مجاہدہ، احکامِ شریعت اور مستحبات کی اہمیت

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 (تیرہواں حصہ) - اشاعتِ اول: 24 جنوری، 2018 بمطابق 13 جمادی الاول 1439 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. جہاد اور مجاہدہ کا مفہوم اور راہِ حق کی برکات
    1. علمِ فقہ کی ضرورت اور سنت کے مطابق اعمال کی ادائیگی
      1. فرائض، واجبات اور سنن کا شرعی مقام و فضیلت
        1. مستحبات کی اہمیت اور انہیں ترک کرنے کا روحانی نقصان
          1. شیطان کے حملے کی ترتیب اور حفاظتِ ایمان کا دائرہ
            1. وقت کی قدر و قیمت اور نوافل کے ذریعے قربِ خداوندی کا حصول

              الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

              بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


              آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کی تعلیم ہوتی ہے۔

              گزشتہ سے پیوستہ


              عقیدہ نمبر اکیس چل رہا ہے۔

              حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوات و التحیات کے حقوقِ صحبت کی رعایت کر کے تمام صحابہ کرام کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات کی دوستی کی وجہ سے ان کو دوست رکھنا چاہیے (کیونکہ) آنحضرت علیہ وعلی آلہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا: "مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ وَ مَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ" "اور جس نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کو دوست رکھا اس نے میری محبت کی وجہ سے ان کو دوست رکھا اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا" ۔ یعنی وہ محبت جو میرے اصحاب رضی اللہ عنہم سے متعلق کی گئی ایسا محبت ہے جیسے کہ مجھ سے متعلق ہے اور اسی طرح وہ بغض جو ان سے تعلق رکھتا ہے ایسا بغض ہے جیسے کہ مجھ سے کیا جائے۔


              اصل میں یہ بہت ہی اہم بات ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو اللہ پاک نے خصوصی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مبعوث فرمایا تھا، یعنی ان کو اللہ پاک نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے، ان کے فروغ کے لیے اور ان کے پھیلانے کے لیے اللہ پاک نے ان کو چن لیا تھا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان کے ساتھ محبت تھی، ان کو بھی آپ ﷺ کے ساتھ محبت تھی، اور اللہ جل شانہ کو بھی ان کے ساتھ محبت تھی، ان کو بھی اللہ پاک کے ساتھ محبت تھی۔ اس وجہ سے جو بھی صحابہ کرام کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہ اسی نسبت کی وجہ سے رکھتے ہیں، کہ اس نسبت کی وجہ سے اس کی رعایت رکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوست ہیں، آپ ﷺ کے ساتھی ہیں۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتے ہیں اصل میں انہوں نے آپ ﷺ کی اس نسبت کا خیال نہیں رکھا، اور اس نسبت کے ساتھ بغض رکھا۔ اس نسبت کے ساتھ بغض رکھا۔ یعنی صحابیت کا خیال نہیں کیا اور صحابہ کو، گویا کہ اس مقام پہ فائز نہیں سمجھا جس پہ اللہ پاک نے ان کو فائز فرمایا ہے۔ اس وجہ سے فرمایا: "فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ" جو ان کے ساتھ محبت کرتے ہیں وہ اصل میں ایسا ہے جیسے کہ انہوں نے میرے ساتھ محبت کی۔ اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے تو اصل میں وہ میرے بغض کی وجہ سے، میرے ساتھ بغض کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھ رہا ہے۔


              ہم کو حضرت امیر (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنے والوں سے کوئی دوستی نہیں ہے، بلکہ مناسب ہے کہ ہم ان سے بے زار ہوں، لیکن چونکہ وہ سب پیغبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کرام ہیں "کہ ما بمحبتِ ایشاں ماموریم و از بغض و ایذائے ایشاں ممنوع" یعنی ہم کو ان کے ساتھ محبت رکھنے کا حکم ہے اور ان کے ساتھ بغض و ایذا رسانی سے روک دیئے گئے ہیں۔ اس لئے لازمًا ہم بھی پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کی دوستی کی وجہ سے تمام صحابہ کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ بغض و ایذا رسانی سے دور رہتے ہیں کیونکہ ان سے بغض و ایذا کا معاملہ سرورِ عالم تک پہنچتا ہے۔ لیکن جو محق (حق پر) ہے ہم اس کو حق والا ہی کہیں گے اور مخطی (بلا قصد خطا وار) کو مخطی، حضرت امیر (علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حق پر تھے اور ان کے مخالف خطا پر۔ اس سے زیادہ کہنا فضول ہے۔


              خطاء مختلف وجوہات سے ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر کسی کو پورا علم نہ ہو، یا ان کو بات پوری طرح سمجھ نہ آئی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب مثلاً میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ معاملہ اتنا عجیب ہے اور اتنا نازک ہے کہ اگر آپ ایک فریق کی سن لیں نا تو اسی کو حق پہ سمجھیں گے، دوسرے کی اگر نہ سنیں۔ مثلاً علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ جنہوں نے اختلاف کیا، انہوں نے اس وجہ سے اختلاف کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کیوں نہیں حفاظت کی؟ اور مطلب یہ ہے کہ ان کے قاتلوں سے قصاص کیوں نہیں لیا؟ ان کے قاتلوں سے قصاص کیوں نہیں لیا؟ اور جو ان کے قاتل ہیں وہ ان کی فوج میں آ کر شامل ہو گئے ہیں تو ان کو کیوں نہیں دور کر دیا؟ یہ ان کا تھا۔ اب اگر آپ کو دوسری بات نہ سمجھائی جائے تو آپ کیا سمجھیں گے؟


              دوسری بات آپ سنیں، علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں، خلیفہ ہی حد نافذ کر سکتا ہے، قصاص لے سکتا ہے۔ تو جب تک آپ لوگوں نے مجھے خلیفہ نہیں مانا تو میں کیسے کر سکتا ہوں؟ اپنی طرف سے تو نہیں کر سکتا۔ یہ تو میری ذمہ داری ہوگی تو پھر میں کروں گا نا۔ تو اب دیکھو دوسری طرف بھی بالکل واضح بات ہے۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ ان حضرات نے، ما شاء اللہ حق جو سمجھا اس کے مطابق عمل کیا۔ لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ اصل بات تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ہی صحیح تھی، لیکن دوسرے حضرات کو غلطی لگ گئی تھی، خطاء ہو گئی تھی۔ اور چونکہ اجتہادی مسئلہ ہے، تو اجتہادی مسئلے میں جو اخلاص کے ساتھ حق پر ہوتا ہے ان کو دو اجر ملتے ہیں اور جو خطاء پر ہوتے ہیں ان کو ایک اجر ملتا ہے۔

              بالکل ایسے ہی، جیسے کہ خون کے آنے سے وضو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا، لیکن امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ٹوٹتا ہے۔ اب دیکھیں، ہم دیکھتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ والے حضرات جو ہیں نا وہ خون اگر آ جائے تو بغیر وضو تازہ کیے وہ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم تصور کر سکتے ہیں اس کا؟ ہم تو نہیں کر سکتے۔ اب ظاہر ہے ان کی نماز کا مسئلہ ہے لیکن چونکہ ان کا مسلک یہی ہے، تو اجتہادی بات ہے تو اب اجتہادی باتوں میں جو بھی خطاء پر ہے ان کو ایک اجر مل رہا ہے اور جو حق پر ہے، ان کو دو اجر مل رہے ہیں۔


              دوسری مثال سمجھو کہ جیسے فاتحہ خلف الامام ہے۔ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حرام ہے۔ اب دیکھو ہم اپنی اپنی بات پہ عمل کرتے ہیں ہم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو غلط نہیں کہتے، حالانکہ فاتحہ امام کے پیچھے پڑھنا ان کے نزدیک فرض ہے۔ اور ہمارے امام کے پیچھے پڑھنا حرام ہے۔ تب یہ اجتہادی بات ہے اور اجتہادی بات کیوں ہے، یہ بڑی تفصیل ہے فقہی امور کی۔ اس کو ظاہر ہے مطلب اتنی مختصر بات میں تو نہیں بیان کیا جا سکتا۔ لیکن بہرحال بات تو ایسی ہے۔ تو اجتہادی باتوں میں اگر اختلاف بھی پایا جائے تو اس میں جو حق پر ہوتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جو دوسری طرف ہوتا ہے اس کو ایک اجر ملتا ہے۔

              اب یہاں پر نماز کے مسائل کے بارے میں اختلاف تھا، وہاں قتال کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ کس کو مارنا چاہیے، (کس کو) نہیں مارنا چاہیے۔ تو بات تو اجتہادی ہی تھی نا۔ دونوں تو حق پر ہی کر رہے تھے نا، اللہ کے لیے کر رہے تھے نا۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اس مسئلے میں آگے جانے سے روکا گیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا اگر میرے کسی صحابی کے بارے میں پتہ چل جائے کہ اس نے قتل کیا، پھر بھی ان کے بارے میں بات نہ کرو۔ بس ان کے بارے میں بات نہ کرو۔ بس جب آپ ﷺ نے فرما دیا تو اس کے بعد ہم کیا کر سکتے ہیں؟ بس ٹھیک ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ہم بھی بالکل اسی طرح ہی کریں گے۔


              اس بحث کی تحقیق کی تفصیل کا ذکر اس مکتوب 251 دفتر اول میں درج ہے جو خواجہ محمد اشرف کو لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہو تو اس مکتوب کی طرف رجوع فرمائیں۔


              تصحیحِ عقائد کے بعد احکامِ فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بغیر چارہ نہیں۔ اور فرض و واجب، حلال و حرام، سنت و مستحب، مشتبہ و مکروہ کی واقفیت بھی ضروری ہے۔ اور اس طرح علمِ فقہ کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ ضروریاتِ دین میں سے سمجھیں اور اعمالِ صالحہ کی بجا آوری کی رعایت میں سعیِ بلیغ فرمائیں اور نماز جو کہ دین کا ستون ہے، اس کے چند ارکان اور فضائل بیان کیے جاتے ہیں، غور سے سنیں۔


              اول وضو کامل اور پورے طور پر نقل کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے۔ ہر عضو کو تین بار، بہ تمام و کمال دھونا چاہیے، تاکہ سنت کے طریقے پر وضو ادا ہو، اور سر کا مسح بالاستیعاب یعنی پورے سر کا مسح کرنا چاہیے۔ اور کانوں اور گردن کے مسح میں خوب احتیاط کرنی چاہیے۔ اور بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے نیچے کی طرف سے خلال کرنا لکھا ہے اور اس کی رعایت رکھیں۔


              اور مستحب کی بجا آوری کو معمولی نہ سمجھیں۔ مستحب حق جل شانہ کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب عمل ہوتا ہے۔ اگر تمام دنیا کے عوض اللہ تعالیٰ کا ایک پسندیدہ اور محبوب عمل معلوم ہو جائے اور اس کے مطابق عمل میسر ہو جائے تو غنیمت ہے۔ اس کا بھی یہی حکم ہے کہ کوئی چند اس بحث کی تحقیق کا تفصیل سے ذکر اس مکتوب (نمبر 251 دفتر اول) میں درج ہے جو خواجہ محمد اشرف کو لکھا گیا ہے۔ اگر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہو تو اس مکتوب کی طرف رجوع فرمائیں۔

              تصحیحِ عقائد کے بعد احکام فقہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بغیر چارہ نہیں، اور فرض و واجب، حلال و حرام، سنت و مستحب، مشتبہ و مکروہ کی واقفیت بھی ضروری ہے اور اسی طرح علم (فقہ) کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ ضروریات (دین) میں سے سمجھیں، اور اعمال صالحہ کی بجا آوری کی رعایت میں سعی بلیغ فرمائیں۔ نماز جو کہ دین کا ستون ہے اس کے چند ارکان و فضائل بیان کئے جاتے ہیں، غور سے سنیں۔

              اول وضو کامل اور پورے طور پر کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے، ہر عضو کو تین بار بتمام و کمال دھونا چاہیے تاکہ سنت کے طریقہ پر وضو ادا ہو، اور سر کا مسح بالاستیعاب یعنی سارے سر کا مسح کرنا چاہیے اور کانوں اور گردن کے مسح میں خوب احتیاط کرنی چاہیے اور بائیں ہاتھ کی خضر یعنی چھنگلیا سے پاؤں کی انگلیوں کے نیچے کی طرف سے خلال کرنا لکھا ہے، اس کی رعایت رکھیں، اور مستحب کے بجا لانے کو معمولی نہ سمجھیں۔ مستحب حق جل و علا کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب عمل ہے، اگر تمام دنیا کے عوض اللہ تعالےٰ کا ایک پسندیدہ اور محبوب فعل معلوم ہو جائے اور اس کے مطابق عمل میسر ہو جائے تو غنیمت ہے۔ اس کا بعینہ یہی حکم ہے کہ کوئی خرف ریزوں یعنی ٹھیکروں سے نفیس جواہر خرید لے اور بے فائدہ جماد یعنی پتھر سے روح کو حاصل کرے۔خزف ریزوں یعنی ٹھیکریوں سے نفیس جواہر خرید لے اور بے فائدہ جماد یعنی پتھر سے روح کو حاصل کر لے۔


              اصل میں یہ والی بات فرائض، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔ فرائض جو ہیں، یہ تو لوازمات ہیں۔ فرائض اور واجبات، اس میں تو آپ کو چانس ہی نہیں ہے، چھوٹنے کا چانس ہی نہیں۔ اگر آپ چھوڑیں گے تو اس کا گناہ ہوگا۔ حرام ہے اس کا چھوڑنا۔ واجب کا چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے اور فرض کا چھوڑنا یہ حرام ہے اور فرض کا منکر کافر ہے۔ اور واجب کا منکر کافر نہیں ہے، بس یہ فرق ہے۔


              تو اب جب یہ والی بات سمجھ میں آئی تو اب آتی ہے بات مستحبات کی طرف، سنتوں اور مستحبات۔ سنت کے بارے میں تو صاف بات ہے "قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ"۔ اے میرے حبیب آپ ان سے کہہ دیں اگر تم اللہ پاک کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کر لو اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ تو سنت کی تو بات ہی الگ ہے نا۔ سنت کی تو بات ہی الگ ہے۔ یعنی سنت کو چھوڑنا اتنی بڑی ہمت کی بات ہوگی کسی کی اگر کوئی چھوڑے گا تو۔ یعنی اتنی بڑی نعمت کو چھوڑنا کہ انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ خود محبت کرے۔ اس چیز کو چھوڑنا کیسی عجیب چیز ہے؟ تو سنت کو چھوڑنا تو اس قسم کی بات ہے کہ اس چیز سے انسان اپنا اعراض کر لے گویا کہ۔


              اور مستحب چھوڑنا ایسا ہے کہ اللہ پاک کی ایک پسندیدہ چیز جس کے ساتھ اللہ محبت کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہے، آپ اس کو چھوڑیں گے تو آپ مجھے بتاؤ کہ آپ کتنی سعادت سے محروم کر رہے ہیں اپنے آپ کو؟ آپ گویا کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ چیز کو صرف تھوڑے سے نفس کے آرام کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ تھوڑے سے نفس کے آرام کے لیے چھوڑ رہے ہیں۔ مثلاً نماز کے اندر جو مستحبات ہیں، اس کو اگر آپ چھوڑ دیں تو آپ کتنی جلدی فارغ ہو جائیں گے، تھوڑا سا اندازہ تو کر لیں۔ کتنی جلدی فارغ ہو جائیں گے؟ ایک منٹ کا بھی فرق نہیں پڑتا۔ ایک منٹ کا بھی چار رکعات میں فرق نہیں پڑتا۔ اگر مستحبات آپ چھوڑ دیں، مثلاً ثناء آپ چھوڑ دیں۔ تو یہ اس طرح اور کئی چیزیں ہیں۔ آپ جو ہے نا تین دفعہ کی "سبحان ربی العظیم" کی جگہ ایک دفعہ پڑھ لیں "سبحان ربی العظیم"، اب یہ چیزیں آپ نہ کریں تو آپ کا کتنا وقت بچ جائے گا؟ ایک منٹ بھی نہیں بنتا چار رکعات میں، اور آپ اتنی بڑی عظیم نعمت سے اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں


              کمال کی بات یہ ہے کہ اس کمزوری میں علماء زیادہ آگے ہیں۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ پتہ نہیں علماء کے دماغ میں یہ بات کہاں سے بیٹھ گئی، کہ اس مسئلے میں وہ زیادہ سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یا تو اپنے آپ کو عالم سمجھ کر اس چیز کا، گویا کہ اپنے آپ کو وہ نہیں سمجھتے، ایک دو کی بات ہوتی تو پھر کوئی بات نہیں تھی۔ اب تو ایسے جیسے جم غفیر کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی اس سے بالکل اعراض، جیسے مطلب لگ رہا ہے، جیسے اس کو اپنے قابل گویا کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ نہیں سمجھ رہے۔ تو ایسے حضرات سے میری عاجزانہ درخواست ہے، (ما شاء اللہ مفتی صاحب بھی تشریف لائے ہیں۔ میں عرض کر رہا تھا مفتی صاحب) حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوب شریف میں جو آخری باتیں فرمائی ہیں، اس مکتوب شریف میں جو عقائد کے بارے میں تھا، تو اس میں اب حضرت فرما رہے ہیں کہ کچھ فقہ کے بارے میں بات بھی ہو جائے۔


              تو فرمایا: فقہی امور میں بھی بہت خیال رکھنا چاہیے اور اس کا علم سیکھنا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں پھر فرائض و واجبات کی بات کی کہ ان کے اوپر ٹھیک ٹھیک عمل ہونا چاہیے۔ اور مستحبات کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ یہ بھی بہت یعنی بڑی بات ہے کیونکہ اللہ کا پسندیدہ عمل ہے۔ پس مستحب کا مطلب کیا ہے؟ اللہ کا پسندیدہ عمل۔

              تو میں نے کہا کہ دیکھو فرائض و واجبات، فرض کا ترک تو حرام ہے اور واجب کا ترک مکروہ تحریمی ہے۔ وہ تو بہت خطرناک بات ہے، وہ تو گناہ میں آدمی شامل ہو جائے گا۔ اور سنت کو چھوڑ دیں تو ترک پر ملامت ہے۔ ویسے فقہی لحاظ سے، لیکن اگر قرآن پاک کی نص کے لحاظ سے دیکھیں نا تو "قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ" یعنی آپ ﷺ کی جو اتباع ہے، سنت کی اتباع، یہ اللہ پاک کی محبوبیت کا راستہ ہے کہ اللہ پاک کا محبوب آدمی بنتا ہے۔ تو انسان اگر سنتوں کو چھوڑتا ہے تو انسان گویا، یعنی اللہ پاک کا محبوب بننا نہیں چاہتا۔ تو یہ کتنی بڑی جرأت ہے؟ کتنی بڑی جرأت ہے؟


              اور پھر مستحبات کی بات میں نے کی، کہ مستحب میں نے کہا کہ مثلاً نماز کے مستحبات ہیں۔ تو چار رکعت نماز میں اب تمام مستحبات چھوڑ دیں تو کیا ایک منٹ بچ جائے گا؟ جتنے مستحبات ہیں نماز کے، وہ اگر آپ چھوڑ دیں اور نماز پڑھ لیں تو کیا آپ کی نماز میں ایک منٹ بچ جائے گا چار رکعت کی نماز میں؟ میرے خیال میں تو نہیں۔ پھر ہم کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ کیا ذوق ہمارا گڑبڑ ہو گیا؟ کیا ہم لوگ اتنے بے ذوق ہو گئے کہ مستحب کا مطلب "اللہ کا پسندیدہ عمل"۔ اللہ تعالیٰ جس چیز سے خوش رہیں، تو آپ توقع رکھتے ہیں کہ میں اللہ کے ساتھ محبت کرتا ہوں اور اس چیز کو بھی آپ سمجھ نہیں رہے کہ جس چیز کو اللہ پسند کرتا ہے، آپ اس چیز کو چھوڑ کر، کیسے جرأت کر رہے ہیں؟


              ہمارے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ملفوظ ہے۔ فرمایا: "جو شخص تصوف میں داخل ہوتا ہے، طریقت میں داخل ہوتا ہے، تو اس کا اول قدم مستحبات کی رعایت ہے"۔ تو اس کا جو اول قدم ہے کیا ہے؟ وہ مستحبات کی رعایت ہے۔

              اور میں نے عرض کیا بڑے دکھی دل کے ساتھ، میں نے کہا اس مسئلے میں علماء زیادہ مبتلا ہیں۔ مستحبات کے ترک میں، بہت عجیب حالت ہے، بہت عجیب حالت ہے۔ بلکہ مجھ سے تو بعض علماء نے کہا بھی۔ یعنی ڈھٹائی کی انتہا ہے۔ کہتے ہیں ہاں علماء فرائض و واجبات تک زیادہ وہ کرتے ہیں۔ گویا کہ مستحبات کو اپنے آپ کو، وہ نہیں سمجھتے، مطلب گویا کہ مطلب اس کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کہ ہمیں بھی اس کی ضرورت ہے۔


              حالانکہ بہت خطرناک بات ہے، یعنی ذوق خطرناک ہے۔ ویسے تو مستحبات پہ ملامت بھی نہیں۔ سنت کے چھوڑنے پہ ملامت ہے مستحبات پہ ملامت بھی نہیں۔ لیکن افسوس تو ہو سکتا ہے نا کہ اتنی بڑی نعمت کو انسان کیسے اور پھر اس کو اپنا ایک اصول بنا لے؟ یہ تو عجیب بات ہے۔ اصول کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ فکر کی بات تو ہے نا۔ کچھ بات تو ہے۔ یہی بات آہستہ آہستہ آہستہ، مفضی ہو جاتی ہے اور چیزوں کی طرف۔


              ایک انڈونیشین تھے ہمارے ساتھ، Class fellow تھے۔ ان کو میں نے ویسے سمجھانے کے لیے ایک نقشہ بنایا۔ بڑے اچھے آدمی تھے۔ انڈونیشیا میں بھی تصوف کافی ما شاء اللہ، یعنی ہے، اگرچہ جیسے گڑبڑ یہاں پر ہوئی ہے، اس طرح گڑبڑیں وہاں پر بھی ہوئی ہیں۔ لیکن بہرحال تصوف کے نام سے کام وہاں پر ہے کیونکہ وہ بھی تصوف والوں کے ذریعے سے مسلمان ہوئے ہیں۔ یعنی انڈونیشیا جو علاقہ ہے، یہ بھی۔ تو میں نے ایک نقطہ بنایا، میں نے کہا یہ نقطہ ایمان ہے۔ اس کے گرد ایک دائرہ ہے۔ وہ دائرہ میں نے کہا فرائض کا ہے۔ اس سے آگے ایک دائرہ ہے، وہ دائرہ واجبات کا ہے۔ اس سے ایک دائرہ آگے ہے، وہ سنن کا ہے۔ اس سے آگے دائرہ ہے وہ مستحبات کا ہے۔ میں نے کہا اس سے ایک دائرہ ہے مباحات کا ہے۔ میں نے کہا شیطان سب سے پہلے آپ کے مستحبات پر Attack کرے گا۔ کیونکہ وہ آگے تو نہیں جا سکے گا۔ لیکن جس وقت آپ کے مستحبات پر Attack کر لے گا تو اس کے لیے سنتوں کا راستہ کھل گیا۔ اگر مستحبات میں وہ کامیاب ہو گیا داخل ہونے میں، تو اب آپ سے سنن چھڑانے کی محنت کرے گا۔ تو گویا کہ سنت آپ کی خطرے میں پڑ گئی۔ اور جب سنت پہ Attack اس کا کامیاب ہو جائے گا تو آپ کے واجبات خطرے میں پڑ گئے۔ اور جب واجبات میں کامیاب ہو تو آپ کے فرائض خطرے میں پڑ گئے۔ اور جب فرائض میں بھی کامیاب ہو تو پھر ایمان خطرے میں ہے۔ اللہ بچائے۔


              تو میں نے کہا شیطان تو یہ راستہ لیتا ہے۔ تو اب بظاہر تو سمجھتے ہیں کہ مستحبات کو ہم چھوڑ رہے ہیں تو کچھ بھی نہیں، لیکن آگے بات جاتی ہے آگے، کہ وجہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: جب کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کا فوری صلہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرا اچھا کام اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ اور جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے لیے دوسرا غلط کام آسان ہو جاتا ہے۔ تو یہ راستہ جاتا ہے اس طرف۔ اس وجہ سے فکر کی ضرورت ہے۔ اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ارشاد فرمایا بہت اہم نصیحت ہے۔ یہ تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہے نا، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تصوف میں جو لوگ داخل ہوتے ہیں ان کا پہلا قدم جو ہوتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ مستحبات کی رعایت کا۔ مستحبات کی رعایت بہت اہم بات ہے۔ بہت اہم بات ہے۔ یہ اپنے آپ کو گویا کہ اچھے ماحول کے اندر Envelop کرنا ہے، میں اگر اپنے الفاظ میں کہہ سکوں۔ مستحبات کی رعایت کا مطلب کیا ہے؟ اپنے آپ کو اچھے ماحول کے اندر Envelop کرنا ہے۔ ارد گرد اپنے مستحبات کا دائرہ بنا لو، سبحان اللہ، کتنا پیارا ہے۔ ٹائم تو لگتا ہی ہے، وقت تو لگتا ہے، کس کا وقت نہیں لگتا؟


              یہ میں دیکھتا ہوں یہ جو پروا نہیں کرتے، راستے میں کھڑے ہو کر گپ شپ لگاتے ہیں۔ ویسے ہی اپنا وقت... وقت تو نہیں رہتا۔ وقت تو حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے وقت کی قدر ایک برف والے سے سیکھی تھی۔ ایک برف بیچنے والے سے سیکھی تھی۔ کہتے ہیں ہمارے دوست تھے، ان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تو میں نے دیکھا کہ اس کے ماتھے پہ بڑی Tension کے اثرات ہیں، جیسے بہت پریشان ہو۔ میں نے کہا حضرت کیا وجہ ہے، کیا پریشانی ہے؟ اس نے کہا آپ دیکھ نہیں رہے؟ میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے! کیونکہ برف اگر آپ اس کو فریج میں رکھ دیں تو فریج پہ تو خرچہ زیادہ آئے گا، برف کی اتنی قیمت نہیں ہوتی۔ اور برف گرمی میں پڑی ہو تو کیا خیال ہے؟ اس نے تو پگھلنا ہے۔ تو پانی تو آپ بیچ نہیں سکتے۔ تو فرمایا: دیکھو میری برف پگھل رہی ہے اور گاہک نہیں آ رہے ہیں۔ بعینہ اسی قسم کی بات ہے، وقت نکل رہا ہے۔ وقت کے ساتھ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ اس کو پکڑ سکتے ہیں؟ دنیا میں واحد یہ چیز ہے جس کے اوپر آپ کا کوئی بس نہیں چلتا۔ چاہے کچھ بھی آپ کریں۔ کوئی Storage place نہیں ہے اس کے لیے۔ ایک سیکنڈ بھی نہیں آپ اس کو Store کر سکتے۔ بس آپ کے پاس تین کام ہیں وقت کے لحاظ سے، تین کام۔ یا اس کو کسی اچھے کام میں لگا دو۔ یا پھر اس کو ضائع کر دو۔ یعنی کچھ بھی نہ کرو اس کے ساتھ۔ اور یا پھر برے کام میں استعمال کر لو اور اپنا بیڑا غرق کر دو۔ یہی تین کام ہوئے۔ یہی تین کام آپ اس کے ساتھ کر سکتے ہیں اس کے علاوہ چوتھا کام اس کے ساتھ کر ہی نہیں سکتے ہو۔


              تو اب دیکھو، فرائض و واجبات تو Fixed ہیں اس کے اندر تو آپ کچھ کر نہیں سکتے جتنے ہیں بس اس سے زیادہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے وہ Fixed ہیں۔ سنن کا معاملہ بھی محدود ہے۔ اگرچہ زیادہ ہیں، لیکن محدود ہیں۔ ایک Limit ہے۔ کیا خیال ہے، ظہر کی کتنی رکعتیں سنتیں ہیں؟ چھ۔ چھ پڑھ لو گے، سات تو نہیں پڑھ سکتے۔ آٹھ، آٹھ پڑھ لو۔ پڑھ سکتے ہو آٹھ؟ آٹھ پڑھ لو گے تو دو خود بخود نفل ہو جائیں گے۔ اس سے زیادہ نہیں کر سکتے۔ تو یہ یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ سنن بھی Limited ہیں۔ آپ کے پاس ایک بہت بڑے ذخیرے کا امکان جو ہے وہ نوافل کا ہی ہو سکتا ہے، مستحبات کا ہی ہو سکتا ہے۔ جس پہ کوئی Limit نہیں ہے جتنا جمع کرنا چاہو کر لو۔ آپ کی مرضی، آپ کی ہمت۔


              اور اس پر اجر سبحان اللہ سبحان اللہ، کیا بات ہے! اللہ کرے کہ یہ بات ہمیں سمجھ آ جائے۔ دیکھو فرمایا سب سے اونچا قرب تو قربِ فرائض کا ہوتا ہے۔ فرائض کا جو قرب ہے، سب سے اونچا۔ اس سے زیادہ کسی چیز کا قرب نہیں ہو سکتا۔ اور پھر فرمایا، نوافل کا جو قرب ہے، وہ بڑھتا ہے۔ کیوں؟ Limit نہیں ہے۔ بڑھتا ہے۔ بڑھتا ہے، بڑھتا ہے، بڑھتا ہے، بڑھتا ہے۔ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پکڑتا ہے، میں اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ کیا بات ہے! فرائض میں مقابلہ نہیں کر سکتے ہو کسی کا، وہ سارے برابر ہو سکتے ہیں کم از کم بس فرائض تو Limited ہیں، لیکن نوافل میں مقابلہ کر سکتے ہو۔ "وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ"، اس میں تو بہت مقابلہ کر سکتے ہو۔

              مجاہدہ، احکامِ شریعت اور مستحبات کی اہمیت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور