مسبب الاسباب پر یقین، دعا کی طاقت اور درود شریف کی برکات

اشاعت اول: 28 مئی، 2021

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       جمعہ کی آخری گھڑیوں کی فضیلت اور اکابرین و صحابہ کا معمول۔

·       اسباب کے بجائے مسبب الاسباب (اللہ تعالیٰ) پر کامل توکل اور بھروسہ۔

·       جعلی عاملوں کے دھوکے، مال بٹورنے کے طریقے اور ان سے بچنے کی تلقین۔

·       دعا مانگنے کی اہمیت، آداب اور اللہ کی جانب سے ہر پکارنے والے (بشمول گناہ گاروں) کی فریاد سننے کا یقین۔

·       بچپن کے واقعات کی روشنی میں حادثات و مصائب کے وقت فوراً اللہ کو پکارنا۔

·      • درود شریف کی کثرت کے روحانی فوائد، گھریلو ناچاقیوں کا حل اور نزولِ رحمت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

معزز خواتین و حضرات! آج جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کی آخری گھڑیاں تقریباً شروع ہو گئی ہیں۔

ان گھڑیوں میں ہمارے اکابر کا طریقہ تھا کہ وہ اللہ پاک کی طرف کٹ کٹا کے متوجہ ہو جاتے تھے۔ اور اللہ کی یاد میں، تلاوتِ قرآن میں، درود شریف میں اور دعاؤں میں مشغول ہوتے تھے۔

اور تو اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی الله عنها ان کا یہ معمول تھا اور بتاتی تھیں اپنے گھر والوں کو کہ اگر میں کسی کام میں مصروف بھی ہوں تو جب یہ وقت آ جائے تو فوراً مجھے بتا دیا جائے تاکہ میں کٹ کٹا کے اللہ پاک کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔

آج کل یہ چیز بہت کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسبب الاسباب پہ نظر آج کل کم ہے اور اسباب کے اوپر زیادہ ہے۔ عموماً لوگ ہر چیز کو مشینی انداز میں دیکھتے ہیں کہ بس بٹن دبا دیا اور وہ کام ہو گیا۔جس پہ بعض لوگوں کے دعوؤں نے بھی بہت کام کیا، یہ عامل لوگ جو ہوتے ہیں، یہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ بس ہم یہ کر دیں گے، ہم وہ کر دیں گے، یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے۔ حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ پھر جب کام نہیں ہوتا، کہتے ہیں جی بس وہ نہیں ہوا۔ یہ معاملہ بہت سخت ہے جی، جادو بہت سخت ہے، فلاں چیز بہت سخت ہے۔ اس طریقے سے اپنے آپ کو چھڑا لیتے ہیں۔ حالانکہ ساری چیزوں کا حل کیا ہے؟ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

صحابہ کرام کی کیا بات تھی، وہ یہی کرتے تھے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اور اللہ تعالیٰ ان مسائل کو حل فرماتے تھے۔ ہاں! جو لکھا ہوتا تھا اس پہ راضی ہوتے تھے۔ بس یہی بات ہوتی ہے۔ دو باتیں ہیں کہ یا اللہ تعالیٰ کے لکھے ہوئے پہ راضی ہونا ہوتا ہے اور یا پھر یہ ہے کہ آپ نے اللہ کے سامنے اپنی عرضداشت پیش کرنی ہوتی ہے۔ اگر اللہ پاک آپ کے لیے یہ مناسب سمجھے تو وہ کام کر لے گا، نہیں تو کوئی اور تکلیف دور کرے گا، نہیں تو آپ کے لیے اس دعا کو ذخیرہ بنا دے گا۔ یہی طریقہ ہے، حدیث شریف میں یہی بات ہے۔

لیکن آج کل دعا کسی قیمت پہ نہیں سمجھی جاتی۔ بلکہ دعا کے لیے بھی دوسروں کے پاس جاتے ہیں کہ آپ دعا کریں، خود نہیں کریں گے۔ خود دعا کیسے کریں گے؟ یہ دعا تو نہیں، یہ تو دعا کے ساتھ مذاق ہے۔ بھئی روزانہ آپ نماز کے بعد دعا کرتے ہو، صحیح طریقے سے دعا کرو نا! یہ کیا طریقہ ہے؟

پھر کہتے ہیں ہم تو گناہ گار لوگ ہیں۔ بھئی اللہ تعالیٰ تو کافروں کی بھی سنتا ہے۔ شیطان کی نہیں سنی؟ شیطان نے جب اللہ تعالیٰ سے مانگا کہ مجھے مہلت دے، اللہ پاک نے مہلت دی۔ فرعون کی نہیں سنی؟ تو یہ اللہ تعالیٰ تو سب کی سنتے ہیں، لیکن تم اللہ پاک سے مانگو تو سہی۔

یہ چیزیں آج کل بہت کم ہیں۔ جب کسی کو بتاتے ہیں کہ تہجد پڑھو، تہجد کے بعد اللہ پاک سے مانگو، تو ایسے مجھے دیکھتے ہیں جیسے کہ میں نے اس کو ٹال دیا ہے یا میں نے اس کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ بالکل ایسے محسوس کرتا ہوں میں۔ وہ جو اصل بات ہوتی ہے اس کے اوپر لوگ نہیں آتے۔پھر جب میں کہتا ہوں میں عامل نہیں ہوں تو کہتے ہیں شاید یہ ویسے ہی اب ہے تو سہی لیکن بتاتے نہیں ہیں۔ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ۔۔ بھئی اللہ پاک سے مانگنے کے لیے عامل ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور اللہ پاک سنتے ہیں، اور اللہ پاک سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے اپنے دل کو تمام چیزوں سے خالی کر کے محض اللہ پاک کے اوپر بھروسہ کر کے اللہ پاک سے مانگنا سیکھو۔

فَادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

پس مجھ سے مانگو میں پورا کروں گا، میں دوں گا۔

ہاں جی! أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ، کون ہے جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے۔ تو جو مبتلا لوگ ہیں ان کی اللہ تعالیٰ زیادہ سنتے ہیں۔

میں اکثر دیکھتا تھا یہ بڑی بوڑھیاں جو ہوتی تھیں نا، وہ کوئی بچہ گرتا تو کہتی تھیں "بسم اللہ"۔ تو میں نے کہا کمال ہے یہ تو، یہ وقت تو حادثہ ہے اور اس پہ کہتے ہیں "بسم اللہ" ، "بسم اللہ"تو۔ میرے ذہن میں یہ بات آئی۔ پھر مسنون دعائیں ایک دفعہ میں پڑھ رہا تھا، اس میں دیکھا حادثے کے وقت کی دعا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، سبحان اللہ! اب وہ چیز چلی آ رہی تھی۔ ان میں چلی آ رہی تھی، ان کو پتہ تھا، تو وہ دعا مانگتی تھیں۔ شاید ممکن ہے ان کو یہ یاد بھی نہ ہو ۔لیکن وہ ان کی عادت وہی پکی ہے۔

ہم ڈیرہ اسماعیل خان میں تھے۔ وہاں Cycle City ہے نا Cycle، ہر چیزCycle پہ، رکشہ بھی Cycle کا تھا، اور ویسے بھی Cycle بہت زیادہ۔ تو ہم بھی Cycle پہ چلتے۔ میں اور میرے کزن، اور ہمیں زبردست قسم کے Accidents کرتے تھے۔ کیونکہ وہ Cycle رکشے جو ہوتے ہیں نا ان کا Control کم ہوتا ہے، اور یکدم مڑ کے دیکھا کہ Accident ہو گیا۔ تو ہماری زبان سے بیک وقت یہ آدمی، یہ آواز نکلتی، "یا اللہ خیر!" جب Accident ہونا ہوتا تھا، "یا اللہ خیر!" اور اللہ پاک خیر کر لیتے تھے۔ Cycle بیشک ٹوٹ جاتا، ہمیں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ یہ بچپن کی بات بتا رہا ہوں۔

مقصد یہ ہے کہ اللہ پاک سنتا ہے، اللہ پاک دیتا ہے۔ یہ عاملوں کے چکروں میں نہ پھنسو۔ ان لوگوں نے آپ لوگوں کو کافی دوڑایا ہے۔ اب اللہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

یہ کونسا طریقہ ہے کہ خوامخواہ آپ ان کے نخرے اٹھاتے ہو۔ اور آج کل وہ تو Rate پر Rate بڑھائے جا رہے ہیں۔ اور جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں: جی اس میں جان کا مسئلہ ہوتا ہے اور اس میں یہ ہوتا ہے، اور یہ ہوتا ہے، پھر وہ یہ کرنا پڑتا ہے، وہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ چیزیں بڑی مہنگی ہیں۔ بٹورنے کا چکر ہوتا ہے اور کچھ نہیں ہوتا۔ تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک سے مانگو۔

مجھے آپ بتائیں کہ کیا عامل کے پاس جانے سے Surety ہوتی ہے کہ وہ کام ہو جائے گا؟ وہاں بھی Chance ہوتا ہے، کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ تو آپ اگر اللہ پاک سے مانگتے ہیں، اور اللہ پاک کبھی مناسب سمجھے کہ آپ کا یہ کام کر دے اور کبھی اللہ پاک آپ کو وہاں آخرت میں دینا چاہے، تو دونوں چیزیں تو ہر جگہ۔۔ لیکن یہاں نہ آپ کا پیسہ لگا، نہ آپ کے ایمان میں کوئی مسئلہ ہوا، نہ آپ کی کوئی گڑبڑ ہوئی۔ بچ گیا سب کچھ۔ تو یہ اچھا ہے یا وہ اچھا ہے؟

بلکہ ڈاکٹر لوگ بھی جس وقت پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا تو وہ کہتے ہیں: جی اب دعا کرو۔ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟ اب دعا کرو۔ ہم تو کہتے ہیں پہلے سے دعا کرو، بے شک ڈاکٹر کے پاس بعد میں جاؤ، لیکن پہلے سے دعا کرو۔اس وجہ سے ہم لوگوں کو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونے کا طریقہ آنا چاہیے۔

درود شریف، یہ خزانہ ہے خزانہ۔ خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی برکات پہ یقین نصیب فرما دے۔ آمین۔ حضرت شیخ عبدالوہاب شعرانی رحمۃ الله علیہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، تو ان کے ہم عصرسے بتاتے ہیں کہ ان کو سب سے زیادہ فائدہ درود شریف کے کام سے ہوا تھا۔ اور ہمارے دور کے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ الله علیہ ان کے بارے میں یہ تھا کہ ان کو تمام ہم عصروں کے اوپر فوقیت جو دی گئی تھی اللہ کے ہاں، وہ درود شریف کی کتاب فضائل درود شریف کے لکھنے پر۔ بہت، بہت قیمتی راستہ ہے۔ لہٰذا درود شریف کثرت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

گھروں کے اندر نااتفاقی ہے، گھروں کے اندر درود شریف کی مجالس شروع کر لو۔ اکٹھے بیٹھو گے، ان شاءاللہ اللہ کی رحمت اترے گی، اس سے آپ کے قلوب جڑیں گے۔ مصیبتیں، پریشانیاں ہیں، گھر کے اندر درود شریف کی محفلیں قائم کر دو، ان شاءاللہ اللہ پاک آسانیاں پیدا فرمائیں گے۔

اور دیکھیں صحیح بات ہے کہ Fit بات ہے کہ ایک بار درود پڑھنے پر دس رحمتیں اللہ پاک نازل فرماتے ہیں اس کے اوپر۔ یہ کوئی ایسی ۔۔یہ صحیح حدیث شریف ہے۔ اور حکم اس کا کس نے دیا ہے؟ اللہ جل شانہٗ نے براہِ راست۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

اس لیے درود شریف کی کثرت کیا کرو۔

الحمدللہ اب یہاں پر درود شریف بھی پڑھا گیا ہے، اللہ کا شکر ہے ساتھیوں نے پڑھا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ الحمدللہ قرآن پاک کے تین ختم بھی ہو چکے ہیں مختلف جگہوں پہ ۔اللہ جل شانہٗ ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ


مسبب الاسباب پر یقین، دعا کی طاقت اور درود شریف کی برکات - جمعہ، آخری وقت کی دعا - اشاعت دوم