سورۃ النساء: احکاماتِ میراث، وصیت اور کلالہ کے مسائل

درس نمبر 175، سورۃ النساء: آیت: 12- اشاعتِ اول: 22 مئی، 2022، بمطابق 20 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* آیاتِ میراث کی جامعیت اور بلاغت (Be brief and comprehensive)۔

* اولاد کی موجودگی اور عدم موجودگی میں میاں بیوی کے وراثت میں حصے۔

* وراثت کی تقسیم سے قبل قرض کی ادائیگی کی ترجیح اور وصیت کی اہمیت۔

* کلالہ کی قرآنی تعریف (جس کے نہ اصول [باپ، دادا] ہوں اور نہ فروع [اولاد])۔

* اخیافی (ماں شریک) بہن بھائیوں کے وراثت میں حصے اور شرائط۔

* وارثین کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کی گئی وصیت کی سخت ممانعت (غَيْرَ مُضَارٍّ) اور اس پر وعید۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِيْنَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗفَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِنْ كَانُوْا أَكْثَرَ مِن ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصٰى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ ۚ وَّصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ ﴿12﴾


صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ


اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں، اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے، بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو، اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ملے گا۔ اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔

اور اگر تمہاری اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد انہیں تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہونی ہے، ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں نہ اس کی اولاد، اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہر ایک چھٹے حصے کا حق دار ہے۔ اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے، (مگر) جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمے جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت یا قرض کے اقرار سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔

چونکہ یہ میں پھر عرض کر چکا تھا کہ یہ آیاتِ میراث ہیں، اور بہت ہی بلیغ انداز میں اور مختصر انداز میں، یعنی جیسے انگریزی میں کہتے ہیں Be brief and comprehensive، یعنی مختصر بات کریں لیکن اس میں ساری بات لے آئیں، تو اس کا بہترین مثال یہاں پر ہے۔ کہ مختصر ترین طریقے سے یہ سارا کچھ آیا ہے، چند آیتوں میں۔

تو یہاں پر جو فرماتے ہیں:

" اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں "

تو مطلب یہ ہے کہ بیوی فوت ہو گئی ہے، تو اب مردوں کے لیے کیا ہے؟

"اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے، بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو "

دو صورتیں ہو سکتی ہیں جو فوت ہو گئی ہے؛ اس کی اولاد ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔ لیکن اولاد سے مراد یہاں پر زندہ اولاد ہے، تو مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں اگر اس کی اولاد ہے،تو پھر الگ حکم ہو گا اور اگر اس کی اولاد نہیں ہے تو اس کا حکم الگ ہے۔

"اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو، اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ملے گا"

یعنی مطلب یہ ہے کہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں آدھا ہے، اور جو اولاد ہے، تو پھر اس کا چوتھائی ملے گا۔

" اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو "

تو یہاں پر یہ فرمایا کہ تم، یعنی مرد اگر فوت ہو جائے، تو ایک چوتھائی، اس صورت میں ہے کہ جس وقت تم کوئی اولاد چھوڑ کے نہ چلے جاؤ۔ اور اگر تمہاری اولاد موجود ہے تو پھر ان کو آٹھواں ملے گا۔ جیسے کہ آگے ہے:

"فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ"۔

یعنی اگر کوئی مرد فوت ہو جائے، تو اس کی بیوی یا بیویاں جتنی بھی ہیں، تو اگر اس مرد کی اولاد نہیں ہے، تو پھر ان کو چوتھائی ملے گا، اور اگر اولاد ہے تو پھر آٹھواں ملے گا۔

البتہ یہ جو ملے گا، کس طریقے سے ملے گا؟ "مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ"۔ یعنی تم نے جو وصیت کی ہے اس کو پورا کرنا، اور جو تمہارا قرض ہے، اس کی قرض کی ادائیگی کے بعد۔

اب یہاں پر وصیت کا جو حکم ہے وہ بھی آ گیا ہے، اور جو دَین یعنی قرض ہے اس کا بھی آ گیا۔ اب قرض کی جو ادائیگی ہے وہ پہلے ہے۔ اور وصیت کی ادائیگی بعد میں ہے، قرض اَولیٰ ہے۔ لیکن یہاں پر حکم میں وصیت پہلے آ رہا ہے، اور قرض بعد میں آ رہا ہے۔ تو یہ کیوں ہے؟ اس پر علماء نے بات کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض جو ہوتا ہے وہ قرض دار، اس کے مانگنے والے ہوتے ہیں وہ چھوڑتے تو نہیں ہیں۔ وہ تو موجود ہوتے ہیں، وہ تو چاہے آپ کچھ بھی کریں، وہ کہتے ہیں جی ہمارا اتنا قرض تھا، وہ اپنے ساتھ ثبوت لے کے آتے ہیں۔ لیکن وصیت، تو ان کو جو ملنے والی ہے، وہ ان بیچاروں کو یہ ناممکن ہے پتا بھی نہ ہو کہ ان کے لیے وصیت ہو چکی ہے۔ ان کے لیے وصیت ہو چکی ہے۔ اور وصیت کے بارے میں تو کسی کو علم بھی بعض دفعہ نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہے تو وہ زبردستی نہیں کر سکتے۔ تو ایسی صورت میں ان کا حق پہلے بتا کر کہا گیا کہ یہ کہیں بھول نہ جاؤ۔ یعنی اس کے اوپر زور اس لیے دیا گیا کہ اس کے رہ جانے کا اندیشہ تھا۔ یہ نہیں کہ اس کا حق زیادہ ہے، حق تو قرض والوں کا زیادہ ہے، لیکن ان کا اندیشہ زیادہ ہے۔ تو یہاں پر یہ بڑی بلاغت ہے کہ مطلب یہ یعنی ایسے انداز میں بتایا گیا تاکہ اس حکم میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

"اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہونی ہے، ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں نہ اس کی اولاد"

یہ یہاں پر ابھی ذرا تھوڑی سی بات کرنی ہے کیونکہ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس میں ایک حکم ڈسکس ہو رہا ہے۔

اور اگر کوئی میت جس کی میراث دوسروں کو ملے گی، خواہ مرد ہو یا عورت، ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں، یعنی باپ دادا، اور نہ فروع ہوں، یعنی اولاد اور بیٹے کی اولاد، یہ "کلالہ" کا جو لفظ آیا ہے نا اس کا ترجمہ بتا رہے ہیں۔ کلالہ، لفظ۔ یہ بہت ہی زیادہ بحث جس پہ کیا گیا ہے وہ اس پہ کی گئی ہے وہ اس پر کی گئی ہے یعنی میراث کے باب میں۔ صحابہ کرام اس پہ بڑے وہ تھے، اور اس پہ بڑے مشورے ہوئے، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں تک فرمایا کہ: کاش مجھے اس کا معنی حضور ﷺ کی طرف سے معلوم ہو جاتا تو مجھے سلطنت اتنی عزیز نہیں تھی جتنا کہ اس کا معلوم ہونامجھے عزیز تھا۔ تو اس پر صحابہ کرام میں اختلاف ہے، گروہ بن گئے کیونکہ ظاہر ہے بعد میں تشریح کی ضرورت پڑ گئی، کلالہ کے لفظ کی۔

تو اس میں یہاں پر جو لکھا ہے نا، "ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں نہ اولاد"۔ تو یہاں جو "والدین" کا لفظ ہے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ جو ابھی میں نے اس کتاب سے بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہے: "جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع ہوں"۔ کلالہ کا مطلب وہ ہے، جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع ہوں۔ اصول سے مراد کیا ہے؟ Top، اوپر کی طرف جاؤ، مطلب باپ، دادا، پردادا یہ اصول ہیں۔ اور فروع، اولاد، بیٹا، پوتا، پڑپوتا، سکڑ پوتا یہ فروع ہیں۔ تو اب یہ کہ نہ اصول ہوں نہ فروع ہوں، یہ اس کا صحیح مطلب ہے، کیوں؟ والدین کا مطلب یہ ہے کہ جو حکم ہے، یعنی جس پر ہم عمل کر رہے ہیں میراث میں، اس میں ماں نہیں آتی، اس میں والد آتا ہے۔ تو والدین میں تو دونوں آ گئے۔ والدین میں تو دونوں آ گئے۔ تو ماں کے لیے کلالہ کی تعریف میں یہ نہیں آتا کہ ماں بھی ہے۔ کیونکہ ایک روایت ہے، لیکن وہ مرجوح ہے۔ راجح نہیں ہے۔ تو راجح قول جو ہمارے ہاں ہے وہ کیا ہے؟ وہ والد کا ہے، اصول۔ اصول اور فروع، مطلب یہ والی بات آ گئی ہے۔

تو یہاں پر یعنی باپ، دادا اور نہ فروع ہوں، یعنی اولاد اور بیٹے کی اولاد۔ "اور اس میت کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو، تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا" یہاں پر یہ آ گیا:

"وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ"

" یعنی بھائی اور بہن، "فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ"۔

یہ اصل میں یہاں پر بھی اب discussion ہے۔

وہ discussion یہ ہے کہ یہاں مراد کون سے بہن بھائی ہیں؟ کیونکہ تین قسم کے بہن بھائی ہیں؛

1۔ حقیقی بہن بھائی

2۔علاتی بہن بھائی

3۔ اخیافی بہن بھائی

حقیقی بہن بھائی؛ جن کے ماں باپ شریک ہوں۔ علاتی بہن بھائی؛ جن کا صرف باپ شریک ہو۔ اور اخیافی بہن بھائی؛ جس کی صرف ماں شریک ہو۔ تو یہاں ماں شریک بہن بھائی مراد ہیں۔ کیوں ہیں؟ یہ پھر discussion ہے پوری تفسیر میں اس کا اصول بتایا گیا ہے کہ کیوں اس کو مطلب ہم اخیافی بہن بھائی کہتے ہیں۔ اس کے بعد جو اخیر میں جو سورۃ النساء کی جو آیت آتی ہے دوبارہ میراث کے بارے میں، وہ جو ہے نا وہ کیا ہے، اس میں جو تعلق ہے وہ حقیقی بہن بھائی ہیں اور علاتی بہن بھائی ہیں، وہاں پر یہ ہے۔ لیکن یہاں پر کیا مراد ہے؟ یہاں پر اخیافی بہن بھائی مراد ہیں۔ تو یہاں پر اسی لیے ساتھ ہی یہ بتا دیا گیا کہاکہ؛اور اس میت کے ایک بھائی یا ایک بہن اخیافی ہو۔ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ کیونکہ ہمارے نزدیک یہ جو اخیافی بہن بھائی ہیں وہ ذوی الفروض ہیں۔ اور ذوی الفروض وہ ہوتے ہیں جن کا حصہ مقرر ہوتا ہے۔ حصہ مقرر مطلب کیا ہوتا ہے، حصہ؟ یعنی آدھایا تہائی یا چھٹا، یا جو بھی ہے یہ حصے ہیں۔ کیونکہ عصبات جو ہوتے ہیں وہ پورے کا پورا لیتے ہیں پھر بعد میں۔ تو یہاں پورے کے پورے والی بات نہیں، یہاں چھٹا بتایا گیا ہے۔ تو اس کو اخیافی ہم کیوں کہتے ہیں؟ اس کی الگ discussion ہے، اس وقت ظاہر ہے بڑی لمبی ہو جائے گی، ٹائم بہت زیادہ لگ جائے گا۔ وہ پھر کسی اور وقت ان شاءاللہ بات اس پر ہو گی۔ لیکن بہرحال اتنی بات ہے کہ یہاں پر تحقیق سے جو پتا چلا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مراد اخیافی بہن بھائی ہیں۔

"اور اگر یہ لوگ ایک یا ایک سے زیادہ ہوں، مثلاً دو ہوں یا اس سے زیادہ، تو وہ سب تہائی میں برابر شریک ہوں گے"۔

پھر ثلث میں سب شریک ہوں گے۔ جیسے پہلے کہا گیا تھا نا بیٹیوں کا، کہ بیٹی اگر ایک ہو تو آدھا ملے گا، اور اگر ایک سے زیادہ ہو تو پھر دو تہائی میں شریک ہوں گے۔ تو یہاں پر یہ فرمایا گیا کہ اگر ایک ہے تو چھٹا ہے، اور اگر ایک سے زیادہ ہے تو پھر؟ وہ پھر ثلث میں سب شریک ہوں گے۔ سبحان اللہ۔

(مگر) جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمے جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت یا قرض کے اقرار سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔

نقصان نہ پہنچایا ہو، یہ الگ بات ہو گئی۔ "غَيْرَ مُضَارٍّ" یہاں پر بھی discussion ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وصیت کوئی اس طرح بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی وارث سے ناراض ہو۔ یا اس کو نہ دینا چاہتا ہو۔ تو وہ کوئی ایسی وصیت کر لے کہ وہ محروم ہو جائے، یا اس کا حصہ کم ہو جائے۔ یہ اب اس نے جو نیت کر لی نا، یہ فساد والی نیت ہے۔

"غَيْرَ مُضَارٍّ" مطلب یہ ہے کہ قرآن نے اس کو روک دیا، کہ نہیں، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے، اگر کوئی شخص وصیت ایسا کر لے، یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں 60 سال وہ عبادت کرے، اور اخیر میں ایسی وصیت کر جائے جس سے کسی وارث کو نقصان پہنچائے، وہ ساری عبادت ضائع ہو جائے گی۔ اس وجہ سے یہ معاملہ اللہ پہ چھوڑنا چاہیے۔ اس کی وجہ میں آپ کو بتاؤں۔ وجہ یہ ہے کہ پہلے وصیت کا حکم تھا قرآن پاک میں، پہلے وصیت کا حکم تھا۔ بعد میں وصیت کا حکم منسوخ ہو گیا۔ اور اب میراث کے احکامات آ گئے۔ اب میراث کے احکامات آ گئے، تو اللہ پاک نے جو چیز منسوخ کر دی، اس لیے منسوخ کر دی کہ تم لوگ یہ معلوم نہیں کر سکتے ہو کہ کون سا تمہارے لیے قریب ہے، کون سا تمہارے نزدیک ہے۔۔ یہ بالکل پہلی آیت میں آیا ہوا ہے: "أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا"۔ تو یہ چونکہ پہلے آ گیا ہے، تو اب اگر تم وصیت کے اندر اپنی نیت شریک کرو گے کہ میں کسی کو کم دوں، کسی کو زیادہ دوں، تو آپ نےاللہ تعالیٰ کی اس حکمت کے خلاف کام کیا۔ یعنی اللہ جل شانہ نے تو اس کو منسوخ کر دیا، اور تم درمیان میں اپنی پھر جو ہے نا نیت لڑا رہے ہو۔ تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو اس پر سزا ہے، اور وہ سزا یہ ہے کہ 60 سال کی عبادت جو ہے نا کسی کی وہ ضائع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بچائے۔ بہت خطرناک ہے۔

حاجی فاروق سکھروی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، (اللہ پاک حضرت کے درجات بلند فرمائے) ایک دن مجھ سے پوچھا کہ شبیر، آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے۔ میں نے کہا جی حضرت فرمائیں۔ مجھے ایک خاتون ہے، بیوہ ہے۔ وہ ایک خطیر رقم خانقاہ کے لیے دینا چاہتی ہے۔ کیا قبول کر لوں؟ میں نے کہا: حضرت تحقیق کر لیجیے، کہیں کسی وارث کو، نقصان پہنچانے کی وجہ سے تو نہیں کر رہی ؟مطلب ممکن ہے کسی سے ناراض ہو؟ کیونکہ حکم ہے، قرآن کا، اور حدیث شریف میں بھی اس طرح آیا، حدیث بھی یہ ہے۔ تو ایسا نہ ہو کہ ایسا کر رہی ہو۔ اتنے خوش ہوئے نا، کہ:" جزاک اللہ آپ نے مجھے بچا لیا"۔ بہت خوش ہو گئے، انہوں نے کہا کہ اب میں اس سے پوچھوں گا کہ کس نیت سے کر رہی ہو؟ کہ کسی کو نقصان تو نہیں۔۔۔ کیونکہ اب دیکھیں نا یہ وصیت تہائی تک اندر کر سکتی ہے، لیکن اس میں نیت کیا ہے؟ کہیں کسی کو، وارث کو نقصان پہنچانے کی نیت تو نہیں ہے؟

تو یہ بات ذرا مطلب، اس میں اور بھی بہت تفصیلات ہیں لیکن ظاہر ہے اتنا وقت نہیں ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو قرآن فہمی نصیب فرما دے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔


واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین



سورۃ النساء: احکاماتِ میراث، وصیت اور کلالہ کے مسائل - درسِ قرآن - دوسرا دور