یکم محرم الحرام اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت و شہادت

اشاعت اول: اتوار، 31 جولائی 2022 بمطابق یکم محرم الحرام 1444

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       یکم محرم الحرام اور ہجری سال نو کی اہمیت۔

·       حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فضائل، قبولِ اسلام کا واقعہ اور ان کی شجاعت و فراست۔

·       اسلامی (ہجری) کیلنڈر کا آغاز اور اس کی ثقافتی و مذہبی اہمیت۔

·       حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دردناک واقعہ اور ان کی دعاؤں کی قبولیت۔

·       اللہ کی عطا کردہ انسانی صلاحیتوں کی پہچان اور ان کو نکھارنے میں مشائخ و بزرگانِ دین کا کردار۔

·       صحابہ کرام، اہل بیت اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت اور اہل السنۃ والجماعۃ کا متوازن عقیدہ۔

·       مسلم امہ کو فرقہ واریت سے بچنے اور اکابرین کا احترام کرنے کی تلقین۔

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

معزز خواتین و حضرات یکم محرم جو ہے، یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ کا یومِ شہادت ہے۔ تو اس وجہ سے ظاہر ہے ایسے بڑے لوگوں کی جب یاد آتی ہے تو ان کے لیے واقعی دل کھل جاتا ہے۔ اور ان کے جو مقامات ہیں ان کے بیان کرنے سے باقی لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔


تو یہ ہمارا جو محرم کا مہینہ ہے بہت اہم مہینہ ہے۔ یعنی اس کی ابتدا گویا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے فضائل سے ہو جاتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد اہل بیت رضوان اللہ اجمعین کی یعنی دس محرم چونکہ یومِ عاشورہ ہے تو اس کے بارے میں بھی بات ہو گی۔ تو اس وجہ سے ما شاء اللہ یکم محرم کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کچھ بات عرض کرنے کو جی چاہتا تھا۔


اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم لوگ اپنے بزرگوں کے بارے میں نہیں جانیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگ ان کے فیوض و برکات سے محروم ہو جائیں گے۔ اور یہ آج کل ایک نفسیاتی مسئلہ ہے کہ جو ہمارے کرتا دھرتا لوگ ہیں سارے مقتدر لوگ ہیں، تو وہ اپنے جرنیلوں کو بھول چکے ہیں، اور دوسرے لوگوں کے جرنیلوں کی تعریفیں کرتے ہیں اور ان کو اپنا ماڈل بنایا ہوا ہے۔ تو پھر اس کا نقصان جو ہوتا ہے وہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نقصان تو ہو رہا ہے۔


تو ہم لوگوں کو کم از کم اپنے بڑوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے بڑے کیا تھے۔ یہ نہیں کہ پدرم سلطان بود کا نعرہ ہم لگائیں کہ بس ہمارے باپ دادا تو ایسے تھے تو بس ان کی وجہ سے ہم ایسے ہو جائیں، نہیں وہ اس لیے ہم تذکرہ کر لیں کہ ان کی طرح بننے کی کوشش کر لیں۔ ان کے اتباع کی کوشش کر لیں۔ پیچھے چلنے کی کوشش کر لیں، ان کے مقامات کو جان کر ان کو حاصل کرنے کی کوشش کر لیں۔

یعنی اب دیکھیں نا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یعنی اتنے اونچے ما شاء اللہ جرنیل تھے۔ انہوں نے ما شاء اللہ دین کی بڑی خدمت کی۔ تو بعد میں سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ آئے، وہ تو اس وقت نہیں تھے۔ لیکن ما شاء اللہ انہوں نے ان کے طریقے پر چل کر کیا مقام پایا؟ تو اس طرح مطلب ہے کہ بعد میں بھی مشاہیر جو آئے ہیں، اور انہوں نے ان کے طریقے پر چل کر بہت کچھ پایا ہے ۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو ہزاروں جرنیل ہیں، مطلب جو تاریخ نے پیدا کیے ہیں، تو ان میں اگر دیکھا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے بالکل طفلِ مکتب کی طرح لگتے ہیں۔ اور جو دنیا کے اہلِ انصاف ہیں، جو justice کی باتیں کرتے ہیں اور یعنی جس کو ہم کہتے ہیں social welfare کی جو باتیں کرتے ہیں، ان باتوں کو شروع کرنے والے کون تھے؟ ان باتوں کو شروع کرنے والے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ انہوں نے ان چیزوں کو شروع کرایا تھا۔ اس وجہ سے آج بھی بعض ملکوں میں Umar Laws چلتے ہیں، Umar Laws سے مراد یہ ہوتا ہے کہ وہ جو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے social welfare کے جو کام شروع کیے تھے ان کو انہوں نے Umar Laws کہا، اور انہوں نے اپنے ملکوں میں ان کو رواج دے دیا۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان کو جاننا چاہیے۔ تو ہمارے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، چونکہ خودبہت بڑے عالم تھے اور ختمِ نبوت کے بہت بڑے داعی تھے۔ تو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرادِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مانگا ہے۔ یعنی دیگر صحابہ رضوان اللہ اجمعین جو ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرید ہیں، اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں نا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہیں۔

ایک عالم نے کیا خوب کہا ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عطائے خداوندی تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے علمائے کرام، حکماءِ اسلام اور مستشرقین نے اپنے اپنے الفاظ میں ان کے ساتھ عقیدت کا اظہار کیا ہے۔


تو ہم لوگ اگرچہ دوسروں کی تعریف کے محتاج نہیں ہیں، لیکن دوسروں کی تعریف جو ہوتی ہے وہ کم از کم یہ بات تو ہوتی ہے نا کہ جو صحیح چیز ہوتی ہے وہ چھپتی نہیں ہے۔ وہ ظاہر ہو کے رہ جاتی ہے۔ چاہے دوسرے لوگ ان کا جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جب قیصر نے ان کو بلایا تھا، تو انہوں نے ان سے پوچھا کہ عمر کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ کہ وہ کیسے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا :لَا يَخْدَعُ وَلَا يُخْدَعُ۔ نہ دھوکہ دیتے ہیں نہ دھوکہ کھاتے ہیں۔ تو قیصر نے کہا لَا يَخْدَعُ کا مطلب یہ ہے کہ دھوکہ دیتے نہیں تو ایماندار ہیں۔ اور لَا يُخْدَعُ کا مطلب ہے کہ دھوکہ کھاتے نہیں تو اس کا مطلب عقلمند ہیں۔ تو واقعتاً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عقل اور پھر حضرت کی جو ایمانداری ہے، وہ بڑی عجیب ۔


وہ ایک دفعہ ایسا ہوا ہے کہ کھانا کھلایا جا رہا تھا، تو ایک صحابی جو تھے وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہے تھے۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چکر لگا رہے تھے، تو مطلب ظاہر ہے وہ مسلسل تادیب بھی کرتے رہتے تھے کہ صحیح کام کرو، یہ کرو وہ کرو، یعنی سب وہ صحیح طریقے پہ لاتے تھے۔ تو انہوں نے ان سے کہا کہ آپ دائیں ہاتھ سے کھایا کریں۔ تو تھوڑی دیر کے بعد ان کو پھر نظر آیا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہے ہیں۔ تو پھر انہوں نے نرمی سے کہا کہ آپ دائیں ہاتھ سے کھائیں۔ دو تین دفعہ جب ایسا ہوا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو بار بار تنبیہ کر رہا ہوں، آپ دائیں ہاتھ سے نہیں کھا رہے، اس کے بعد بھی اگر آپ نے بائیں ہاتھ سے کھایا تو پھر میں سزا دوں گا۔ تو انہوں نے کہا حضرت میرا دایاں ہاتھ جہاد میں شہید ہوا ہے۔ تو اس کا سننا تھا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونا شروع ہو گئے، اور معافی مانگنی شروع ہو گئے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ آپ کے دل کو میں نے کتنی تکلیف پہنچائی ہے، آپ ناڑے کیسے باندھتے ہوں گے؟ آپ یہ کام کیسے کرتے ہوں گے؟ آپ یہ کیسے تو ان کے لیے ما شاء اللہ بہت زیادہ یعنی جو اس کو کہتے ہیں نا آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش فرمائی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انہوں نے نہ اگر ایک طرف سے ضابطے کا معاملہ کرتے تو دوسری طرف اتنے رقیق القلب بھی تھے۔ کہ پھر وہ جب جانتے ہوتے تھے تو پھر وہ رونا شروع کر لیتے۔

تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو شمار تھا، یہ مکہ مکرمہ کے چند پڑھے لکھے لوگوں میں ہوا کرتا تھا۔

چونکہ اس وقت اتنا پڑھنا لکھنا نہیں تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پڑھے ہوئے تھے۔

لیکن وہ بھی چونکہ اس عرب معاشرے کا حصہ تھے جہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو قبل از نبوت صادق و امین کہا جاتا تھا اور بعد از اعلانِ نبوت نعوذ باللہ من ذالک ساحر، شاعر، کاہن اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا۔

تو جو اہل مکہ کے جور و ستم ہیں، وہ بہت زیادہ ہو گئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سرِ عام یعنی تبلیغ تو درکنار عبادت بھی نہیں کر سکتے تھے۔ چھپ کر دینِ اسلام کی تبلیغ و دعوت کی جاتی تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تعداد اس وقت تک انتالیس تھی۔

تو ایک رات بیت اللہ کے سامنے عبادت کرتے ہوئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے عجیب دعا مانگی۔ اور وہ کیا؟ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ دعا میں یہ بھی مانگا جاتا ہے۔ اسلام کی بڑھوتری کی دعا کی جاتی ہے، اہل مکہ کے ایمان لانے کی دعا کی جاتی ہے، دنیا عالم میں اسلام کی اشاعت کی دعا کی جاتی ہے، یا اہل مکہ کے ظلم و ستم کی بندش کے لیے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، لیکن میرے عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ، عمر بن خطاب اور عمرو بن ہشام میں سے کسی کو اسلام کی عزت کا ذریعہ بنا دے۔

پہلے نام عمر بن خطاب کا لیا تھا۔ عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام میں سے کسی کو اسلام کی عزت کا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں جن دو لوگوں کو نامزد کیا، اور فیصلہ خدائے علام الغیوب پر چھوڑ دیا کہ اللہ ان دونوں میں سے جو تجھے پسند ہو دے دے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا، اور اسباب کی دنیا میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کا سبب یہ بنا کہ ایک روز تیغِ برہنہ لیے جا رہے تھے، راستے میں بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا جس نے پوچھا: عمر خیریت، کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے محمدکو ـنعوذ باللہ من ذالک ـشہید کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے نئے دین کا اعلان کر کے مکہ والوں میں تفریق کر دی ہے، کیوں نہ اس کا قصہ ہی ختم کر دوں؟

بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا: عمر، اگر تم نے ایسا کیا تو کیا بنو ہاشم اور بنو زہرہ تم سے انتقام نہیں لیں گے؟ کہنے لگے:لگتا ہے کہ تم بھی اس نئے دین میں شامل ہو چکے ہو۔ انہوں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو، تمہاری بہن اور بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔

یعنی مطلب ہے کہ انہوں نے ان کو بھی گویا کہ مارنا چاہا لیکن انہوں نے فوراً کہا کہ تم اپنی بہن اور بہنوئی کو دیکھو۔


تو جلال میں نکلنے والا عمر سیدھا بہن کے گھر پہنچ گیا۔ یہاں سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے بہنوئی اور بہن کو سورہ "طہ" پڑھا رہے تھے۔ باہر سے آواز آئی اور دروازے پر دستک دی۔ اندر سے پوچھا گیا: کون؟ تو جواب: عمر۔ نام سنتے ہی خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو چھپ گئے۔ عمر نے آتے ہی پوچھا: تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے بات ٹالتے ہوئے کہا کہ ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ کہنے لگے میں نے سنا ہے تم نئے دین میں شامل ہو گئے ہو۔ بہنوئی نے کہا: عمر، وہ دین تیرے دین سے بہتر ہے، تو جس دین پر ہے گمراہی کا راستہ ہے۔ بس سننا تھا کہ بہنوئی کو دے مارا زمین پر۔ بہن چھڑانے آئی تو اتنی زور سے اس کے چہرے پر طمانچہ رسید کیا کہ اس کے چہرے سے خون نکل آیا۔ بہن کے چہرے پہ خون دیکھ کر غصہ ٹھنڈا ہوا اور بہنوئی کو چھوڑ کر الگ ہو کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے کہ: اچھا، لاؤ دکھاؤ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے۔

یہاں پر ایک اور بات بھی تھی کہ بہن نے کہا کہ:" عمر! جتنا مار سکتے ہو مارو، تم ہماری جان تو لے سکتے ہو لیکن ہمارے دل سے ایمان کو نہیں نکال سکتے"۔ یعنی اتنے جو پُرعزم کلمات سنے تو اس سے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو سارا جلال تھا، وہ بیٹھ گیا۔ اور گویا کہ سوچنے میں لگ گیا کہ یہ کیا بات ہے، یعنی بہن نے کیا بات کی ہے۔ تو اس پر جو ہے نا اس نے کہا کہ اچھا لاؤ دکھاؤ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے۔


بہن نے کہا تم ابھی اس کلام کے آداب سے ناواقف ہو، اس کلامِ مقدس کے آداب ہیں، پہلے تم وضو کرو پھر دکھاؤں گی۔ انہوں نے وضو کیا، اور سورہ طہ پڑھنی شروع کی، یہ پڑھتے جا رہے تھے اور کلامِ الہی کی تاثیر قلب کو متاثر کیے جا رہی تھی۔ خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ منظر دیکھ کر باہر نکل آئے اور کہنے لگے: عمر! کل رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی تھی: اللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحد الرَّجُلَيْنِ اِمَّا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ و اِمَّا بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، اور ایک دوسری روایت میں الفاظ کچھ اس طرح ہیں: اللّٰهُمَّ أَید الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، وَبِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔ "اے اللہ عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب ،ان میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کی تائید فرما"۔ اے عمر! میرے دل نے گواہی دی تھی کہ یہ دعا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب کے حق میں پوری کی ہو گی۔

اس طرح کی ایک اور روایت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ :جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب یا ابو جہل کو دیکھتے، تو رب العزت کے حضور دستِ دراز کرتے اور فرماتے: "اے اللہ ان دونوں میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، ان سے اپنے دین کو قوت عطا فرما"۔


تو سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھنے لگے: اچھا تم مجھے بتاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ صفا پہاڑی پر واقع ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام پذیر ہیں۔


سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چل پڑے اور بڑے درے پر مقیم صحابہ نے جب دیکھا کہ عمر آ رہا ہے اور ہاتھ میں ننگی تلوار ہے، تو گھبرائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ وہیں اسد اللہ واسد رسولہ سیدنا حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ وہ فرمانے لگے: آنے دو! اگر ارادہ نیک ہے تو خیر، اور اگر ارادہ صحیح نہیں تو اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کروں گا۔


عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعی جرار تھے لیکن وہ بھی حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ تو دونوں برابر کے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر نیک ارادے سے آیا تو ٹھیک ہے ورنہ انہی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا۔

جب سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں پہنچے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی جاری تھا۔ اور چند لمحوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اے عمر! تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اسلام قبول کرو؟

بس یہ سننا تھا کہ فورا کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کی خوشی میں اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ صحن کعبہ میں بیٹھے ہوئے کفار اور مشرکین نے بھی سنا اس نعرے کی آواز سے وادی مکہ گونج اٹھی۔ پھر نبی الرؤوف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینہ مبارک پر دستِ اقدس رکھا اور دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ أَخْرِجْ مَا فِي صَدْرِهِ مِنْ غِلِّ وَأَبْدِلْهُ إِيمَانًا۔ "یا اللہ اس کے سینے میں جو کچھ میل کچیل ہے دور کر دے، اس کے بدلے ایمان سے اس کا سینہ بھر دے۔"


قبولِ اسلام کے وقت بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کی عمر تیس سال تھی اور بعض کہتے ہیں کہ عمر چھبیس سال تھی۔ مصر کے ایک بہت بڑے عالم، مفسرِ قرآن، جناب علامہ طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ، یہ بہت شاندار جملہ کہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ عمر اسی گھڑی پیدا ہوئے، اور یہیں سے ان کی تاریخی زندگی کا آغاز ہوا۔

مفسرِ قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: اِسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ يَا مُحَمَّدُ بِإِسْلَامِ عُمَرَ۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے، جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ آسمان والے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام پر خوشیاں منا رہے ہیں۔


چند لمحوں بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔ تو فرمایا: پھر چھپ کر عبادت کیوں کریں؟ چلیے خانہ کعبہ میں چل کر عبادت کرتے ہیں۔

میں قربان جاؤں اپنے آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم پر! انہوں نے ایسے ہی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تو نہیں مانگا تھا، بلکہ دوررس نگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی کہ اسلام کو عزت و شوکت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے سے ہی نصیب ہو گی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو دو صفوں میں تقسیم کیا۔ ایک صف کے آگے اسد اللہ واسد رسولہ سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلتے، اور دوسری صف کے آگے مرادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے یعنی عطائے خدا وندی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ۔ مسلمان جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کفارِ مکہ نے دیکھا۔ نظر پڑی کہ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو بڑے غمگین ہوئے۔ لیکن کس میں جرات تھی کہ کوئی بولتا؟ اس دن سے مسلمانوں کے لیے تبلیغِ دین میں آسانی پیدا ہوئی اور یہی وہ دن تھا جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ، وَهُوَ الْفَارُوقُ فَرَّقَ اللّٰهُ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ۔

"اللہ تعالیٰ نے سچ کو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قلب و لسان پر جاری کر دیا، اور وہ فاروق ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے حق و باطل میں فرق کر دیا"

جناب سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، اللہ کی قسم ہم کعبہ کے پاس کھلے بندوں نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے۔ اس طرح صہیب بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تو اسلام کو غلبہ حاصل ہوا، اور ہم کھلے بندوں اسلام کی دعوت دینے لگے، اور ہم حلقہ بنا کر بیت اللہ میں بیٹھے ہوتے تھے، ہم بیت اللہ کا طواف کرنے لگے اور ہم پر کوئی زیادتی کرتا تو ہم اس سے بدلہ لیتے تھے۔

کچھ اسی قسم کے تاثرات فقیہ الامت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام قبول کرنا ہماری کھلی فتح تھی۔ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہجرت کرنا ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرتِ خاص تھی۔ اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تو ہمارے لیے سراپا رحمت تھی۔ میں نے وہ دن بھی دیکھے جب ہم بیت اللہ کے قریب نماز ادا نہیں کر سکتے تھے، لیکن جب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کفار سے مقابلہ کیا یہاں تک کہ وہ نماز پڑھنے دینے لگے۔


سیدنا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شانِ رفیع میں چند فرامین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیے جاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: "اے ابن خطاب! اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے۔ جس راستے پر آپ کو چلتا ہوا شیطان پا لیتا ہے، وہ اس راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے"۔

یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔

اور دوسری روایت ہے، صحیح بخاری کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "میں نے حالتِ خواب میں دودھ پیا، یہاں تک کہ میں اس سے سیر ہو گیا، اس کی سیرابی کے اثرات میرے ناخنوں میں نمایاں ہونے لگے۔ پھر میں نے دودھ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا"۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم۔

اسی طرح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور روایت میں بھی اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ "میں نیند میں تھا میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اور قمیص پہنے ہوئے، کسی کی قمیص سینے تک ہے، کسی کی اس سے نیچے، اور پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے اتنی لمبی قمیص پہنی ہوئی تھی کہ وہ زمین پر گھسٹتی جا رہی تھی۔"

اصحاب رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دین۔


اسی طرح بڑی مشہور و معروف حدیثِ نبوی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا"۔ یعنی اگر سلسلہ نبوت جاری رہتا تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی منصبِ نبوت سے سرفراز کیے جاتے۔

ایک حدیث مبارک ہے جس میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تم سے پہلے جو امم گزری ہیں، ان میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اور میری امت میں اگر کوئی محدث ہے تو عمر ہے"۔

اس حدیث پاک میں لفظِ محدث کی تشریح صاحبِ فتح الباری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں: المُحَدَّثُ الْمُلْهَمُ وَهُوَ مَنْ يُلْقَى فِي رُوعِهِ شَيْءٌ مِنْ قِبَلِ الْمَلَإِ الْأَعْلَى، وَمَنْ يَجْرِي الصَّوَابُ عَلَى لِسَانِهِ بِغَيْرِ قَصْدٍ۔

یعنی محدث وہ ہے جس کی طرف اللہ پاک کی طرف سے الہام کیا جائے۔ ملاء اعلی سے اس کے دل میں القاء کیا جائے۔ اور بغیر کسی قصد و ارادے کے جس کی زبان پر حق جاری کر دیا جائے، یعنی اس کی زبان سے حق بات ہی نکلے۔


ایک بار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شفیع اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عمرہ کی اجازت طلب کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے میرے بھائی! اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں بھی شریک کرنا اور بھول نہ جانا"۔

سلسلہ احادیث سے آخری حدیث پیش کرتا ہوں۔ یہ سلسلہ بہت دراز ہے اور دامنِ صفات میں جگہ کم ہے۔ بخاری شریف میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم احد کے پہاڑ پر تشریف لے گئے، ہمراہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ احد کا پہاڑ لرزنے لگا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قدم مبارک احد پر مارتے ہوئے فرمایا: اے احد ٹھہر جا! تجھ پر اس وقت نبی، صدیق اور شہید کے علاوہ اور کوئی نہیں۔


اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا فرماتے ہیں: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي بِبَلَدِ حَبِيبِكَ۔ اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت کی موت دینا، اور موت آئے تو تیرے حبیبِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں آئے۔

آخری ایامِ حیات میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب دیکھا کہ ایک سرخ مرغ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیا اور فرمایا میری موت کا وقت قریب ہے۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک روز اپنے معمول کے مطابق بہت سویرے نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے۔ اس وقت ایک درہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا تھا، اور سونے والوں کو اپنے درہ سے جگاتے تھے۔ مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنے کا حکم دیتے، اس کے بعد نماز شروع فرماتے اور نماز میں بڑی بڑی سورتیں پڑھتے۔ اس روز بھی آپ نے ایسے ہی کیا۔ نماز ویسے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع کی تھی۔ صرف تکبیر تحریمہ کہنے پائے تھے کہ ایک مجوسی کافر ابو لؤلؤ، جو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام تھا، ایک زہر آلود خنجر لیے ہوئے مسجد کے محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا۔ اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شکم مبارک میں تین زخمِ کاری اس خنجر سے لگائے۔ آپ بے ہوش ہو کر گر گئے، تب عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر، بجائے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت کے، مختصر نماز پڑھ کر سلام پھیرا۔ ابو لؤلؤ نے چاہا کہ کس طرح مسجد سے باہر نکل جائے، مگر نمازیوں کی صفیں مثلِ دیوار کے حائل تھیں۔ اسے نکل جانا آسان نہیں تھا۔ اس نے اور صحابیوں کو بھی زخمی کرنا شروع کر دیا۔ تیرہ صحابی زخمی ہوئے جن میں سے سات جانبر نہ ہو سکے۔ اتنے میں نماز ختم ہوئی اور ابو لؤلؤ پکڑ لیا گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ میں گرفتار ہو گیا، تو اسی خنجر سے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا۔

بالآخر آپ کی دعائے شہادت کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، اور دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں، بلکہ مصلیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کو ذی الحج بروز چہار شنبہ (بدھ) کو زخمی کیا گیا، اور یکم محرم بروز یکشنبہ (اتوار) آپ شہید ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اور خاص روضہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بنائی گئی۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔


تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یہ ما شاء اللہ اللہ پاک نے ان کو بہت اونچے صفات سے نوازا تھا۔ اور اس میں ایک جو سمجھنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے سارے لوگوں کو صلاحیتیں تقسیم کی ہوئی ہیں۔ چاہے مسلمان ہیں، چاہے کافر ہیں، جو بھی ہیں ان کو صلاحیتیں تقسیم کی ہیں۔ پھر اس کے بعد وہ ان صلاحیتوں کو کس چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ یہ ان کے اوپر ہوتا ہے۔ یعنی گویا کہ ان کو اختیار جو دیا جاتا ہے، اس اختیار کے مطابق وہ صلاحیتیں استعمال ہوتی ہیں۔ تو اگر وہ صلاحیتیں صحیح چیزوں کے لیے استعمال ہو جائیں تو بہت اونچا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ صلاحیتیں غلط چیزوں کے لیے استعمال کر لے تو أَسْفَلَ سَافِلِينَ میں گر جاتا ہے۔ جیسے کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ، ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے، یہ جو صلاحیتیں ہیں، اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا اور پھر ان صلاحیتوں کے ذریعے سے اللہ کو پانا۔ یہ یہی بات ہے۔ یہی بات ہے۔ اگر میں غلط نہ ہوں تو یہ اسمِ مربی والی جو بات کی جاتی ہے، وہ اصل میں اسی کی پہچان کی بات ہے۔ کہ اللہ پاک نے جس اسم کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہوتی ہے، یعنی گویا جو صلاحیتیں ان کو دی ہوتی ہیں، ان صلاحیتوں کو اگر انسان پہچان لے، ان کے ذریعے سے اللہ کو پانے کی کوشش اور سعی کر لے، تو ظاہر ہے ان کے لیے بہت آسانی ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے، دوسروں کی صلاحیتوں کے ذریعے سے وہ کرنا چاہے، تو پھر وہ کر نہیں سکتا، تو فیل ہو جاتا ہے، پھر وہ نہیں کر سکتا۔

جیسے مثال کے طور پر میں کہتا ہوں کہ اللہ پاک نے اگر کسی کو انجینئر بننے کی صفات دی ہوئی ہیں، تو جب وہ انجینئر بننے کی کوشش کرے گا تو بہت جلدی اور بہت اونچا انجینئر بن جائے گا۔ لیکن وہ ڈاکٹر بننے کی کوشش کرے گا تو بالکل ایک فیل قسم کا ڈاکٹر بنے گا۔ کیونکہ اس کے اندر اس کی صلاحیت نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی کو اللہ پاک نے ڈاکٹر بننے کی صلاحیت دی ہے، تو وہ اگر ڈاکٹر بننے کی کوشش کرے گا تو بہت اعلی ڈاکٹر بنے گا، لیکن اگر وہ انجینئر بننے کی کوشش کرے گا تو وہاں پر فیل ہو جائے گا۔ یہ میں نے مثال دی۔

تو اسی طریقے سے اللہ پاک نے جو صلاحیتیں دی ہوتی ہیں، ان صلاحیتوں کے ذریعے سے اللہ پاک اگر اس کی تربیت کا سامان پیدا فرمائے تو پھر کام بن جاتا ہے۔

مشائخ کا کام یہی ہوتا ہے۔ مشائخ کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر جو صلاحیتیں ہوتی ہیں ان کو پہچان لیتے ہیں۔ اب دیکھیں یہیں سے آپ اندازہ لگائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن کے لیے دعا مانگی تھی؟ یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے اور عمرو بن ہشام۔ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی۔ دونوں کے اندر صلاحیتیں تھیں۔ تو ایک کس مقام پہ پہنچ گیا جب اس نے اسلام قبول کیا، اور کہاں سے کہاں پہنچ گیا! اور دوسرا، جس نے اسلام قبول نہیں کیا اور مخالفت میں وہ صلاحیتیں استعمال کر دیں، تو کہاں پہنچ گیا؟ أَسْفَلَ سَافِلِينَ میں پہنچ گیا۔ یعنی ان کے مرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، :"اس امت کا فرعون مر گیا"۔ جو ابو جہل تھے۔ اس امت کا فرعون مر گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں کیا فرمایا: اگر میرے بعد نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صلاحیتیں تو ایک جیسی تھیں۔ ان کی بھی تھی ان کی بھی تھی۔ لیکن کسی نے قدر کی، کسی نے قدر نہیں کی۔


اب اس پر میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اللہ جل شانہٗ نے قرآن پاک میں جو ارشاد فرمایا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ اس نفس کے اندر اللہ پاک نے دو چیزیں رکھ دی ہیں۔ یہ دو چیزیں موجود ہیں اس نفس کے اندر۔ اختیار دے دیا کہ ان دونوں سے استعمال کر لو۔ تو ان میں سے دو میں سے جو بھی استعمال کرنا چاہو اختیار دے دیا۔ اب جس نے تقوی لے لیا، تو ان کے لیے فرمایا: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا۔ اور جنہوں نے تقوی نہیں لیا تو اگر روشنی نہیں لی تو کیا لیا ہے؟ مجھے بتاؤ پھر کیا لیا؟ اندھیرا لے لیا نا۔ تو ان کے لیے کیا فرمایا؟ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ اور یقیناً تباہ و برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ نہیں کیا۔ اس کو پاک نہیں کیا۔ تو اس وجہ سے صلاحیتیں ہمارے اندر جو بھی ہیں، اللہ نے جو صلاحیتیں بھی رکھی ہیں، کوئی بھی محروم نہیں ہے۔ کوئی بھی محروم نہیں، یہ نہیں کہہ سکتے کہ صلاحیتیں ہیں نہیں۔ ہیں، لیکن پہچان کی بات ہے۔ اور استعمال کی بات ہے۔ بعض دفعہ پہچان نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، بعض دفعہ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتے ہیں لوگ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طفیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے طفیل، وہ چیز اسی طرح چلی آ رہی ہے کہ مشائخ کا کام بھی یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان لیں۔ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان لیں۔ اور جب وہ لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان لیتے ہیں، پھر ان سے وہی کام لیتے ہیں، جو ان کے اندر صلاحیت ہوتی ہے۔ نتیجتاً وہ سج جاتے ہیں۔ ما شاء اللہ وہی لوگ ما شاء اللہ بہت بڑے بن جاتے ہیں اور اللہ پاک ان سے کام لیتے ہیں۔


اب دیکھو سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کو، مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، اس طرح ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، اور کیاکیا نام بتاؤں، مولانا عیسی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، یہ سب حضرات ما شاء اللہ، کوئی عالم تھا، کوئی ڈاکٹر تھا، کوئی کیا تھا، کوئی کیا تھا۔ لیکن کیا ہوا جب حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آئے، نکھر گئے۔ تھوڑا سا غور کر لیں، اس وقت پورے ہندوستان کے اندر اگر پورے ہندوستان کے اوپر ہم نظر ڈالیں، تو وہ لوگ مشہور ہیں، لوگ ان کو جانتے ہیں جن کی اصلاح کسی بزرگ کی محفل میں ہو چکی ہے۔ ان میں سے وہی لوگ مشہور ہیں۔ باقی علماء بہت تھے۔ یہ نہیں کہ علماء تھے نہیں، لیکن ان کا پتہ نہیں چلا۔ بس وہ اپنا علم اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جو کہ


تو اب یہ کام لینے کی جو صلاحیت ہے، کام یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اب دیکھو اس وقت صورتحال یہ ہے، کیا پورے ہندوستان میں صرف یہ 20، 25 لوگ تھے؟ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، مولانا قاسم رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، مولانا شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ یہ 20، 25 نام بنتے ہیں۔ کیا صرف اتنے تھے؟ نہیں، بہت سارے تھے۔ لیکن صلاحیتیں کن کی استعمال ہو گئیں؟ اور کن کی استعمال نہ ہو سکیں؟ یہ اصل میں یہ بنیادی بات ہے۔


تو ہم لوگوں کا کام یہ ہے کہ جو اپنی صلاحیتیں ہیں، ان کی پہچان کروانے کے لیے مشائخ کے پاس جائیں، مشائخ کے ساتھ رہیں۔ ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں، اس سے کیا ہوگا؟ جیسے مقناطیس بنتا ہے نا، کس طرح مقناطیس بنتا ہے؟ اس کے لیے ایک ہوتا ہے ferromagnet یعنی جو magnet بن سکتا ہو۔ وہ لوہا۔ اگر وہ لوہا آپ مقناطیس کے ساتھ رگڑیں ایک خاص طریقے سے، تو کچھ وقت کے بعدوہ مقناطیس بن جائے گا خود۔ وہ مقناطیس بن جائے گا۔ تو اس کا مطلب کیا ہے؟ یا تو یہ ہے کہ بجلی دے دو، تو اسی وقت عارضی طور پر مقناطیس بن جائے گا، بجلی نکالو تو بس مقناطیس ختم۔ یا تو یہ طریقہ ہے کہ بجلی کے ذریعے سے عارضی طور پر مقناطیس بناؤ، یا مستقل مقناطیس بنانا ہے تو پھر کیا ہے، اسی رگڑ سے، اسی رگڑ سے اسی طریقے سے بنتا ہے۔


تو اسی طریقے سے ہمارے جو اللہ والے ہیں، ان کی جوتیاں سیدھا کرنے سے، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے، ان کی بات ماننے سے، ان کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے کام بنتا ہے، کام بنتا ہے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوئے تو پھر کیسے رہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ دیکھ کر سب کچھ کرتے رہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ پوچھ کر سب کچھ کرتے رہے۔ تو یہ کیا بات تھی؟ صلاحیت تھی ان میں۔ اب یہ صلاحیت جو ہے نا وہ استعمال ہونی شروع ہو گئی۔


تو یہی اصل میں بنیادی بات ہے۔ میں اس میں یہ بات عرض کرنا چاہتا تھا کہ ہم لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو یعنی زندگی ہے، اس کے اندر یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ پاک نے جس کو جو کچھ دیا ہے اس کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اس کو ضائع نہیں ہونے دیں۔

مثال کے طور پر دیکھو نا، آپ کسی بھی زمین پر، جو زرخیز زمین ہو۔ اس کے اندر کچھ ایسی فصلیں ہوتی ہیں، وہ اگر آپ اس میں اگائیں تو اس سے وہ بنجر ہو جاتا ہے۔ بعض زمینیں ایسی ہوتی ہیں کہ اس کے اندر ایک خاص قسم کی فصل وہ کر لے تو وہ نہ صرف یہ کہ وہ صحیح نہیں ہو، بلکہ آئندہ کے لیے اور بھی صحیح نہیں ہوتی، وہ بنجر ہو جاتی ہے۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جو کہ ما شاء اللہ وہ صحیح ہوتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی اس سے مزید پیدا ہوتا ہے۔

مطلب یہ ہے کہ صلاحیتوں کو ہم لوگ استعمال کرنا سیکھیں۔


تو بہرحال میں اس لیے عرض کروں گا کہ ہم لوگوں کو اس سے سیکھنا چاہیے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جیسے صلاحیتیں استعمال ہو گئیں، اسی طریقے سے ہماری صلاحیتیں بھی استعمال ہو جائیں۔ ہم دیکھتے تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو ہمارے شیخ تھے، ان کے پاس جو لوگ آتے تھے، تو وہیں عام انجینئر، ڈاکٹر، پروفیسر جو یونیورسٹی میں ہوتے ہیں وہی ہوتے تھے۔ لیکن بعد میں وہی لوگ مختلف بن جاتے۔ مطلب ان کی سوچ بدل جاتی، ان کی رائے بدل جاتی، ان کا انداز بدل جاتا، ان کے فیصلے بدل جاتے، وہ ساری چیزیں بالکل مختلف ہو جاتی تھیں۔ اور پھر لوگ کی رہنمائی کرتے تھے ۔ ابھی ڈاکٹر فدا صاحب ہمارے، وہ ظاہر ہے مطلب ڈاکٹر ہی ہیں نا، تو کیا ڈاکٹر کم تھے پشاور میں؟ پشاور میں ڈاکٹر بہت سارے ہیں، لیکن ڈاکٹر فدا صاحب ان میں مختلف ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ جو لوگ ما شاء اللہ صلاحیتوں والے ہیں، ان کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کروانے کے لیے اور بچانے کے لیے، غلط چیزوں سے بچنے کے لیے، ان کو ایسی جگہ پر جانا چاہیے ۔


جیسے ہیرا ہوتا ہے نا، ہیرا۔ کان سے نکلتا ہے تو ایک ore ہی ہوتا ہے۔ دھات۔ وہ جو ore ہے، اگر اس کو آپ صحیح طریقے سے کاٹیں نہیں تو ضائع ہو جائے گا۔ ضائع ہو جائے گا۔ وہ اس کی وہ چیزیں نہیں نکلیں گی جو کہ ہیرے کی ہوتی ہیں۔ لیکن اگر آپ اس کو ماہر وہ جو ہیرے کا جو کاٹنے والا ماہر ہے اس کے پاس لے جائیں اور اس کو اس طریقے سے کاٹے کہ جس سے اس کی تمام internal reflections جو ہیں نا وہ صحیح طور پہ ہوں، تو بہت قیمتی بن جاتا ہے، بہت قیمتی بن جاتا ہے۔

زمین کو آپ دیکھیں، زمین پر اگر آپ نے مکان بنانا ہے تو ایک اناڑی سے بنوا دیں۔ تو زمین ضائع ہے۔ اور اگر آپ ایک صحیح ماہر سے مطلب اس کا نقشہ بنوائیں، اور صحیح طریقے سے اس کو construct کروائیں، تو اس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے!

لوہا ہے لوہا، لوہا جو ہے نا مطلب یا سونا ہے لوہا ہے، جو بھیmetal ہے، اس کو آپ یعنی جو استعمال کرتے ہیں، اس کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے! یہ گھڑیوں میں، یہ گھڑی کتنی مہنگی ہوتی ہے، تو اس کا جو دھات ہوتا ہے وہ کتنا ہوتا ہے؟ اگر وہ ویسے استعمال کریں تو کچھ بھی نہیں ہوتا، اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ لیکن جس وقت آپ اس کو کاٹ کوٹ کے اور وہ مطلب جو ہے نا اس کی processing کر کے سارا کچھ کر کے، وہ پتہ نہیں 100 گنا 200 گنا 300 گنا تک اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگ اپنی صلاحیتوں کو اگر صحیح طریقے سے استعمال کروانا سیکھیں تو بہت کام ہو سکتا ہے۔


تو ایک تو یہ بات میں عرض کرنا چاہتا تھا، دوسری ایک اہم بات ہے کہ محرم کا جو میں نے عرض کیا تھا، یکم محرم توہے۔

اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ ہجری سن کی ابتدا ہے۔ ہجری سن اس سے شروع ہوتا ہے، یکم محرم سے شروع ہوتا ہے۔ اور سنِ ہجری کیا چیز ہے؟ اس پہ ہمارے بہت سارے دارومدار عبادت کے ہیں۔ جیسے اس پر روزے کا یہ، زکوۃ کا ہے، حج کا ہے۔ یہ سب جو ہے نا مطلب یعنی ہجری سن سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ جیسے ذو الحج کو حج ہوتا ہے، عرفات۔ اس طرح جو 10 محرم کو عاشورہ ہوتا ہے۔ اس طرح رمضان شریف میں روزے رکھے جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ یہ مطلب اس ہجری سن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو ہجری سن جو ہے، یہ کیا ہے؟ یہ ہماری پہچان ہے۔


اب لوگوں میں یہ چیز ختم ہو گئی ہے۔ لوگ دوسری چیزوں کو جو ہے نا مطلب دیکھتے ہیں اور ہجری سن کو نہیں دیکھتے۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس کے بارے میں بھی ذرا تھوڑا سا خیال کرنا چاہیے کہ ہم لوگ اپنی جو پہچان ہے اس کو ختم نہ کریں۔

جرمنی میں تھا تو ایک دفعہ میں اپنے آفس میں گیا، سیکرٹری کے آفس میں۔ تو 24 اپریل تھا، اس وقت میری 24 اپریل کی Date of birth لکھی ہوئی تھی۔ تو اس نے مجھے کہا کہ happy birthday to you۔ تو میں نے سنی ان سنی کی، میں نے کہا کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا اگر یہ ان کو میں نے یہ کروا دی تو پھر تو یہ لمبا چوڑا قصہ کریں گے۔ تو میں نے کہا، اس نے کہا کہ آپ کا، birthday نہیں ہے یہ؟ میں نے کہا نہیں۔ تو اس نے کہا آپ کی تاریخ میرے پاس لکھی ہوئی ہے، تو آپ کا birthday ہے۔ میں نے کہا نہیں ہمارا سن یہ نہیں ہے، ہمارا سن تو ہجری ہے۔ اور وہ یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور بالکل علیحدہ procedure ہے۔ بس فورا چپ ہو گئی۔ اس کے بعد پھر وہ کیا کچھ کہہ سکتی تھی۔ تو اب ہمارا طریقہ کار بالکل مختلف ہے، ہم لوگ ان چیزوں کے نہیں ہیں۔ تو اب جیسے یہاں پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ وفات، جو اس کے بارے میں کہہ رہے ہیں، تو کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ یکم محرم کو۔ جو بھی تاریخ تھی وہ عیسوی جو بھی تھی، تو اس کو تو ہم نہیں لیتے نا۔ ہم تو اسی کو لیتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اس چیز کو زندہ رکھنا ہے۔ تو چاند کا دیکھنا اور اس کے، اس کو maintain کرنا، وہ تمام چیزیں ہمارے لیے بہت ضروری ہیں۔


تو بہرحال یہ ہے کہ ایک تو اس لحاظ سے کہ ہجری سن، یہ بہت اہم ہے۔ اور اس کی ابتدا ہماری یکم محرم سے ہو رہی ہے۔ اور دوسری بات اس میں یہ بات ہے کہ اس میں عاشورہ بھی آتا ہے۔ عاشورہ کیا ہے؟ عاشورہ کے بارے میں ان شاء اللہ اگلے ہفتے تفصیلی بات ہو گی۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اگلے اتوار کو تفصیلی بات ہو گی۔ کیونکہ اِ س وقت جو ہے نا وہ تو بات اتنی تفصیلی نہیں ہو سکتی، لیکن اگلے اتوار کو اس پہ تفصیلی بات ہو گی۔


اتنا میں اس وقت بتا دیتا ہوں کہ 9 اور 10 یا 10 اور 11 کو روزہ عاشورہ کا رکھا جاتا ہے۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَخَالِفُوا الْيَهُودَ ۔ یہود کی مخالفت کرو۔

مخالفت سے مراد یہ ہے کہ چونکہ وہ 10 کو روزہ رکھتے ہیں اور رکھتے اس وجہ سے کہ موسی علیہ السلام کی قوم کو آزادی ہوئی تھی فرعون سے، تو فرمایا: موسی علیہ السلام تو ہمارے ہیں۔ تو ہم بھی رکھیں گے۔ لیکن یہود کے ساتھ اختلاف کریں گے۔ اختلاف کیسے کریں گے؟ وہ صرف 10 کو رکھتے ہیں روزہ، ہم 9، 10 کو رکھیں گے یا 10، 11 کو رکھیں گے۔ تو اس سے پتہ چلا کہ مخالفت یہود کی مشابہت سے کتنا ضروری ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کو برقرار رکھا لیکن اس کے ساتھ ایک کا اضافہ کر کے اس کو تبدیل کر دیا۔ تو ہمیں بھی مشابہت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ تو دوسری بات یہ ہے کہ یہ جو دن ہے، یعنی 10 محرم کا، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی نے اس دن اپنے گھر والوں پر وسعت کی، یعنی ان کے اوپر خرچ کر لیا، کھلا خرچ کر لیا کھانے پینے وغیرہ میں، تو پورے سال ان کو اللہ تعالیٰ وافر رزق نصیب فرمائیں گے اس طرح۔ تو یہ ایک ہمارے لیے ما شاء اللہ خوشخبری ہے۔ کہ ہم بھی اس پر عمل کر سکتے ہیں، کہ ہم جو ہے نا ما شاء اللہ یعنی وہ کر سکتے ہیں۔ تو ایک تو یہ والی بات ہے کہ ہم لوگ ذرا تھوڑا سا اس پر اچھی طرح مطلب جو ہے نا، ٹھیک ہے مطلب اس نیت سے کہ اللہ پاک، آج کل مہنگائی وغیرہ بھی تو ہے، تو برکت کے لیے حاصل کرنے کے لیے اس کو کر سکتے ہیں۔


تو ایک تو یہ بات، دوسری ایک اہم بات میں عرض کرنا چاہتا تھا۔ کہ ہم لوگ اہلِ السنۃ والجماعۃ ہیں۔ الحمد للہ، الحمد للہ، الحمد للہ، اہلِ السنۃ والجماعۃ ہیں۔ اہلِ السنۃ والجماعۃ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہود کے 71 فرقے تھے، نصاریٰ کے 72 ہو گئے تھے، میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے۔ لیکن ایک نجات پائے گا۔ تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے پوچھا: کون نجات پائیں گے؟ فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں ہوں، جس پر میرے صحابہ ہیں۔ اب دیکھیں۔ تو یہ اسی سے اہلِ السنۃ والجماعۃ بنا ہے۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ میں جس پر ہوں (یہ سنت ہے)، اور وَأَصْحَابِي یہ جماعتِ صحابہ۔


تو ہم الحمد للہ جماعتِ صحابہ کے ساتھ ہیں، سنت کے ساتھ ہیں۔ لہذا ہم ان سب کو مانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہدایت کا راستہ ملا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، اس راستے سے، اس سے پھر تین ذریعوں سے ہم تک دین آیا ہے؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گھر میں رہے، تو گھر والوں کو ہی ان باتوں کا پتہ چلا، باقی لوگوں کو تو پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا گھر میں۔ وہ تو ظاہر ہے پردے والی بات تھی، تو ان کو پتہ نہیں چلا۔ لہذا وہ، وہ علم جو اہلِ بیت سے آیا ہے، وہ، وہی ہے۔ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر تھے، تو ممکن ہے کہ گھر والے بعض دفعہ نہ ہوں ساتھ۔ جیسے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو باہر ساتھ نہیں ہو سکتی تھیں، حسن حسین رضی اللہ عنہم اس وقت بچے تھے، اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی ہر وقت ساتھ ہونا تو ضروری نہیں تھا۔ تو ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غارِ ثور میں تھے، تو اس وقت کے احکام کس کو معلوم تھے؟ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو، یا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بھی باہر تھے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ عام صحابہ سے جو دین ملا ہے وہ بھی ہے۔

اور کچھ باتیں ایسی ہیں جو میاں بیوی کے درمیان ہوتی ہیں، کوئی اور اس کو نہیں جان سکتا۔ تو وہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخفی نہیں رکھیں۔ تو امہات المومنین کے ذریعے سے وہ پہنچی ہیں۔


تو امہات المومنین کے ذریعے سے جو پہنچی ہے، وہ کیا ہے؟ وہ باتیں دین کا وہ حصہ ہیں جو نہ عام صحابہ کو پتہ تھا، نہ باقی اہلِ بیت کو پتہ تھا۔ تو وہ ان کی طرف سے آیا۔ تو اس کا مطلب دین کے تین جز: عام صحابہ سے، اہلِ بیت سے ، اور ساتھ یہ کہ امہات المومنین سے۔ جو دین آیا، پورے کا پورا لینا، جس نے سب سے لے لیا، پورا دین لے لیا۔ جس نے ان میں سے کسی سے لیا اور کسی سے نہیں لیا، ناقص دین لیا۔ وہ کچھ حصے سے محروم ہو گیا نا! اور جس نے ان میں سے کسی کی مخالفت کی، مثلاً صحابہ کی مخالفت کی، یا اہلِ بیت کی مخالفت کی، یا امہات المومنین کی مخالفت کی، انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا۔

کیوں نہیں ؟ مجھے بتاؤ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے بارے میں جو اونچے اونچے کلمات فرمائے تھے، ان کو اگر -نعوذ باللہ من ذالک- کوئی غلط کہے، یا کافر، یا اس قسم کا کہہ دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی مخالفت ہو گئی نا؟ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی مخالفت ہو گئی، تو کیا بچ سکتا ہے وہ؟ وہ کدھر ہوگا؟ اس نے تو اپنا کباڑہ کر لیا۔ تو انہوں نے کچھ بھی نہیں لیا۔


اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ازواجِ مطہرات جو ہماری مائیں ہیں، ان میں ہر ایک ہمارے لیے محترم ہے۔ ہر ایک ہمارے لیے محترم ہے۔ ہم ہر ایک کے قائل ہیں، ہر ایک کا ادب کرتے ہیں، ہر ایک کے ساتھ محبت کرتے ہیں، اور ہر ایک سے لینے والے ہیں۔

اسی لیے ہم اہل السنۃ والجماعۃ ہیں۔ اگر ہم ان میں سے فرق کرنے لگے اور آگے پیچھے ہونے لگے، پھر اہل السنۃ والجماعۃ والی بات نہیں رہے گی۔ پھر ناصبی بھی ہو سکتے ہیں، شیعہ بھی ہو سکتے ہیں، کوئی اور چیز ہو سکتے ہیں، ملحد ہو سکتے ہیں، لیکن وہ اہل السنۃ والجماعۃ نہیں ہوں گے۔ تو اہل السنۃ والجماعۃ کے ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تینوں سے ہم براہِ راست لیں اور ان میں سے کسی ایک کا انکار نہ کریں۔


ان کے آپس میں اختلافات جو ہوتے ہیں، وہ علیحدہ بات، صحابہ میں بھی آپس میں اختلافات ہیں۔ وہ پھر فقہاء کا کام ہے، کہ کس کا قول لیتے ہیں کس کا قول نہیں لیتے۔ وہ ناسخ منسوخ یا راجح مرجوح، یہ وہ چیزیں ان کا کام ہے۔ وہ ہم لوگ اس میں نہیں ہیں۔ لیکن ہم لوگ سب سے لینے والے ہیں۔

اس وجہ سے یہ ایک بہت اہم میسج ہے محرم میں، کہ ہم لوگ تینوں کو مانیں، اور تینوں کو محترم مانیں، اور تینوں کے نقشِ قدم پہ چلیں، تینوں کے ساتھ محبت کریں۔ ان میں سے کسی کے ساتھ ہم لوگ یہ نہ کریں کہ بھئی یہ تو فلاں ہے یہ تو فلاں ایسا ہے یہ تو فلاں ایسا ہے۔ یہ ان لوگوں کی باتیں ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی۔

دیکھو یہود نے 12 فرقے بنا دیے عیسائیوں میں۔ 12 فرقے عیسائیوں میں بنا دیے۔ اس طرح انہوں نے ہمارے اندر بھی بنا دیے۔ مختلف طریقوں سے بنا دیے۔ تو ہم ان کے اس میں کیوں آ جائیں؟


اس وجہ سے ہم لوگوں کو ان فرقہ بندی سے نکلنا چاہیے، اور فرقہ بندی سے نکلنے کا کام کیا ہے؟ کہ ان تینوں کو لے لیں۔ بس خود بخود فرقہ بندی سے ہم نکل جائیں گے۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي پر عمل سے ہم باقیوں سے کٹ جاتے ہیں۔ ہم لوگ سب کو لینے والے بن جاتے ہیں۔ تو بہرحال اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر قائم رکھے۔


اب دیکھیں نا، بہت سارے یعنی اہل السنۃ والجماعۃ، نادانی کی وجہ سے یا کسی کی شرارت کی وجہ سے یا غلط بیانی کی وجہ سے ایسے الفاظ کہہ دیتے ہیں جو کہ اہل ِسنت کے نہیں ہو سکتے۔ مثلاً کوئی کہہ دیتا ہے-نعوذ باللہ من ذالک، نعوذ باللہ من ذالک،-یعنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلط بات کہیں۔ تو غلط ہے۔ کوئی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اگر غلط بات کہے، تو غلط ہے۔ کوئی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلط بات کہے، تو غلط ہے۔ کوئی کسی اور صحابی کے بارے میں، امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں غلط بات کہے، تو غلط ہے۔

اس کا مطلب ہے ہم تو کسی کے بارے میں بھی غلط بات نہیں کر سکتے۔ ہم تو سب کو ماننے والے ہیں۔ لہذا ہم لوگ اپنے ایمانوں کو محفوظ رکھیں۔ اور ہم کسی کے بھی غلط گفتار لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم ان سب کو مانتے ہیں، اور سب کے پیچھے چلنے والے ہیں۔ یہ بنیادی بات ہے۔

اگر ایسا ہم نہیں کریں گے، تو پھر ہم اپنے پاؤں پہ کلہاڑی ماریں گے۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ reaction میں آ جاتے ہیں لوگ۔ مثلاً کچھ لوگ ہیں جو صحابہ کے خلاف ہیں۔ صحابہ کے خلاف تو ہیں نا لوگ، تو جو صحابہ کے خلاف ہیں، وہ بکواس کرتے ہیں ، صحابہ کے بارے میں۔ اب وہ لوگ جو جن کو مانتے ہیں، وہ مثلاً اگر اہلِ بیت کو مانتے ہیں تو ان کے مقابلے میں اہلِ بیت کے خلاف بات ہو سکتی ہے؟ بھئی وہ جھوٹ بولتے ہیں وہ تو ان کے جیسے مثال کے طور پہ، امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کس کے ہیں؟ وہ تو ہمارے ہیں۔ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کس کے ہیں؟ ہمارے ہیں۔ امام باقر رحمۃ اللہ علیہ کس کے ہیں؟ ہمارے ہیں۔ اب دیکھو، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ، اہلِ بیت میں سے ہیں، اور ہمارے دو بڑے اماموں کے پیر ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پیر ہیں۔ جن کو ہم پیر کہتے ہیں نا، شیخ۔ وہ ہیں۔ اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو ان کے بارے میں ایسی بات فرماتے ہیں، کہ اگر دو سال میں نے حضرت کے ساتھ نہ گزارے ہوتے، تو میں ہلاک ہو جاتا۔ میں ہلاک ہو جاتا۔


ایک دن پوچھ رہے ہیں، حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ سے۔ حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد یعنی ابنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ مجھے ایک بات بتائیں کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے کسی کو مجبور کیا ہو؟

نہیں۔ ایسا تو نہیں ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ، اس طرح دو مختلف باتیں، فرمایا کہ پھر اس کے درمیان درمیان ہے سب کچھ۔ تو اصل بات ہے کہ حضرت نے اس پر بہت بڑا علم گویا کہ حضرت سے لے لیا۔


ایک دن فتوے دے رہے ہیں مدینہ منورہ میں۔ کسی نے چپکے سے کان میں کہا کہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ بھی ادھر ہیں۔ تو اس پر جو ہے نا وہ، فوراً ڈر گئے اور جا کر ڈرتے ڈرتے کہا کہ حضرت، آپ ابنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، اور میں فتوے دے رہا ہوں! آئیے آپ مسند پہ بیٹھیں ہم پوچھیں گے آپ جواب دیں گے۔

فرمایا: نہیں، نہیں، میں نے آپ کے جواب سن لیے ہیں۔ میں نے ان کو اپنے آبا و اجداد کے خلاف نہیں سنا۔ تو آپ فتوے دیتے رہیں۔

یہ وہ اجازت ہے جو ما شاء اللہ امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہے۔

تو لہذا، ہم لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر ہمارے امام ان کے ساتھ ہیں، تو ہم کون ہیں؟ مجھ سے ایک سادہ آدمی نے پوچھا کہ کیا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام کہہ سکتے ہیں؟

میں نے کہا، خدا کے بندے! کیا تو نے سوال کیا! عجیب آدمی ہو! میں نے کہا، ان کا پڑپوتا، امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ، وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیر ہیں۔ ان کے بارے میں، ایسی بات کرتے ہیں۔ تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو ہم امام کہتے ہیں نا؟ تو اگر ان کو امام کہہ سکتے ہیں تو ان کا جو پیر ہے جس کی وجہ سے وہ بنے ہیں، ان کو ہم کیا کہیں؟ تو اگر ان کو کہہ سکتے ہیں، تو ان کے جو پردادا ہیں جس کی وجہ سے ان کو یہ سارا کچھ ملا ہے، ان کو ہم کیا کہیں؟

میں نے کہا آپ نے امامت کس کو۔۔ میں نے کہا وہ امامت جو وہ لوگ کہتے ہیں، وہ تو ہم نہیں کہتے۔ وہ امامت کا دوسرا concept ہے۔ وہ ہمارا نہیں ہے، "امامِ معصوم" جس کو کہتے ہیں۔ ہم تو امام اس کو کہتے ہیں جو دین کا رہنما ہو۔ تو دین کے رہنما وہ نہیں ہیں تو کون ہیں؟

دین کے رہنما تو وہی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں بات فرمائی ہے، حدیثِ سفینہ ہے۔


تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو جو ہے نا، یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے۔ ان کا اپنا مقام ہے، حضرت امام جعفر، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا مقام ہے۔ اور ان کا اپنا مقام ہے، امہات المومنین میں خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنا مقام ہے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنا مقام ہے، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اپنا مقام ہے۔

ان سب کے اپنے اپنے مقامات ہیں۔ اب دیکھو، میں ماں سے بھی محبت کرتا ہوں، بہن سے بھی محبت کرتا ہوں، بیوی سے بھی محبت کرتا ہوں، بیٹی کے ساتھ بھی محبت کرتا ہوں، کیا یہ ساری محبتیں ایک جیسی ہیں؟

ساری محبتیں ایک جیسی نہیں، لیکن محبت سب کے ساتھ ہے یا نہیں ہے؟ تو اسی طریقے سے، ما شاء اللہ، یہ سب کے اپنے اپنے وہ ہیں، مقامات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی اپنی نسبتیں ہیں۔ کوئی بیٹی ہے، کوئی بیوی ہے، کوئی اور رشتے ہیں۔ تو ہم سب کو ما شاء اللہ محترم کہتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ان کے لیے ہمارے دلوں کو صاف فرما دے، ان کے فیوض و برکات کے لیے ہمارے دلوں کے راستے کھول دے، اور کسی طریقے سے مخالفت جوان کے لیے ہمارے دلوں میں نہ لائے۔ اللہ پاک ہمیں اس سے محفوظ کر دے۔ شیطانوں نے جو جال بچھائے ہوئے ہیں، ان جالوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔

واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔


رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ