زندگی کے دوسرے اہم فیصلے کرنے کا حق رکھتی تھی۔ اس آیت نے اس ظالمانہ رسم کو ختم فرمایا ہے۔


یہ اصل میں ہندوؤں میں بھی یہ رسم تھی وہ ستی والی، کہ وہ شوہر کسی کا مر جاتا تو عورت زندہ جل مرتی تھی۔ تو اس کو "ستی ماں" کہتے تھے۔ تو ان کا بڑا مقام ہوتا تھا اس وقت، کافی مقدس سمجھی جاتی تھی۔ تو یہ سب رواجی باتیں ہوتی ہیں اور ظالمانہ رواج ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی جو مشرکین میں، جو زمانۂ جاہلیت میں جو ظالمانہ رسم تھی، وہ یہی تھی۔


اسی طرح ایک اور ظالمانہ رواج یہ تھا کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ جو مہر ان کو دے چکا ہے وہ اسے واپس مل جائے تو وہ اپنی بیوی کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر دیتا تھا، مثلاًوہ اسے گھر میں اس طرح مقید رکھتا تھا کہ وہ اپنی جائز ضروریات کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔ اس طرح ستانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بیچاری مجبور ہو کر شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کے لئے اسے خود یہ پیشکش کرے کہ تم اپنا مہر واپس لے لو، اور مجھے طلاق دے کر میری جان چھوڑ دو۔ آیت کے دوسرے حصے میں اس رواج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔


اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ( 19)

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اور ان میں سے ایک کو ڈھیر سارا مہر دے چکے ہو، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کر کے (مہر) واپس لو گے؟ (20)


اوپر آیت نمبر 19 میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ عورتوں کو گلہ خلاصی کے لئے اپنا مہر واپس کرنے پر مجبور کرنا صرف اس صورت میں جائز ہے جب انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم ان سے مہر واپس کرنے کا مطالبہ کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے ان پر بہتان باندھنے کے مرادف ہو گا کہ انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ ان کو مہر کی واپسی پر مجبور کرنا اس صورت کے سوا کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔


مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس وقت یہ رواج تھا کہ جن کا شوہر مر جاتا تھا تو ان کو قید کر کے اس وقت تک ان کو تنگ کرتے رہتے تھے جب تک وہ مہر واپس نہ کرتیں یا طلاق کا مطالبہ نہ کریں۔ تو ایسی صورت میں وہ مہر رہ جاتا۔ تو اس کے لیے یہ حکم ہوا کہ جب تک وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب نہ ہو، تو اس وقت تک آپ اس کو نہیں، اس طرح کر سکتے۔ تو پھر اب یہاں پر یہ فرمایا کہ اس کے بعد اگر کوئی کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی کھلی بے حیائی کو مان لیتا ہے، تو یہ بہتان ہو گیا۔ تو اللہ کی طرف سے یہ فرمایا گیا کہ یہ جائز نہیں ہے، کسی حالت سے یہ ناجائز نہیں ہے۔


اور آخر تم کیسے (وہ مہر) واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو چکے تھے، اور انہوں نے تم سے بڑا بھاری عہد لیا تھا؟ (21)

یعنی یہ گویا کہ اس قربت کا احساس دلایا کہ جو قربت تمہیں حاصل ہو چکی ہے نکاح کی صورت میں، تو ایسی صورت میں تم کیوں اس کے ساتھ اتنی بے وفائی کر سکتے ہو۔

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کر چکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ۔ البتہ پہلے جو کچھ ہو چکا وہ ہو چکا۔


یعنی یہاں پر یہ ہےکہ

جاہلیت میں لوگ اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنے کو کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت نے اس بے شرمی کو ممنوع قرار دیا، البتہ جن لوگوں نے اسلام سے پہلے ایسا نکاح کیا تھا ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ پچھلا گناہ معاف ہے، کیونکہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ اس آیت کے نزول کے بعد نکاح کا یہ تعلق ختم کر لیا جائے۔

یعنی فرمایا گیا:

یہ بڑی بے حیائی ہے، گھناؤنا عمل ہے، اور بے راہ روی کی بات ہے (22)


اللہ جل شانہٗ ہم سب کو قرآنِ پاک کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔



عورتوں کے حقوق، مہر کے احکام اور زمانہ جاہلیت کی رسومات کا خاتمہ - درسِ قرآن - دوسرا دور