قرآن مجید میں حدود اللہ کی اہمیت، سزائیں اور سچی توبہ کی شرائط

درس نمبر 177، سورۃ النساء: آیت: 13 تا 18- اشاعتِ اول: 24 مئی، 2022، بمطابق 22 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

**اہم موضوعات:**

* اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر جنت کی بشارت اور نافرمانی پر عذاب کی وعید

* میراث اور دیگر معاملات میں حدود اللہ کی پابندی

* بدکاری (زنا) اور ہم جنسی کے حوالے سے قرآنی احکامات اور شرعی سزائیں (کوڑے اور رجم)

* نادانی یا نفس کے غلبے میں ہونے والے گناہوں پر فوراً ندامت اور توبہ کی اہمیت

* موت کے وقت کی جانے والی توبہ کی نامقبولیت

اَلْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔


تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(13) وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ (14)وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا(15) وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَاۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(16) اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىِٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(17) وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْــئٰـنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(18)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ


یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے (13)

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا(14)


یہ میراث کی جو آیات مبارکہ چل رہی تھیں، تو اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو قرض ہے، جو نقصان پہنچانے والا نہ ہو کسی دوسرے کو، اور وصیت، اس کے اجراء کے ترکہ تقسیم ہوگا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا:

"تِلْكَ حُدُودُ اللهِ" یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں۔ اور پھر یہ فرمایا:کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا، تو یہاں پر جو ماننے والے ہیں ان کے لیے بھی ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے تو جنتیں ہیں، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں، ان کے بارے میں بھی حکم فرمایا کہ اللہ ان کو دوزخ میں داخل کرے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو دردناک عذاب ہوگا، ذلیل کرنے والا۔


تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنالو۔ چنانچہ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں روک رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے (15)


عورت بدکاری کا ارتکاب کرے تو شروع میں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اسے عمر بھر گھر میں مقید رکھا جائے، لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ بعد میں ان کے لئے کوئی اور سزا مقرر کی جائے گی یا "اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے" کا یہی مطلب ہے۔ چنانچہ سورہ نور میں مرد اور عورت دونوں کے لئے زنا کی سزا کوڑے مقرر کر دی گئی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راستہ پیدا کر دیا ہے، اور وہ یہ کہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے گا۔


اور تم میں سے جو دو مرد بدکاری کا ارتکاب کریں ان کو اذیت دو۔

یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے، جس کے مختلف طریقے فقہاء کرام نے تجویز کیے ہیں، ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔


پھر اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان ہے (16)

اللہ نے توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی (17)

توبہ کی قبولیت ان کے لئے نہیں جو برے کام کئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آ کھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کر لی ہے، اور نہ ان کے لئے جو کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (18)

تو یہاں پر ایک تو یہ ہے کہ گناہ، یعنی جس کو ہم "حُبِ باہ" کہتے ہیں، اس کی وجہ سے وہ مطلب یکلخت ہو جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا پہلے ارادہ بھی نہیں تھا لیکن بس وہ غلطی ہو گئی، اچانک کیونکہ ایسے جذبے اچانک اٹھتے ہیں۔ تو ایسے لوگ پھر توبہ بھی کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ چیزیں پسند نہیں ہوتیں، لیکن وہ نفس ان کے اوپر حاوی ہو جاتا ہے، اور پھر ان سے جب گناہ ہوتا ہے تو ان کو خود اپنا آپ برا نظر آتا ہے، اور پھر وہ توبہ کر لیتے ہیں۔ یعنی گویا ندامت اس کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے، اور پھر ندامت کے بعد پھر وہ توبہ بھی کر لیتے ہیں، پھر آئندہ کے لیے عہد بھی کر لیتے ہیں کہ ہم نہیں کریں گے۔ تو یہ مطلب ان کے لیے توبہ کی قبولیت کا فرمایا۔


لیکن وہ لوگ جو عادی بن جاتے ہیں، اور توبہ نہیں کرتے، اور گناہ کرتے رہتے ہیں، اور پھر جس وقت موت کا وقت آجائے، اور مطلب یہ ہے کہ کوئی اس طرح کا ان کو یعنی ہو جائے، تو اس صورت میں پھر وہ جو توبہ کرے، اس وقت تو، اس وقت توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ کیونکہ توبہ کا وقت چلا گیا۔ تو ایسی صورت میں ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔


اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اللہ پاک سے ڈرنے والا بنا دے، اور اللہ پاک کو راضی کرنے والا بنا دے، اور کوئی عمل ہم ایسا نہ کریں جس سے اللہ پاک ناراض ہو۔


سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔







**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** قرآن مجید میں حدود اللہ کی اہمیت، سزائیں اور سچی توبہ کی شرائط

**متبادل عنوان:** گناہوں پر ندامت، بروقت توبہ اور اللہ کی رحمت


**اہم موضوعات:**

* اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر جنت کی بشارت اور نافرمانی پر عذاب کی وعید

* میراث اور دیگر معاملات میں حدود اللہ کی پابندی

* بدکاری (زنا) اور ہم جنسی کے حوالے سے قرآنی احکامات اور شرعی سزائیں (کوڑے اور رجم)

* نادانی یا نفس کے غلبے میں ہونے والے گناہوں پر فوراً ندامت اور توبہ کی اہمیت

* موت کے وقت کی جانے والی توبہ کی نامقبولیت




حصہ دوم: تفصیلی تشریح اور متعلقہ واقعات

حدودِ الٰہی کی اہمیت اور وعید کا حقیقی مفہوم

قرآنِ مجید کی ان آیات سے قبل میراث کے تفصیلی احکام بیان ہوئے ہیں، جنہیں احادیث میں "نصف علم" قرار دیا گیا ہے۔ ان احکام کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ یہ اللہ کی حدود ہیں، اور ان کو توڑنے والے پر ہمیشہ کی دوزخ کی وعید ہے۔ علمائے کرام اس "ہمیشہ کی دوزخ" کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر حدود توڑنے والا شخص مؤمن ہے، تو یہاں 'ہمیشہ' سے مراد عذاب کی طوالت اور شدت ہے۔

اس کی تفہیم کے لیے احادیثِ مبارکہ کی وہ نظیر پیش کی جا سکتی ہے جہاں کسی عمل کے نہ ہونے پر ایمان کی نفی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین" (تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں)۔

اس حدیث کی تشریح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس مشہور واقعے سے بخوبی ہوتی ہے:

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔"

اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں) جب تک کہ میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"

یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا: "اللہ کی قسم! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔"

اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "الآن یا عمر" (اے عمر! اب بات بن گئی)۔

جس طرح اس حدیث میں ایمان کی نفی سے مراد 'کمالِ ایمان' کی نفی ہے، اسی طرح میراث کی خلاف ورزی پر ہمیشہ کی جہنم سے مراد شدید ترین اور طویل عذاب ہے۔ ایک اور حدیث میں اس کی سنگینی یوں بیان کی گئی ہے کہ مسند احمد اور ترمذی شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے جس میں رسول کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”بعض عورتیں اور مرد ساٹھ سال (یعنی عمر بھر) اللہ تعالیٰ کی پوری اطاعت کرتے ہیں پھر موت کا وقت آتا ہے تو وصیت میں وارثوں کو ضرر پہنچاتے ہیں (مثلاً اپنے کسی پسندیدہ وارث کو کسی طریقے سے زیادہ دے جاتے ہیں یا کسی ناپسندیدہ وارث کو محروم کر دیتے ہیں یا کسی غیر وارث کو فقط اپنے ناپسندیدہ ورثاء کو محروم کرنے کے لیے دے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ) اسی وجہ سے دوزخ ان کے لیے واجب ہوجاتی ہے۔“

لہٰذا جس شخص کا دل تھوڑا سا بھی بیدار ہو، وہ میراث کے احکام اور علمِ میراث کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

نفسانی خواہشات، اچانک موت کا خطرہ اور توبہ کی فضیلت

مذکورہ آیات میں زنا اور بدکاری کا ذکر آیا ہے۔ یہ گناہ عموماً "حُبِ باہ" اور نفسانی خواہشات کے فوری تقاضے کی وجہ سے سرزد ہوتا ہے۔ بسا اوقات انسان جانتے بوجھتے بھی اس فوری اور شدید جذبے کے ہاتھوں مغلوب ہو کر گناہ کے گڑھے میں گر جاتا ہے۔ لیکن اگر ایمان کی رمق باقی ہو، تو گناہ کے فوراً بعد انسان کو شدید ندامت گھیر لیتی ہے۔ اگر وہ اسی وقت سچی توبہ کر لے، تو یہ اللہ کا بے پناہ فضل ہے کہ وہ توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

تاہم، گناہ پر اصرار کرنا اور توبہ کو ٹالنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ بسا اوقات انسان اسی گناہ کی حالت میں مارا جاتا ہے؛ مثلاً مجرم موقعِ واردات پر پکڑا جائے اور اسے وہیں قتل کر دیا جائے، یا اچانک کوئی زلزلہ، حادثہ یا ناگہانی آفت آ جائے اور توبہ کی مہلت ہی نہ ملے۔

ترکیہ زلزلے کا عبرت ناک واقعہ

اس کی ایک چشم کشا اور عبرت ناک مثال 17 اگست 1999ء کو ترکیہ کے شہر گولجوک (Gölcük) میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہے۔ اس رات وہاں کے سمندر کے کنارے نیول بیس (بحری اڈے) پر ایک تقریب جاری تھی جس میں کئی اعلیٰ فوجی افسران اور غیر ملکی مہمان شریک تھے اور اسرائیلی رقاصائیں بلائی گئی تھیں۔ رات گئے جب یہ محفل اپنے عروج پر تھی اور لوگ عیش و عشرت میں مگن تھے، تو وہاں موجود ایک متکبر بحریہ کے افسر نے مبینہ طور پر قرآنِ مجید منگوا کر اس کی آیات کا مذاق اڑایا۔ غرور اور سرکشی کے نشے میں اس نے اللہ کے کلام کی توہین کی اور کائنات کے خالق کو چیلنج کرنے کی جسارت کی۔

رات کے تقریباً 3 بج کر 2 منٹ پر اچانک فضا میں ایک گرج پیدا ہوئی اور ریکٹر اسکیل پر 7.6 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا۔ چند ہی سیکنڈز میں زمین پھٹ گئی اور وہ پوری عمارت، اس میں موجود تمام افراد اور وہ پوری محفل سمندر کے بپھرتے ہوئے پانیوں میں غرق ہو گئی۔ صبح کے وقت وہاں اس عالی شان تقریب کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ یہ تاریخ کا وہ سبق آموز واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان جب طاقت کے غرور میں اللہ کی حدود کو چیلنج کرتا ہے، تو اللہ کی پکڑ بڑی اچانک اور سخت ہوتی ہے۔

مہلتِ عمل اور گناہ پر اصرار کا انجام

اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ گناہ گاروں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ توبہ کی مہلت دیتا ہے۔ جو شخص نادانی میں گناہ کر کے پلٹ آئے، اس کے لیے توبہ کے دروازے کھلے ہیں۔ لیکن جو شخص مسلسل بدکاری کا عادی بن جائے اور اس پر اصرار کرے، تو بسا اوقات موت کا وقت ایسے اچانک آتا ہے کہ اسے کلمہ پڑھنے یا توبہ کرنے کی توفیق ہی نہیں ملتی۔

زنا کی شرعی سزا اور توریت کا واقعہ

اسلام میں زنا کی سزا نہایت سخت رکھی گئی ہے، یعنی کوڑے مارنا اور رجم (سنگسار) کرنا۔ درحقیقت، رجم کی یہ سزا پچھلی شریعتوں خصوصاً یہود کی کتاب توریت میں بھی موجود تھی، مگر یہودیوں نے اسے چھپا لیا تھا۔

اس حوالے سے احادیث میں ایک مشہور واقعہ منقول ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا۔ یہودی انہیں نبی کریم ﷺ کی عدالت میں لے آئے تاکہ شاید کوئی ہلکی سزا مل جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہاری کتاب توریت میں اس کی کیا سزا ہے؟" انہوں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: "ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں گدھے پر بٹھا کر رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مارتے ہیں۔"

نبی کریم ﷺ نے توریت منگوائی۔ جب ایک یہودی عالم توریت پڑھنے لگا، تو اس نے رجم (سنگسار کرنے) والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس کے آگے پیچھے کا حصہ پڑھنے لگا۔ وہاں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ (جو پہلے یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے اور پھر اسلام لے آئے تھے) موجود تھے۔ انہوں نے فرمایا: "یا رسول اللہ! اس سے کہیے کہ اپنا ہاتھ اٹھائے۔"

جب اس یہودی نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو اس کے ہاتھ کے بالکل نیچے رجم (سنگسار کرنے) کی واضح آیت موجود تھی۔ تب یہودیوں کو اعتراف کرنا پڑا کہ بے شک توریت میں رجم کا ہی حکم ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان دونوں مجرموں کو سنگسار کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدودِ الٰہی ہمیشہ سے نافذ رہی ہیں اور ان کی پاسداری ہر شریعت میں لازمی قرار دی گئی ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اپنی حدود کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، گناہوں سے بچائے اور لغزش ہو جانے پر سچی اور فوری توبہ کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

قرآن مجید میں حدود اللہ کی اہمیت، سزائیں اور سچی توبہ کی شرائط - درسِ قرآن - دوسرا دور