حقوقِ نسواں (مہر) اور یتیموں کے مال کی حفاظت کے قرآنی احکامات

درس نمبر 170، سورۃ النساء: آیات 4 اور 5- (اشاعتِ اول) 16 مئی، 2022، بمطابق 14 شوال 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·      عورتوں کو مہر خوش دلی اور نیک نیتی سے ادا کرنے کی اہمیت۔

·      مرد کی عورت پر فضیلت کی اصل وجہ (مال خرچ کرنا اور حفاظت کرنا)۔

·      معاشرتی (pressure) ڈال کر یا زبردستی عورت سے مہر یا وراثت معاف کروانے کی شدید مذمت۔

·      یتیموں کے سرپرستوں (ولی) کی ذمہ داریاں اور مالِ یتیم کی امانت و حفاظت۔

·      ناسمجھ اور نابالغ یتیموں کو ان کا مال حوالے کرنے میں احتیاط اور ان کی

ذہنی پختگی (رشد) کو پرکھنے کی شرائط۔

الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَـكُمۡ عَنۡ شَىۡءٍ مِّنۡهُ نَفۡسًا فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓــًٔـا مَّرِ یٓئاً (4) وَلَا تُؤۡتُوا السُّفَهَآءَ اَمۡوَالَـكُمُ الَّتِىۡ جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ قِيٰمًا وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‏ (5)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ


"اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دیا کرو۔ ہاں! اگر وہ خود اس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں تو اسے خوشگواری اور مزے سے کھا لو (۴) اور نا سمجھ (یتیموں) کو اپنے وہ مال حوالے نہ کرو جن کو اللہ نے تمہارے لئے زندگی کا سرمایہ بنایا ہے؛ ہاں! اُن کو ان میں سے کھلاؤ اور پہناؤ، اور ان سے مناسب انداز میں بات کر لو"

یہ جو مہر والی بات ہے، اس میں بھی ہمارے معاملات کی جو کمزوری ہے وہ سامنے آتی ہے۔ چونکہ اس میں بھی مال کا معاملہ ہوتا ہے اور مالی معاملہ جیسے میں نے عرض کیا کہ بہت بڑا مسئلہ ہے، حبِ مال جو ہے۔ تو اس وجہ سے جس وقت شادی ہو رہی ہوتی ہے، اس وقت مہر تو بعض دفعہ شیخی کے لیے، اپنی شان دکھانے کے لیے زیادہ رکھا جاتا ہے۔ بعض دفعہ، سب وقت میں تو نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بعد میں دے نہیں سکتے، یا دینے کی نیت ہی نہیں ہوتی۔ تو اس میں ایک معاشرتی نقطہ ہے کہ آدمی، مطلب ہے، جو رجال ہیں، یعنی مرد، ان کو اللہ پاک نے ایک درجہ فوقیت دی ہے عورتوں پر۔ لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان کے اوپر مال خرچ کرتے ہیں، ان کی حفاظت کرتے ہیں۔


اب دیکھیں، جو وجوہات ہیں دو؛ یعنی مال خرچ کرنا اور ان کی حفاظت کرنا۔ جس کی وجہ سے ان کو یہ فوقیت دی گئی ہے، تو اگر اس میں وہ پورے نہ اتریں تو پھر کیا ان کو فوقیت حاصل ہو سکتی ہے؟ پھر تو فوقیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو یہ بڑی بے غیرتی کی بات ہوتی ہے کہ انسان عورت سے مانگے۔ چاہے اشارے کنائے سے مانگے، چاہے زور زبردستی سے مانگے، چاہے طور طریقے سے مانگے۔ لیکن عورت کے سامنے ہاتھ پھیلانا انتہائی درجے کی خساست ہے اور بے غیرتی ہے۔


مرد کو چاہیے کہ عورت کو دے۔ ہاں، اپنی حیثیت کے مطابق دے۔ یہ نہیں کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر۔ جو حیثیت اس کی بنتی ہے، اس کے حساب سے دے۔ لیکن اس سے لے نہیں، یہ بنیادی بات ہے۔ تو یہاں پر فرمایا:

" عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دیا کرو۔ہاں اگر وہ خود اس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں۔"

آج کل لوگ معاف کرواتے ہیں، یہ غلط ہے۔ یہ تو معاشرتی pressure ہے۔ اس سے اگر وہ معاف کر دے تو معاف تھوڑا ہی ہو جاتا ہے۔ یہ تو ایک زبردستی ہے کیونکہ وہ آپ کی قید میں ہے، تو کچھ کر نہیں سکتی۔ تو ایسی صورت میں آپ اس کو pressurize کر کے کہہ دیں جی تم کہہ دو کہ میں نے معاف کر دیا، تو یہ معاف کرنا تھوڑا ہی ہوا۔ یہ تو زور زبردستی ہو گئی۔ جیسے میراث میں عورتوں کو حصہ نہیں دیا جاتا اور ان سے معاف کروایا جاتا ہے۔ بھئی وہ معاف کرنا نہیں ہوتا، معاف کرنا نہیں ہوتا، وہ اللہ پاک اس کا حساب کرے گا۔


تو یہ ہے کہ یہ بات سمجھ میں آنی چاہیے کہ عورتوں کو مہر خوش دلی سے دینا چاہیے۔ ہاں اگر وہ خود خوش دلی سے چھوڑیں، جس کا پتہ چلتا ہے، تو پھر ٹھیک ہے۔


پھر یتیموں کی بات آتی ہے۔ چونکہ یتیم جو ہوتے ہیں، اکثر ایسی حالت میں یتیم ہوتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص جوانی میں فوت ہوتا ہے تو پھر تو اس کے جو بچے ہوتے ہیں وہ تو ابھی بچے ہی ہوتے ہیں، نابالغ بچے ہوتے ہیں۔ تو جو یتیم ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری کسی کو کوئی کسی کو لینی ہوتی ہے، وہ ان کا ولی ہوتا ہے۔ تو جو ناسمجھ یتیم ہیں، ان کا مال ان کو اس ناسمجھی کے دوران نہیں دینا چاہیے کیونکہ وہ ضائع کر دیں گے۔ مثلاً: ایک بچہ ہے، نوسرباز آ گیا، اس کے ہاتھ میں ٹافی ہے، اس کے ہاتھ میں مثال کے طور پر پانچ ہزار کا نوٹ ہے، او جی یہ لے لو اور یہ ظاہر ہے بچہ کیا سمجھتا ہے کہ بھئی یہ کیا چیز ہے؟ یا اس طرح میں نے مثال دی، لیکن اس طرح بہت ساری چیزیں ہیں، مطلب ناسمجھی میں انسان دھوکہ کھا سکتا ہے۔ تو ان کو ان کا مال اس وقت حوالے نہ کرو، ان کی حفاظت کے لیے۔ اور ان میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ، یعنی ان کا جو خرچ ہے، اخراجات ہیں، وہ اسی سے لے لو۔ اور مناسب انداز میں ان سے بات کرو۔


تو کہتے ہیں کہ :

یتیموں کے سرپرستوں کی ذمہ داریاں بیان کی جارہی ہیں کہ ایک طرف تو انہیں یتیموں کے مال کو امانت سمجھ کر انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے، دوسری طرف یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ یتیموں کا پیسہ ایسے وقت ان کے حوالے کیا جائے جب ان میں روپے پیسے کی ٹھیک ٹھاک دیکھ بھال کی سمجھ اور اسے صحیح مصرف پر خرچ کرنے کا سلیقہ آچکا ہو۔ جب تک وہ نا سمجھ ہیں، ان کا مال ان کی تحویل میں نہیں دینا چاہئے ، اور اگر وہ خود مطالبہ کریں کہ ان کا مال ان کے حوالے کر دیا جائے تو انہیں مناسب انداز میں سمجھا دینا چاہئے ۔

مطلب ایسے ہوتا ہے نا کہ بعض رشتہ داروں میں، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان کے کان میں کہہ دیں کہ لے لو آپ ان سے، وہ اپنا حصہ لے لو، یہ تمہارا حق بنتا ہے۔ اب وہ جو ہے نا مثال کے طور پر اس کی عمر کچھ دس بارہ سال ہے، بچہ ہے، تو اس کو سمجھ تو نہیں ہوتی لیکن وہ بات تو کر سکتا ہے۔ تو وہ کہے گا کہ جی میرا مال مجھے حوالے کر دو، سب کے سامنے کہہ دے گا۔ تو اس وقت ان کو طریقے سے سمجھانا کہ یہ تمہارے فائدے کے لیے ہے، تمہارا ہی مال ہے، کسی اور کا نہیں ہے۔ ہاں لیکن یہ بات ہے کہ ابھی تم سمجھدار ہو جاؤ تو پھر ٹھیک ہے۔ یہ دیکھو سارا اپنی جگہ پڑا ہوا ہے۔ مطلب مناسب انداز میں ان کو سمجھانا چاہیے۔


اگلی آیت میں اسی اُصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وقتا فوقتا ان یتیم بچوں کو آزماتے رہنا چاہئے کہ آیا وہ اتنے سمجھ دار ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنے مال کے صحیح استعمال کا سلیقہ آگیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ صرف بالغ ہو جانا بھی کافی نہیں، بلوغ کے بعد بھی اگر وہ سمجھ دار نہ ہو پائے ہوں تو مال ان کے حوالے نہ کیا جائے، بلکہ جب یہ محسوس ہو جائے کہ ان میں سمجھ آگئی ہے تب مال ان کے حوالے کیا جائے۔

یہ ادھر ہمارا جو محمد آباد میں، مارکیٹ کی بہت ساری دکانیں، ایک ناسمجھ آدمی کی ملکیت ہیں۔ مطلب اس کو سمجھ نہیں ہے۔ وہ نہ دستخط کر سکتا ہے، وہ اکثر وہ کرتا ہے، اس طرح وہ پھرتا رہتا ہے۔ تو اب یہ ہے کہ اگرچہ عمر اس کی زیادہ ہے لیکن ظاہر ہے اس کو سمجھ تو نہیں ہے۔ تو ایسے لوگوں کو پھر جو ہے نا صحیح طور پہ لوگوں کو ان کو handle کرنا چاہیے، کہ ان کا مال ضائع نہ ہو۔ ان کو بڑا اجر ملے گا کہ وہ ان کے مال کو ضائع نہ ہونے دیں، اور ان کو طریقے طریقے سے دیتے رہیں، کہ ان کا مال ضائع نہ ہو۔


اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان چیزوں کی سمجھ نصیب فرمائے اور عمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ



حقوقِ نسواں (مہر) اور یتیموں کے مال کی حفاظت کے قرآنی احکامات - درسِ قرآن - دوسرا دور