قرآنِ کریم کی روشنی میں میراث کے احکام اور حصص کی تقسیم

درس نمبر 173، سورۃ النساء: آیت: 11- اشاعتِ اول: 19 مئی، 2022، بمطابق 17 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* سورۃ النساء کی آیت 11 کی تلاوت اور اس کا پس منظر۔

* وراثت کی تقسیم میں مرد اور عورت (بیٹے اور بیٹی) کے حصص کا اصول (لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ)۔

* ورثاء کی بنیادی اقسام: ذوی الفروض (مقرر حصوں والے) اور عصبات (بقیہ مال کے حقدار)۔

* والدین (ماں اور باپ) کی وراثت کی مختلف صورتیں اور ان کے حصے۔

* بہن بھائیوں (اخوہ) کی اقسام: حقیقی، علاتی اور اخیافی، اور وراثت پر ان کا اثر۔

* میت کے ترکے کی تقسیم سے قبل قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنے کی اہمیت۔

* اللہ کی حکمت اور علم: حصص کی تقسیم اللہ کی طرف سے قطعی فریضہ ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


يُوصِيْكُمُ اللَّهُ فِيْ أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۗ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَّوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚفَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِيْ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿11﴾

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔

یہاں سے میراث کے جو احکامات ہیں وہ شروع ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ اللہ جل شانہٗ نے اس سے پہلے ارشاد فرمایا تھا کہ: اگر کسی کی موت کا وقت آ جائے تو اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ وصیت کرے اپنے والدین کے لیے، اپنے رشتہ داروں کے لیے۔ تو اس وقت وہ وصیت لازم تھی۔ لیکن اسی آیت سے ”يُوصِيْكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ“ یعنی الفاظ وصیت کے ہیں لیکن ہے حکم۔ کیونکہ اللہ جل شانہٗ وصیت نہیں بلکہ حکم فرماتے ہیں۔ تو الفاظ وہ وصیت کے ہوئے، تو وہ پہلی گزشتہ والی آیت جو گزری ہے، وہ جس میں وصیت کو لازم کیا گیا تھا، وہ منسوخ قرار دی گئی۔ یعنی آیت اپنی جگہ موجود ہے لیکن اس پر عمل منسوخ ہے۔ یہ قرآن پاک کے اندر اس طرح صورتیں ہیں مختلف جن میں ایک آیت موجود ہوتی ہے لیکن اس پر عمل منسوخ ہو جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ الفاظ ہوتے ہیں، وہ ہٹا دیے جاتے ہیں لیکن حکم موجود ہوتا ہے، جیسے رجم والا ہے۔ تو رجم والی آیت واپس لے لی گئی لیکن یہ ہے کہ جو حکم ہے وہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ تو یہ مختلف صورتیں ہیں، وہ زیادہ تر تفسیرِ قرآن سے تعلق رکھتی ہیں۔ تو جو لوگ اس کی تفاسیر پڑھتے ہیں اس میں پھر ان چیزوں کا پتہ چلتا ہے۔

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔

جن رشتہ داروں کے حصے ان آیات میں مقرر فرمادیے گئے ہیں ان کو "ذوی الفروض" کہا جاتا ہے۔

یعنی ہے کہ ان آیاتِ مبارکہ میں جن کے بارے میں بھی حصے مقرر بتائے جاتے ہیں، مقرر حصے۔ وہ ذوی الفروض ہیں۔ "فرض" حصے کو کہتے ہیں۔ تو جن کا میراث میں حصہ ہوتا ہے وہ فرض کہلاتے ہیں تو وہ ذوی الفروض ہوتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان حصوں کی تقسیم کے بعد جو مال بچ جائے، وہ مرنے والے کے قریب ترین مذکر افراد میں تقسیم ہو گا جن کے حصے ان آیتوں میں متعین نہیں کیے گئے، ان کو "عصبات" کہا جاتا ہے۔

یعنی گویا کہ ورثاء کی دو قسمیں موٹی موٹی وہ ہمارے سامنے آ گئیں جو قرآن اور حدیث سے ثابت ہیں۔ ایک ذوی الفروض کہلاتے ہیں جن کے حصے مقرر ہیں، اور ایک وہ ہیں جن کے حصے مقرر نہیں ہیں لیکن اگر ذوی الفروض نہ ہوں یا ذوی الفروض ہوں لیکن ان کو جتنے حصے دیے جائیں تو اس سے پورا مال تقسیم نہ ہو۔ تو جتنے حصے باقی ہیں وہ ان عصبات کو دیے جائیں گے۔ اور عصبات میں صرف اور صرف جو پہلے نمبر کا ہوگا اس کو حصہ ہوگا۔ یعنی جو سب سے قریب ترین ہوگا عصبہ۔ وہ اس کے بارے میں ان شاء اللہ تفصیل آگےآئے گی۔ اس وقت صرف اتنا سمجھیں جو بعد میں دینے کا حکم ہے تو قریب ترین جو ان میں میت کا ہوگا ان کو وہ سارے کا سارا باقی دیا جائے گا۔

اب پہلا قانون جو بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر عصبات ہیں تو عصبات میں دو صورتیں ہیں۔ یا تو صرف مرد ہوں گے یا صرف عورتیں ہوں گی یا عورتیں اور مرد ملے جلے ہوں گے۔ تو اگر صرف عورتیں ہوں گی تو وہ عصبات سے نکل جائیں گی وہ تو پھر ذوی الفروض میں ان کا حصہ ہوگا۔ لیکن اگر صرف مرد ہوں گے، تو جتنے مرد ہیں ان کے اوپر تقسیم ہو جائے گا قریب ترین مرد جیسے مثال کے طور پر بیٹے۔ تو جتنے بیٹے ہیں ان کے اوپر تقسیم ہوگا، تین ہوں گے تو تین پر تقسیم ہوگا، چار ہوں گے تو چار پر، دو ہوں گے تو دو پر، ایک ہوگا تو سب اس کو مل جائے گا۔ تو یہ مرد عصبات۔

لیکن اگر ملے جلے ہیں تو ملے جلے جتنے ہوں گے ان کو ایک نسبت دو (1:2)، یعنی مرد کو اگر حصہ دیا جائے گا تو دو حصے دیے جائیں گے اور عورت کو ایک حصہ۔ گویا کہ ہر مرد کو ہر عورت کا دگنا حصہ دیا جائے گا۔ یہ مطلب لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ والی وہ بات ہے۔ اور اگر صرف عورتیں ہی ہوں تو ذوی الفروض میں جو عورتیں ہیں، اگر صرف عورتیں ہوں تو دو یا دو سے زیادہ اگر ہوں ان کو دو تہائی ملے گا۔ دو یا دو سے زیادہ اگر ہوں ان کو دو تہائی ملے گا اور اگر صرف ایک ہوگی تو اس کو نصف ملے گا۔ تو دو قوانین، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے، وہ یہ ہیں کہ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ، یعنی اگر ملے جلے ہوں مرد بھی ہوں عورتیں بھی ہوں تو (1:2) یعنی ایک نسبت دو۔ اور اگر ملے جلے نہیں ہوں صرف عورتیں ہوں، تو اگر ایک سے زیادہ ہوں تو پھر دو تہائی اور اگر ایک ہو تو ان کو صرف آدھا حصہ ملے گا۔

اور مرنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا۔

یعنی والدین کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی زندہ ہو، دونوں زندہ ہوں، تو دونوں صورتوں میں اگر دونوں زندہ ہوں تو چھٹا چھٹا ملے گا ہر ایک کو، اور اگر ایک زندہ ہو تو ایک کو چھٹا ملے گا۔ اس میں لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ نہیں ہے، یعنی والدین میں۔ والدین کو اس سے استثناء یعنی دے دیا گیا۔ تو حالانکہ والدین بھی مذکر مؤنث ہیں لیکن وہاں پر فارمولا یہ بتایا گیا کہ والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا۔ یہ والی۔ یہ اس صورت میں جب یہ ذوی الفروض ہوں۔ یہ اس صورت میں جب یہ ذوی الفروض ہوں۔

بشرطیکہ مرنے والے کی کوئی اولاد ہو

شرط لگائی ہے۔ یعنی اولاد ہونے کی صورت میں ان کو حصہ ملے گا۔ اولاد نہیں ہے تو اس کیCondition بعد میں بتائی جا رہی ہے۔

اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو اس کا تہائی حصے کی حق دار ہے۔

کیونکہ والدین ہی ہیں تو لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ اس میں آ گیا پھر۔ یعنی اگر اور نہیں ہو صرف والدین ہی ہوں۔ تو یہاں پر اب دونوں قسم کی باتیں ایک جیسی ہو گئیں۔ یعنی حکم ایک ہو گیا، کیسے؟ کیونکہ اگر بیٹے ہیں یا بھائی بہن ہیں اگر آ رہے ہیں عصبات کی صورت میں۔ تو ایسی صورت میں تو (1:2) ہے نا ایک نسبت دو ہے۔ تو والدین بھی اگر صرف والدین ہی ہوں یعنی کوئی اور اس کے ساتھ رشتہ دار نہ ہو تو ذوی الفروض سے نکلنے والی صورت ہو گی تو ایسی صورت میں پھر (1:2) ان میں بھی ہے۔ پھر ان میں ماں کو تہائی ہوگا اور والد کو دو تہائی ہو جائے گا۔ تو یہاں پر ایک قانون ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ والدین اگر اوروں کے ساتھ ملے جلے ہوں تو پھر تو ذوی الفروض کے قواعد پر ان کا جو اپنا اپنا حصہ ہے وہ ایک بٹا چھ، ایک بٹا چھ ہے۔ اور اگر یہ بالکل اکیلے رہ جائیں تو یہ عصبات کی طرح ہو جائیں گے۔ یعنی گویا کہ حکم عصبات کا نہیں ہے، وہ عصبات ان کو نہیں کہیں گے لیکن ان کے طریقے سے ہو جائیں گے، ایک نسبت دو والی بات ہو جائے گی، اور وہ کیا ہے کہ ماں کو تہائی ہوگا اور باپ کو دو تہائی ہو جائے گا۔ یہ ما شاء اللہ یعنی اس کا قانون ہو گیا۔

فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ، إِخْوَةٌ یہ ایک اصطلاح ہے۔ ظاہر ہے قرآن میں آیا ہوا ہے۔ تو اس کی تشریح تو حدیث میں ہو گی نا۔ تو حدیث شریف سے جب اس کی تشریح لیتے ہیں تو یہ ہے کہ إِخْوَةٌ کا مطلب کیا ہے؟ إِخْوَةٌ کا مطلب یہ ہے کہ کسی قسم کے بہن بھائی چاہے مرد ہیں چاہے عورتیں ہیں، وہ اگر ایک سے زیادہ ہوں تو ان کو "اخوہ" کہتے ہیں۔ تو بہن بھائیوں کی تین قسمیں ہیں؛

1۔ حقیقی بہن بھائی؛ یعنی جن کے ماں اور باپ دونوں مشترک ہوں۔ 2۔علاتی بہن بھائی؛ جن کا باپ مشترک ہے، مائیں جدا جدا ہیں۔

3۔ اخیافی بہن بھائی؛ جن کی ماں مشترک ہے لیکن والد جدا جدا ہے۔ مثلاً کسی شخص نے شادی کی اس کی جو اولاد ہے۔ تو وہ تو ہیں، وہ بہن بھائی ان کے آپس میں جو ہیں۔ یعنی ان کی اولاد ہے بیٹے بیٹیاں۔ اب ان میں سے والد مر گیا اور اس کی ماں نے دوسری شادی کی۔ ان بچوں کی ماں نے دوسری شادی کی تو اب وہ جو ان کی اولاد اور دوسرے سے جو ان کی اولاد ہے، وہ آپس میں اخیافی بہن بھائی ہیں۔ اور اگر ایک شخص نے دو شادیاں کی ہیں، تین کی ہیں یا چار کی ہیں، تو ان سب کی آپس میں اولاد ہے، وہ کیا ہوں گی؟ علاتی بہن بھائی ہوں گے۔ کیونکہ وہ ایک مرد کی ہیں اور مائیں ان کی جدا جدا ہیں۔ تو ان کو علاتی بہن بھائی کہتے ہیں۔

اور حقیقی وہ ہیں جن کے ماں اور باپ دونوں اکٹھے، مطلب مشترک ہوں۔

(فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ)؛ اگر ان کے کسی قسم کے بھی بہن بھائی ایک سے زیادہ موجود ہیں، (فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ) تو ماں کا حصہ تہائی سے کم ہوکر سدس بن جائے گا۔ وہی گویا کہ اپنے اصل پہ آ جائے گا۔ کیونکہ اس کے ساتھ کچھ اور بھی ہے نا۔ کچھ اور بھی آ گیا تو لہٰذا اس وقت ماں کا حصہ سدس ہو جائے گا۔

(مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ) یہ اس صورت میں کہ جب وصیت پر عمل ہو جائے یا کوئی قرض ہو۔ یعنی وصیت کی ادائیگی ہو جائے اور قرض کی ادائیگی ہو جائے۔ تو پھر اس کے بعد جو باقی بچے گا ان میں یہ ترکہ تقسیم ہوگا۔

(آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ)

چاہے تمہارے باپ ہیں یا تمہارے بیٹے ہیں

(لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا)

تمہیں اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ بیٹوں میں سے کون سے فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے؟

(فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ)

یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں۔

( إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا)

بے شک اللہ پاک علیم بھی ہے حکیم بھی ہے۔

یعنی زیادہ علم والا بھی ہے اور زیادہ حکمت والا بھی ہے۔

یہ اس لیے فرمایا گیا کہ وصیت کا جو معیار تھا، کہ انسان وصیت اس طرح کرتا ہے جس کو زیادہ نفع ہوتا ہے اس سے تو ان کو پھر زیادہ دیتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ بات ہو گئی کہ اب اللہ پاک نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کو پتہ ہے کہ تمہارے لیے نفع کے لحاظ سے کون زیادہ ہے اور کون کم ہے، تو وہ جو اس نے حصے مقرر کر لیے اب اس پہ مزید بات نہیں ہونی چاہیے۔ اب یہی حصے نافذ ہیں۔ یعنی ان حصوں میں اب کوئی رد و بدل نہیں ہوگا۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا ہے اسی طریقے سے وہ کرنا پڑے گا۔ تو یہ میراث کے قواعد میں سے بہت اہم قواعد ہمیں معلوم ہو گئے۔ ان شاء اللہ کچھ اور قواعد بھی ہیں جو اس کے اگلے حصے میں بیان کیے جائیں گے ان شاء اللہ۔

اور ان کو اگر کوئی اچھی طرح اس کو سمجھ لے، تو ان شاء اللہ میراث کو سمجھنا ان کے لیے آسان ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت کے تمام علوم کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔


وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ



قرآنِ کریم کی روشنی میں میراث کے احکام اور حصص کی تقسیم - درسِ قرآن - دوسرا دور