اَلْحَمْدُ ِللہِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
یَسْتَفْتُوْنَكَ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّواؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (176)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اگرچہ ہم آیت نمبر 12 جو سورۂ نساء کی تھی، اس کو ہم پڑھ رہے تھے۔ اور اس کے بعد نمبر 13 کی باری آ رہی تھی۔ لیکن چونکہ ایک بیان چلا آ رہا ہے میراث کا، وہ درمیان میں اگر رہ جائے گا تو شاید لوگوں کو بات سمجھ نہیں آئے گی۔ اس وجہ سے جو آیت اخیر میں آ رہی ہے 176، وہ یہ کہ ہم پہلے پڑھ لیتے ہیں، تاکہ اس کے بارے میں بات پوری ہو جائے۔
"لوگ آپ سے (میراثِ کلالہ کے باب میں یعنی جس کی اولاد نہ ہو نہ باپ ہوں) حکم دریافت کرتے ہیں آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کلالہ کے باب میں حکم دیتا ہے (وہ یہ ہے کہ) اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو (یعنی نہ مذکر نہ مؤنث اور نہ باپ ہوں) اور اس کی ایک (عینی یا علاتی) بہن ہو تو اس (بہن) کو اس کے تمام ترکہ کا نصف ملے گا (یعنی بعد حقوقِ متقدمہ اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہو اس کو دیا جائے گا ورنہ پھر اسی پر رد ہو جائے گا) اور وہ شخص اس (اپنی بہن) کا وارث (کُل ترکہ کا) ہوگا اگر (وہ بہن مر جائے اور) اس کی اولاد نہ ہو (اور باپ بھی نہ ہوں) اور اگر (ایسی) بہنیں دو (یا زیادہ) ہوں تو ان کو اس کے کل ترکہ میں سے دو تہائی ملیں گے (اور ایک تہائی عصبہ کو ورنہ بطور رد کے ان ہی کو مل جائے گا) اور اگر (ایسی میت کے جس کی نہ اولاد ہے نہ باپ خواہ وہ میت مذکر ہو یا مؤنث) وارث چند (یعنی ایک سے زیادہ ایسے ہی) بھائی بہن ہوں مرد اور عورت تو (ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ) ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر (یعنی بھائی کو دوہرا، بہن کو اکہرا، لیکن عینی بھائی سے علاتی بھائی بہن سب ساقط ہو جاتے ہیں اور عینی بہن سے کبھی وہ ساقط ہو جاتے ہیں کبھی حصہ گھٹ جاتا ہے جس کی تفصیل کتبِ فرائض میں ہے)۔ اللہ تعالیٰ تم سے (دین کی باتیں) اس لیے بیان کرتا ہے کہ تم (ناواقفی سے) گمراہی میں نہ پڑو (یہ تو تذکیر و احسان ہے) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے (پس احکام کی مصلحتوں کو بھی جانتا ہے اور احکام میں ان کی رعایت کی جاتی ہے یہ حکمت کا بیان ہے)
تو یہاں پر چونکہ پہلے گزشتہ جو بات ہوئی تھی وہ اخیافی بہن بھائیوں کی ہوئی تھی آیت نمبر 12 میں۔ یہاں پر حقیقی اور علاتی بہن بھائیوں کی بات چل رہی ہے۔ کیونکہ درمیان میں کلالہ کی بات آئی ہے۔ اور کلالہ وہ ہوتے ہیں جن کے نہ اصول ہوں نہ فروع ہوں۔ یعنی ان کے اجداد میں سے باپ دادا میں سے بھی کوئی نہ ہو۔ اور اولاد میں بھی کوئی نہ ہو۔
تو ایسی صورت میں وہ "کلالہ" کہلاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے جن کے نہ مطلب یہ ہے کہ اصول ہوں نہ فروع ہوں، تو پھر ان کے کون، اگر وہ حواشی ہوں، حواشی سے مراد وہ یہ ہے بہن بھائی۔ تو گزشتہ میں اخیافی بہن بھائیوں کی تو بات گزر چکی ہے، تو اب یہ جو ہے یہ حقیقی بہن بھائی اور علاتی بہن بھائی، ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایسی صورت میں پھر کیا ہوگا، پھر جو بہن بھائی ہوں گے، ان میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ہوگا۔ بس اس میں ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اگر حقیقی بہن بھائی موجود ہوں تو علاتی بہن بھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
لیکن اگر حقیقی بھائی بہن موجود ہوں تو ان میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ہوگا۔ اور اگر علاتی بہن بھائی موجود ہوں تو اس میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ہوگا۔ البتہ اگر حقیقی بہن صرف ایک ہو۔ تو اس صورت میں پھر اس میں سے آدھا اس کا دے کے پھر باقی ان کو علاتی بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔ لیکن بہرحال اس کی تفصیل فرائض کی کتب میں آ رہی ہے۔
اور اس میں یہ بات آتی ہے فرمایا کہ: اگر کسی کے اصول و فروع نہ ہوں۔ اور ایسا ہو کہ ان کی بہنیں ہوں، بھائی نہ ہو، تو پھر اس صورت میں پھر کیا ہوگا، اس صورت میں یہ ہوگا کہ اگر ایک بہن ہے تو اس کو آدھا ملے گا۔ اور اگر اس کی ایک سے زیادہ بہنیں ہیں، یعنی بھائی کوئی نہیں ہے، حقیقی بھائی کوئی نہیں ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک بہن حقیقی موجود ہے، تو اس صورت میں اس کو نصف ملے گا۔ اور اگر کوئی بھائی نہیں ہے اور حقیقی بہنیں دو ہیں، تو پھر ان کو دو ثلث ملے گا۔ یہی صورت پھر علاتی بہن بھائیوں کی بھی ہوگی اگر یہ دونوں نہیں ہوں گے۔ لیکن اگر ایک بہن حقیقی موجود ہوگی تو اس صورت میں پھر ان کو دیا جائے گا نصف اور پھر باقی دیا جائے گا علاتی بہن بھائیوں پر، اس طریقے سے تقسیم ہو جائے گا۔ بہرحال تفصیلات جو ہیں یہ فرائض کی کتب میں ہیں، اس میں اختلافات بھی ہیں، اس وجہ سے ہم لوگ فی الحال اس پر مزید بات نہیں کرتے، ترجمہ کی حد تک یہ بات کافی ہے، ان شاء اللہ۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین