اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِيْنَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُوْنَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗفَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصٰى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَآرٍّ ۚ وَّصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ ﴿12﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ
"اور تم کو آدھا ملے گا اس ترکہ کا جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں۔
یعنی اگر کوئی عورت فوت ہو جائے، تو خاوند کے بارے میں حکم ہے۔
اگر ان کی کچھ اولاد نہ ہو (نہ مذکر نہ مؤنث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر ان بیویوں کی کچھ اولاد ہو (خواہ تم سے ہو یا پہلے شوہر سے) تو (اس صورت میں) تم کو ان کے ترکہ سے ایک چوتھائی ملے گا لیکن ہر صورت میں یہ میراث) وصیت (کے قدر مال) نکالنے کے بعد کہ وہ اس کی وصیت کر جائیں یا قرض (اگر ہو تو اس کی ادائیگی) کے بعد (ملے گی) اور بیویوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ (خواہ وہ ایک ہو یا کئی ہوں تو چوتھائی سب میں برابر بٹ جائے گا) اگر تمہاری کچھ اولاد نہ ہو (نہ مذکر نہ مؤنث نہ واحد نہ کثیر) اور اگر تمہاری کچھ اولاد ہو تو (اس صورت میں) ان کو (خواہ وہ ایک ہو یا کئی) تمہارے ترکہ سے آٹھواں حصہ ملے گا
( تو یہ دو صورتیں ہوئیں۔ اور دونوں صورتوں میں بقیہ دوسرے ورثاء کو ملے گا)لیکن یہ میراث وصیت کے بقدر مال نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا قرض اگر ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد ملے گی۔(ترجمہ: بیان القرآن)
جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا تھا کہ یہ ابھی آیاتِ میراث شروع ہیں۔ اور میراث، یہ بہت گہرا علم ہے۔ اور لوگوں کے پتہ نہیں یعنی جو دوسرے مذہب کے لوگ ہیں وہ میراث کے بارے میں جو باتیں ہوتی ہیں، کافی صفحوں میں ہوتی ہیں ۔تو یہاں پر صرف ایک رکوع میں اتنا کچھ آ گیا، یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ اس سے جو احکامات ثابت ہوتے ہیں وہ ظاہر ہے سامنے کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں پہلے جو بیان ہوا ہے میاں بیوی کے حصےکا۔ جیسے کہ فرمایا: "وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ" یعنی جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں۔ اس کا مطلب ہے شوہر زندہ ہے اور بیوی فوت ہو گئی ہے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
تو جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ میراث کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو پہلے بات ہوئی تھی نا کہ ذوی الفروض اور عصبات۔ یعنی ذوی الفروض وہ ہیں جن کے حصے قرآن پاک میں موجود ہیں، بتائے گئے ہیں۔ ان حصوں کا مطلب ہے proportions۔ یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے ہم کہتے ہیں کوئی جز، ایک بٹا آٹھ، ایک بٹا دو، ایک بٹا تین، جو بھی ہے تو اس کو ہم فرائض کہتے ہیں۔ اور ان حصے والوں کو ذوی الفروض کہتے ہیں۔
جبکہ دوسری صورت میں جب بالکل ذوی الفروض کو اپنے اپنے حصے دیے جائیں، تو کُل سے جو باقی رہتا ہے، کل سے جو باقی رہتا ہے، مثال کے طور پر ایک بٹا دو نکال لو، ایک بٹا تین نکال لو تو جو باقی بچتا ہے، تو وہ عصبات کو ملے گا۔ "عصبہ" وہ قریبی رشتہ دار ہیں جو، جن کو ذوی الفروض میں حصہ نہیں ملتا۔ اور اس میں پھر ترتیب یہ ہوتی ہے، hierarchy ہوتی ہے کہ کون سا کتنا قریب ہے۔ مثلاً: اولاد، جس قسم کی بھی ہے وہ سب سے زیادہ قریب ہے۔ پھر باپ اور جو مزید اجداد ہیں وہ پھر قریب ہیں۔ اور پھر اس کے بعد حواشی ہیں۔
"حواشی" ان کو کہتے ہیں جو اپنے ماں باپ کی اولاد ہیں، وہ حواشی کہلاتے ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ وہ اصلی بھی، حقیقی بھی ہو سکتے ہیں، علاتی بھی ہو سکتے ہیں۔ اخیافی نہیں۔ اخیافی جو ہوتے ہیں وہ جو ماں کی طرف سے ہوتے ہیں، بہن بھائی، ان کا حصہ ذوی الفروض میں شامل ہے۔ ان کا حصہ ذوی الفروض میں شامل ہے۔ اور جو حقیقی بہن بھائی ہیں وہ اور علاتی بہن بھائی، یہ عصبات میں شامل ہیں۔ تو پھر حقیقی بھائیوں کی جو اولاد ہے وہ بھی عصبات میں شامل ہیں، اور علاتی بھائیوں کی جو اولاد ہے وہ بھی شامل ہے، مطلب اس میں۔
پھر اس کے بعد وہ جو چچا کی اولاد، پھر ان کی اولاد۔ پھر اس کے بعد اس طریقے سے مطلب، چچا اور چچا کی اولاد۔ پھر اس کے بعد علاتی چچا اور چچا کی اولاد۔ پھر اس کے بعد دادا کے بھائی اور اس کی اولاد۔ پھر اس کے بعد دادا کے علاتی بھائی اور اس کی اولاد۔ اس طریقے سے یہ قربت کا رشتہ ہے۔ پھر ان میں سے جو بہن بھائی قریب ہیں، اور بھائی کی اولاد اس کے بعد ہے۔ تو اس طریقے سے ہم لوگ قربت کا ایک پورا نقشہ بنا سکتے ہیں۔ اس کو ہم نے نام دیا ہے، عصبات کا شجرہ، شجرۂ عصبات۔ جیسے ہم شجرے لکھتے ہیں نا، تو اس طرح یہ شجرہ بن سکتا ہے۔ اور یہ اگر کوئی طریقہ سیکھ لے، تو پانچ منٹ میں انسان خود بنا سکتا ہے۔ یہ کوئی مشکل نہیں ہے۔ کتابوں میں اس پر کافی تفصیل سے لکھا گیا تھا، لیکن الحمد للہ ہم نے اس کو ایک Tree کی صورت میں دے کے، کافی آسان کر دیا کہ اصول معلوم ہوں، تو پانچ منٹ میں انسان اپنا Tree خود بنا سکتا ہے۔ تو ایک طریقہ ہوتا ہے Descriptive اور ایک ہوتا ہے Graphical۔ تو Descriptive method میں بہت تفصیل ہوتی ہے، وہ یاد رکھنا آسان نہیں ہوتا اور لوگ سمجھتے ہیں یہ تو نہیں ہو سکتا۔ اس وجہ سے، پہلے وقتوں میں، لوگ کہتے تھے میراث بہت زیادہ مشکل ہے۔ میراث کا علم بہت زیادہ مشکل ہے۔ مشکل کیوں تھا؟ کہ ہر چیز کو یاد رکھا جاتا تھا۔ ہر چیز کو یاد رکھا جاتا تھا۔ الحمد للہ ہمارے ہاں جو میراث پڑھایا جاتا ہے اس میں پہلا قانون ہمارایہ ہے کہ کوئی چیز یاد نہیں رکھنی۔ یاد رکھنے پہ پابندی ہوتی ہے۔ اس کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دو کام بیک وقت بڑا مشکل ہوتا ہے کہ آپ یاد بھی رکھیں اور سمجھ بھی جائیں۔ تو اس وجہ سے چونکہ یاد نہیں رکھا جاتا، تو سمجھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ میراث شاید بہت زیادہ مشکل علم ہے۔
حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ آپ قواعد یاد رکھ لیں۔ اور کتاب آپ کے پاس موجود ہے، نقشہ آپ کے پاس موجود ہے، اس سے آپ دیکھ لیں۔ مجھے بتاؤ، اگر کوئی کسی کے پاس میراث کا مسئلہ لایا ہے، تو کیا یہ قانوناً منع ہے کہ وہ کتاب نہیں دیکھے گا؟ یا کسی نقشے کو نہیں دیکھے گا؟ ظاہر ہے منع تو نہیں ہے نا، تو آپ اپنے سامنے لگا دیں نا، دارالافتاء میں لگا دیں۔ اور جو آئے اس نقشے کو دیکھ دیکھ کر سوال حل کرتے رہیں۔
اچھا، ایک تو یہ بات ہے۔ ایک ہوتا ہے چیز کو یاد رکھنا، ایک چیز ہوتی ہے کسی چیز کا یاد ہو جانا، ان دو میں فرق ہے۔ استعمال کے ساتھ چیزیں یاد ہو جاتی ہیں۔ آپ بار بار جب استعمال کرتے ہیں تو ابتدائی وقت میں تو آپ نقشے کو دیکھیں گے، پھر بعد میں نقشہ دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ آپ کو نقشہ مستحضر ہو جائے گا۔ لیکن وہ نقشہ جو مستحضر ہو گیا، وہ آپ کے استعمال سے مستحضر ہو گیا۔ نتیجتاً وہ آپ کو کبھی نہیں بھولے گا۔ وہ آپ کو ایسے یاد ہو جائے گا کہ آپ کبھی نہیں بھولیں گے۔ اس صورت میں گویا کہ تدریجاً آپ کے لیے وہ علم بہت آسان ہو گیا، اور عملی طور پر آسان ہو گیا۔ تو یہی طریقہ الحمد للہ، یہ ایک نفسیاتی گویا کہ ذریعہ تھا جس کے ذریعے سے اس علم کو یعنی آسان الحمد للہ کر دیا گیا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ ہماری کتاب ہے "فہم المیراث مدلل"، اس میں یہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ اور ساتھ ایک کتاب اور ہے "آسان میراث"، وہ بھی ہے ما شاء اللہ۔ تو اس کے ذریعے سے ما شاء اللہ چیزیں بہت زیادہ آسان ہو گئی ہیں۔ یہ اس کی مثالیں میں نے آپ کو چند دے دیں۔تو میں عرض کر رہا تھا کہ ایک تو بڑی جو تھی تقسیم، وہ ذوی الفروض اور عصبات کی تھی۔ اس کے بعد ذوی الفروض میں تقسیم ہے۔ تو اس میں ذوی الفروض میں جو تقسیم ہے وہ بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک ذوی الفروض نسبی، اور ایک ہے ذوی الفروض سببی۔ ذوی الفروض نسبی جو ہوتے ہیں وہ خون کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ یعنی جیسے ہوتا ہے بہن ،بھائی ہیں، اولاد ہیں، اجداد ہیں۔ یہ خون کے لحاظ سے، یہ تبدیل نہیں ہو سکتے۔ یہ بس جیسے پہلے سے چلا آ رہا ہے تو اسی طرح ہو گا، اس کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ لیکن ذوی الفروض سببی جو ہے وہ ایک سبب سے ہوتا ہے، اور سبب تبدیل ہو جائے تو وہ چیز بھی تبدیل ہو جائے گی۔ تو جیسے نکاح سبب ہے۔ تو اس وجہ سے میاں بیوی کا جو رشتہ ہے، وہ کیا ہے؟ ذوی الفروض سببی کا ہے۔ اگر نکاح ٹوٹ گیا تو وہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔ میراث بھی ختم۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو ہے نا، تو ان کا جو ابھی ذوی الفروض، جن کا حصہ ابھی بتایا جا رہا ہے، یہ ذوی الفروض سببی ہیں۔ کیونکہ میاں بیوی کا حصہ ہے نا۔
اگر میت مرد ہے اور اس کی اولاد موجود ہے یا اس کی موت کے بعد اس کی اولاد موجود رہی تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا اور اگر وہ لاولد مرا ہے تو اس کی بیوی کو ایک چوتھائی ملے گا۔ اگر میت عورت ہے اور اس کی اولاد موجود ہے یا اس کی موت کے بعد اس کی اولاد موجود رہی ہے تو اس کے خاوند کو ایک چوتھائی حصہ ملے گا اور اگر وہ لاولد مری ہے تو اس کے خاوند کو آدھا ترکہ ملے گا۔
تو اگر دیکھا جائے تو اس میں "لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ" والا قانون بالکل وہ موجود ہے۔ کہ چونکہ خاوند کو تو مطلب جو ملتا ہے وہ یا ایک چوتھائی ملتا ہے، یا آدھا ملتا ہے۔ صرف اولاد کی موجودگی اور غیر موجودگی کی وجہ سے فرق پڑتا ہے۔ اور جبکہ جو بیوی ہے، تو اس کو اولاد کے موجود ہونے کی صورت میں ایک بٹا آٹھ، اور موجود نہ ہونے کی صورت میں ایک بٹا چار۔ تو گویا کہ وہی "لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ" والی بات اس میں بھی آ جاتی ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ چونکہ تفصیلی باتیں ہیں، اس وجہ سے میرے خیال میں اتنے حصے کا ہی ہم آج کر لیتے ہیں۔ اس کا جو ہے نا ان شاء اللہ العزیز جو بقیہ حصہ ہے، وہ کل ان شاء اللہ سامنے رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ