الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّـذِيْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ (172) اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًاۖ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ(173) فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌۙ-وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ(174) اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِيَآءَهٝۖ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(175) وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِۚ-اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(176) اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْــٴًـاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(177) وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْؕ-اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(178)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرماں برداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لئے زبردست اجر ہے ﴿172﴾
وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا کہ: "یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لئے (پھر سے) جمع ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے ڈرتے رہنا۔ تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بول اٹھے کہ: "ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔" ﴿173﴾
یعنی جب کفارِ مکہ اُحد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آ جانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آ گئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا اُحد کے نقصان کی تلافی کے لئے جنگِ اُحد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگِ اُحد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ اُحد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت پر لبیک کہا جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکل کر حمراء الأسد کے مقام پر پہنچے تو وہاں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص معبد آپ سے ملا جو کافر ہونے کے باوجود آپ سے ہمدردی رکھتا تھا، اس نے مسلمانوں کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا اور جب وہاں سے نکلا تو اس کی ملاقات کفارِ مکہ کے سردار ابوسفیان سے ہوگئی، اس نے ابوسفیان کو مسلمانوں کےلشکر اور اس کے حوصلوں کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے واپس چلا جائے۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس تو چلے گئے لیکن عبد القیس کے ایک قافلے کے جو مدینہ منورہ جا رہا تھا یہ کہہ گئے کہ جب راستے میں ان کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو تو ان سے یہ کہیں کہ ابوسفیان بہت بڑا لشکر جمع کر چکا ہے اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ان پر حملہ آور ہونے والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں پر رعب پڑے۔ چنانچہ یہ لوگ جب حمراء الأسد پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو یہی بات کہی، لیکن صحابہ کرام نے اس سے مرعوب ہونے کے بجائے وہ جملہ کہا جو اس آیت میں تعریف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
مطلب یعنی یہاں پر وہ بات جو صحابہ کرام نے کی تھی تو وہ اللہ پاک نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے ﴿174﴾
در حقیقت یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، لہٰذا اگر تم مؤمن ہو تو ان سے خوف نہ کھاؤ، اور بس میرا خوف رکھو ﴿175﴾
اور (اے پیغمبر!) جو لوگ کفر میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھا رہے ہیں، وہ تمہیں صدمے میں نہ ڈالیں۔ یقین رکھو وہ اللہ کا ذرا بھی نقصان نہیں کر سکتے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے، اور ان کے لئے زبردست عذاب (تیار) ہے ﴿176﴾
جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو مول لے لیا ہے وہ اللہ کو ہرگز ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور ان کے لئے ایک دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے ﴿177﴾
اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ اُن کے لئے کوئی اچھی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم تو انہیں صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور آگے بڑھ جائیں، اور (آخرکار) ان کے لئے ایسا عذاب ہوگا جو انہیں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ ﴿178﴾
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے جو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں حفظت میں لے لے، اور ہمارے ایمانوں کو اور ہمارے اعمال کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: غزوہِ حمراء الاسد: صحابہ کرام کا جذبہِ ایمانی اور اللہ پر توکل
متبادل عنوان: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ: مصائب میں مومن کا سب سے بڑا ہتھیار
اہم موضوعات:
غزوہِ احد کے بعد کفارِ مکہ کا پچھتاوا اور مدینہ پر دوبارہ حملے کا ارادہ۔
رسول اللہ ﷺ کی پکار پر زخمی و تھکے ہوئے صحابہ کرام کا جذبہِ اطاعت (غزوہِ حمراء الاسد)۔
منافقین اور دشمنوں کی افواہیں اور مسلمانوں کے ایمان و توکل میں اضافہ۔
کلماتِ مبارکہ "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کی فضیلت اور اس کے ثمرات۔
کفر میں جلدی کرنے والوں کو ملنے والی ڈھیل کا انجام اور دردناک عذابِ الٰہی۔
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں غزوہِ احد کے بعد پیش آنے والے واقعے (غزوہِ حمراء الاسد) کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ آپ نے بیان فرمایا کہ کس طرح کفار مکہ نے دوبارہ مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم ﷺ کی پکار پر زخموں سے چور صحابہ کرام نے اپنے رب اور رسول ﷺ کی اطاعت میں دوبارہ دشمن کے تعاقب میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔ جب انہیں دشمن کی کثرت اور طاقت سے ڈرایا گیا تو ان کا ایمان مزید پختہ ہو گیا اور انہوں نے "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" (ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) پڑھا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے یہ بھی واضح کیا کہ دنیا میں کفر کی طرف دوڑنے والوں اور اللہ کی طرف سے ملنے والی مہلت کو اپنی کامیابی سمجھنے والوں کے لیے آخرت میں دردناک اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔ آخر میں آپ نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے برے انجام سے بچائے اور ہمارے ایمان و اعمال کی حفاظت فرمائے۔