پیغامِ محبت: عشقِ الٰہی، مقصودِ حیات اور دل کا سکون

کتاب: پیغام محبت، درس 2، حصہ اول ، اشاعت اول: 25 اگست 2013 بمطابق 17 شوال 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·    دنیا کے مصائب سے بچاؤ اور خانقاہ میں پناہ

·    مراقبہ کی حقیقت اور اللہ کی طرف یکسوئی

·    مقصودِ حیات: اللہ کی محبت اور رفیقِ اعلیٰ کی طلب

·    دنیا کی حقیقت اور طالبانِ دنیا کی مثال

·    دل کا میخانہ: غیر اللہ سے پاکی اور شرابِ عشقِ الٰہی کی تڑپ

·    انسانی سوچ اور قلب پر ماحول اور صحبت کے گہرے اثرات

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ،

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔


ہم نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے، پیغامِ محبت کی درس کا۔ منگل کے دن، منگل کے دن یہ ہمارا درس ہوتا ہے، ان شاءاللہ باقاعدگی کے ساتھ ہوا کرے گا۔

اب ایک دو رباعیاں میرے سامنے ہیں۔ پہلے وہ پڑھ لیتے ہیں پھر اس کے بعد انشاءاللہ باقی کلام ہوگا۔ یہ رباعی ہے خانقاہ میں پناہ۔


خانقاہ میں پناہ

پناہ خانقاہ میں جا کے لینا امان دنیا سے گر تو چاہے

اگر ہو روز روز نہ ایسا ممکن تو آنا جانا ہو گاہے گاہے



جو زخمی دنیا کے وار سے ہوں آرام آئے نہ نفس کے مارے

تو مل لے خانقاہ میں شیخ سے تو وہ رکھے زخموں پہ تیرےپھائے





پناہ خانقاہ میں جا کے لینا امان دنیا سے گر تو چاہے

دنیا کے جو مارے ہیں وہ بہت سخت ہوتی ہے۔ وہ انسان دل پہ محسوس کرتا ہے، تنگ ہوتا ہے دل، پریشان ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ خودکشیاں تک کر لیتے ہیں۔ تو یہ ظاہر ہے اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں انسان دنیا سے کٹ کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے۔ تو جہاں پر بھی موجود ہو تو وہاں پر پناہ لیا جا سکتا ہے۔


یہ مراقبہ کے بارے میں ہے:


مراقبہ


دل میرا اس طرف ہے اس کی مجھ پہ ہے نظر

وہی میرا ماحول دل پہ اس کا ہی اثر



یکسو ہوں اس طرف اور ماسوا سے منقطع

یہ ہی مراقبہ ہے تصور ہو یہ اگر

مطلب یہ ہے کہ مراقبہ کیا ہے؟ کہ میں اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور یہ بھی میرے ذہن میں ہو کہ اللہ میری طرف متوجہ ہے۔ تو اس سے میں اللہ کے ساتھ تعلق بنا سکوں گا اور اللہ جل شانہٗ کا تو قاعدہ ہی یہ ہے، فرماتے ہیں کہ" جو مومن مجھ سے جو گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ وہی معاملہ رکھتا ہوں"۔ تو اگر میرا تصور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ ہو کہ وہ میری طرف محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے، تو امید ہے ان شاء اللہ، اللہ پاک ہماری طرف محبت کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہوگا اور اس سے ہمارے دل میں بھی محبت پیدا ہوگی۔ تو مراقبہ اس لیے بہت مفید عمل ہے۔

اب ایک غزل ہے۔ یہ اس میں ہماری زندگی کا ایک منشور بیان کیا گیا ہے۔






اب تو شرابِ عشق ہی پیا کرے کوئی




اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی



مطلب یہ ہے کہ اگر میں اللہ کا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنوں گا؟ پھر میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آخر میں کس لیے یہاں پر آیا ہوں؟








اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی





مطلوب وصلِ یار ہے اس زندگی میں جب









یعنی اللہ تک پہنچنا مطلوب ہے








مطلوب وصلِ یار ہے اس زندگی میں جب

اس وصل سے پھر خود کو کیوں جدا کرے کوئی




اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی




اس امتحانِ زیست میں مقصود وہی ہے

ہر آن میں بس اس کو ہی دیکھا کرے کوئی



اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی

امتحانِ زیست سے مراد یہ ہے کہ زندگی کا جو امتحان ہے وہ یہی ہے کہ ہم لوگ اس کو اپنا مقصود بنا لیں۔ اور پھر جب وہ مقصود ہے تو پھر ہر وقت اسی کی طرف متوجہ ہوں۔






سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی




اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی

ظاہر ہے آپ حضرات بھی چاہتے ہوں گے بھئی ہر چیز کا کوئی ثبوت دے دیں۔ یہ جو آپ کہہ رہے ہیں اس کا ثبوت کیا ہے؟ کیوں اس طرح ہے؟ تو آپ مجھے بتائیں کہ دنیا میں، کائنات میں آپ ﷺ سے زیادہ کوئی ہو سکتا ہے؟ مرتبے کے لحاظ سے، عقل کے لحاظ سے، فکر کے لحاظ سے، کوئی آپ ﷺ سے بڑھ کر ہے؟ نہیں ہے۔ اور ہر انسان کا جو آخری وقت ہوتا ہے اس میں وہ جو اس کی سوچ ہوتی ہے وہ سب سے بہترین ہوتی ہےیا جو پہلے دور میں ہوتی ہے۔ ذرا تصور کریں۔ ہر انسان چاہے جیسا بھی ہے لیکن اس کا آخر میں کیا خیال ہوتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ آخر میں وہ مرکزی نقطے پہ آ جاتا ہے جو اس کا مطلب ہوتا ہے، ٹارگٹ ہوتا ہے، باقی ساری چیزیں فضول نظر آتی ہیں۔ فیصل آباد کے ایک پروفیسر صاحب تھے، وہ بتا رہے تھے کہ میرے والد صاحب جب فوت ہو رہے تھے، وہ بڑے learned scholar تھے۔ تو مجھے کہا کہ میری ڈگریاں لے آؤ۔ تو میں حیران کہ ابا جی کو ڈگریوں کی کیا فکر اس وقت کیسے پڑ گئی؟ خیر، کہتے ہیں میں لے آیا۔ اس نے وہ ڈگریاں unfold کر کے دیکھیں ساری، پھر fold کر کے مجھے دے دیں۔ بیٹا یہ لے جاؤ اب یہ میرے کسی کام کی نہیں۔


یہ وہ statement ہے جو وہ دینا چاہتا تھا، کہ ان چیزوں کے پیچھے اتنا زیادہ نہ مرو، آخر میں اس کو چھوڑنا پڑتا ہے، اور اس کی کوئی value نہیں ہوتی۔ یہ میسج وہ دینا چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے کہا کہ آخری وقت کا جو میسج ہوتا ہے، سب سے اہم ہوتا ہے اور پھر جو جتنا بڑا ہوگا اس کا میسج اتنا بڑا ہوگا۔ تو آپ ﷺ کے آخری وقت کا میسج کیا تھا؟ مشہور الفاظ ہیں، بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلٰى۔ اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے۔ اب تو رفیقِ اعلیٰ ہی درکار ہے۔ رفیقِ اعلیٰ کون ہے؟ اللہ جل شانہٗ۔ اب سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کہ دنیا میں سب سے بڑی بات کونسی ہے؟ اللہ جل شانہٗ کا طالب۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات ہے۔ تو اب دیکھیں۔




سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی

دیکھیں میرا سب کچھ بھی لٹ جائے، لیکن وہ مجھے مل جائے۔ ٹھیک ہے ،کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں loss میں نہیں ہوں۔ میں loss میں نہیں ہوں۔ دوسرے لوگ اگر اس چیز کو نہیں سمجھتے، وہ دنیا کے اوپر ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے کتے مردار کے اوپر پڑے ہوتے ہیں، بمبوڑ رہے ہوتے ہیں ان کو۔ تو کیا ہم کتوں کے ساتھ رشک کر سکتے ہیں کہ بھئی کتے ایسا کر رہے ہیں ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے؟ یہ آپ کہہ رہے ہیں اپنی طرف سے بات کر رہے ہیں؟ یہ بھی حدیث شریف کی بات بتا رہا ہوں۔ حدیث شریف میں ہے: الدُّنْيَا جِيفَةٌ "دنیا مردار ہے" وَطَالِبُهَا كِلَابٌ ، اور اس کو جو چاہنے والے ہیں وہ کون ہیں؟ کتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جیسے کتے مردار کے اوپر حملہ کرتے ہیں اور بمبوڑ رہے ہوتے ہیں، آپس میں اس پر لڑ رہے ہوتے ہیں، تو اسی طریقے سے یہ دنیا دار لوگ آپس میں لڑ رہے ہوتے ہیں، یہ میرا، وہ کہتا ہے یہ میرا۔ تو جو لوگ کر رہے ہیں، پاگل پن کر رہے ہیں تو ہم ان کے پیچھے جائیں؟ ہم ان کے طور پہ جائیں؟ ہم ان کی طرح کام کریں؟ ہمیں تو ظاہر ہے اپنے آپ کو بچانا چاہیے ان چیزوں سے۔ تو یہ ہے۔




سب کچھ بھی کھو کے ٹھیک ہے پاؤں اگر اسے

میری بلا سے غیر کو چاہا کرے کوئی




مقصودِ کائنات کا دنیا نہیں مقصود

دھکے کیوں اس کے واسطے کھایا کرے کوئی

مقصودِ کائنات کون سا ہے؟ انسان۔ انسان مقصودِ کائنات ہے۔ کیسے؟ جس وقت "اللہ اللہ" کرنے والا نہیں رہے گا، اس وقت کائنات کو توڑ دیا جائے گا۔ پتہ چل گیا کہ کون مقصودِ کائنات ہے؟ انسان ہے۔ جب تک انسان، انسان ہے اس وقت تک یہ سب کچھ باقی رہے گا۔ جب انسان، انسان نہیں رہے گی پھر یہ کائنات نہیں رہے گا، چھوڑ دیا جائے گا سب کچھ۔ تو یہ مقصودِ کائنات ہے۔

مقصودِ کائنات کا دنیا نہیں مقصود

یعنی دیکھیں جو مقصودِ کائنات ہے اس کا دنیا کیسے مقصود ہو سکتا ہے؟ دنیا کا مقصود وہ ہے۔










دھکے کیوں اس کے واسطے کھایا کرے کوئی










پھر اس کے لیے کیوں کوئی دھکے کھایا کرے؟ ظاہر ہے۔








یہ دل جو اس کے واسطے پیدا کیا گیا

جو غیر ہے اس میں اب نہ آیا کرے کوئی




اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

پھر کیسے زندگی کا حق ادا کرے کوئی

یہ دل اللہ کے لیے بنا ہوا ہے، اس میں صرف اللہ ہونا چاہیے، اس میں کوئی غیر نہیں آنا چاہیے، غیر کی جگہ نہیں ہے، اب غیر کو نہیں آنا چاہیے۔









جو دردِ دل نصیب تھا رومی کو عشق میں

پڑھ مثنوی کو کیوں نہ پھر جلا کرے کوئی









اس کا بنے اگر نہیں تو کیا کرے کوئی

مثنوی شریف کا درس ہمارے ہاں ہوتا ہے، اور یہ سب اس کی برکات ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو دردِ دل ان کو نصیب تھا، ظاہر ہے اس کو پڑھ کے انسان کا بھی دل متاثر ہوگا۔ اور اس کو پڑھ کے اگر متاثر نہیں ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟





شبیر ؔ اتر اب ذرا میخانۂ دل میں

اب تو شرابِ عشق ہی پیا کرے کوئی

مطلب جو دل کا مے خانہ ہے وہاں پر اب عشق میں برپا ہے سارا نظام، لہٰذا تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ اور اب تو شرابِ عشق ہی پینا چاہیے، پوری زندگی اللہ کی محبت میں گزارنی چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ ہے اس کا مطلب، ہماری زندگی کا منشور۔


اچھا اب شرابِ عشق میں اتر گیا نا ، تو اب اس کا اپنا اثر ہوگا۔ یہ مے خانہ میں اتر گیا تو اس کا اپنا اثر ہے۔







چھلک پڑنے کو تھا گویا وہ پیمانہ میرے دل کا

شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

وفورِ شوق سے بار بار اٹھ جانا میرے دل کا

جو شرابِ عشق ہے، اللہ کی محبت سے بھرپور، وہ میرا دل اس سے بھرا ہوا ہے۔ اور یہ بار بار میرا دل اوپر اٹھتا ہے کہ یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے۔ جیسے کسی چیز کی محبت میں کوئی مبتلا ہو نا، تو بار بار اس کا دل کرتا ہے کہ یہ کروں یہ کروں یہ کروں۔




میرے دل میں وہ آئے جب، تو تب سے مست دل میرا

چھلک پڑنے کو تھا گویا وہ پیمانہ میرے دل کا




شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا



میرا دل اس کا وہ میرا، میں کیسے چھوڑ دوں اس کو

وہ اس سے لے کے پانا اور پا جانا میرے دل کا



مطلب یہ ہے کہ اس سے لے کے میرا دل پا رہا ہے اور وہ میرے دل کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔








میں اس کے گھر میں جا بیٹھوں، وہ میرے دل میں آ جائے

ابھی کچھ اور، ابھی کچھ اور، فرمانا میرے دل کا




شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

ان کا گھر کون سا ہے؟ مسجد۔ میں مسجد میں بیٹھ جاؤں اور وہ میرے دل میں آ جائے۔ تو اب ظاہر ہے پھر کیا حالت ہوگی؟ پھر تو لے لو نا جتنا لے سکتے ہو۔ جب دیکھو وہ دل میں آ گئے اور تو اس کے گھر میں بیٹھ گیا تو اب تو جتنا لے سکتے ہو لے لو نا، پھر کیوں انتظار کرتے ہو؟ ہاں تو یہ،











ابھی کچھ اور، ابھی کچھ اور فرمانا میرے دل کا

دو نفل پڑھ لیے، دل دو اور پڑھ لو۔ دو اور پڑھ لیے، تو دو اور پڑھ لو۔ دل یہ چاہے۔ بیشک آپ کا ضروری کام ہو آپ نہ پڑھ سکیں، علیحدہ بات ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ دل چاہتا ہے، نماز میں آپ ہو اور دل چاہتا ہے کہ باہر پھروں، باہر جانے کو انسان بھاگے۔ چاہے کہ انسان مسجد میں ٹھہرنے کو وہ چاہے اور بیشک ضروری کام ہو اس کے لیے باہر چلا جائے۔ تو ایسا ہوگا جیسے وہ کہے گا باہر لیکن دل مسجد میں ہوگا۔ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ مومن کی مثال مسجد میں ایسی ہوتی ہے جیسے پانی میں مچھلی ہوتی ہے۔ پانی میں مچھلیnormal ہوتی ہے، صحیح، اور باہر آ جائے تو کیسی ہوتی ہے؟ تڑپ رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے بہترین وقت وہی ہوتا ہے جب دوبارہ پانی میں چلی جائے۔ تو اسی طریقے سے یہ جو مسلمان ہے، مسلمان کا بھی دل یہ چاہتا ہے کہ میں مسجد میں رہوں۔ اس لیے کہتے ہیں مومن کا دل ہر وقت مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔ تو یہ چونکہ گھر ہے اللہ پاک کا اور اللہ کے ساتھ ہمیں محبت ہے، دل میں آ جانے کا مطلب کیا ہے؟ اللہ پاک کے ساتھ ہمیں محبت ہے۔ تو اب طریقہ کیا ہونا چاہیے؟ اب دل کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ اب مزید اس سے اللہ پاک سے لوں، مزید اللہ پاک سے لوں، مزید اللہ پاک سے لوں،


لیکن کیسے کرنا پڑتا ہے؟










یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے










یہ ایسا نہیں کہ ویسے چلتے چلتے آپ کو یہ دولت مل جائے گی یہ ایسا نہیں ہے اس کے لیے کیا ہے؟










یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے

کہیں سے رستہ پائے رستہ جانانہ مرے دل کا




شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

مطلب یہ کہ اس کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، کوشش کرنی پڑتی ہے، محنت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن وہ محنت ہے کونسی چیز؟ وہ ہے محبت والی line کہیں سے اس کو مل جائے connection۔


کسی نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اصلاح کا آسان طریقہ بتائیں۔ فرمایا: آسان راستہ بتاؤں؟ تو لوگوں نے کہا حضرت ضرور بتائیے۔ فرمایا :"ایک محبت کی پڑیا کھا لو"۔ تو لوگوں نے کہا حضرت محبت کی پڑیا کہاں سے ملے گی؟ فرمایا:" محبت کی دکانوں سے"۔ جہاں محبت کی باتیں ہو رہی ہوں گی، جہاں محبت کے چرچے ہو رہے ہوں گے وہاں آپ پہنچ جائیں تو خود بخود محبت آہستہ آہستہ آنی شروع ہو جائے گی۔ ایک آدمی کرکٹ نہ بھی کھیلتا ہو نا، تو کرکٹروں کے درمیان اگر آ جائے تو کرکٹ کے بارے میں پھر سوچنا شروع کر لیتے ہیں، کہ وہ فلاں چھکا مار دیا، یہ کر دیا، وہ کر دیا۔ ہمارے وہاں جو گھر ہے اس کے سامنے ایک صاحب رہتے تھے، اس کے سسر، بہت بوڑھے آدمی تھے بیچارہ۔ وہ کبھی کبھی آتے تھے، یہ digest کے بڑے شوقین تھے، جاسوسی digest۔ یہ بہت زیادہ دیکھتے تھے جاسوسی ناول اور جاسوسی digest، اس کے بہت زیادہ شوقین تھے۔ تو ہر وقت اس کے ہاتھ میں کوئی ناول، کوئی digest ہوتا تھا۔ تو کبھی کبھی میں نماز کے لیے جاتا تھا باہر، تو راستے میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کوئی اس کے ہاتھ میں اس وقت چیز نہ ہوتی تب بھی اندر ہی اندر اس کا جو ہے نا وہ چل رہا ہوتا تھا نظام، ٹھیک ہے نا۔ تو اب دیکھ لیں کتاب کے ساتھ مشغول ہوتے ہوتے اس میں hit ہو گیا۔ اب ظاہر ہے اس کا سارا سوچ ہی ہے۔ حالانکہ اس عمر میں یہ کام نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اب دیکھیں اللہ پاک نہ کرے اللہ نہ کرے، اگر کوئی اس ماحول میں چلا جائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا، ایک جاسوسی ناولوں کی ایک shop تھی نوشہرہ میں۔ تو کتابیں اور بھی ملا کرتی تھی، تو میں کتاب لینے کے لیے گیا تھا۔ تو وہ چونکہ جاسوسی ناول لوگوں کو دیتا تھا، ایک آنہ لائبریری، مطلب ایک آنہ روز کے حساب سے، وہ ہوتا تھا۔ تو وہ بوڑھا آدمی تھا وہ بھی۔ سفید ریش۔ وہ ایک دن ایک ساتھی سے کہہ رہا ہے جو ان سے ناول لیا کرتے تھے، ان سے کہتے ہیں میں نے بھی ایک ناول لکھنا ہے۔ اور اس میں اس وقت وہ عمران سیریز پتہ نہیں کوئی تھا، عمران سیریز ہوتا تھا کچھ، فریدی سیریز ہوتا تھا۔ کہتا ہے یہ عمران بہت متکبر ہو گیا ہے، اب میں اس کو فریدی سے پھینٹی لگواؤں گا۔ اب میں نے کہا: دیکھو اس آدمی کی خواہش اب کیا ہو گئی ہے؟ یہ سوچوں میں گم ہے کہ میں کوئی ایسے قصہ لکھ دوں، ایسے کہانی لکھ دوں۔ تو مقصد یہ ہے کہ دیکھو، انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو جاتا ہے۔ اگر محبت والا ماحول ہے، اللہ کے ساتھ محبت والا ماحول ہے، تو ان کو اللہ تعالیٰ کی محبت ملے گی۔ اور اگر دنیا کی محبت والا ماحول ہے، تو دنیا کی محبت ملے گی۔ اور اگر کسی خاص چیز کے محبت والا ماحول ہے تو کسی خاص چیز کے محبت ملے گی۔ آپ بیٹھ جائیں نا کسیproperty dealer کے ساتھ دو تین دن آنا جانا شروع کر لیں۔ پھر دیکھیں آپ کے دل میں پلاٹ کی خواہش پیدا ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ جب آپ اپنے سامنے دو تین سودے دیکھیں گے، ہو رہے ہوں گے نا، تو آپ کا دل بھی مچل رہا ہوگا یار کوئی پلاٹ لینا چاہیے، مشورے اس کے بارے میں شروع کر لیں گے۔ تو یہ چیزیں ہیں، مطلب ظاہر ہے یہ فطری چیزیں ہیں، انسان جہاں جائے گا اس کا اثر وہ لیتا ہے۔ کہتے ہیں ہر انسان چوری کرتا ہے دوسرے سے۔ حتی کہ اپنے دشمن سے بھی، جن کو اچھا نہیں سمجھتا ان سے بھی چوری کرتا ہے، ان کی عادتیں اس میں آ جاتی ہیں۔ آہستہ آہستہ آ جاتی ہیں۔ کیا خیال ہے؟ ناراض نہ ہونا، لیکن یہ بوٹوں کے اندر جرابیں پہننے کا رواج کہاں سے آیا ہے؟ گرمی میں؟ سردی کی بات نہیں کر رہا۔ رواج کہاں سے آیا ہے؟ ہمارے علاقے میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ گرمی میں کوئی جرابیں پہنے گا ؟ یہ کوئی سوچ سکتا تھا؟ یہ کہاں سے آیا؟ انگریزوں کے ساتھ رہنے سے۔ ان کا ٹھنڈا علاقہ تھا ویسے، اور ان کی یہ چیزیں تھیں، ظاہر ہے وہ کرتے تھے اس طرح۔ بس ہوتے ہوتے ان کے ساتھ ہمارے بھی رواج ہو گئے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بہت ساری چیزیں ہم لوگوں سے لیتے ہیں۔ بیشک ہم ان کو اچھا نہ سمجھتے ہوں۔ لیکن وہ انسان وہ لے لیتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اگر ہم لوگ بھی اللہ والوں کے پاس جائیں گے، تو ان سے پھر اللہ کی محبت لے لیں گے، ان شاء اللہ۔ تو یہ ہے:


یہ دولت مفت نہیں ملتی، جگر خوں کرنا پڑتا ہے

کہیں سے رستہ پایا، کوئی جانانہ میرے دل کا










راستہ جانانہ جانانہ، راستہ کون سا ہے؟ محبت والا راستہ








ہیں عقلیں سن ذہن تھک رک گئے اس شور دنیا سے

سنے اب تو کوئی یہ نعرہ مستانہ مرے دل کا







شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا

وفورِ شوق سے بار بار اٹھ جانا میرے دل کا

کہتے ہیں کہ عقلیں سُن ہو گئی ہیں۔ کام چھوڑ دیا ہے۔ ذہن بھی تھک گئے ہیں، اور تھک کر رک گئے۔ دنیا کے شور کی وجہ سے۔ دنیا کا اتنا شور ہے کہ عقلوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ عقلوں نے کام کیسے چھوڑ دیا؟ آپ کہیں گے بھئی دنیا میں بڑے عقلمند رہتے ہیں، آپ کہتے ہیں عقلوں نے کام چھوڑ دیا ہے۔ نہیں بھئی! عقل کا کام کیا تھا؟ تمہیں صحیح اور غلط سمجھائے۔ کیا تھا؟ تمہیں صحیح اور غلط سمجھائے۔ اب آج کل عقل کیا سمجھا رہی ہے؟ آپ نہیں سمجھیں گے ابھی بھی۔ اب بتاتا ہوں۔ مجھے بتاؤ، آپ کے سامنے ایک چیز ہو، جو 10 دن چل سکتی ہو۔ اور دوسری چیز ہے اسی قیمت پر ملتی ہو، جو 10 سال چلتی ہو۔ آپ کون سی لیں گے؟ جو 10 سال چلنے والی چیز ہے وہ لیں گے نا؟ اچھا، ایک چیز ہے آپ کو ملتی ہے کسی خاص قیمت میں جو 10 دن دس دن چلتی ہے، اور ایک اس سے بھی اچھی اور بڑھیا چیز وہ آپ کو اتنے پیسوں میں 10 سال چلنے کے لیے ملے، اب بتاؤ آپ کون سا لیں گے؟ دوسری چیز لیں گے نا؟ اللہ پاک فرماتے ہیں: بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقٰى۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے۔ باقی رہنے والے کا مطلب کیا ہے؟ سو سال کے لیے؟ ہزار سال کے لیے؟ لاکھ سال کے لیے؟ نہیں، نہ ختم ہونے والی زندگی کے لیے۔ اب ایک چیز نہ ختم ہونے والی زندگی کے لیے کام آئے اور وہ بڑھیا بھی ہو، زیادہ بھی ہو، اچھا بھی ہو۔ اس کے مقابلے میں ایک چیز جو بہت عارضی ہے، وہ تھوڑی ہے۔ آپ اس کو لے رہے ہیں، تو اب دیکھو جان، مال، وقت ہمارے پاس تین چیزیں ہیں۔ جان، مال، وقت، ان تینوں سے ہم چیزوں کو خرید سکتے ہیں۔ جان، مال، وقت، ان تینوں سے ہم چیزوں کو خرید سکتے ہیں۔ اب ہم ان تین چیزوں سے دنیا کی چیز خریدیں جو چند سالوں میں ختم ہو کر بس ٹھیک ہے جی۔ اور ان تین چیزوں سے ہم آخرت کی چیز خریدیں جو ہمیشہ کے لیے اور بہت بڑھیا اور بہت اچھا ہو۔ تو اب بتاؤ عقل کا فتویٰ کیا ہوگا؟ عقل کو کیا کہنا چاہیے؟ وہ دوسری چیز، تو آج کل عقل یہ کہہ رہی ہے؟ آج کل عقل یہ نہیں کہتی۔ تو عقل زنگ آلود ہو گیا۔ کس چیز کی وجہ سے زنگ آلود ہو گیا؟ دنیا کے شور سے۔ propaganda, advertisement، آپ یہ جو مسابقت کی دوڑ ہے آپس میں، اسی کی وجہ سے ذہنوں نے کام چھوڑ دیا، عقلوں نے کام چھوڑ دیا۔ ذہن بھی تھک گئے، رک گئے بس ختم۔ اب اس وقت کسی مستانے نعرے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ جو ہمیں دوبارہ اس طرف لے آئے؟ کوئی مسئلہ ہونا چاہیے نا؟ ورنہ پھر تو لائن تو اس طرف لگی ہوئی ہے نا، وہ تو کر ہی رہا ہے۔


تو یہ ہے:



ہیں عقلیں سن ذہن تھک رک گئے اس شور دنیا سے

سنے اب تو کوئی یہ نعرہ مستانہ میرے دل کا





شرابِ عشق سے بھرپور میخانہ میرے دل کا




میں جاؤں اس کے پیچھے جس کے پیچھے جانے کو کہہ دے

ہو مستی سے شبیر عشقی سکوں پانا میرے دل کا

دیکھو، مجھے اپنے اللہ کو خوش کرنا ہے۔ اور میرا اللہ اس سے خوش ہو کہ اِس اس کے پیچھے جاؤ، یعنی آپ ﷺ کے پیچھے جاؤ۔ اس پہ خوش ہوں، قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ تو بس میرا مقصود تو حاصل ہو گیا نا۔ اب ایک طرف وہ مستی اور ان کے پیچھے میں نہ جاؤں۔ ایک طرف وہ سکون اور ان کے پیچھے میں چلنا شروع کر لوں، کونسا اچھا ہے؟ حکم کس چیز میں پورا ہو رہا ہے؟ ٹھیک ہے نا؟ بس یہی بات ہے۔ تو اب ذرا تھوڑا سا اس کو two-step theory بنا لیتے ہیں، two-step۔ First step؛ دنیا سے مستی کی طرف آ جاؤ، اس عشق کی طرف آ جاؤ۔ کیونکہ وہاں سے آسانی سے نہیں آ سکتے۔ تو اس مستی کے کے ذریعے سے،مستی ایک jump ہوتا ہے نا، بھئی آدمی کہتا ہے بھئی میں نے یہ کرنا ہے چاہے کر لو کچھ بھی کیا کرلوگے ہے۔ میں نے کرنا ہے یہ۔ تو یہ مستی ہوتی ہے نا؟ تو ظاہر ہے مستی تجھے دنیا سے نکال لے۔ جیسے inertia ہوتا ہے نا مطلب راکٹ اس کے لیے بہت زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے راکٹ کو دنیا، کے کششِ ثقل سے نکلنے کے لیے۔ تو اس کے لیے تو مستی کی ضرورت ہے۔ پھر جس وقت ایک دفعہ آپ اس سے نکل جائیں تو پھر direction، صحیح direction اور continuous speed۔ تو پھر وہی ہے سنت۔ سنت طریقہ۔ آپ ﷺ کا سنت طریقہ، اس پہ آرام سے smoothly جاتے رہو، کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ آپ کمال تک پہنچ جائیں گے۔ تو یہ بات ہے، two-step theoryہے۔ پہلے جذب ہے اور پھر ماشاءاللہ فہم ہے۔ پہلے جوش ہے پھر ہوش ہے۔ جوش کے ذریعے سے نکلو دنیا کے اس barrier کو، اس کو cross کرو۔ اور پھر اس کے بعد smoothly آپ ﷺ کے پیچھے چلتے رہو۔ بس ماشاءاللہ آرام سے پوری زندگی گزارو، اور سنت پر عمل کرتے جاؤ۔ لیکن محبت کو دل میں رکھو، محبت کو دل سے نکالنا نہیں ہے۔ وہ رکھے ہے۔




واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین









پیغامِ محبت: عشقِ الٰہی، مقصودِ حیات اور دل کا سکون - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم