دین پر استقامت کی فضیلت

درس نمبر 127- باب الاستقامۃ - استقامت والے جنتی ہیں - اشاعتِ اول: 25 نومبر، 2022 بمطابق 29 ربیع الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        ایمان لانے کے بعد استقامت کی اہمیت اور فضیلت۔

•        استقامت کا جامع مفہوم (اوامر کی پابندی اور منہیات سے اجتناب)۔

•        علامہ زمخشریؒ کے حوالے سے اللہ کی ربوبیت پر کامل یقین اور بندگی کے تقاضے۔

•        دنیا میں دین پر قائم رہنے کی مشقت اور قیامت کے دن اس کے بدلے میں جنت کا وعدہ۔

•        اعمال میں اخلاص اور درجۂ احسان (یہ یقین کہ اللہ دیکھ رہا ہے) پر ثابت قدمی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔


استقامت والے جنتی ہیں

وَقَالَ تَعَالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ أُولئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

نیز فرمایا: "جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ اس پر قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہوگا نہ وہ غمناک ہوں گے یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔"

علماء فرماتے ہیں کہ استقامت تو ایک مختصر لفظ ہے مگر شرائع اسلامیہ کو جامع ہے جس میں تمام احکام الٰہیہ پر عمل اور تمام محرمات و مکروہات سے اجتناب دائمی طور پر شامل ہے۔ علامہ زمحشریؒ فرماتے ہیں کہ ”ربنا اللہ“ کہنا جب ہی صحیح ہو سکتا ہے جب کہ وہ دل سے یقین کرے کہ میں ہر حال ہر قدم میں اللہ تعالیٰ کی زیر تربیت ہوں مجھے ایک سانس بھی اس کی رحمت کے بغیر نہیں آسکتا اور اس کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان طریق عبادت پر مضبوط و مستقیم رہے کہ اس کا دل اور بدن دونوں اللہ کی عبادت سے انحراف نہ کریں۔

أُولئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ: استقامت والے کے لئے جنت کا وعدہ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے دنیا میں استقامت کے ساتھ زندگی گزاری جب اس سے ہٹانے کی ہر طرف سے کوشش ہوتی تھی، اب قیامت میں اس کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا۔

تو گزشتہ جو آیت ہے اس میں بھی اس کی تفصیل موجود ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو دین پر کامل استقامت نصیب فرمائے۔ جس میں ایمان پر بھی استقامت ہے کہ ہمیشہ رہے، اور اوامر و نواہی اس پر بھی عمل کرنے میں استقامت رہے، اور اس میں جان پیدا کرنے کے لیے کہ ہم خالصتاً لِوَجْہِ اللّٰہ یہ کام کریں، ایسا کریں جیسے اللہ کو دیکھ رہے ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اس پر بھی استقامت ہو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ نعمت نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ والحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔






دین پر استقامت کی فضیلت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور