اَلْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(13) وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ (14)وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا(15) وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَاۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(16) اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓىِٕكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(17) وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْــئٰـنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(18)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے (13)
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا(14)
یہ میراث کی جو آیات مبارکہ چل رہی تھیں، تو اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو قرض ہے، جو نقصان پہنچانے والا نہ ہو کسی دوسرے کو، اور وصیت، اس کے اجراء کے ترکہ تقسیم ہوگا۔ تو اللہ پاک نے فرمایا:
"تِلْكَ حُدُودُ اللهِ" یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں۔ اور پھر یہ فرمایا:کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا، تو یہاں پر جو ماننے والے ہیں ان کے لیے بھی ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے تو جنتیں ہیں، اور جو ماننے والے نہیں ہیں، جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں، ان کے بارے میں بھی حکم فرمایا کہ اللہ ان کو دوزخ میں داخل کرے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو دردناک عذاب ہوگا، ذلیل کرنے والا۔
تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنالو۔ چنانچہ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں روک رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے (15)
عورت بدکاری کا ارتکاب کرے تو شروع میں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اسے عمر بھر گھر میں مقید رکھا جائے، لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ بعد میں ان کے لئے کوئی اور سزا مقرر کی جائے گی یا "اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے" کا یہی مطلب ہے۔ چنانچہ سورہ نور میں مرد اور عورت دونوں کے لئے زنا کی سزا کوڑے مقرر کر دی گئی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راستہ پیدا کر دیا ہے، اور وہ یہ کہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے گا۔
اور تم میں سے جو دو مرد بدکاری کا ارتکاب کریں ان کو اذیت دو۔
یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے، جس کے مختلف طریقے فقہاء کرام نے تجویز کیے ہیں، ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
پھر اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان ہے (16)
اللہ نے توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی (17)
توبہ کی قبولیت ان کے لئے نہیں جو برے کام کئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آ کھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کر لی ہے، اور نہ ان کے لئے جو کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (18)
تو یہاں پر ایک تو یہ ہے کہ گناہ، یعنی جس کو ہم "حُبِ باہ" کہتے ہیں، اس کی وجہ سے وہ مطلب یکلخت ہو جائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا پہلے ارادہ بھی نہیں تھا لیکن بس وہ غلطی ہو گئی، اچانک کیونکہ ایسے جذبے اچانک اٹھتے ہیں۔ تو ایسے لوگ پھر توبہ بھی کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ چیزیں پسند نہیں ہوتیں، لیکن وہ نفس ان کے اوپر حاوی ہو جاتا ہے، اور پھر ان سے جب گناہ ہوتا ہے تو ان کو خود اپنا آپ برا نظر آتا ہے، اور پھر وہ توبہ کر لیتے ہیں۔ یعنی گویا ندامت اس کے ساتھ ہی ہو جاتی ہے، اور پھر ندامت کے بعد پھر وہ توبہ بھی کر لیتے ہیں، پھر آئندہ کے لیے عہد بھی کر لیتے ہیں کہ ہم نہیں کریں گے۔ تو یہ مطلب ان کے لیے توبہ کی قبولیت کا فرمایا۔
لیکن وہ لوگ جو عادی بن جاتے ہیں، اور توبہ نہیں کرتے، اور گناہ کرتے رہتے ہیں، اور پھر جس وقت موت کا وقت آجائے، اور مطلب یہ ہے کہ کوئی اس طرح کا ان کو یعنی ہو جائے، تو اس صورت میں پھر وہ جو توبہ کرے، اس وقت تو، اس وقت توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ کیونکہ توبہ کا وقت چلا گیا۔ تو ایسی صورت میں ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اللہ پاک سے ڈرنے والا بنا دے، اور اللہ پاک کو راضی کرنے والا بنا دے، اور کوئی عمل ہم ایسا نہ کریں جس سے اللہ پاک ناراض ہو۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** قرآن مجید میں حدود اللہ کی اہمیت، سزائیں اور سچی توبہ کی شرائط
**متبادل عنوان:** گناہوں پر ندامت، بروقت توبہ اور اللہ کی رحمت
**اہم موضوعات:**
* اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر جنت کی بشارت اور نافرمانی پر عذاب کی وعید
* میراث اور دیگر معاملات میں حدود اللہ کی پابندی
* بدکاری (زنا) اور ہم جنسی کے حوالے سے قرآنی احکامات اور شرعی سزائیں (کوڑے اور رجم)
* نادانی یا نفس کے غلبے میں ہونے والے گناہوں پر فوراً ندامت اور توبہ کی اہمیت
* موت کے وقت کی جانے والی توبہ کی نامقبولیت