مقامِ صحابہ و فضائلِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور عقیدہ اہلِ سنت

دفتر اول: مکتوب نمبر 266 (بارہواں حصہ) - اشاعتِ اول: 24 جنوری، 2018

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اصحابِ رسول ﷺ سے محبت کی تاکید اور ایذاء دینے پر وعید
    1. افضلیتِ شیخین (ابوبکرؓ و عمرؓ) اور خلفائے راشدینؓ کی ترتیب کا تقوینی راز
      1. چاروں خلفاء کے امتیازی اوصاف (استقامت، دور اندیشی، مظلومیت اور فقاہت)
        1. فتنہ خوارج کی حقیقت اور ان کی متشدد و گمراہ کن سوچ
          1. صراطِ مستقیم کے لیے 'کتاب اللہ' اور 'رجال اللہ' دونوں کی ناگزیر ضرورت
            1. مشاجراتِ صحابہؓ (باہمی اختلافات) پر اہلِ سنت کا مؤقف اور خطائے اجتہادی

              اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

              أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


              آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریفہ کا درس ہوتا ہے۔ اور آج کل عقائد کی بات چل رہی ہے اس میں۔ مکتوب شریف جو ہے اس میں عقائد ماشاءاللہ بیان کیے جا رہے ہیں۔


              ﴿آنحضرت علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا:

              "اَللّٰهَ اَللّٰهَ فِيْ أَصْحَابِيْ لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ وَ مَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ وَ مَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِيْ وَ مَنْ آذَانِيْ فَقَدْ آذَى اللّٰهَ وَ مَنْ آذَى اللّٰهَ فَیُوشِکُ أَنْ یَأْخُذَہٗ"

              " میرے اصحاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے بعد ان کو نشانہ ملامت نہ بناؤ۔ جس نے ان کو دوست رکھا اس نے گویا میری محبت کی وجہ سے ان کو دوست رکھا۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے گویا میری دشمنی کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ اور جس نے ان کو ایذاء دی اس نے گویا مجھ کو ایذاء دی۔ اور جس نے مجھ کو ایذاء دی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ناراض کیا۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا۔

              اور اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے:

              ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللّٰهَ وَ رَسُولَهٗ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ﴾ (الأحزاب: 57)

              " بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں، ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہے"۔

              اور جو کچھ مولانا سعد الدین نے شرح عقائد نسفی میں اس فضیلت کے بارے میں انصاف سمجھا ہے، وہ انصاف سے دور ہے اور جو تردید انہوں نے کی ہے وہ سرا سر لا حاصل ہے، کیونکہ علماء کے نزدیک یہ بات مقرر ہے کہ اس جگہ افضلیت سے وہ مراد ہے جو خدائے جل و علا کے نزدیک کثرت ثواب کے اعتبار سے ہے، نہ کہ وہ افضلیت جو فضائل و مناقب بکثرت ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہو کیونکہ ایسی فضیلت عقل مندوں کے نزدیک اعتبار کے لائق ہے۔ سلف صحابہ و تابعین نے جس قدر فضائل و مناقب حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے نقل کئے ہیں وہ اور کسی صحابی کی نسبت منقول نہیں۔ حتی کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا "جو فضائل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آئے ہیں وہ کسی اور صحابی کی نسبت نہیں آئے"۔


              بہت، بہت اونچا مقام تھا۔ لیکن بہرحال شیخین، شیخین ہیں۔ ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ دفتر میں کسی کے ساتھ کوئی بات ہو رہی تھی، میں نے کہا کہ میرے سامنے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جتنی تعریفیں کرو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کیوں؟ میں نے کہا، دیکھو میں اگر اس ہاتھ کو اس کے ہاتھ کے اوپر رکھوں، اور اس ہاتھ کو اوپر اٹھاؤں، تو دوسرے ہاتھ کو کیا ہوگا؟ دوسرا ہاتھ خود بخود اٹھتا جائے گا ساتھ۔ تو میرے سامنے جتنی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرو گے، تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف سے جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام اوپر اٹھتا جائے گا، تو ساتھ ہی شیخین کا مقام بھی اٹھتا جائے گا۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ شیخین افضل ہیں۔ اس وجہ سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

              تو واقعتاً اگر نصوص میں غور کیا جائے تو بات بڑی صاف ہے۔ اور یہ بھی آپ کو بات بتاؤں، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں بڑی عجیب تحقیق کی ہے۔

              خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِيْ۔ فرمایا یہ "ق" صدیق کا آخر ہے۔ "ر" عمر کا آخر ہے۔ اور "ن" عثمان کا آخر ہے۔ اور "ی" علی کا آخر ہے۔ تو لہذا یہ پہلے سے یہ ترتیب بنی ہوئی ہے۔ اور یہ اللہ پاک نے کام لینا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے صدیق ہی بنے تھے۔ اور وہ پہلے پہلے کرنا تھا۔ وہ بعد میں نہیں ہو سکتا تھا، پہلے ہی ہونا تھا۔ اس کے لیے صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تشکیل تھی۔

              واقعتاً دیکھا جائے وہ جو، وہ کام، سب صحابہ متردد ہو گئے تھے یا نہیں؟ مطلب ہے بعض مسئلوں میں۔ اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں نے کرنا ہے،اکیلے۔ اور بعد میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ رحم کرے ابوبکر پر، ان کے ذریعے سے ہم بچ گئے۔ ان کے ذریعے سے ہم بچ گئے۔ تو یہ کام کیا کس نے؟ اللہ پاک نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لیا۔ بیشک ڈھائی سال تھے، لیکن وہ ڈھائی سال آگے جتنی ساری خلافت پہ بھاری ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی جو چیزیں تھیں وہ اس بنیاد پہ بنی ہیں، جو بنیاد ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنا چکے ہیں۔ اگر وہ بنیاد نہ بناتے تو وہ عمارت کدھر بنتی؟ تو وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

              پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بعد وہ کام کر دیے جو دور اندیشی سے تعلق رکھتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جتنے کام ہیں وہ، استقامت اور یقینِ محکم، والی جو بات ہے ، اس قسم کی باتیں تھیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے وہ کام لیے۔ وہ بنیاد ہوتی ہے۔ استقامت اور یقینِ محکم بنیاد ہے۔ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو کام لیے وہ دور اندیشی کے ہیں سارے۔ اب دیکھیں اتنی دور دور تک حضرت کی سوچ گئی ہے نا کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ اب بھی Norway میں اور Sweden میں اور ان علاقوں میں جو "Omar "laws ہیں، باقاعدہ ان کو "Omar laws" کہتے ہیں۔ وہ Social security system جو انہوں نے بنایا ہے۔ وہ جو colonies system انہوں نے بنایا ہے، جو فوجی units کا system انہوں نے بنایا ہے۔ وہ سب دنیا اس پہ چل رہی ہے۔ تو یہ اتنی دور اندیشی والا نظام عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنایا۔ اس وجہ سے جو مستشرقین تھے وہ کہتے تھے کہ "اگر ایک عمر اور ہوتے تو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین نہ ہوتا"۔ تو ظاہر ہے مطلب اللہ پاک نے ان سے یہ کام لیا۔

              عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قربانی لی ہے نا، میں بتاؤں وہ قربانی کیا قربانی ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی بیشک زیادہ ہے، شہادت بہت المیہ ہے۔ لیکن ذرا دیکھو، حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت خلیفہ نہیں تھے۔ اور ظاہر ہےکہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہیں۔ خلیفہ ہونے کے باوجود اپنے حق میں تلوار نہیں چلائی۔ کمال کی بات ہے دو باتوں کے درمیان سارا کچھ لے آئے۔ اور دونوں آپ ﷺ کی باتیں تھیں۔ ایک فرمایا کہ: مجھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں قمیص دی جائے گی۔ لوگ تجھ سے وہ قمیص اتروانا چاہیں گے، اس کو اتارنا نہیں ہے"۔ اور میرا خیال ہے کہ یہ خلافت ہے۔ اب دیکھو اس پر اس لیے استعفیٰ نہیں دیا۔ نہیں تو استعفیٰ تو دے دیتے۔ زیادہ آسان تھا۔ استعفیٰ اس لیے نہیں دیا کہ آپ ﷺ کی بات ہے۔ اور دوسری فرمایا کہ میں نے سنا ہے آپ ﷺ سے، کہ اگر مسلمانوں کے درمیان ایک دفعہ تلوار چل جائے گی، پھر وہ رکے گی نہیں۔ پھر وہ رکے گی نہیں۔ اور میں اس کی ابتدا کرنا نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس کی ابتدا ہو جائے۔ لہذا تلوار اس لیے نہیں چلائی۔

              علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسن اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ڈیوٹی لگائی، کہ ان کے دروازے پہ پہرا دو، کوئی اندر نہ جانے پائے۔ تو دروازے سے کوئی نہیں جا سکا۔ پھر قتال کی اجازت مانگی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، تو انہوں نے اجازت نہیں دی۔ جب خلیفہ کی مرضی کے بغیر تو ہو نہیں سکتا قتال۔ انہوں نے اجازت نہیں دی۔ انہوں نے یہی بات بتائی کہ مجھے یہ پتہ چلا ہے۔ اب قتال کی اجازت ملی نہیں، دروازے سے کوئی جا نہ سکا، پیچھے سے لوگ پھلانگ کے آ گئے۔ اور شہید کر دیا۔ اور شہادت میں انہوں نے اپنی صفائی پیش کی ہے۔ ان کو نہ گرفتار کرنے کی کوشش کی نہ ان کو مروانے کی کوشش کی، صرف صفائی پیش کی ہے۔ تو یہ جو مظلومیت ہے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی، یہ تو اتنی زیادہ ہے کہ میں تو حیران ہوں کہ اس کو لوگ بھول کیسے سکتے ہیں۔ اتنی زیادہ ہے۔ تو قربانی لے لی اب عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔

              اور حلم کا پورا پہاڑ تھے، حلم کے۔ وہ چیز اللہ پاک نے عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے سے ظاہر کروائی۔ پھر اس کے بعد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو فقاہت، اتنی فقاہت تھی، اتنے مشکل مشکل مسئلے چٹکیوں میں حل کرتے تھے۔ اب یہ جو فتنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں آیا، اگر یہ کسی اور کے دور میں آتا تو یہ فقاہت کی ضرورت تھی اس وقت۔ تو اللہ پاک نے ان سے وہی کام لیا جس کے لیے اللہ پاک نے ان کو بنایا تھا،"فقاہت"۔ اس وجہ سے آج بھی مسلمانوں کے درمیان اگر کبھی لڑائی ہو، فیصلہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس میں پڑ گئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا تھا: "تمہیں ابتلا میں ڈالا جائے گا، ایسی ابتلا میں جس میں پہلے کوئی نہیں آیا ہوگا"۔ تو وہ تو ہوا نا۔ وہ تو ہوا۔ اور یہ بھی فرمایاکہ: "کتنا شقی ہو گا وہ جو تیری داڑھی کو تیرے خون سے سرخ کر دے گا"۔ کتنا شقی ہو گا۔ تو یہ اس لیے کہتے ہیں کہ اس امت کا سب سے بڑا شقی جو ہے وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے والا ہے۔ جو سب سے بڑا شقی ہے، وہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کرنے والا ہے۔

              اور یہ شقی، خبیث جو تھا، ابنِ ملجم۔ جس وقت اس کو قصاص میں مارا جانے لگا۔ تو جس وقت اس کے ہاتھ کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ پیر کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ کان کاٹے گئے، کچھ نہیں کہا۔ آنکھوں میں سلائی ماری گئی گرم، آنکھیں بہہ گئیں، کچھ نہیں کہا۔ جب اس کی زبان کاٹی جانے لگی تو رونے لگ گیا۔ انہوں نے کہا کیوں؟ اب تجھے وہ آ گئی؟ کہتا ہے میں اس زبان سے روزانہ ستر ہزار مرتبہ ذکر کرتا ہوں۔ ستر ہزار مرتبہ ذکر کرتا ہوں اس زبان سے۔ اس وجہ سے میں رو رہا ہوں۔ تو اس سے پتہ چلا، خارجی، خوارج، یہ اتنا بڑا گند ہے۔ کہ ذکر کے ذریعے سے بھی نہیں دھلتا۔ اتنا بڑا گند ہے، خارجیت۔

              خارجی کی نظر اپنے اوپر ہوتی ہے کہ میں جو سوچتا ہوں وہ ٹھیک ہے۔ کسی اور کی سوچ کو نہیں مانتا۔ وہ اختلاف کی اجازت نہیں دیتا، خارجی جو ہوتا ہے۔ آج بھی جو ان کے نقشِ قدم پہ چل رہے ہیں ان کا حال ایسا ہے۔ خارجی سوچ رکھتے ہیں کہ صرف ہم ٹھیک ہیں۔ کوئی اور ٹھیک نہیں ہے۔ تو یہ جو بات ہے یہ خارجیت بہت بڑی مصیبت ہے۔

              حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بہت بہترین فیصلہ فرمایا ہے معارف القرآن میں۔ بالکل اس کی ابتداء میں اگر آپ دیکھیں۔ تو اس میں فرمایا ہے کہ دیکھو سورہ فاتحہ میں:

              اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين ۔

              گویا کہ اللہ پاک ہمیں رجال اللہ کے پیچھے لانا چاہتا ہے۔ یہ ہدایت کا ذریعہ ہے۔ اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ، ہم مانگتے ہیں نا اللہ پاک سے۔ تو اللہ پاک اس ہدایت کے راستے کی تعریف کیا کرتا ہے؟ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پہ تو نے انعام فرمایا۔ انعام کن پر ہے؟ انبیاء، صدیقین، شہداء، صالحین۔ تو یہ، اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں وہ ہیں۔ اور رجالِ شیطان سے بچنے کے ہیں۔ تو یہاں پر رجال کا مسئلہ ہے۔

              اور سورہ بقرہ کی ابتدا میں:

              الٓمّٓ ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ

              کتاب اللہ کی بات ہے۔ فرمایا :دونوں ضروری ہیں ہدایت کے لئے۔ لہذا جو لوگ صرف رجال کو لیتے ہیں اور کتاب کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، فاطمیین کی طرح۔ اور جو لوگ کتاب اللہ کو لیتے ہیں اور رجال اللہ کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، جیسے خوارج۔ جو لوگ کتاب اللہ کو لیتے ہیں اور رجال اللہ کو نہیں لیتے وہ بھی گمراہ ہیں، جیسے خوارج۔


              ایک جگہ پر میں گیا تھا وہاں میرا بیان تھا۔ وہ ذرا سخت طبیعت کے لوگ ہیں۔ نام میں نہیں لیتا۔ سخت طبیعت کے لوگ ہیں متشددین ہیں۔ تو وہاں میں جب بیان میں نے کیا، تو اس وقت تو تقریباً پچاس ساٹھ لوگ اس میں بیعت میں آ گئے۔ مطلب وہ اسی متشددین لوگوں میں سے۔ اور ان کے جو بڑے تھے انہوں نے کہا کہ آپ کا جو تصوف ہے یہ ہمارے قرآن و سنت کا تصوف ہے، اس کو تو ہم بھی مانتے ہیں۔ لہذا وہاں تو معاملہ ٹھیک ہو گیا۔

              اگلی دفعہ جب میں گیا اگلے سال، انہی کی Request پر کہ آپ آئیں پھر۔ تو Request پہ جب گیا، تو اس وقت جو لوگ متشدد ان میں تھے نا انہوں نے کچھ شرارت کی۔ شرارت یہ کی، عجیب شرارت تھی۔ شرارت یہ کی کہ کہا جو قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا تھا نا انہوں نے کہا جی اب فلاں آ جائیں تلاوت کریں۔ ادھر ادھر دیکھا جی:وہ نہیں ہیں، اچھا ٹھیک ،جی فلاں تم آ جاؤ، وہ آ گیا۔ جب وہ اٹھے نا تو ان کے زیرِ لب مسکراہٹ سے میں نے اندازہ کیا کہ کوئی ناٹک کھیلا جا رہا ہے۔ کچھ مسئلہ ہے۔ میں نے کہا چلو جو کچھ ہے وہ دیکھا جائے گا۔ اچھا جب وہ آ گیا، تو اس نے قرآن پاک کی جو تلاوت کی اس میں یہی آیاتِ کریمہ بیان کیں کہ وہ جو قرآن سے اعراض کرنے والے تھے تو ان کو کہا جائے گا کہ اب کیوں بھاگتے ہو؟ کچھ اس طرح بات۔ تو اس سے پھر وہ ساتھ میں انہوں نے کہا میں اس کا ترجمہ بھی بتا دوں۔ ترجمہ بتا دیا۔ پھر کہا کہ دیکھو قرآن ہی پیر ہوتا ہے، کوئی اور پیر نہیں ہوتا۔ استدلال یہ کر لیا۔

              تو میں سمجھ گیا کہ سارا ناٹک اس کے لئے بنایا گیا تھا۔ میں نے سنی ان سنی کر دی۔ میں نے کہا اگر ابتداسے رد کروں گا تو ماحول خراب ہو گا۔ تو میں نے سنی ان سنی کر لی، تقریباً ایک گھنٹہ بیان کرنے کے بعد، آخری پانچ منٹ میں، میں نے پھر جواب دے دیا۔ میں نے کہا حضرت مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمایا ہے۔ کہ رجال اللہ کو بھی ماننا پڑتا ہے، اور کتاب اللہ کو بھی ماننا پڑتا ہے۔ اور جو صرف کتاب اللہ کو مانتا ہے وہ بھی گمراہ ہے، اگر رجال اللہ کو نہیں مانتا۔ اور رجال اللہ کو کوئی مانتا ہے اور کتاب اللہ کو نہیں مانتا وہ بھی گمراہ ہے۔

              مثال بھی دی ہے۔ میں نے کہا جس وقت خوارج نے خروج کر لیا۔ تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی سرکوبی کے لئے جب گئے، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہلے بھیجا ان کے پاس۔ پھر اس کے بعد خود تشریف لے گئے۔ اور پھر فرمایا ان سے، کہا: قرآن پاک ساتھ رکھا اور فرمایا:

              يَا مُصْحَفُ! كَلِّمِ النَّاسَ۔ لوگوں سے بات کر، یا لوگوں کو یہ مسئلہ بتا۔ انہوں نے کہا آپ کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا میں وہی کہہ رہا ہوں جو تم چاہتے ہو۔ اگر تم صرف قرآن کو مانتے ہو ، کسی اور چیز کو نہیں مانتے، پھر قرآن تم سے بات کرے نا۔ قرآن پھر تم سے بات کرے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا تھا کہ دیکھو ان کے ساتھ حدیث پہ بات کرنا قرآن پہ بات نہ کرنا۔ کیونکہ قرآن کے اپنے معنی یہ ایجاد کر لیں گے۔ اپنی طرف سے مفہوم گھڑ لیں گے۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا۔

              تو میں نے کہا کہ دیکھو قرآن کو تو سب مانتے ہیں۔ لیکن قرآن پر لانے کے لیے کچھ لوگ ہیں۔ قرآن پر لانے کے لئے کچھ لوگ ہیں، ان کو "پیر" کہتے ہیں، جو صحیح پیر ہوتے ہیں۔ پھر اس وقت بھی غالباً گیارہ لوگ سلسلے میں داخل ہو گئے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ کچھ لوگ متشدد ہوتے ہیں۔ اور یہ متشدد لوگ بہت خطرناک لوگ ہیں بہت خطرناک لوگ ہیں۔ یہ خواہ مخواہ مصیبت بناتے ہیں۔

              اس کے با وجود تینوں خلفاء کی فضیلت کے بارے میں حکم کرتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ افضلیت کی وجہ ان فضائل و مناقب کے علاوہ کچھ اور ہے، اور اس افضلیت کی اطلاع "دولتِ وحی" کے مشاہدہ کرنے والوں کو میسر ہے جنہوں نے صریح طور پر یا قرائن سے معلوم کیا ہے اور وہ پیغمبر علیہ الصلوۃ و السلام کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں، لہذا جو کچھ کہ شارح عقائد نسفی نے بیان کیا ہے کہ افضلیت سے مراد کثرت ثواب ہے تو توقف کی گنجائش سے ساقط ہے کیونکہ توقف کے لئے اس وقت گنجائش ہوتی ہے جب کہ اس افضلیت کو صاحبِ شریعت کی طرف سے صراحۃ یا دلالۃً معلوم نہ کر لیا ہو۔ اور جب معلوم کر لیا ہے تو پھر توقف کیوں؟ اور اگر معلوم نہیں کیا تو افضلیت کا حکم کیوں کریں؟ اور جو شخص سب کو برابر سمجھتا ہے اور ایک دوسرے پر افضلیت دینا بیکار سمجھتا ہے وہ فضول اور لا حاصل ہے۔ وہ عجیب احمق ہے جو اہلِ حق کے اجماع کو فضول و بے کار سمجھتا ہے۔

              صحابہ کرام کا اجماع ہے نا۔ صحابہ کرام جمع ہو گئے پہلے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر۔ بس ٹھیک ہے جی ترتیب سے۔

              اچھا،

              شاید فضل کا لفظ اس کو فضولی کی طرف لے گیا ہے۔ جو کچھ صاحب فتوحات مکیہ کہتے ہیں کہ ان کی خلافت کی ترتیب کا سبب ان کی عمروں کی مدتوں سے ہے۔ (یہ بات) ان کی فضیلت میں مساوات پر دلالت نہیں کرتی۔ کیونکہ خلافت کا معاملہ دوسرا ہے اور افضلیت کی بحث دوسری ہےـ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں جو ان (شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ) کی شطحیات سے ہیں، ان کی شان کے لائق نہیں ہیں، ان کے اکثر کشفیہ معارف جو اہل سنت کے علوم سے جدا واقع ہوئے ہیں وہ صواب سے دور ہیں، لہذا ایسی باتوں کی متابعت وہی شخص کر سکتا ہے جس کا دل بیمار ہے یا مقلدِ محض ہے۔

              اور صحابہ کے درمیان جو لڑائی جھگڑے واقع ہوئے ان کی اچھے معنوں میں تاویل کرنی چاہیے اور نفسانی خواہش و تعصب سے دور رکھنا چاہیے۔ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی افراط محبت کے با وجود فرماتے ہیں: "جو مخالفات و محاربات (جنگ و جدال) ان (صحابہ) کے درمیان واقع ہوئے ہیں وہ خلافت کا نزاع نہ تھا بلکہ خطائے اجتہادی کے سبب سے تھا"ـ اور اس (شرح عقائد) کے حاشیہ "خیالی"؂15 میں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے لشکر نے (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی اطاعت سے بغاوت کی اور ساتھ ہی اس امر کا اعتراف بھی کیا کہ وہ (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تمام اہلِ زمانہ سے افضل ہیں اور وہ امامت کے ان سے زیادہ حق دار ہیں۔ ایک شبہے کی وجہ سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینا تھا اور حاشیہ قرہ کمال (الدین اسمعیل) میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ "ہمارے جن بھائیوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی وہ فاسق و کافر نہیں ہیں کیونکہ ان کے لئے تاویل ہے" اور اس میں شک نہیں کہ خطائے اجتہادی ملامت اور طعن و تشنیع سے بہت دور ہے۔

              حضرت خیر البشر علیہ و علی آلہ الصلوات و التحیات کے حقوقِ صحبت کی رعایت کر کے تمام صحابہ کرام کو نیکی کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوات و التسلیمات کی دوستی کی وجہ سے ان کو دوست رکھنا چاہیے


              مقامِ صحابہ و فضائلِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور عقیدہ اہلِ سنت - درسِ مکتوباتِ امام ربانیؒ - دوسرا دور