اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَاَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
أَمَّا بَعْدُ!
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سادگی کی تعلیم
ارشاد: امتیازی شان نہ بنانا چاہیے، اسی لیے ہمارے بزرگ نہ عبا پہنتے ہیں، نہ چوغہ، نہ صدری کہ اس سے خواہ مخواہ آدمی دوسروں سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے اپنے اکابر کو صدری پہننے کا عادی نہیں دیکھا، یہ رواج عموم و لزوم کے ساتھ آج کل ہی نکلا ہے اور اس کو بھی لوگوں نے علماء کا خاص امتیازی شعار بنا لیا ہے۔
یہ اصل میں واقعتاً اگر دیکھا جائے تو آپ ﷺ کو دیکھا جائے کہ آپ ﷺ نے اس طرح نہیں کیا، کبھی کبھار کیا ہو گا لیکن باقاعدگی کے ساتھ نہیں فرمایا۔ اور دوسری طرف بعض لوگوں نے تو اس کو لازم سمجھ لیا کہ خطبہ دیتے وقت لمبا چوڑا عبا پہننا اور اس قسم کچھ رسمی کارروائی کرنا۔ ہمارا دین رسمی کارروائیوں کا پابند تھوڑا ہی ہے؟، وہ تو اصل کو دیکھتا ہے۔
دین کی عزت پر سارا مال قربان
ارشاد:واللہ لاکھوں اور کروڑوں روپیہ بھی ملتے ہوں مگر دین کی عزت اس کے لینے سے کم ہوتی ہو تو ایسے روپیہ پر لعنت بھیجنی چاہیے اور مانگنا تو در کنار۔
یہ بات آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ بہت جگہوں پر دین اس کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے۔ مطلب یہ صحیح بات ہے۔ کیونکہ لوگ چندوں کے لیے ایسے لوگوں کی باتیں برداشت کرتے ہیں جو کہ مطالبات کرواتے ہیں اور منواتے ہیں، اور ان چیزوں میں رہ جاتے ہیں۔ تو ہمیں اللہ پہ بھروسہ کرنا چاہیے۔ ہمیں چندے کے لیے تو نہیں زندگی گزارنی چاہیے۔ جتنا کام انسان کر سکتا ہے بس کرے، اور اگر نہ ہو سکے تو نہ کرے بس۔ اس کے لیے اسباب جب نہیں ہیں تو نہ کرے۔ ہاں! اللہ پاک سے دعا کرتے رہیں، اللہ پاک نے اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ مطلب خواہ مخواہ بڑا مدرسہ بنانا، بڑی خانقاہ بنانا یا بہت بڑی چیز شروع کرنا، یہ تو ہمارے لیے مطلوب نہیں ہے۔ مطلوب تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ پاک خود اسباب پیدا کر لیں تو ٹھیک ہے، نہیں تو اس کے لیے انسان اپنے دین کو ضائع نہ کرے۔ یہ مقصود ہے۔
شریعت نے مقصوداً مال جمع کرنے سے منع کیا ہے
ارشاد: شریعت نے مقصوداً مال جمع کرنے سے منع کیا ہے اور اس کو مسلمانوں کے لیے مضر بتلایا ہے، (مگر جو اِدھر اُدھر تقسیم کرتا رہے)۔ علماء نے لکھا ہے کہ اطمینانِ قلب کے لیے بھی مال جمع کرنا جائز ہے، مگر جواز سے اس کا مطلوب و مقصود ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اصل مقصود تو آخرت کی طرف مسلمان کو متوجہ ہونا ہے۔ اگر کسی کو بدوں مال جمع کیے اطمینان نہ ہوتا ہو تو اس وقت دین ہی کی مصلحت سے جمع مال کی اجازت دی گئی ہے۔ کیونکہ بدوں اطمینان کے دین کا کام بھی نہیں ہو سکتا۔ اور جب جائیداد حسبِ میراث شرعی تقسیم ہو کر دس گھروں میں پہنچے گی تو دس آدمیوں کو اطمینان نصیب ہو گا۔ بخلاف اس کے کہ اگر ساری جائیداد ایک ہی گھر میں رہتی تو صرف اسی گھر کو اطمینان و دل جمعی ہوتی لہٰذا مسئلہ میراث خلافِ حکمت ہرگز نہیں۔
اصل میں علمائے کرام کے پاس بہت ساری باتیں عوام سے آتی ہیں، عوام کی طرف سے۔ اور علمائے کرام اس کے حل بتاتے جاتے ہیں، مشکلات بھی عوام کی آتی ہیں۔ اور عوام میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ بڑے بڑے Professor ہوتے ہیں لیکن عوام کی تعریف میں وہ آتے ہیں۔ کیونکہ Professor تو ظاہر ہے وہ اپنے فیلڈ میں ہے نا، تو دین میں تو پروفیسر نہیں ہے۔ تو لہذا بعض دفعہ Professor ہوتے ہیں، بڑے Leader ہوتے ہیں، لیکن وہ دین کی بنیادی باتوں کو بھی نہیں جانتے۔ لہٰذا وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں نا جو انسان حیران ہو جاتا ہے۔
تو اس میں یہ میراث کا مسئلہ ہے، بعض لوگ چھیڑتے ہیں اس کو کہ میراث سے مطلب ظاہر ہے وہ ساری چیزیں ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں، ایک گھر ہے دس حصوں میں تقسیم ہو گیا، تو کیا مطلب ہے؟ تو یہ جو ہے مصلحت کے خلاف ہے۔ اس قسم کی باتیں لوگ کرتے ہیں۔
تو اصل میں بات یہ ہے کہ قرآن پاک میں ایک واقعہ ہے، اس کے بارے میں ذرا تھوڑا سا اس طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس دو آدمی آ گئے۔ تو ایک نے کہا کہ: اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہے۔ تو یہ مجھے کہتا ہے ایک مجھے دے دو تاکہ میرے سو ہو جائیں۔
وہ ظاہر ہے اس کو تو سو کا پورا کرنا بڑا اہم لگتا تھا، لیکن دوسرے کے پاس صرف ایک ہے وہ بھی اس سے چھیننا چاہتا ہے۔ تو یہ خود غرضی کی ظاہر ہے انتہا ہے۔ تو یہ اصل میں اشارہ دیا گیا کہ Capitalism اصل میں یہی چیز ہے۔ قرآن کے اندر اگر Capitalism کی طرف اشارہ ہے تو یہ آیت بھی اس طرف اشارہ ہے۔ Capitalism میں یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے پیسے کے زور سے باقی لوگوں کے پاس جو تھوڑا پیسہ ہوتا ہے اس کو اپنی جیبوں میں Drain کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک سادہ آدمی تھا اس کو کسی نے کہا کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ تو وہ گیا اور ایک روپیہ لے لیا اور اور جو دکاندار کا گلہ تھا اس کے اندر پیسے پڑے ہوئے تھے، اس کی طرف اس طرح پکڑا۔ تو دکاندار وہ سودا دیتے رہا اس کو پتہ نہیں لگا کہ کیا بات ہے۔ خیر بہرحال وہ سمجھ رہا کہ شاید وہ یہ مجھے دینا چاہتا ہے، وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔ آخر میں اس کو غصہ آ گیا کہ کھینچ کیوں نہیں رہا؟ تو اس نے پھینک دیا اسی گلے میں۔ تو دکاندار نے کہا یہ کیا کر رہے ہو؟ کیوں؟ کہتا ہے مجھے کسی نے کہا پیسے پیسے کو کھینچتا ہے، میرے پکڑے ہوئے پیسے نہیں آ رہے تو میں نے کہا چلو اس کو پھینک دیا، بیکار ہے۔ تو کہتا بات تو صحیح کی انہوں نے، زیادہ پیسے تھوڑوں کو کھینچتے ہیں نا، کہ زیادہ پیسے نے آپ کے تھوڑے کو کھینچ لیا۔
تو دنیا کا قانون تو یہی ہے۔ دنیا میں تو زیادہ پیسے تھوڑے کو کھینچتے ہیں۔ لہٰذا غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے، مالدار مالدار تر ہوتا جاتا ہے۔ لیکن شریعت کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ شریعت میں یہ طریقہ بتایا گیا کہ جو مالدار ہے، وہ کسی طریقے سے غریب تک پہنچائے۔ تو زکوٰۃ بھی اس میں ہے، خیرات بھی اس میں ہے، صدقات اس میں ہے، جرمانہ اگر کفارہ ادا کرنا ہو تو وہ اس میں ہے۔ مطلب جس طریقے سے بھی،مختلف طریقوں سے مالدار کے جیب سے نکال کے غریب تک پہنچانا ہوتا ہے۔ تو شریعت کا طریقہ تو یہ ہے۔ اور جو دنیا کا طریقہ وہ یہ ہے کہ غریب کے جیب سے نکال نکال کے مالدار کی جیب میں پہنچا دو۔
تو یہاں پر یہ فرمایا گیا ہے کہ :
"شریعت نے مقصوداً مال کو جمع کرنے سے منع کیا ہے"۔
مطلب اس کو مقصود نہ بنائیں۔ ایک ذریعہ کے طور پر ٹھیک ہے۔ اور وہ ذریعہ سب سے بڑا ذریعہ اس کا یہ اطمینانِ قلب ہے۔
مثال کے طور پر ایک آدمی ہے اس کے پاس نہ ہو مال، اور وہ اتنا متوکل نہ ہو، تو وہ پھر پریشان ہو گا کہ میں کیا کروں گا؟ کل کیا ہو گا؟ پرسوں کیا ہو گا؟ اس کے ساتھ مسائل ہوں گے۔ تو اس کے لیے کہا کہ جو مال ہے تم بجائے دوسروں کو دینے کے، ظاہر ہے جو ضروری دینا ہے وہ تو ہے، لیکن جو خیراتی ہے مطلب جس کو کہتے ہیں نا وہ نفلی ہے، تو اس میں اپنے اطمینان کے لیے اپنے پاس رکھو۔ لیکن مقصوداً نہیں۔ مقصوداً نہیں بلکہ اس کو ذریعہ کے طور پر اور وہ ذریعہ اطمینانِ قلب ہے۔
باقی یہ ہے کہ جہاں تک میراث کی بات ہے وہ تو Standing Order ہے۔ اس کو تو پورا کرنا ہے چاہے آپ کی بات سمجھ میں آئے نہ آئے۔ میراث کو تقسیم کرنا ہوتا ہے چاہے وہ ویسے ٹوٹ ٹوٹ کر جو ہے نا وہ بہت سارے لوگوں میں تقسیم ہو جائے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا نا، اصل میں لوگوں کا خیال نہیں ہوتا بہت ساری چیزوں میں۔ ہم یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے جب میں نیا نیا job میں آ گیا تھا۔ ہمارے ایک ٹیچر تھے، اب فوت ہو گئے ہیں، اس نے گھر بنایا تھااپنا، اسلام آباد میں گھر بنایا تھا۔ اس وقت پانچ لاکھ روپے میں اسلام آباد میں گھر بن جاتا تھا۔ اب اندازہ کر لیں کہ وہ کون سا ٹائم ہو گا۔ پانچ لاکھ میں اس کا گھر بن گیا تھا۔
تو بہرحال یہ ہے کہ وہ ہمیں Invite کیا تھا کھانے پہ، تو ہم ان کا کھانا کھانے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ تو کھانا کھانے کے دوران آپس میں گپ شپ وغیرہ ہوتی رہی۔ تو اس ٹیچر کو کسی نے کہا کہ: آپ خوش ہیں گھر بنانے پر ؟کیونکہ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو گھر نصیب کیا۔ کہتے ہاں صحیح ہے لیکن میں نے غلطی کی۔ کہتے کیا؟ کہتے اگر یہ میں پانچ لاکھ روپے بینک میں Deposit کر لیتا، تو 14% اس پہ منافع ملتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے 70 ہزار Per Year مجھے منافع ملتا، 70 ہزار۔ تو اگر بارہ پہ تقسیم کرو تقریباً چھ ہزار روپے Per Month بنتا ہے۔ ان دنوں دو ہزار روپے کرایہ مکانوں کا ہوتا تھا۔ تو اس میں مجھے دو ہزار روپے ملتے ہیں اور اور اس وقت مجھے چھ ہزار روپے ملتے۔
تو مجھے آیا تو بہت بڑا غصہ لیکن وہ ٹیچر تھے تو میں نے کچھ کہا نہیں۔ کہ خدا کے بندے نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ چھ ہزار روپے تو اس کا صرف Surplus تھا، اصل Amount تو پانچ لاکھ روپے ہی رہتا۔ لیکن یہ جو مکان کی قیمت Evaluate ہو رہی ہوتی ہے، یہ اس کو ذہن میں نہیں تھا کہ دس سال کے بعد مکان کی قیمت کیا ہو گا؟
تو وہی ہم نے دیکھا کہ دس سال کے بعد اس کی قیمت پندرہ لاکھ تک پہنچ گئی۔ پندرہ لاکھ تک۔ اب وہ دس لاکھ روپے وہ کدھر گئے؟ وہ آپ کو جو دو ہزار روپے Per Month مل گیا تو یوں سمجھ لیں کہ چوبیس ہزار تو یہ ہو گیا Per Annum۔ اور دس سال میں یہ دس لاکھ روپیہ بڑھ گیا۔ تو ایک لاکھ روپیہ، تو ایک لاکھ چوبیس ہزار اس کو مل رہا ہے، سالانہ اس کے حساب سے۔ اس کو یہ خیال نہیں تھا۔
تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کو نہیں دیکھتے کہ اور ذریعوں سے بھی جو مل رہے ہوتے ہیں اس کا کیا ہوتا ہے۔ تو اور ذریعوں سے جو مل رہے ہوتے ہیں اب مثال کے طور پر یہ میراث، اب ظاہر ہے ایک آدمی کو ایک جگہ سے تو نہیں مل رہا ہوتا۔ تو کچھ ادھر سے مل گیا، کچھ دوسری جگہ سے، کچھ تیسری جگہ سے مل گیا۔ تو تقریباً ہر ایک کا کام بن جاتا ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ لوگوں کی اس پہ نظر نہیں ہوتی وہ کہتے ہیں بھئی یہ تقسیم ہو رہا ہے، بھئی تقسیم ہونے دو۔ جب اللہ تعالیٰ کی مرضی کیونکہ اصل مال تو اللہ کا ہے۔ اگر اللہ چاہتا ہے کہ تقسیم کر لو تو بالکل ظاہر ہے ہم تو تقسیم کریں گے۔ ہاں! اس میں پھر یہی تقسیم کرنا ہی فائدہ ہے۔ ٹھیک ہے نا۔
اس طریق میں نفع کی شرط
ارشاد: نفع اس طریق میں اس طرح ہوتا ہے کہ لذت و نفع پر نظر نہ کرے، بلکہ کام ہی کو مقصود سمجھے۔ میں تو ایسے لوگوں سے جو ذکر میں مزا نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں کہہ دیتا ہوں کہ میاں مزا تو مذی میں ہے، یہاں مزا کہاں، یہ تو لوہے کے چنے ہیں، اگر لوہے کے چنے چبانے ہوں تو آؤ، اور اگر یہ منظور نہیں تو عشق کا نام نہ لو:
؎ عاشقی چیست بگو بندۂ جاناں بودن
دلِ بدستِ و گرے دادن و حیراں بودن
مطلب یہ ہے کہ یہ اصل میں بات یہ ہے کہ لوگ اس میں مزے تلاش کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں نا جی بس ذکر میں بڑا مزہ آ رہا ہے۔ جو یہ کہتا ہے مجھے ڈر ہوتا ہے، میں نے کہا پتہ نہیں یا اللہ اس پہ کوئی امتحان نہ آ جائے۔ کیونکہ ابھی اس کی عقل نہیں آئی، Mature نہیں ہوا۔ جو یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے ذکر میں بڑا مزہ آ رہا ہے۔
بھئی مزہ آ رہا ہے اللہ کا شکر کر لو، لیکن اس کو مقصود نہ سمجھو۔ حضرت فرماتے ہیں:" بھئی یہ محمود ہے مقصود نہیں ہے"۔ وہ خوش قسمت آدمی ہے جس کو مزہ نہ آتا ہو اور پھر بھی وہ کیے جا رہا ہے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے استقامت سے نوازا ہے۔ استقامت کا پتہ ہی اس وقت چلتا ہے جب ناگوار ہو اور پھر بھی کر رہا ہو۔
وہ کہتے ہیں کسی نے کہا میاں بیوی نے نئی شادی کی تھی۔ تو کسی جاننے والے نے اس سے پوچھا کیا خیال ہے کوئی لڑائی وڑائی ہوئی ہے؟ کہتے نہیں ہوئی ہے۔ کہتے بس ابھی خطرہ ہے۔ کہتے ہیں: کمبخت، لوگ تو جب لڑائی ہوتی ہے کہتے ہیں خطرہ ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ لڑائی نہیں ہوئی پھر بھی خطرہ ہے؟ یہ کیا مسئلہ ہے؟
کہتے ہیں لڑائی ہو کر بھی اس چیز کا باقی رہنا یہ Stable شادی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اب ٹوٹے گی نہیں۔ چیک ہو گیا، ٹیسٹ ہو گیا۔ وہ نہیں ہوتا کوئی چیز آپ نے خریدی، آپ کو کیا پتہ کہ کتنی طاقتور ہے؟ اس کواس طرح مارتے ہیں نا۔ تو اگر ٹوٹ گیا تو ٹوٹ گیا پھر تو تو اگر ٹوٹا نہیں تو پھر تو Stable ہے نا۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ وہ اگر Toughness Test جس کو ہم کہتے ہیں نا، کیا کیسے کرتے ہیں؟ آرام سے کر لیتے ہیں؟ لیبارٹری میں اس کو اوپر ہاتھ پھیر لیتے ہیں Toughness Test ہو جاتا ہے؟ کیسے کرتے ہیں؟
تو یہ چیز جو ہے نا جس کو ذکر میں مزہ نہ آ رہا ہو اور پھر بھی وہ کر رہا ہو، تو سمجھو کہ وہ استقامت والا ہے، اس کو فائدہ ہو رہا ہے۔ اس کا دل اس کے ساتھ لگ گیا ہے۔ اس نے کام کو سمجھ لیا ہے۔ اور جو شخص مزے کے وقت کر رہا ہے تو ابھی مجھے کیا پتہ یہ جب مزہ نہیں ہو گا تو پھر کیا کرے گا؟ عین ممکن ہے بھاگ جائے۔
تو ایسے مطلب یہ ہے کہ یہاں پر فرمایا کہ: "بھئی یہ تو لوہے کے چنے چبانا ہے"۔ تربیت ہے نا۔ وہ ہمارے ایک بیٹا تھا نا وہ محمد، یہ غالباً ڈیڑھ سال کا ہو گا یا کیا ہو گا۔ تو اس کو یہ استھیما کا بیماری تھی بچوں کی جو استھیما جو ہوتے ہیں نا، سانس بند ہو جاتا ہے۔ تو اس کو Solucortef کا نجکشن ہمیں لگوانا ہوتا تھا فوراً۔ تو خیر میں ڈاکٹر ندیم کے پاس لے گیا تو وہ انجکشن وہ لگوا رہا تھا اس نے کچھ بھی نہیں کیا، رویا نہیں۔ مجھے کہتے ہیں یہ بچہ نارمل ہے؟ میں نے کہا Above normal نارمل ہے۔ کہتے ہیں کیا مطلب؟ میں نے کہا اس کو پتہ ہے کہ یہ انجکشن جو لگ رہا ہے یہ میرے فائدے کا ہے۔ اس کے بعد میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ اس کو تجربہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ رو نہیں رہا۔ یعنی اس کو پتہ ہے۔
اب ظاہر ہے یہ Maturity ہوتی ہے نا۔ بے شک وہ بچہ تھا لیکن اتنا Mature تھا کہ وہ جانتا تھا کہ یہ انجکشن میرے لیے مفید ہے حالانکہ انجکشن سے تو بچے ڈرتے ہیں۔اور بھاگتے ہیں اس سے۔ لیکن اس کو چونکہ پتہ تھا کہ اس سے مجھے آرام آ جاتا ہے، لہٰذا رو نہیں رہا تھا۔
تو یہی بات ہوتی ہے اگر کوئی Mature ہو جائے، اور جو مزہ نہیں ہے اور پھر بھی اس کے ساتھ وہ ذکر کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ الحمدللہ یہ اس کو Maturity حاصل ہو گئی ہے۔ اب اس کو ذکر کا فائدہ ہو گا۔ اب اس کو ذکر کا فائدہ ہو گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو ابھی فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔کہتے ہیں:
عاشقی چیست بگو بندۂ جاناں بودن
"عاشقی کیا ہے؟ کہہ دو جاناں کا بندہ بن جانا"
مطلب اس کو Follow کرنا۔
دل بدست دگرے دادن و حیراں بودن
" دل دوسرے کو دینا اور پھر حیران ہو جانا"
ٹھیک ہے نا؟ یہ عاشقی ہے۔
مہم کے درست ہونے کا طریقہ
ارشاد: اپنے بزرگوں کے ہاتھ سے جو ذِلّت ہو وہ ذِلّت نہیں، بلکہ بڑی عزّت ہے۔ اس لئے اپنے بزرگوں کے سامنے ذِلّت سے ناگواری نہ ہونا چاہئے یہی کامیابی اور عزّت کا پیش خیمہ ہے، فہم کی درستگی چاہتے ہو تو کاملین کے سامنے ہر ذِلّت کو گوارہ کر کے کچھ دنوں ان کے پاس رہو۔
اصل میں ہر ہر فن میں اس پر عمل ہو سکتا ہے، جو یہاں یہ بات فرمائی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ دنیا کی لائین کے بھی کمانے والے ہیں، وہ بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے استاد کے سامنے اپنے آپ کو مٹاتے ہیں تب کچھ ملتا ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا ہمارے ایک بھانجے تھے، ان کو کچھ مسئلہ ہوا، Confusion ہوئی، تو اس نے اپنے والدین کو کہا: "میں میٹرک کا امتحان نہیں دے سکتا۔" میں چلا گیا کسی کام سے، تو ان کے والدین نے کہا کہ اس طرح یہ فلاں تو یہ کہہ رہا ہے کہ میں میٹرک امتحان نہیں دے سکتا۔ میں نے کہا: "ان شاءاللہ میں سمجھا دوں گا۔"
اس کو میں نے بلایا۔ میں نے کہا: "کیوں امتحان نہیں دے رہے ہو؟"کہتے ہیں: "مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا۔ مجھے کچھ یاد نہیں ہوتا۔"
میں نے کہا: "تم جھوٹ کہتے ہو۔"
وہ سیخ پا ہو گیا کہ آپ کیسے میرے اوپر الزام لگاتے ہیں میں جھوٹ کہتا ہوں؟ مجھے پتا ہے، آپ کو پتا ہے؟
میں نے کہا: "مجھے پتا ہے۔"
کہتے ہیں: "کیسے؟"
میں نے کہا: "ابھی ثابت کر دوں ؟"
کہتے ہیں: "اچھا ثابت کر دو۔"
میں نے کہا: "آپ جو کتاب پہلی دفعہ پڑھتے ہیں، مثلاً وہ آپ نے ایک چیز کو چار گھنٹے میں دیکھ لیا۔ دوسری دفعہ دیکھو گے پھر بھی چار گھنٹے میں دیکھو گے؟"
کہتے ہیں: "نہیں"
میں نے کہا: "پھر؟"
کہتے ہیں: "ڈیڑھ گھنٹہ، دو گھنٹے لگ جائے گا۔"
میں نے کہا: "دو گھنٹے کہاں سے نکل آئے بتاؤ؟ اگر آپ کے ذہن میں کچھ بیٹھا نہیں ہے، تو یہ دو گھنٹے کم کیسے ہوئے؟ اس کی مجھے دلیل دو۔ اس کا مطلب ہے آپ کو کچھ ہو گیا نافائدہ؟ آپ کے ذہن میں آ گیا، تو اس وجہ سے آپ کے دو گھنٹے بچت ہو گئی اور اگر تیسری دفعہ کرو گے پھر؟ اس سے اور بھی کم ہو جائے گا۔"
میں نے کہا: "یہی بات ہے، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ Efficiency ہوتی ہے۔ سارا نہیں یاد ہوتا۔ جتنا جس کو یاد ہوتا ہے وہ اس کی Efficiency ہوتی ہے۔ تو اگر کسی کی Efficiency کم ہے تو وہ زیادہ بار دیکھے۔ یہ تو نہیں کہ اس کو یاد نہیں ہوتا۔ یہ تمہارا جھوٹ ہے، تم کہتے ہو مجھے یاد نہیں ہوتا۔"
وہ مان گئے، تسلیم کر لیا، کہتے ہیں: "ہاں بات صحیح ہے۔"
میں نے کہا: "بات سنو! اب میں آپ کو صرف دو چیزیں بتاؤں گا۔ ایک Study کا طریقہ بتاؤں گا، ایک Paper attempt کرنے کا طریقہ بتاؤں گا۔ بس ان شاءاللہ تمہارا کام ہو جائے گا۔"
اس نے کہا: "بالکل ٹھیک ہے"
Study کا طریقہ تو میں نے بتا دیا اسی وقت ہی، اس نے اس طریقے سے کام شروع کر لیا۔ Paper attempt کرنے کا طریقہ بتا دیا بعد میں۔ لیکن اس کو جب یقین ہو گیا کہ اس سے مجھے فائدہ ہوتا ہے۔
پھر میری منت سماجت شروع کر لی کہ میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں مطلب تاکہ میں آپ سے سیکھوں۔
میں نے کہا: "بھئی میرے شرائط بڑے سخت ہیں، نہیں ٹھہر سکتے ہو۔"میرے ساتھ کہتے ہیں: "کیسے؟"
میں نے کہا: "میں تمہیں اس شرط پر سکھا سکتا ہوں کہ جس وقت میرا موڈ ہو سکھانے کا، اس وقت تم آؤ گے، ویسے مجھ سے نہیں پوچھو گے۔ کیونکہ میں بھی ایف۔ایس۔سی کا تیاری کر رہا تھا۔"
تو میں نے کہا: "بھئی میں ہر وقت آپ کو نہیں پڑھا سکتا۔ جس وقت میں کہوں چاہے تمہارے ہاتھ آٹے میں گوندھنے میں -وہ کام کر رہا تھا خدمت کر رہا تھا گھر میں یہ لوگ کرتے تھے خدمت بھی کرتے تھے۔ تو وہ جو ہے نا وہ- میں نے کہا اگر تمہارے ہاتھ آٹے گوندھنے سے وہ بھی ہو، اس وقت بھی اگر میں تمہیں بلاؤں تو ہاتھ دھوئے بغیر پہنچنا ہے۔ پھر اگر میں کہوں تو پھر ہاتھ دھونے ہیں۔"
کہتے ہیں: "ٹھیک ہے بس مان گیا۔"
پھر اس کو میں نے اپنے ساتھ رکھا اور اس طریقے سے الحمدللہ آج وہ ماشاءاللہ پورا Garrisonچلارہےہیں انجینئرنگ اگریکلچر ۔ جو کہتا ہے میں میٹرک نہیں کر سکتا۔ اگریکلچر انجینئر ہے پھر۔
مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو یہ والی بات کہ دنیا کے اندر بھی جو لوگ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے۔ اپنے آپ کو پامال کرنا پڑتا ہے پھر کچھ ملتا ہے۔ تو دین کے معاملے میں جو کہ بہت زیادہ نازک لائن ہے، تو کیا اس میں یہ نہیں ہو گا؟ اس میں بھی یہ ہو گا۔ لہذا اس وجہ سے فرمایا کہ:" ہر ذلت کو انسان گوارا کر لے "اور جو ہے نا ان کے پاس یہ جو ہوتے ہیں نا، یہ آپ حیران ہوں گے کہ یہ جو مکینک ہوتے ہیں، کس طرح مکینک بنتے ہیں؟ کیا خیال ہے عظیم صاحب؟ کیسے بنتے ہیں؟ یہ جتنی گالیاں کھاتے ہیں، جتنے جھڑکیں کھاتے ہیں، وہ ہم نے دیکھے ہیں۔ پھر یہ خود بھی گالیاں دیتے ہیں اور جھڑکیاں دیتے ہیں جب یہ استاد بن جاتے ہیں۔ سیدھے منہ تو یہ بات کرنا جانتے ہی نہیں ہیں ان کے استاد۔
یعنی یہ تو ان کا جو ہے نا سیدھے منہ بات کرنا عادت ہی نہیں ہوتی۔ جب بھی کبھی بلائے گا: "او فلانے! ادھر آ جاؤ۔" کچھ دو تین گالیاں بھی ساتھ دیں گے، پھر وہ آئے گا۔ طریقہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ کوئی اس طرح کرے، یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن دیکھو انہوں نے تمام ذلت گوارا کی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ یہ ساری ذلت گوارا کی ہوتی ہے۔
وہ پرانے دور میں کیمیا کے بارے میں بڑی باتیں مشہور تھیں، تو اس اس کے لیے لوگ بڑی ذلتیں اٹھاتے تھے، لوگوں کی۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو دنیا کی جو چیز ہے وہ بھی اسی طریقے سے حاصل ہوتی ہے، تو دین کے لیے بھی جو اس طرح برداشت کرتا ہے تو ان کو یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے کسی وقت۔
سارے طالبوں کو ایک ہی لکڑی سے مت ہانکو، رسمی پیروں کی طرح:
ارشاد: یہ طریقہ غلط ہے کہ سارے طالبوں کو ایک لکڑی سے ہانکا جائے، بلکہ اَقْوِیَا کو ان کے مناسب کام بتلاؤ اور ضعفاء کو تھوڑا بتلاؤ اور اس کی تاکید کرو کہ وہ تھوڑا ہی کام توجّہ کے ساتھ کریں، ان شاء اللہ وہ زیادہ ہی کے برابر ہو جائے گا۔ چنانچہ بعض بزرگوں نے اپنے بعض مریدوں کو جو دنیوی مشاغل میں زیادہ مشغول تھے صرف اتنا کام بتلایا ہے کہ نماز کے بعد تین دفعہ ’’لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ‘‘ جہراً کہ لیا کرو ۔
جہراً، یہ کس کی کتاب ہے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، دیوبندی ہیں نا؟
اب رسمی پیروں کے یہاں یہ رسم ہو گئی ہے کہ ہر نماز کے بعد یا فجر و عصر کے بعد سارے نمازی مل کر جہراً ’’لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ‘‘ کہتے ہیں اور اس کا سختی کے ساتھ التزام کرتے ہیں، حالانکہ سب کے واسطے بزرگوں نے نہیں کہا تھا، بلکہ خاص خاص لوگوں کو بتلایا تھا، مگر جاہلوں نے اس کو حکم عام ہی بنا لیا اور التزام کر لیا، اسی واسطے علماء نے اس کو بدعت کہا ہے۔
مطلب اس کو لازم کہا ہے اس کا سمجھا ہے۔ حالانکہ اگر اس کو علاج کے لیے کہہ دیتے تو علاج کے لیے تو بدعت نہ ہوتا۔ پر اس کو ثواب کے لیے بنایا، ٹھیک ہے نا؟ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ ساری چیزوں میں تفصیلات ہوتی ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ ہر ایک کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ہر شخص کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ورنہ یہ ہے کہ پھر سب چونکہ ایک جیسے حالات میں ہیں نہیں، تو ایک جیسے حالات نہ ہوں تو ایک جیسے علاج نہیں ہیں۔ تو سب کا کسی نہ کسی چیز سے علاج کیا تو باقی ادھر ادھر ،جن کے لیے کسی کے لیے کچھ کم ہو گا، کسی کے لیے زیادہ ہو جائے گا، تو کام خراب ہو جائے گا۔ تو ہر ایک کو اس کے مناسب بتاؤ جتنا وہ کر سکتا ہے اور صحیح کر سکتا ہے۔
نظام عالم علماء ہی کے اتباع سے قائم رہ سکتا ہے
ارشاد: عوام کو لازم ہے کہ علوم میں صوفیہ کا اِتِّباع نہ کریں۔ بلکہ علماء اور جمہور کا اِتِّباع کریں، کیونکہ یہ لوگ منتظم ہیں۔ نظامِ شریعت بلکہ نظامِ عالم علماء ہی کے اتباع سے قائم رہ سکتا ہے۔ یہ علماء منتظم پولیس ہیں کہ مخلوق کے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنا کام چھوڑ دیں تو صوفی صاحب کو حجرہ سے نکل کر یہ کام کرنا پڑتا اور سارا حال و قال رکھا رہ جاتا، کیونکہ اصلاحِ خلق کا کام فرضِ کفایہ ہے۔
الحمد للہ۔
دیکھیں! علماء کس کو کہتے ہیں؟ جن کو علم حاصل ہو۔ کون سا علم؟ قرآن و سنت کا علم حاصل ہو۔ قرآن و سنت کا نچوڑ فقہ ہے، تو فقہ کا علم بھی حاصل ہو۔ اب کون سی چیز جائز ہے کون سی چیز ناجائز ہے، یہ کس کا کام ہے؟ علماء کا۔ لیکن جو چیزیں کرنی ہیں، اگر کسی سے نہیں ہو سکے، اس پر لانا کس کا کام ہے؟ صوفیا کا۔ پس عملی چیزوں میں تو مشورہ صوفیا سے لیا کرو۔ اور جائز و ناجائز، حلال و حرام کا فتویٰ کس سے لیا کرو؟ علماء سے لیا کرو۔لیکن یہ الگ بات ہے کہ علمائے محققین جب کسی بات کو کریں نا، تو باقی علماء کو بھی اس کو ماننا پڑتا ہے۔ علمائے محققین، اگر ایک بات کر لیں نا، مثال کے طور پر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بات کر لیں، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ایک بات کر لیں، حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کر لیں، مدنی رحمۃ اللہ علیہ کر لیں، تو آج کل کے علماء تو ان کے برابر تو نہیں ہیں نا۔ پھر کس کی بات مانیں گے؟ ان کی مانیں گے نا۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلنے لگے تو وہ علماء نہیں رہے۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلیں، عوام کی خوشنودی کے لیے بات کرنے لگیں کہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں جی بس کیا کریں؟ تو وہ تو علماء کا role کر ہی نہیں رہے۔ علماء کا role تو وہ کر رہے ہیں جو عوام کے پیچھے نہیں جا رہے، بلکہ عوام کو اپنے پیچھے چلا رہے ہیں۔
تو یہ وہ علماء تھے جن کا نام میں نے لیا بڑے بڑے علماء، ان کا کام یہی تھا کہ لوگوں کو سچ بتائیں، حق بتائیں، طریقے سے بتائیں، وہ اپنا کام کر چکے۔ لہذا اگر کسی بات پر ان کی بات آ چکی ہو، قولِ فیصل، تو اب اگر میں کسی آج کل کے عالم کو دیکھوں گا کہ وہ اس کے خلاف بات کر رہا ہے اور نظر آ رہا ہو کہ وہ لوگوں سے متاثر ہے، تو پھر معاملہ وہ نہیں ہے۔ بلکہ ہم دیکھیں گے کہ بھئی ہمارے محققین علماء کیا بات کر رہے ہیں۔ محققین علماء، جو محقق علماء ہیں، جو جامع ہیں۔ ان سے ہم لوگ پھر اس میں رائے لیں گے، کیونکہ وجہ یہ ہے کہ کام انہی کو سجتا ہے کہ جو ان تمام چیزوں سے گزر چکا ہو، ان کو معلوم ہو ۔اب جیسے مولانا زکریا صاحب رحمۃ الله علیہ، جس نے پچاس سال حدیث پڑھائی ہے، تو حدیث میں اس کا قول ہو گا یا جس نے دس سال پڑھایا ہے، پانچ سال پڑھایا ہے؟ کس کی بات ہم لیں گے؟ ظاہر ہے ان کی بات لیں گے۔
تو یہی بات ہوتی ہے کہ ہم لوگ علماء کا کام علماء سے، صوفیا کا کام صوفیا سے۔ آج کل کا کوئی صوفی جو محقق صوفی نہیں ہے، رسمی ہے، تو ان کی بات مانیں گے ہم؟ ہم کہیں گےبھئی جو محقق صوفیاء نے بات کی ہے ہم ان کی بات مانتے ہیں۔ یعنی اس میں بھی قانون تو یہی ہے نا کہ ہم محقق صوفیاء کی بات مانتے ہیں۔ تو اس وجہ سے دونوں صورتوں میں ہم لوگ جو علمائے حق ہیں ان سے علم حاصل کریں گے اور جو صوفیائے حق ہیں ان سے عمل حاصل کر لیں گے، ان سے تربیت حاصل کر لیں گے۔ تعلیم کا کام علماء کا ہے اور تربیت کا کام صوفیاء کا ہے۔ جس عالم کی خود تربیت نہیں ہوئی وہ کسی اور کی تربیت کیا کرے گا؟ بالکل ایسے ہی جیسے جس نے خود علم حاصل نہیں کیا ہو تو کسی اور کو علم کیا دے گا؟ وہی اصول ہے نا؟ تو جس کی خود تربیت نہ ہوئی ہو تو اس مسئلے میں تو عامی کی طرح ہے۔ تربیت کے معاملے میں وہ عامی کی طرح ہے نا۔
ایک دفعہ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہوا اور ایک بہت بڑے عالم کا بھی بیان ہوا۔ لیکن بیان ان چیزوں پہ ہوا تھا ، جو تصوف سے متعلق چیزیں ہیں۔ تو صاف پتہ چلتا تھا کہ مولانا صاحب جو بیان کر رہے تھے وہ بات الگ تھی اور وہ دوسری۔ کیونکہ مولانا صاحب ان چیزوں سے گزرے تھے۔ تو وہ آنکھوں دیکھا حال بتا رہے تھے۔ اور دوسرے صاحب کتابی حال بتا رہے تھے۔ تو کہاں کتاب سے پڑھنا اور کہاں کسی چیز سے ہو کے گزرنا، ان دونوں میں تو فرق ہے نا۔ تو پتہ چل رہا تھا، صاف پتہ چل رہا تھا۔ تو اس وجہ سے جو جس کا فیلڈ ہے، اس کو ہی، جس کا کام اسے ساجھے۔ ان سے اس چیز میں حاصل کرنا چاہیے۔
شیخ کے سامنے اپنے آپ کو مٹانا طریق کی اول شرط ہے
ارشاد: افسوس آج کل مُبتدی عوام کے سامنے تو اپنے کو کیا مٹاتے۔ یہ تو اپنے کو شیخ کے سامنے بھی نہیں مٹاتے جس کے سامنے اپنے کو پامال کردینا طریق کی اول شرط ہے، مگر یہ اس کے سامنے بھی اپنی فکر اور رائے کو فنا نہیں کرتے خود رائی سے کام لیتے ہیں۔ حالانکہ کمال اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے کو کسی کامل کے ہاتھ میں ’’کَالْمَیِّتِ فِیْ یَدِ الْغَسّالِ‘‘ سپرد نہ کردو اور حقائق کا انکشاف بھی اسی پر موقوف ہے۔
حضرت نے بہت بڑی بات کی ہے۔ کہتے ہیں: ایک دفعہ کسی کو اجازت مل گئی نا اپنے بزرگوں سے۔ تو غالباً اس کا کوئی پیر بھائی تھا، جو شیخ تھا، اس نے ان کو نصیحت کی؛ کچھ خبر بھی ہے کہ اجازت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا "نہیں"۔ انہوں نے کہا اجازت کا مطلب یہ ہے کہ تو نے اپنے شیخ کے سامنے اپنے آپ کو جیسے پامال کیا، عاجزی نصیب ہو گئی، شیخ کی بات کے سامنے اپنے آپ کو پامال کیا، اب تو اسی چیز کو باقی لوگوں کے لیے بھی استعمال کرو گے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ تم باقی لوگوں کے سامنے بھی اپنے آپ کو ایسے پامال کر لو کہ جن کی بات صحیح ہے، حق ہے، فوراً مان لو۔ اس میں کوئی ضد، انانیت وغیرہ بات نہ ہو۔
تو مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، ہوتا کیا ہے؟ انسان حقیقت سے اس وقت تک رکا رہتا ہے جب تک اس کی انانیت فنا نہیں ہو چکی ہوتی۔ جب تک انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ انانیت ہر جگہ اس کے لیے رکاوٹ ہو گی۔ اصل بات تک نہیں جانے دے گی۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ تو انانیت کو کیسے مٹائے گا؟ تو اس کے لیے اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کم از کم دنیا میں ایک شخص ایسا ہو جس کے سامنے اپنی انانیت کو مٹا دے۔ وہ اس کو جو کچھ کہے، اس کو مِن و عن ماننے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس میں نہ سوچے پھر۔ دنیا میں کم از کم ایک ایسا شخص ہونا چاہیے۔ اور ظاہر ہے وہ شیخ ہو سکتا ہے اس مسئلے میں۔ تو شیخ کے سامنے پھر کم از کم اپنی انانیت کو مٹا دے۔ جب شیخ کے سامنے اس کی انانیت مٹ جائے گی، تو پھر وہ حقیقت تک پہنچ جائے گا۔ جب حقیقت تک پہنچ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔
تو یہ اصل میں حضرت فرماتے ہیں کہ لوگوں نے یہی بات مختلف الفاظ میں بیان کی ہے اور وہ یہ ہے، كَالْمَيِّتِ فِي يَدِ الْغَسَّال۔ کہ شیخ کے ہاتھ میں ایسا رہے جیسے میت نہلانے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے کہ جس طرف آگے پیچھے کر لے، تو اگے پیچھے کر سکتا ہے، اس کے درمیان میں کچھ وہ نہیں ہوتا۔ تو اگر کوئی خود رائی سے کام لیتا ہے، تو ظاہر ہے پھر وہ کہاں صحیح بات پہ چل سکے گا؟
ایک دفعہ ایسا ہوا، بعض ڈاکٹر بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر تھا، ایک بیمار ان کے پاس چلا گیا۔ وہ ڈاکٹر تھے پٹھان، Specialist تھے، ستر سال عمر تھی اس کی۔ وہ کوئی میرے خیال میں اس کا نسخہ وغیرہ اس نے لکھا تو اس بچے نے Internet پہ کچھ Search کیا کہ یہ تو ایسے ہوتا ہے، ایسے ہوتا ہے، ایسے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب یہ تو Internet پر یہ لکھا ہے، یہ لکھا ہے۔ تو وہ عام ڈاکٹر نہیں تھا، پٹھان ڈاکٹر تھے۔ تو اس نے کہا دیکھو، یاد رکھو۔ پہلے تو جا کر ایف ایس سی کر، پھر Medical میں جا، پھر Medical Knowledge حاصل کرو، پھر ڈاکٹر بن جاؤ، پھر پوری عمر Service کرو، میری طرح Retire ہو جاؤ۔ جب میری عمر کو پہنچو نا، پھر یہ کہو کہ ایسا ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے۔ اب تم میری بات کو نہیں Change کر سکتے۔ یہ میں جانتا ہوں، تو نہیں جانتا۔ اس کو اتنا سختی کے ساتھ ڈانٹا نا۔ کہتے ہیں تیرا منہ یہ نہیں ہے کہ میری بات کو غلط کہہ سکے۔ تو Internet کو کیا جانتا ہے؟ کیا چیز لکھی ہوئی ہے؟ ان کی Terminology کو جانتا ہے؟ Details کو جانتا ہے؟ خوب اس کو دبایا۔ باہر گیا تو اپنے والد صاحب سے کہتا ہے یہ ڈاکٹر تو بڑا سخت ہے، اس نے مجھے بڑا بے عزت کیا، اتنی بے عزتی بھی تو نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا تو نے بات ہی ایسی کی تھی۔ تو نے کیوں اس سے اس طرح کہا کہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اس طرح ہے؟ تیریField ہے؟ تو اس کو تو یہ کہنا چاہیے تھا؟
تو اسی طریقے سے جو شیخ ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ایک کام پر فائز ہے۔ اس کی اللہ مدد کر رہے ہیں۔ اس کے دل میں اللہ وہ ڈال رہے ہیں جو تیرے لیے مفید ہے۔ تم اس کی جگہ تک پہنچ جاؤ تو پھر بالکل نہ مانو۔ لیکن یہاں تو معاملہ الٹا ہوتا ہے، جو پہنچ جاتے ہیں وہ تو مانتے ہیں۔ وہ تو پورا پورا مانتے ہیں، جو پہنچ جاتے ہیں۔ نہیں مانتے وہ لوگ جو نہیں پہنچے ہوتے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ والی بات کہ شیخ کے ساتھ مناظرہ نہیں کرنا چاہیے۔ مناظرے کا میدان نہیں ہے۔ بلکہ کہتے ہیں شیخ سے سوال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ جیسے ڈاکٹر سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ بھئی یہ تو، اس کے لیے تو ایک علم چاہیے چیزوں کو جاننے کے لیے، ایک Procedure چاہیے اور پھر اس راستے سے کوئی گزرا ہو تو اس کو پتہ چلے گا۔ تو اپنے شیخ کے ساتھ اس میں معارضہ نہیں کرنا چاہیے۔ جو وہ کہے، بس مانتے جائیں۔ اور یہ اس کی ذمہ داری ہے من جانب اللہ کہ وہ آپ کی تمام چیزوں کا خیال رکھے۔ ہاں ،تجھ سے پوچھے، پھر ضرور سچ سچ بتاؤ۔
اب میں معمولات کا چارٹ کہتا ہوں، وہ تو بھیجتے نہیں اور باقی چیزوں میں معارضہ کرنے لگیں، اب بتاؤ؟ ان کی بات سننی چاہیے؟ جو خود میں پوچھ رہا ہوں وہ تو بتاتے نہیں۔ وہ میں پوچھ رہا ہوں کہ بھئی لاؤ، تو وہ تو بتاتے نہیں اور باقی چیزوں کے بارے میں پوچھنے لگے یا کہنے لگے، تو یہ پھر اس کا ظاہر ہے حق نہیں بنتا۔
مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ پڑنا چاہئے
ارشاد: مشائخ کی وصیت ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ گھسنا چاہئے کیونکہ جو شخص کسی کے خانگی معاملات سے واقف اور ان میں دخیل ہوتا ہے اس کے قلب سے دوسرے کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔ اور مشائخ کو یہی مناسب ہے کہ مریدوں کو اپنے خانگی معاملات پر مطلع یا ان میں دخیل نہ کرے کہ اس سے تمام طبائع کو بجائے نفع کے ضرر ہوتا ہے۔
خانگی معاملات جو ہوتے ہیں۔ اصل میں اس میں بڑی Details ہوتی ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، بہت موٹی مثال ہے، ان شاء اللہ سمجھ آ جائے گی۔ مجھے کسی شخص نے کہا کہ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں ٹی وی ہے۔ ہمارے شیخ۔ میں نے کہا نہیں! حضرت تو ٹی وی نہیں دیکھتے، ٹی وی کے تو خلاف ہیں۔ کہتے ہیں ان کے گھر میں ٹی وی ہے، انٹینا لگا ہوا ہے۔ اب میں نے کہا اب تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ ظاہر ہے بات آ گئی ہے تو اب آ گئی ہے۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ مولانا کی ایک بھانجی تھی جو بالکل پاگل تھی۔ اور پاگل کو کنٹرول کرنا تو آسان نہیں ہوتا اور وہ بھی لڑکی ہو۔ تو ان کی والدہ جو بیوہ تھی اس لڑکی کی، اس نے اس کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹی وی اپنے گھر میں رکھا تھا کہ تاکہ اس ذریعے سے یہ رہے۔ اب پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی ناں۔ پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی۔ تو اس کو قابو کرنے کے لیے کہ ظاہر ہے مطلب ٹھیک ہے شریعت اس پر لاگو نہیں ہے، لیکن باہر جائے گی تو فتنہ ہو گا۔ کیونکہ لڑکی ذات ہے۔ تو اس کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے ایک ایسا کام کہ جس پر شریعت لاگو نہیں ہے، اس کو کنٹرول رکھا۔ تو مولانا صاحب نے نہیں کیا، مولانا صاحب کی بہن نے کیا۔ لیکن مولانا صاحب نے کچھ کہا نہیں۔ چونکہ مجبور تھی وہ۔ تو ایسی صورت میں مولانا صاحب بھی مجبور تھے، وہ بیوہ بھی مجبور تھی اور بھانجی تو خیر تھی ہی مطلب۔ تو میں نے کہا دیکھو، اس سے مولانا صاحب کے قلب کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی اور ممکن ہے کہ اس تکلیف پر اللہ تعالیٰ اس کو بہت اجر دے رہے ہوں، کیونکہ ان کے لیے مجاہدہ تھا۔ اور لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ تو اب اگر کوئی آدمی جو ان تمام Detail کو نہ جانتا ہو، اس کو اگر مولانا صاحب کے بارے میں یہ پتہ چل جائے کہ اور ہو میرے جیسا اکڑ والا، تو اس کو نقصان ہو گا یا نہیں ہو گا؟ اس کا تو حضرت سے تعلق ختم ہو جائے گا نا۔ حالانکہ مولانا صاحب تو اس میں معذور تھے، اس پہ تو اجر مل رہا تھا اس کو۔ یہ ایک مثال دے رہا ہوں۔ عقلمند کے لیے ایک بات کافی ہوتی ہے۔
مثال دے رہا ہوں۔ تو اس لیے کہتے ہیں شیخ کے خانگی معاملات میں دخیل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کو پتا ہے کہ کون کون سی چیز کس کس وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس کے لیے گنجائش ہو گی، آپ کے لیے نہیں ہو گی۔ مجھ سے کسی نے پوچھا، جہانگیرہ کے ایک آدمی نے ٹیلی فون کیا، میں سعودی عرب میں تھا حج پر، پچھلے سے پچھلے سال کی بات ہے غالباً۔ شبیر صاحب! میں اگر سعودی عرب کے ساتھ قربانی کروں تو جائز ہے؟ میں نے کہا: "نہیں"۔ تم پاکستان کی حکومت کے ساتھ کرو۔ کہتے ہیں آپ جو ابھی کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے لیے جائز ہے، تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ کہتے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ کے لیے جائز، میرے لیے جائز نہیں؟ میں نے کہا بھئی قانون یہی ہے۔ کہتے کیسے قانون ہے؟ میں نے کہا قانون یہ ہے کہ جس ملک میں جو ہو، اس کے اوپر اس کی قضا لازم ہے۔ تو میں سعودی عرب میں ان کے Jurisdiction میں ہوں، ان کا قاضی جو فیصلہ کرے گا وہ عند اللہ جواب دے گا، اللہ کو جواب دے گا، لیکن مجھ پر اس کا حکم ماننا لازم ہے۔ تو میں حج بھی ان کے فتوے کے مطابق کر رہا ہوں، قربانی بھی ان کے ساتھ کر رہا ہوں۔ تو مجھے تو گنجائش ہے، لیکن تم اس کے Jurisdiction میں نہیں ہو۔ تم جن کے Jurisdiction میں ہو، ان کا حکم آپ کے اوپر لازم ہے، لہذا آپ سعودی عرب کے ساتھ نہیں کر سکتے، شرعاً نہیں کر سکتے۔ اب یہ Detail ہر ایک کو تو نہیں پتا ہوتا کہ کوئی کام کسی کے لیے جائز ہوتا ہے، کسی کے لیے جائز نہیں ہوتا۔ تو اس طرح شیخ کے خانگی معاملات میں اگر کوئی دخیل ہوتا ہے، اس کو نقصان ہو جاتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے۔ وہ Accidentally اگر کوئی چیز کا پتا چل گیا ہو تو پتہ چل گیا ہو، تجسس میں نے کبھی بھی حضرت کے گھر کے معاملات کے نہیں کیے کہ حضرت کے گھر میں کیا ہوتا ہے۔ اس سے میں دور بھاگتا تھا۔ کہ کبھی مجھے، جن کے ساتھ میرا دل کا تعلق ہے، ان کے بارے میں مجھے کوئی ایسی چیز نہ نظر آئے جس کی وجہ سے مجھے نقصان ہو جائے۔ تو میں دور رہتا تھا، حتی کہ ان کے خاندان والوں سے بھی ملنے جلنے سے دور رہتا تھا۔ بعض لوگ تو ان کے قریب ہوتے تھے لیکن میں دور رہتا تھا۔ مجھے اس میں فائدہ نظر آتا تھا کہ میں کیوں خواہ مخواہ، میں تو مولانا صاحب سے بیعت ہوں، کسی اور سے تو نہیں بیعت ہوں۔ مجھے تو اپنی فکر کرنی چاہیے۔ میں کسی اور کی فکر کیا کروں؟
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب کرنا۔ تو یہ بات ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے اس وجہ سے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ