یتیموں کے مال کی حفاظت اور اسلام میں وراثت کے احکام

درس نمبر 171، سورۃ النساء: آیات 6 اور 7- (اشاعتِ اول) 17 مئی، 2022، بمطابق 15 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* یتیموں کی کفالت اور ان کے مال کو حوالے کرنے کی شرائط۔

* یتیم کے مال کے نگران (سرپرست) کے لیے معاوضہ لینے کے شرعی اصول اور احتیاط۔

* زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت سے محروم رکھنے کی ظالمانہ رسم۔

* غزوہ احد میں شہید ہونے والے صحابی کی بیوہ اور بیٹیوں کی وراثت کا واقعہ (حضرت جابر ؓ کی روایت)۔

* سورۃ النساء کی آیات کی روشنی میں میراث کے قوانین کا نفاذ اور خواتین کا حصہ مقرر کیا جانا۔

* عصبات اور بیٹیوں/بیواؤں کے حصص کی عملی تقسیم کا نبوی ﷺ فیصلہ۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَابْتَلُوا الْيَتَامٰى حَتّٰى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُوا ۚ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا (6) لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (7)


صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ

"اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں، تو اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں سمجھ داری آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کر دو۔ اور یہ مال فضول خرچی کر کے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں۔ اور (یتیموں کے سر پرستوں میں سے ) جو خود مال دار ہو وہ تو اپنے آپ کو ( یتیم کا مال کھانے سے ) بالکل پاک رکھے، ہاں اگر وہ خود محتاج ہو تو معروف طریق کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھائے پھر جب تم ان کے مال انہیں دو تو ان پر گواہ بنالو۔ اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے۔"


یتیموں کے سر پرست کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے بہت سی خدمات انجام دینی پڑتی ہیں۔ عام حالات میں جب سر پرست خود کھاتا پیتا شخص ہو، اس کے لئے ان خدمات کا کوئی معاوضہ لینا درست نہیں۔

کیونکہ اللہ پاک نے اس کو دیا ہوا ہے۔ تو ویسے بھی خرچ کرنا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ناداروں پر، مسکینوں پر۔ تو اس کا انسان کو ثواب ہوتا ہے، تو یہ تو اپنے ہی ہوتے ہیں۔ تو ان پر خرچ کرنا یہ تو اچھی بات ہے۔ اور اگر خرچ نہیں کرنا تو کم از کم ان کے مال سے تو نہ لے آدمی، مطلب اگر کھاتا پیتا ہو۔


اس کے لئے ان خدمات کا کوئی معاوضہ لینا درست نہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ خود تنگدست ہے اور یتیم کی ملکیت میں اچھا : خاصا مال ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنا ضروری خرچ بھی یتیم کے مال سے لے لے ۔ مگر پوری احتیاط سے اتنا ہی لے جتنا عرف اور رواج کے مطابق ضروری ہے، اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔

مثلاً تھوڑا سا ہم اس کے بارے میں-واللہ اعلم- یہ تو چونکہ اس پہ ہمارا اس پر چھوڑا گیا ہے۔ اگر اس کے لیے ہم کسی اور کو نگران رکھتے تنخواہ پر، تو اس کو ہم کتنی تنخواہ دیتے؟ وہ معروف سے مراد یہی ہے کہ مطلب کتنا معاوضہ یعنی اس وقت ہوتا؟


تو وہ معاوضہ جو ہے وہ خود گویا کہ لے سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سمجھ لیں کہ میں ان کا نگران ہوں اور میں جو نگرانی کر رہا ہوں، تو وہ تنخواہ جو دوسروں کو ہم دے سکتے تھے، تو وہ میں خود لے لوں، اس سے میں خود کھا لوں پی لوں۔ مطلب یہ والی بات ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ اس میں کوشش کریں کہ یتیم ہی کا فائدہ ہو۔ ہے نا، یتیم ہی کا ہو۔

مگر پوری احتیاط سے جتنا عرف اور رواج کے مطابق ضروری ہے، اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔


مردوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ ، یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے۔

جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کے سامنے بعض ایسے واقعات پیش آئے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ بیوی اور نابالغ بچے چھوڑ کر گیا۔ اس کے سارے ترکے پر اس کے بھائیوں نے قبضہ کر لیا۔ بیوی کو تو عورت ہونے کی وجہ سے میراث سے محروم رکھا گیا اور بچوں کو نابالغ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ دیا گیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کر دیا گیا کہ عورتوں کو میراث سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگے آیت نمبر 11 سے شروع ہونے والے رکوع میں تمام رشتہ داروں، مردوں اور عورتوں کے حصے مقرر فرما دیے۔


یہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث شریف میں ہے کہ اس میں آپ ﷺ کے سامنے ایک خاتون آئیں اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری دو بیٹیاں ہیں اور میرا شوہر وہ تھے جو کہ آپ کے ساتھ جنگِ احد میں شہید ہوئے ہیں۔ اب واللہ اگر ان کے پاس مال نہیں ہو تو ان کے ساتھ کوئی نکاح نہیں کرے گا۔

جیسے ہمارے ہاں ہے، یہ مطلب ظاہر ہے۔

نکاح نہیں کرے گا۔ تو ان کے چچا نے ان کے سارے مال پر قبضہ کر دیا اور ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔


آپ ﷺ کو بڑی تکلیف ہوئی، آپ ﷺ کو۔ لیکن چونکہ کوئی احکامات اترے نہیں تھے اس کے بارے میں، تو آپ ﷺ خاموش ہوئے۔ یعنی یہ بھی گویا کہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے وہ احکامات نافذ نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ پاک کے احکامات کو نافذ فرماتے تھے۔ حالانکہ بڑی تکلیف ہوئی آپ ﷺ کو۔ یعنی ان پر ترس اگر ہم کو آ رہا ہے تو آپ ﷺ کو کتنا آیا ہوگا۔ تو پھر آیتِ میراث نازل ہوئی۔ تو جب آیتِ میراث نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ" جائیں اور وہ جو خاتون ہیں، ان کے دیور کو کہو کہ اس خاتون کو ایک بٹا آٹھ دے دو اور ان بچیوں کو دو بٹا تین دے دو، اس کے بعد جو بچے وہ تمہارا ہے۔"


مطلب یہ گویا کہ پہلا فیصلہ تھا میراث کے بارے میں جو ہوا۔ کیونکہ اتنا حصہ ان کا بنتا ہے، باقی جو احکامات آ رہے ہیں کہ جو بیوی ہے اس کو آٹھواں اگر اس کے شوہر کی اولاد موجود ہے۔ اس کا اٹھواں دیا جائے گا اور بیٹیاں ہوں گی۔ اگر وہ ایک سے زیادہ ہیں، ایک سے اگر زیادہ ہیں تو پھر ان کو دو تہائی دیا جائے گا۔ اور پھر جو چچا ہے ان کو عصبات میں ملائے، کیونکہ وہ پہلا عصبہ ہے۔ اور کوئی اور رشتہ دار تو ان کا تھا نہیں۔ یعنی عصبات میں، تو سب سے پہلا عصبہ ان کا چچا ہی تھا۔ تو چچا کو مل گئے۔


اصل میں اس آج کل بھی یہ جنوبی پنجاب میں یہ سلسلہ ہے اور ہندؤوں کا تو ہے ہی۔ تو ہندؤوں سے آیا ہے مسلمانوں میں، کہ وہ یوں کرتے ہیں کہ جو بڑا بیٹا ہو بس اس کا سارا کچھ ہو جاتا ہے اگر بڑا بیٹا موجود ہے۔ نہیں تو جو بھی طاقتور عصبہ موجود ہے ان میں، تو وہ سارا مال لے لیتا ہے۔ باقی کو اپنا دستِ نگر رکھتے ہیں۔ یعنی ان کو دیتے ہیں، یہ نہیں کہ ان کو نہیں دیتے، لیکن وہ اپنی مرضی سے دیتے ہیں۔ یعنی مال ان کا ہوتا ہے اور باقی ان پر خرچ کرتا ہے۔ تو یہ گویا کہ اپنی چودھراہٹ ان کی برقرار ہوتی ہے۔ تو ایسی صورت میں اللہ پاک نے اس کو ختم کر دیا اور میراث کے قوانین نافذ ہو گئے۔


تو یہ جو آیت آئی ہے نا "لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا" گویا کہ یہ باقاعدہ اللہ پاک کی طرف سے حکم آیا کہ چاہے مرد ہو، چاہے عورتیں ہوں، جو ترکہ ہے اس میں ان کا حصہ ہوگا۔ ہاں اور اس وجہ سے اب یعنی عورتوں کو محروم نہیں کیا جا سکے گا۔ بہرحال تفصیل تو اس کے بعد پھر آ ہی رہی ہے۔


تو یہ میرا خیال میں ابھی چونکہ بہت یعنی احکامات اس میں بہت زیادہ آ رہے ہیں۔ یعنی یہ جو رکوع ہے، اس میں بہت سارے احکامات مطلب چونکہ آ رہے ہیں تو لہذا میرا خیال میں اتنا کافی ہے۔ باقی پھر ان شاء اللہ۔







یتیموں کے مال کی حفاظت اور اسلام میں وراثت کے احکام - درسِ قرآن - دوسرا دور