نماز کے اجتماعی و انفرادی فوائد اور ان کی حکمتیں

اشاعت، اول :جمعرات، 24 ستمبر 2020

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

 

·      صف بندی، اطاعتِ امیر اور احساسِ فرض کی تربیت

·      تکمیلِ اخلاق اور نفس کی مسلسل بیداری

·      مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت کا فروغ

·       معاشرے میں باہمی ہمدردی اور غم خواری کا جذبہ

·      احکامِ الٰہی کی بجا آوری اور ان میں پوشیدہ ربانی حکمتیں

·       اسلام میں اجتماعیت کا پاکیزہ اور فطری تصور

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

سیرت النبی ﷺ، آج چونکہ جمعرات ہے تو سیرت النبی ﷺ کی تعلیم ہوتی ہے۔ اور اس میں نماز کے بارے میں الحمدللہ تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے بھی الحمدللہ کافی تفصیلات بیان کی گئی تھیں کہ نماز سے ہمیں کیا ملتا ہے۔ نماز کے جو اخلاقی، تمدنی اور معاشی جو فائدے ہیں، اس پہ بات ہوئی تھی۔ جس میں بات ہوئی تھی کہ ستر پوشی کا خیال، پھر اس کے بعد طہارت اور پاکیزگی کے بارے میں، اور جو جسم اور اعضاء کے پاک اور ستھرا رکھنے پر مجبور رکھنا یہ اس کی خاصیت ہے، اور پابندیِ وقت سکھاتی ہے، صبح خیزی اس سے حاصل ہوتی ہے، اللہ کا خوف، ہوشیاری اور یہ مسلمانوں کا ایک امتیازی نشان قرار پایا ہے۔ تو ان شاءاللہ آج مزید جو اس کے فوائد ہیں بیان کیے جائیں گے۔

صف بندی

صف بندی، ایک افسر (امام) کی اطاعت، تمام سپاہیوں (نمازیوں) کی باہم محبت اور دلگیری اور ایک تکبیر کی آواز پر پوری صفوف کی حرکت اور نشست و برخاست مسلمانوں کو صفِ جنگ کے اوصاف سکھاتی ہے

یعنی جیسے کہ ایک افسر Caution دیتا ہے اور تمام سپاہی اس کے اوپر عمل کرتے ہیں، اس طرح امام بھی ایک تکبیر کے ساتھ سب مقتدیوں کو ایک کام کرنے کے لیے اشارہ کرتے ہیں اور سب وہی کام کرتے ہیں۔ اور ان کے قوائے عمل کو بیدار کرتی ہے، جاڑوں میں پانچ وقت وضو کرنا، ظہر کے وقت دھوپ کی شدت میں گھر سے نکل کر مسجد کو جانا، عصر کے وقت لہو ولعب کی دلچسپیوں سے وقت نکال کر خدا کو یاد کرنا، رات کو سونے سے پہلے دعا و زاری کر لینا، صبح کو خوابِ سحر کی لذت کو چھوڑ کر حمدِ باری میں مصروف ہونا، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ہم فرضی راحت و تکلیف سے بے پروا ہو کر عمل کی طاقت اپنے میں پیدا کریں اور کام کی ضرورت کے وقت احساسِ فرض کے تقاضے کو بجالانا ضروری سمجھیں اور اس کے لئے عارضی تکلیفوں کی برداشت کا اپنے کو خوگر بنائیں، ہفتہ میں ایک دن نمازِ جمعہ کے لئے شہر کے سب مسلمانوں کا ایک جگہ جمع ہونا، دن رات کے پُر آرام سے پُر آرام وقت میں ممکن تھا، مگر اس کے لئے بھی دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا تا کہ اس اجتماع اور مظاہرہ میں بھی مسلمان سپاہیانہ خصائص کے خوگر رہیں، اور نمازِ جمعہ کا ہر پابند شہادت دے گا کہ اس کی اتنی سی یہ عادت مشکلاتِ وقت کے اتفاقات میں اس کے لئے کس قدر مدد ثابت ہوتی ہے۔

10: ۔ تمام عبادات بلکہ تمام مذاہب کا اصل مقصد تکمیلِ اخلاق ہے، لیکن اصلاحِ اخلاق کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ نفس ہر وقت بیدار اور اثر قبول کرنے کے لئے آمادہ رہے، تمام عبادات میں صرف نماز ہی ایک ایسی چیز ہے جو نفس کو بیدار رکھ سکتی ہے، روزہ، حج، زکوٰۃ اولاً تو ہر شخص پر فرض نہیں، اس کے ساتھ روزہ سال میں ایک بار فرض ہوتا ہے، زکوٰۃ کا بھی یہی حال ہے، حج عمر میں ایک بار ادا کرنا پڑتا ہے، اس لئے یہ فرائض نفس کے تنبہ اور بیداری کا دائمی اور ہر روزہ ذریعہ نہیں ہو سکتے، برخلاف ان کے نمازوں میں پانچ بار ادا کرنی ہوتی ہے، ہر وقت وضو کرنا پڑتا ہے، سجدہ، رکوع، قیام و قعود، جہر و خفاء، تسبیح و تہلیل، تکبیر و تشہد نے اس کے ارکان و اعمال میں تنوع و امتیاز پیدا کر دیا ہے، جن میں ہر چیز نفس میں تدریجی اثر پذیری کی قابلیت پیدا کرتی ہے، اور ہر چوبیس گھنٹہ میں چند گھنٹوں کے وقفہ سے نفسِ انسانی کو ہوشیار اور قلبِ خفتہ کو بیدار کرتی ہے، اس طرح نفس کو رات دن تنبہ ہوا کرتا ہے۔

الفت و محبت

نماز مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے، محلہ کے تمام مسلمان جب کسی ایک جگہ دن میں پانچ دفعہ جمع ہوں اور باہم ایک دوسرے سے ملیں تو ان کی بیگانگی دور ہوگی، ان میں آپس میں محبت اور الفت پیدا ہوگی، اس طرح وہ ایک دوسرے کی امداد کے لئے ہر وقت تیار رہیں گے، قرآنِ پاک نے نماز کے اس وصف اور اثر کی طرف خود اشارہ کیا ہے۔

﴿وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا﴾ (الروم: 31-32)

"خدا سے ڈرتے رہو اور نماز کھڑی رکھو اور مشرکوں میں سے نہ بنو، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور بہت سے جتھے ہو گئے"۔

اس سے معلوم ہوا کہ نماز کا اجتماع مسلمانوں کو جتھہ بندی اور فرقہ آرائی سے بھی روک سکتا ہے کہ جب ایک دوسرے سے ملاقاتیں ہوتی رہیں گی، تو غلط فہمیوں کا موقع کم ملے گا

غم خواری

بلکہ اس سے آگے بڑھ کر نماز مسلمانوں میں باہمی ہمدردی اور غمخواری کا ذریعہ بھی بنتی ہے، جب امیر و غریب سب ایک جگہ ہوں گے اور امراء اپنی آنکھ سے غریبوں کو دیکھیں گے تو ان کی فیاضی کو تحریک ہوگی، ایک دوسرے کے دکھ درد کی خبر ہوگی، اور اس کی تلافی کی صورت پیدا ہوگی۔

ابتدائے اسلام میں اصحابِ صفہ کا ایک گروہ تھا جو سب سے زیادہ مستحقِ اعانت تھا، یہ گروہ مسجد میں رہتا تھا، صحابہ نماز کو جاتے تو ان کو دیکھ کر خود بخود ہمدردی پیدا ہوتی تھی، چنانچہ اکثر صحابہ کھجور کے خوشے لے جا کر مسجد میں لٹکا دیتے تھے، جس پر یہ گروہ گزر اوقات کرتا تھا، اکثر صحابہ اور خود آنحضرت ﷺ نماز سے فارغ ہو کر ان لوگوں کو ساتھ لاتے اور اپنے گھروں میں کھانا کھلاتے تھے، اب بھی مساجد خیرات و صدقات کا ذریعہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔

﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ (البقرہ: 3)

اصل میں واقعی نماز الحمدللہ ،اللہ پاک نے ہمیں ایسی عبادت نصیب فرمائی ہے کہ اس میں گوناگوں فوائد ہیں اور ان میں اپنے انفرادی فوائد کے علاوہ اجتماعی فوائد بھی بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ جو ابھی فوائد بیان کیے جا رہے ہیں، یہ زیادہ تر اجتماعی فوائد ہیں۔ انفرادی فوائد تو اس میں بہت ہیں۔ اور من جانب اللہ جو کام ہوتے ہیں اس میں کام ایک ہوتا ہے لیکن اس میں فوائد بے شمار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ ہماری حقیقت کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور جو جو مسائل ہو سکتے ہیں کسی وقت، ہم لوگوں کو، ان سب کا اللہ کو پتہ ہوتا ہے۔ اور پھر کس طریقے سے ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے یہ بھی اللہ جل شانہ کو معلوم ہوتا ہے۔ اب اگرچہ ہم لوگوں کو تو صرف حکم پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ہم لوگ تو ان مصالح کو نہیں دیکھتے، ہمیں تو صرف اللہ پاک کے فرمان کو جیسے ایک جرنل کوئی Plan بناتا ہے، تو سپاہیوں کو یہ تو نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کے Plan میں کیا ہے۔ اس کو تو عمل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن وہ جرنل جو ہوتا ہے وہ تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہے کہ ان میں کس کس قسم کے فوائد ہوں اور کیا کیا باتیں ہوں، کن کن نقصانات سے بچا جائے۔ وہ تمام باتوں کا احاطہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کرتا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ، اب اللہ جل شانہ کو تو ماضی، حال، مستقبل تمام چیزوں کا پتہ ہوتا ہے۔ اور انسان کی نفسیات کی باریکات تک پتہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ جل شانہ کا جو طریقہ کار ہوتا ہے، یعنی سمجھانے کا اور اللہ جل شانہ کا تربیت کا، وہ بہت زیادہ مکمل ہوتا ہے۔ تو نماز، جس کو اللہ جل شانہ نے پانچ وقت فرض کیا ہے، اس میں اللہ پاک نے بہت زیادہ فائدے رکھے ہیں۔ ان میں سے چند فائدے یہاں بیان ہو رہے ہیں۔

اجتماعیت

اجتماعیت چونکہ ایک فطری چیز ہے، اس لئے تمام قوموں نے اس کے لئے مختلف اوقات اور تہوار مقرر کئے ہیں، جن قوموں کو مذہبی قیود سے آزاد کہا جاتا ہے، ان میں بھی اس اجتماعیت کی نمائش کلبوں، کانفرنسوں، اینیورسریوں اور دوسرے جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں سے کی جاتی ہے، لیکن یہ اجتماعیت جہاں فائدہ پہنچاتی ہے وہاں اپنے مضر اثرات بھی ضرور پیش کرتی ہے، اجتماعیت کام چاہتی ہے، اگر مفید کام پیشِ نظر نہ ہو تو وہی رنگ رلیاں، رقص و سرود، شراب خواری، قمار بازی، چوری، بد نظری، بدکاری، رشک و حسد بلکہ قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے، میلے ٹھیلے، عرس، ہولی، تہوار جن کی مثالیں عرب مشرکوں میں بھی ملتی تھیں اور اب بھی ملتی ہیں، "قبور پر ناجائز اجتماع" غرض تمام اجتماعی بدعات بدترین گناہوں اور فسادوں کا مرکز بن جاتے ہیں، اب اگر ان خطرناک رسوم کا صرف انسداد ہی کیا جاتا تو ان کی جگہ اسلام کے سامنے کوئی دوسری چیز پیش نہ کرتا تو محض یہ سلبی علاج کافی نہ ہوتا، ضرورت تھی کہ وہ اپنے قومی اجتماع کے لئے کوئی مشغلہ مقرر کرے جس سے قلبِ انسانی اپنی فطری پیاس کو بجھا سکے اور اجتماعیت پیدا ہو کر بدی کی بجائے نیکی کی طرف بہے چنانچہ اسلام نے اسی لئے روزانہ جماعت کی عام نمازیں، ہفتہ میں جمعہ کی نماز اور سال میں دو دفعہ عیدین کی نمازیں مقرر کیں، کہ اجتماعیت کا فطری تقاضا بھی پورا ہو اور مشرکانہ بدیوں اور اخلاقی برائیوں سے بھی احتراز ہو، کہ اس اجتماع کی بنیادی دعوت خیر پر رکھی گئی ہے، حج کے عالمگیر مذہبی اجتماع میں دوسرے اجتماعی اور اقتصادی مقاصد کے برقرار رکھنے کے ساتھ اس کے مشاغل بھی خدا کے ذکر اور اس کی بارگاہ میں توبہ وانابت کو قرار دیا، اس طرح اسلام کا ہر اجتماع پاکیزگی خیال اور اخلاصِ عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔

واقعتاً جب بھی چند لوگ آپس میں ملتے ہیں، تو ان کے جو نفوس ہوتے ہیں، وہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی کام تلاش کر لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا یہ شادی بیاہ کے موقع پہ، یہ نوجوان لڑکے یا لڑکیاں آپس میں جب جمع ہو جاتی ہیں تو ایک دوسرے کے اوپر طنز کے تیر چلانا، استہزاء، ایک دوسرے کو مذاق اور ایک دوسرے کو تنگ کرنا، یہ ایک عام مشغلہ ہوتا ہے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ نفس تو ہر ایک کے ساتھ ہے نا، تو یہ بظاہر لگتا ہے ایسے جیسے کہ ہنسی مذاق ہے، لیکن اصل میں انسان اپنے اپنے نفس کی خواہشات پوری کر رہا ہوتا ہے۔ تو اس سے جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ہمیں معلوم ہیں کہ کتنے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ کس حد تک خطرناک اس سے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ تو یہ ہر انسان کی اجتماعی جو چیزیں ہوتی ہیں وہ اس کی آئینہ دار ہوتی ہیں کہ ان کی تربیت کتنی ہوئی ہے۔اب نماز، نماز ایسی عبادت ہے جس کی بنیاد ہی ذکر پر رکھی گئی ہے، "وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي"، "نماز کو قائم کر لو میری یاد کے لیے"۔ اور خشوع و خضوع اس کے لیے لازمی کیا۔ خشوع و خضوع کا مطلب کیا ہے؟ اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہونا۔ یعنی وہ بھی ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔ یعنی ذکر کی ایک بہترین انداز میں مزید اس کی ہے شکل ہے خشوع و خضوع کے ذریعے۔کیونکہ ذکر میں کیا ہوتا ہے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے نا آدمی، تو اس میں بھی یعنی خشوع و خضوع میں جب نماز میں انسان خشوع و خضوع اختیار کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہے جو ذکر مطلوب ہے نماز کے اندر اس کی طرف بہت زیادہ متوجہ ہونا اور اپنے آپ کو کٹ کٹا کے، یعنی لوگوں سے کٹ کٹا کے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا۔ اس میں جو تکبیرِ تحریمہ ہے، یہ اصل میں پوری دنیا سے انسان اپنے آپ کو کاٹ دیتا ہے، پوری دنیا سے۔ اس وقت وہ دنیا میں نہیں ہوتا، جس وقت اس نے تکبیر تحریمہ کہہ دیا، تو اب وہ یہاں پر نہیں ہے۔ ہمارے شیخ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ دیکھو، کمال ہے، یہ کبھی آپ نے دیکھا ہے کہ آپ کے ساتھ کوئی آدمی بیٹھا ہو، اور اچانک وہ کہہ دے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟ بھئی کیا ہو گیا ہے اپ کو؟ اچانک آپ نے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہہ دیا، کیا مطلب؟ حالانکہ نماز میں ہمارے ساتھ پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور نماز کے فوراً بعد وہ کیا کہتا ہے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہتا ہے نا؟ تو اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادھر نہیں تھا۔ بیشک اس کا جسم ادھر تھا، لیکن اس کی روح ادھر نہیں تھی، وہ اللہ کے پاس تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نمازی کے سامنے گزرنا منع ہے، سخت منع ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ ادھر ہے ہی نہیں، وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہے، تو تو اللہ اور اس کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ یہ تو بڑی سخت بات ہے۔ تو اس کو سختی کے ساتھ روکا گیا ہے۔ ایک دفعہ میرا بیٹا، الحمدللہ اب تو خیر بڑا ہے ماشاءاللہ۔ اس وقت وہ چھوٹا سا تھا، پتہ نہیں تین سال عمر تھی، ساڑھے تین سال عمر تھی، جو بھی تھا۔ وہ ویسے لیکن یہ ہے کہ مسجد چلا جایا کرتا تھا۔ لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تھا، نماز پڑھ لیتا تھا۔ تو بس جیسے بھی پڑھتا تھا، وہ پڑھتا تھا۔ ایک دن روتا ہوا آیا، رو رہا تھا، کہتا ہے، وہ فلاں بوڑھا ہے نا، اس نے مجھے نماز میں ہٹا دیا۔ اس ظالم کو پتہ نہیں تھا کہ میں کس کے سامنے کھڑا تھا۔ مجھے اتنی خوشی ہوئی، میں نے کہا اس بچے کو کم از کم پتہ ہے کہ میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہم بڑوں کو اگر یاد آ جائے تو کتنی بڑی اچھی بات ہو گی۔ اگر ہم یہی یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ تو یہ کتنی بڑی بات ہو گی۔ لیکن، لیکن اس بچے کو یہ ظاہر ہے بچہ معصوم ہوتا ہے تو ظاہر ہے اس کے تو خیالات بڑے پاک ہوتے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ اس بوڑھے کو معلوم نہیں تھا کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں۔ تو یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، "قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِيْنَ"- سبحان اللہ- کیا پیاری بات ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ، نماز کے اندر جو چیزیں ہیں، ہمیں ذرا اس کا استحضار ہونا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نماز کیسے پڑھ رہے ہیں، ہم نماز میں کیا کر رہے ہیں، نماز میں کیا کیا چیزیں رکھی گئی ہیں، کیا کیا باتیں اللہ تعالیٰ نے اس میں سموئی ہوئی ہیں۔ اب اگر ہم اس کا ادراک کر لیں تو ہماری نماز پتہ نہیں کیسی بن جائے۔ تو اب یہاں پر بھی یہ والی بات ہے کہ اب دیکھیں اجتماعیت جہاں پر بھی ہوتی ہے، وہاں شر پھیلتا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ نفوس میں شر ہے۔ نفوس میں شر ہے۔ ان نفوس کے شر کو، تربیت کے ذریعے سے اور ذکر کے ذریعے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ اب نماز میں ذکر بھی ہے، نماز میں تربیت بھی ہے۔ جیسے ابھی بتایا گیا کہ نماز میں جو تربیت ہے کہ جیسے ایک افسر باقی سپاہیوں کو Caution دیتا ہے۔ اور ان کی Caution پر وہ سارے لوگ Attentive بھی ہوتے ہیں۔ دائیں بھی مڑتے ہیں، بائیں بھی مڑتے ہیں، روانہ بھی ہوتے ہیں، رک بھی جاتے ہیں۔ سب جو کام اس کو بتاتے ہیں اس طریقے سے کرتے ہیں۔ اس طرح امام بھی بتاتا ہے کہ یعنی ہاتھ باندھ کے کھڑے ہو جائیں، جھک جائیں، سجدہ کر لیں، رکوع کر لیں، بیٹھ جائیں۔ یہ ساری باتیں جو ہیں وہ اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ اکبر۔ اب دیکھیں یعنی اجتماعیت بھی ہے مکمل، اور ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر بھی ہے۔ یعنی اللہ کے ذکر کے ساتھ وہ اجتماعی اعمال سارے ہو رہے ہیں۔ اب کیسے بہت زبردست Combination ہے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ ہے کہ یہ جو شر ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دور کیا جاتا ہے، اور اس کا اجتماعیت کا خیر حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ نماز کی ماشاءاللہ خوبی ہے۔

اقتصادی مقاصد کے برقرار رکھنے کے ساتھ اس کے مشاغل بھی خدا کے ذکر اور اس کی بارگاہ میں توبہ وانابت کو قرار دیا، اس طرح اسلام کا ہر اجتماع پاکیزگی خیال اور اخلاصِ عمل کی بنیاد پر قائم ہے۔

نماز کے اجتماعی و انفرادی فوائد اور ان کی حکمتیں - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور