میراث کی تقسیم، یتیموں کے حقوق اور وعید

درس نمبر 172، سورۃ النساء: آیات 8 تا 10- (اشاعتِ اول) 18 مئی، 2022، بمطابق 16 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• سورۃ النساء کی آیات کی تلاوت اور ان کا بامحاورہ ترجمہ و تفسیر۔

• میراث کی تقسیم کے وقت موجود غیر وارث ضرورت مندوں اور مساکین کے ساتھ حسنِ سلوک۔

• نابالغ بچوں کے مال میں تصرف کے شرعی قوانین اور ان کے مال کی حفاظت کی تاکید۔

• اپنے بچوں کی طرح دوسروں کے یتیم بچوں کی فکر کرنے کا حکم۔

• یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے جہنم کی دہکتی آگ کی سخت قرآنی وعید۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا (8) وَلْيَخْشَ الَّذِيْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوْا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُوْْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا (9) إِنَّ الَّذِيْنَ يَأْكُلُوْنَ أَمْوَالَ الْيَتَامٰى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِيْ بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا (10)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

اور جب )میراث کی( تقسیم کے وقت )غیر وارث( رشتہ دار، یتیم، مسکین لوگ آ جائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو، اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔

جب میراث تقسیم ہو رہی ہو تو بعض ایسے لوگ بھی آں موجود ہوتے ہیں جو شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں۔ قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کو بھی کچھ دے دینا بہتر ہے۔ مگر یہ ایک تو یاد رکھنا چاہیے کہ اس ہدایت پر عمل کرنا مستحب یعنی پسندیدہ ہے، واجب نہیں ہے۔ دوسرا اس پر عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ورثاء ایسے لوگوں کو اپنے حصے میں سے دے دیں۔ نابالغ ورثاء کے حصے میں، کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔

یہ اصل میں ایک تو جن کو کچھ مال مل رہا ہو اور وہ بھی اللہ جل شانہ کے فضل سے، میراث کے قاعدے سے مل رہا ہو، یعنی انہوں نے خود کمایا نہیں ہوتا لیکن ان کو میراث میں مل جاتا ہے، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے جیسے ہم لوگوں کو اللہ پاک نے آنکھیں دی ہیں، کان دیے ہیں، زبان، مختلف اعضاء دیے ہیں۔ تو اس کا ہمارے اوپر حق ہے کہ ہم لوگ اس کو لوگوں کے فائدے کے لیے بھی استعمال کر لیں اور اپنے لیے بھی استعمال کر لیں۔ تو اسی طریقے سے جو مال ہمیں مل رہا ہے، تو اس میں سے ہم کچھ اور لوگوں کو بھی شریک کر لیں، ان کو بھی حصہ دے دیں۔ لیکن یہ ترغیب دی گئی ہے اور ترغیب جس چیز کی دی جاتی ہے وہ مستحب ہوتی ہے، وہ لازم اور واجب نہیں ہوتی۔ تو یہ ہے کہ اگر کوئی کر لے تو اچھی بات ہے۔ نمبر ایک یہ بات ہو گئی۔

دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے قوانین کے ذریعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو نابالغ لوگ ہیں،ان کے مال کا کوئی اور مالک نہیں ہوتا صرف وہی ہوتے ہیں۔ اور کسی کے مال سے اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں لیا جا سکتا۔ ایک دوسری بات ہو گئی۔

تیسری بات ہے کہ نابالغ کی جو اجازت ہے وہ بھی معتبر نہیں ہے۔ یعنی وہ جب تک سنِ شعور کو نہیں پہنچیں، اور خود ان چیزوں کو سمجھ جائیں، تو اس وقت تک ان کے مال میں تصرف کرنا بے شک ان کی اجازت سے کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے مال کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں نابالغ بچوں کے مال میں سے کچھ نہ دیا جائے۔ ہاں! یہ جو بالغ لوگ ہیں ان کو چونکہ پتہ ہے اور وہ مالک بھی ہو گئے ہیں، لہٰذا وہ اگر دے دیں تو اچھی بات ہے۔

اور وہ لوگ )یتیموں کے مال میں خُرد بُرد کرنے سے( ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ کر جائیں تو ان کی طرف سے فکر مند رہیں گے۔

یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا، اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو، اور یتیموں کے مال میں خُرد بُرد کرنے سے ڈرو۔

یعنی اس میں یتیم بچےجو حصہ پا رہے ہیں، وہ چونکہ مالک ہو رہے ہیں لیکن وہ اپنے مال کی حفاظت خود نہیں کر سکتے، دوسروں کو کرنی پڑتی ہے۔ تو وہ جو دوسرے ہیں وہ اس بات سے ڈریں۔ کیونکہ اگر خود وہ فوت ہو جائیں تو ان کو اس بات کا خدشہ ہوگا کہ کہیں ہماری اولاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے، ان کے مال میں کوئی ضائع نہ ہو۔ تو ایسی صورت میں آپ دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کریں۔

لہٰذا وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔

قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيدًا

سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ اور انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا۔

یعنی اس میں یہ ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔ ناحق، ناحق سے مراد ہے جائز طریقہ نہیں، ناجائز طریقے سے۔ تو اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے اور یہ ایمانی علم ہے۔ فرمایا جا رہا ہے: وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں۔ تو ایمانی بات جو ہوتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ کے لیے حال، مستقبل، اور وہ ماضی ایک ہی ہوتا ہے۔ تو وہ ایسا ہے جیسے کہ ابھی ہو رہا ہے۔ تو اس لیے فرمایا آگ بھر رہے ہیں۔ اور

"انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا"۔

اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرما دے۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا دے۔ اور ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دے۔ اور آپ ﷺ کے ساتھ ہمیں جنت میں جانے کا وہ ہمارے اوپر یعنی فضل فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔





میراث کی تقسیم، یتیموں کے حقوق اور وعید - درسِ قرآن - دوسرا دور