اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کس صدقہ میں زیادہ ثواب ہے؟
(90) الرَّابِعُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ”أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيْحٌ شَحِيْحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ. قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَ لِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ“ (متفق عليه)
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس قسم کے صدقہ کا ثواب زیادہ ہے؟ فرمایا تندرستی، بخل کی موجودگی، افلاس کے ڈر اور غنا کی امید کی حالت میں صدقہ خیرات کرنا اور صدقہ کرنے میں سستی نہ کیجئے یہاں تک کہ جب سانس حلق کی طرف آنے لگے تو پھر تو کہنا شروع کرے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا۔“
ایک آدمی آیا، اس کے نام کے بارے میں بھی محدثین خاموش ہیں۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہو سکتا ہے کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں۔ پوچھا: کس قسم کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ دوسری روایت میں ہے: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ یعنی کون سا صدقہ زیادہ افضل ہے؟ فرمایا: «أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ» کہ تم تندرست ہو۔ «شَحِيحٌ» اور بخل کی موجودگی اور افلاس کے ڈر کی حالت میں ہو۔
صدقہ کے بارے میں پوچھا ہے کسی صحابی نے۔ یا رسول اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے یا کون سے صدقے کا ثواب زیادہ ہے؟ تو یہ فرمایا کہ "تندرستی"۔ مطلب تندرستی سے مراد یہ ہے کہ انسان جب بیمار ہوتا ہے تو مجبور ہوتا ہے، پھر کہتا ہے میں تو جا ہی رہا ہوں، تو چلو وہ چھوٹا جا رہا ہے تو پھر وہ کہتا ہے چلو لوگوں کو دے دو۔
تو فرمایا تمہیں خود یعنی اس کی طلب ہو، تندرستی ہو، بخل ہو، یعنی بخل سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا دل نہ چاہے۔ بخل ہو۔ افلاس کا ڈر ہو کہ کہیں غریب نہ ہو جاؤں۔ اور غنیٰ کی امید ہو، یعنی مطلب یہ ہے کہ آدمی چاہے کہ بس مجھے، میرے پاس مال ہونا چاہیے، امید کی حالت میں صدقہ خیرات کرنا، یہ افضل ہے۔
اصل میں یہاں پر اگر ہم دیکھیں تو بہت زبردست قسم کے اس میں Analysis ہو سکتی ہے۔ وہ یہ بات ہے کہ دیکھیں، جب منفی چیز موجود ہو تو منفی کو مثبت کی طرف لانا، یہ ایک کام ہوتا ہے پورا۔ مثال کے طور پر میں پانی گرم کرتا ہوں، تو پانی 20 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہے، اس کو میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ پر لانا چاہتا ہوں، تو اس میں 30 ڈگری بڑھا رہا ہوں۔ لیکن پانی اگر منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہو، تو اس میں 60 ڈگری سینٹی گریڈ میں بڑھا رہا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں کام زیادہ ہے۔
تو کوئی پوچھے کہ بھئی، Energy کس چیز پہ زیادہ خرچ ہو گی؟ تو ظاہر ہے ہم کہیں گے جو ٹھنڈے پانی کو گرم کیا جائے گا تو زیادہ خرچ ہو گی۔ تو اس طریقے سے ایک آدمی سخی ہے، تو وہ دے رہا ہے تو بس ٹھیک ہے، اس کو ظاہر ہے اتنا محسوس بھی نہیں ہو رہا۔ لیکن بخیل ہو اور پھر دے، تو پھر ظاہر ہے۔
لوگ بھی ویسے بخیل کے خیرات کو زیادہ Appreciate کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہمارے گاؤں وغیرہ میں بھی یہ ہے کہ: ”واہ خشو دے، دغہ د لاس نہ ملاؤ شو“۔ وہ کہتے ہیں وہ تو بخیل ہے، اس کے ہاتھ سے کچھ مل گیا! تو یہ مطلب لوگوں میں بھی Appreciation ہوتی ہے کہ جو بخیل ہوتا ہے، اس کے ہاتھ سے اگر کچھ مل جائے تو کہتے ہیں واقعی اب یہ اس کو خاص رکھنا چاہیے۔
تو ایک تو یہ بات ہے، اور دوسرا یہ کہ افلاس کا ڈر ہو۔ یعنی پتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے، تو میں اگر دوں گا تو پھر کیا کروں گا؟ اور غنیٰ کی امید ہو، یعنی حالت میں ہو، مطلب یہ ہے کہ آدمی چاہتا ہو۔ تو پھر یہ جو صدقہ ہے، یہ افضل صدقہ ہے۔
اب ایک اصول بتا دیا۔ صدقہ کرنے میں سستی نہیں کرنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری سانس آخری حد پہ آ جائے اور پھر تم کہہ لو کہ یہ فلاں کو دے، یہ فلاں کو دے، یہ فلاں کو، وہ تو کسی کا ہو گیا۔ تمھیں اسے پتا چل گیا کہ آخر وقت میں جو وصیت کرنا ہے، اس پہ کچھ پابندیاں ہیں۔ اور وہ قرآن پاک میں پھر آتا ہے اور حدیث شریفہ میں بھی آتا ہے۔ حدیث شریف میں تو ثلث کا آتا ہے نا، کہ مطلب یہ ہے کہ ایک تہائی تک وہ ہو سکتا ہے۔ تو اس وقت یعنی مرض الموت میں جو یعنی انسان کرتا ہے، تندرستی میں کرتا ہے وہ علیحدہ بات ہے۔
تو یہ فرمایا کہ تم اس وقت کہو کہ فلاں کو اتنا دو، فلاں کو اتنا دو، فلاں کو، حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا۔ یعنی وارثوں کا ہو چکا۔ اب تم اس کو تقسیم نہیں کر سکتے۔
تو یہ بات ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح طریقے سے صدقہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دیکھیں نا یہاں پر فرمایا:
أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ: کہ تم تندرست اور بخل کی موجودگی اور افلاس کے ڈر کی حالت میں ہو ایک دوسری روایت میں ہے "وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ"۔ "کہ آدمی اپنی صحت اور تندرستی کی حالت میں تھوڑا سا بھی مال صدقہ کرے یہ افضل ہے کیونکہ صدقہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور توکل کے ساتھ کرے گا اس کو معلوم ہے کہ ہو سکتا ہے اس مال کی کل اس کو ضرورت پیش آ جائے۔ اس کے باوجود وہ صدقہ کر رہا ہے۔
تندرستی میں صدقہ دینے کی فضیلت
وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا۔ "سستی نہ کریں یہاں تک سانس حلق میں چلی جائے پھر کہنے لگے کہ فلاں کو اتنا فلاں کو اتنا" اس میں ترغیب ہے کہ موت تک سستی نہ کی جائے جس وقت خیال آئے اسی وقت صدقہ کر دے۔ ایک دوسری روایت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةٍ عِنْدَ مَوْتِهِ۔ تندرستی میں ایک درہم کا صدقہ مرتے وقت کے سو درہم سے بہتر ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے۔
مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ كَالَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ۔
ترجمہ: "اس شخص کی مثال جو اپنی موت کے وقت صدقہ کرے یا غلام آزاد کرے اس شخص کی طرح ہے جو کسی کو ایسے وقت میں تحفہ دے جب کہ اس کا پیٹ بھر چکا ہو۔"
دوسری بات یہ ہے کہ موت کے وقت میں اس کے مال میں وارثوں کا حق بن جاتا ہے بلکہ اگر وہ اس وقت میں صدقہ بھی کرنا چاہے تو صرف تہائی مال ایک بٹا تین سے زیادہ نہیں کر سکتا ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔